Tuesday, April 13, 2010

صرف میری آنکھوں نے دیکھی اوباماـمنموہن کی یہ خاص ملاقات

عزیز برنی

انسانی دماغ کی پرواز کی بلندی کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ کب کیا سوچنے لگے، قیاس کرنا مشکل ہے۔ اسی طرح خواب کی بات بھی ہے جب آپ گہری نیند میں محوخواب ہوں تو آپ کی آنکھیں اپنی خواب گاہ میں کیسے کیسے خواب سجالیں، اس پر بھی آپ کا کوئی زور نہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوجاتا ہے۔ یوں تو رات اور دن کام کی فکر چین سے سونے ہی نہیں دیتی، مگر کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ بے ارادہ نیند کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں۔ ارریہ سے باگ ڈوگرا تک کا سفر جو ڈھائی سے تین گھنٹے میں بذریعہ کار مکمل ہونا تھا، اس میں چار گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا، اس لےے کہ بہ راستہ کشن گنج، باگ ڈوگرا پہنچنا تھا۔ بہت مشکل نظر آرہا تھا، فلائٹ کے مقررہ وقت تک ائیرپورٹ پہنچ جانا، لیکن شکر خدا کا اور کچھ مہارت ڈرائیور کی کہ میں وقت پر پہنچ گیا۔ جیٹ ائیرویز کی فلائٹـڈبلیوـ280اپنے شیڈیولڈ کے مطابق وقت پر تھی اور میری سیٹ کا نمبرCتھا، یعنی پہلی قطار میں آئل سیٹ، جس کے ٹھیک سامنے اپنی ڈیوٹی پر مستعد ائیرہوسٹس کو بیٹھنا ہوتا ہے۔ اب یہ ذرا مشکل کام تھا کہ اگر میں آنکھیں کھلی رکھوں تو بے ساختہ نظریں ائیرہوسٹس کے چہرے پر جمی جاتی تھیں اور اگر آنکھیں بند کرلوں تو انہیں نیند کی آغوش میں چلے جانے سے روکنا مشکل تھا۔ پہلی کیفیت کچھ غیرمناسب لگی، لہٰذا ایک زمانے سے بے خواب آنکھوں کا خواب پورا ہوا۔ میں نے پلکیں کیا جھکائیں، انہوں نے آمدخواب کے لےے مخملی بستر سجا دےے۔
پھر ہوا یوں کہ ارریہ سے واپسی کے بعد میں اپنے اس یادگار سفر کی جو داستان آج قلمبند کرنا چاہتا تھا، وہ پس پشت چلی گئی(ممکن ہے کہ کل میں اس پر لکھوں)، مگر آج قلم کے حوالے ہے وہ منظر جو آسمان کی بلندیوں پر پرواز کرتے ہوئے میری خوابیدہ آنکھوں نے دیکھا۔ ہاں، یہ خواب ہی ہوسکتا ہے، اس لےے کہ دورِحاضر میں ایسی کسی بھی حقیقت کا تصور تو خارج ازامکان نظر آتا ہے۔
اپنے ملک کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے گزشتہ امریکی سفر نومبرـ009 میں، میں ان کے ہمراہ تھا، مگر اس بار نہیں ہوں، وہ اس وقت امریکہ میں ہیں اور میں ہندوستان میں۔ لیکن میری نگاہیں دیکھتی کیا ہیں کہ میں اس بار بھی ان کے ساتھ ہوں اور ہمارے وزیراعظم تمام آفیشیل پروگرام سے ہٹ کر ایک انتہائی نجی ملاقات میں مصروف ہیں، اسے بس اتفاق ہی سمجھئے کہ جیسے پچھلی بار میں تنہا تھا، جو ان کے ہمراہ ڈیلی گیشن میں شامل ہونے کے باوجود وہائٹ ہاؤس کے باہر رہ گیا اور اس بار بھی میں تنہا ہی تھا، مگر ان کے ساتھ وہائٹ ہاؤس کے اندر، پھر میں دیکھتا کیا ہوں کہ ہمارے وزیراعظم اس تاریخی ملاقات میں امریکی صدر اوباما سے کچھ اس طرح مخاطب تھے:
’’عالیجناب محترم اوباما صاحب!میں آپ کی خدمت میں اپنے اور تمام ہندوستان کی جانب سے سلام عرض کرتا ہوں۔ آپ کے صدر منتخب ہونے پر پانچ ماہ قبل جب میں امریکہ آیا تھا توآپ نے سرخ قالین بچھا کر میرا استقبال کیا تھا۔ بہت کچھ میرے دل میں تھا، جو میں اسی وقت آپ کی خدمت میں عرض کردینا چاہتا تھا، مگر سرخ قالین کے اوپر بچھے مہکتے پھولوں کی خوشبو نے مجھے یہ موقع ہی نہیںدیا کہ میں ان خون کے دھبوں کا ذکر کروں، جو اس سرخ قالین کے نیچے چھپے ہونے کے باوجود بھی مجھے میرے دل کی آنکھوں سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ قدم بہ قدم کبھی مجھے افغانستان میں شہید بے گناہوں کی سسکیاں سنائی دیتی تھیں تو کبھی عراقیوں کی آہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میں ایک بیحد حساس اور امن پسند ملک کا شہری ہوں۔ ایک زمانہ تھا، جب ساری دنیا ہمارے ملک کو امن کے گہوارے کی شکل میں دیکھتی تھی۔ امن کی تلاش میں رشی منیـدرویش اس زمین پر اپنا آشیانہ بناتے تھے۔ یہ ہمارے لےے باعث فخر ہے اور ہماری زمین کی عظمت بھی کہ کربلا کی جنگ کو روکنے کی خاطر حضرت امام حسینؑ نے یزید کی فوج کے سامنے اپنے لشکر کے ساتھ ہندوستان چلے آنے کی پیشکش رکھی تھی۔ میں نے کربلا کا ذکر اس لےے کیا کہ لہولہان عراق کے ساتھ ہماری کچھ خوشگوار یادیں وابستہ ہیں اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت مقدس عرب سرزمین کے گوشے گوشے سے ذہنی وابستگی رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے عراق اور اس کے سربراہ سے دیرینہ خوشگوار رشتے بھی رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جاتے جاتے امریکہ کے سابق صدر جارج واکر بش نے بھی یہ تسلیم کرلیا تھا کہ عراق کے معاملے میں ان سے غلطی ہوئی ہے۔ سچ یہی ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں، مگر اس ضمن میں آج بھی میں کسی گفتگو کا ارادہ نہیں رکھتا، اس لےے کہ مجھے اس وقت اپنی زمین کی سلامتی کی فکرلاحق ہے۔ میں اسے لہولہان ہونے سے بچانا چاہتا ہوں۔ میں ہندوستان کا وزیراعظم ہوں، اس لےے یہ گفتگو میری ذمہ داری ہے، میرے ملک اور میرے عوام کے تحفظ کی فکر میرے فرض کا تقاضا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ 26نومبر008کو ہماری زمین پر کیا قہر برپا ہوا۔ آپ جانتے ہیں کہ اس دہشت گردانہ حملے کی سازش کرنے والوں میں کون کون سی طاقتیں شامل ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی جس نے اقرارجرم کیا ہے، اس کی وابستگی کس کس سے اور کس کس طرح کی ہے۔ میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں 9/11/2001(1ستمبر001)کا سانحہ، جب ایک دہشت گردانہ حملہ میں نیویارک کے ورلڈٹریڈٹاور تباہ کردئےے گئے تھے، جس کے لےے ذمہ دار قرار دیا گیا تھا بن لادن اور اس کی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کو۔ بن لادن چونکہ امریکی خفیہ ذرائع کی اطلاعات کے مطابق افغانستان کی تورابورا پہاڑیوں میں چھپا ہوا تھا، اس لےے امریکی حکومت نے بلاتاخیر افغانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 26/11 کو ہندوستان کے 9/11کی شکل میں دیکھنے والے آج مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنا سنجیدہ ہے کہ وہ ایک دہشت گرد کے پناہ دینے کے جرم میں اس ملک پر حملہ کردیتا ہے تو پھر وہ 26/11کے مجرم کو پناہ کیوں دے رہا ہے اور میں اس کی سپردگی کے لےے پرزور مطالبہ کیوں نہیں کررہا ہوں یا پھر مجھے اس کی ضرورت بھی کیوں پڑ رہی ہے؟
آپ جانتے ہیں کہ میں ہندوستان کی تاریخ کا وہ پہلا وزیراعظم ہوں، جس کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے۔ اپنے ملک کی اکثریت کا بھروسہ قائم رکھنا دیگر اقلیتوں کی امیدوں پر پورا اترنا، اپنے ملک کا تحفظ، اپنے عوام کی خوشحالی میرا فرض اوّلین ہے، میرا نصب العین ہے۔ جس وقت میں امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر دستخط کررہا تھا، اس وقت بھی میرے ملک کے بیشتر ذمہ دار لوگ اس کے حق میں نہیں تھے، مگر میں اسے اپنے ملک اور قوم کے مفاد میں سمجھتا تھا، اس لےے میں نے اس معاہدے پر دستخط کےے اور آج کا یہ سفر بھی اسی کو آگے بڑھانے کے لےے ہے۔ میں آپ کے اس مشن کی تائید کرتا ہوں، جس میں ایٹمی تنصیبات کے استعمال پر پابندی، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونا ہے۔ میں ان دونوں باتوں میں آپ کا ہم خیال ہوں، مگر اس جنگ کے پیمانے دوہرے نہ ہوں۔ آپ نے پاکستان کو جو ہتھیار دئےے، بیشک آپ کے نزدیک وہ طالبان سے لڑنے کے لےے رہے ہوں گے۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لےے رہے ہوں گے، مگر جب ان ہتھیاروں کا استعمال ہماری زمین پر دہشت گردی کے لےے ہوتا ہے تو ہماری یہ فکر واجب ہے کہ ایک طرف امریکہ پاکستان کو ہندوستان میں دہشت گردی برپا کرنے کے لےے ذمہ دار بھی مانتا رہے اور دوسری جانب اس کی ہر طرح سے مدد بھی کرتا رہے۔
اس وقت جب میں آپ سے یہ گفتگو کررہا ہوں، تاشقند میں اپنے ملک کے سابق وزیراعظم لال بہادری شاستری کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہے مجھے۔ ان کی وہ آخری ملاقات تاریخ کے اوراق میں درج ہے اور میرے دل و دماغ پر بھی نقش ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری آج کی اس ملاقات کو تاریخ کن لفظوں میں محفوظ رکھے گی، مگر میں یہ ضرور سوچ رہا ہوں کہ اگر ان لمحات کی داستان سنہری حرفوں میں نہ لکھی جاسکے تو کم ازکم اسے سیاہ باب کی شکل میں تو نہ لکھا جائے، اس لےے کہ میرے جیسے شخص کا ہندوستان کے اس عظیم منصب کے لےے انتخاب ایک تاریخ ساز عمل ہے۔ اگر یہ نظر انتخاب مجھ تک پہنچی تو شاید اس کی وجہ رہی ہوگی میری سادگی، میری شرافت، میری ایمانداری اور میری حق گوئی، غالباً اسی لےے مجھے سبھی کا اعتماد حاصل رہا، جبکہ نہ تو ایسا کوئی سیاسی پس منظر مجھ سے وابستہ تھا، جو مجھے راتوں رات اس منصب پر پہنچا دیتا اور نہ میں زمینی سطح سے جڑا کوئی ایسا سیاستداں تھا، جس نے ہندوستان کے گلی کوچوں میں گھوم گھوم کر عوام کی اس درجہ حمایت حاصل کی ہو۔ میں یقینا وہ خوش نصیب ہوں کہ یکساں طور پر عوام و خواص نے مجھے پسند کیا تو صرف میری پارٹی ہی نہیں، بلکہ بہت حد تک حزب اختلاف کا اعتماد بھی مجھے حاصل رہا۔ میں اس اعتماد کو ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔ میں اس پسندیدگی کو ناپسندیدگی میں نہیں بدلتے دیکھنا چاہتا، اس لےے یہ تمام باتیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ ہم ایک ایسا جمہوری ملک ہیں، جہاں درجنوں مذاہب کے ماننے والے، سیکڑوں زبانیں بولنے والے ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ میڈیا ہماری جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور یہ صرف کہنے کے لےے نہیں، اسے مکمل آزادی حاصل ہے۔ وہ جب سوال کرتا ہے کہ انیتا اُدیا کو کیوں خفیہ طریقے سے امریکہ لے جایا گیا؟ ایف بی آئی نے اس سے کیا معلومات حاصل کیں؟ تو میڈیا کو تسلی بخش جواب دینا ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمارا میڈیا جب ہم سے ہیڈلی کی حوالگی کے تعلق سے بات کرتا ہے تو ہماری یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم ان کے ہر سوال کا جواب دیں۔کیوں کہ بہت سے سوالوں کے جواب آپ کی زمین سے جڑے ہیں، آپ کے عدالتی نظام سے جڑے ہیں، لہٰذا ہمیں آپ کے سامنے بیحد شائستگی سے ان سوالوں کو رکھنے کا حق ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمیں ایسے تمام سوالوں کے جواب فراہم کریں، اس لےے کہ یہ صرف میڈیا اور ہندوستانی عوام کو مطمئن کرنے کے لےے ہی ضروری نہیں ہےں، بلکہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لےے بھی ضروری ہے۔ ہمارے لےے یہ حیران کن ہے کہ کس طرح ایک بدلے ہوئے نام اور ولدیت کے ساتھ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کو امریکی شہری کی حیثیت سے پاسپورٹ حاصل ہوا، اس میں کون کون شامل ہیں۔ وہ سب ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کی سازش کا حصہ ہیں، اس لےے ان کے جرم کو ایک جعلی پاسپورٹ بنانے کے جرم کی شکل میں ہی نہیں دیکھا جاسکتا، بلکہ پاسپورٹ جس دہشت گردانہ عمل کو پورا کرنے کے مقصد سے بنا، اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔سویڈن کے کارٹونسٹ کے قتل کی کوشش اور995 میں پرولیا میں گرائے گئے ہتھیاروں کے مجرم کا اس وقت سویڈن میں موجود ہونا کیا آپس میں کوئی رشتہ رکھتا ہے، ہمیں آپ کے تعاون سے اس سوال کا جواب چاہےے، 26/11کے دہشت گردانہ حملہ میں مطلوبہ سرگرمیوں کے لےے شبدہاؤس (نریمن ہاؤس) اور پنے میں ہوئے بم بلاسٹ میں شبدہاؤس کی سرگرمیوں اور اگر ان کا ہمارے ملک میں برپا ہونے والی دہشت گردی سے کیا کوئی تعلق ہے، یہ جانکاری حاصل کرنے میں ہم آپ کی مدد چاہیں گے۔ آپ اپنی خفیہ ایجنسیوں کی معرفت سچائی کا پتہ لگا کر ہماری مدد فرمائیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے لےے یہ آپ کا عملی تعاون ہوگا۔
یہ آخری اور مؤدبانہ درخواست کہ ہم پاکستان اور چین کے ساتھ کیسے رشتے رکھیں، اس میں ہمیں اس وقت تک کوئی مشورہ نہ دیا جائے، جب تک کہ ہم طلب نہ کریں۔ اسی طرح ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن کا سمجھوتہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے، یہ ایران کو اور ہمیں طے کرنا ہے، اس سلسلہ میں ہم پر کوئی اخلاقی دباؤ نہ ڈالا جائے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ لشکرطیبہ ہمارے ملک میں متعدد دہشت گردانہ حملوں کے لےے ذمہ دار ہے اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور ایف بی آئی کے لشکرطیبہ سے کتنے گہرے رشتے ہیں۔ خود ڈیوڈ کولمین ہیڈلی نے امریکی عدالت میں اپنے جرم کو قبول کرتے ہوئے ان رشتوں کا اعتراف کیا ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نزدیکی رشتے بھی ہوں اور ان کے خلاف جنگ لڑنے کا دعویٰ بھی۔
میں جانتا ہوں کہ یہ تمام باتیں کچھ تلخ اور ناپسندیدہ ہوسکتی ہیں، مگر آپ امریکہ کی ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں۔ آپ نے بھی اس منصب پر پہنچ کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، اگر پوری ایمانداری اور نرم دلی کے ساتھ میری ان باتوں پر آپ غور کریں گے تو یقینا آپ محسوس کریں گے کہ آج کی ہماری یہ ملاقات پوری دنیا کے لےے امن کا ایک پیغام ہوگی اور جب میں یہاں سے رخصت ہورہا ہوں گا تو صرف ہندوستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے ہی نہیں، بلکہ میری اس کوشش کو عالمی امن کے ایک پیامبر کی شکل میں بھی یاد کیا جائے، جس کا سہرا بے شک آپ کے سر ہوگا۔‘

1 comment:

safat alam taimi said...

محترم عزیز برنی صاحب ! آپ پاکیزہ صحافت پر یقین رکھتے ہیں ، آپ مایہ ناز صحافی اور قلم کے دھنی ہیں، آپ ارود وہندی صحافت کی لاج ہیں ، اللہ کرے آپ کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہو ۔ اور حقیقت کا روپ دھار لے ....آپ کی تحریروں کا عاشق .... صفات عالم محمد زبیرتیمی