Tuesday, December 7, 2010

’’اچھا تو اعظم خاں کی ناراضگی امرسنگھ و جیہ پردا سے تھی، کلیان سنگھ سے نہیں‘‘

عزیز برنی

اعظم خاں اپنی واپسی کا جشن منارہے ہیں اور اس جشن میں شاید وہ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ہماری ایک تہذیب ہی، ہماری اخلاقی قدریں ہیں، بھلے ہی ہم سیاست میں رہیں، مگر ہمیں اپنی اخلاقی قدروں سے اس درجہ تجاوز نہیں کرنا چاہئے کہ لوگوں کو انگلیاں اٹھانے کا موقع ملی۔ جیہ پردا ایک فلمی اداکارہ ہیں، کیا وہ گزشتہ دوچار ماہ سے فلمی اداکار ہیں؟ کیا وہ سماجوادی پارٹی سے الگ ہونے کے بعد سے فلمی اداکارہ ہیں؟ وہ ایک رقاصہ ہیں، ان کا پیشہ یہی ہے تو پھر کیا سماجوادی پارٹی کو یہ علم نہیں تھا، جب انہیں پارٹی میں شامل کیا گیا تھا؟ کیا اس وقت محترم اعظم خاں سماجوادی پارٹی کا حصہ نہیں تھی، جب محترمہ جیہ پردا کو سماجوادی پارٹی میں شامل کیا گیا اور رامپور سے پارلیمانی انتخاب لڑانے کا فیصلہ کیا گیا؟ میں گزشتہ برس ہوئے پارلیمانی انتخابات کی بات نہیں کررہا ہوں، اس وقت ضرور اعظم خاں کی ناراضگی جگ ظاہر تھی اور جو کچھ بھی انہوں نے اس الیکشن کو متاثر کرنے کے لئے کیا، وہ بھی سب جانتے ہیں۔ اس وقت اس کا تذکرہ کرنا میرا مقصد نہیں ہی، بلکہ اس سے پہلے والے پارلیمانی انتخابات، یعنی 2004 کی بات اس وقت انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں، جب وہ جیہ پردا کو اپنے ہمراہ لے کر رامپور کی گلیوں میں گھوم رہے تھے اور ہر دروازہ پر دستک دے کر ان کے لئے ووٹ مانگ رہے تھی۔ محترمہ جیہ بچن نے تو پارٹی ابھی تک چھوڑی نہیں ہی، کیا کہیں گے ان کے بارے میں؟ فلمی اداکارہ تو وہ بھی ہیں، بہت سی فلموں میں رقص انہوں نے بھی کیا ہی۔ نہیں، ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ خدانخواستہ ان کی شان میں بھی گستاخی کی جائی، کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب تک ساتھ رہے تو ہم پیالہ ہم نوالہ رہے اور اب یہ ہے کہ زبان سے انگارے برستے ہیں۔ ایسا کیوں؟ پھر جیہ پردا اکیلی تو رکن پارلیمنٹ یا سیاستداں نہیں ہیں۔ وجینتی مالا اپنے رقص کے لئے پہچانی جاتی تھیں، لمبے عرصہ تک ایوانِ بالا کی رکن رہیں۔ ہیمامالنی کی شناخت بھی ایک اداکارہ سے زیادہ رقاصہ کی ہی، وہ بھی ایوان بالا کی رکن رہیں اور خود اعظم خاں بھی اسی ایوان بالا کے رکن رہی۔ محترمہ شبانہ اعظمی انقلابی شاعر کیفی اعظمی صاحب کی صاحبزادی اور جاوید اختر کی اہلیہ ہیں۔ فلمی اداکارہ وہ بھی ہیں اور رقص تو انہوں نے بھی اپنی فلموں میں کیا ہی۔ سماجی کارکن ہیں، ایوان بالا کی رکن بھی رہی ہیں، کیا انہیں بھی اسی طرح کے جملوں سے نوازا جائی۔ کچھ بھی کہنے سے قبل ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری زبان سے نکلا ایک جملہ کتنی شخصیتوں پر اثرانداز ہوتا ہی۔ دلیپ کمار کی ہم قدر کرتے ہیں، مایہ ناز فلم اداکار ہیں، ضرورت پڑنے پر ٹھمکے انہوں نے بھی لگائے تو کیا اس کے لئے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جائی۔ ٹھیک ہے اعظم خاں امرسنگھ سے ناراض ہیں۔ کل سماجوادی پارٹی میں امرسنگھ کا دبدبہ تھا تو وہ حاشیہ پر تھی، آج امرسنگھ سماجوادی پارٹی میں نہیں ہیں اور بڑے طمطراق سے سماجوادی پارٹی میں ان کی واپسی ہوگئی ہے تو یہ نزلہ جیہ پردا پر کیوں؟ پھر جس طرح کی زبانی جنگ امرسنگھ اور اعظم خاں کے درمیان کی جارہی ہی، کیا اسی کو ان کی سیاست قرار دے دیا جائی؟ اگر کوئی غیرمہذب شخص اس طرح کی بات کہے اور ترکی بہ ترکی جواب ملے تو سمجھ میں آسکتا ہی، لیکن اگر کوئی شخص خود کو سیاست کی اعلیٰ قدروں پر گامزن کہے اور پھر اس کا طرزعمل ایسا ہو تو مناسب نہیں لگتا۔ ہمیں امرسنگھ کی سیاست سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہی، لیکن جس طرح کی باتیں سرعام کہی جارہی ہیں اور انہیں ٹیلی ویژن چینلز پر چٹخارے لے کر دکھایا جارہا ہی، اس سے ملائم سنگھ یادو جیسے سنجیدہ اور مہذب سمجھے جانے والے لیڈر کی شخصیت بھی تو مجروح ہوتی ہی۔ امرسنگھ سپلائر ہیں؟ کیا سپلائی کرتے تھی، جملے کو ادھورا چھوڑ دیا جائی، کہہ دیا جائے کہ ’’آپ خاتون ہیں، میں کیا کہوں۔ کوئی اور ہوتا تو میں کچھ کہتا۔‘‘ اور پھر خاتون صحافی کے جواب کو اس طرح پیش کیا جائے کہ ’’اچھا میں سمجھ گئی‘‘ تو اگر یہ لفظ جو ایک کو سپلائر کہہ کر منسوب کیا گیا تو کیا اس دوسرے شخص کے لئے بڑے اعزاز کی بات ہی، جس کے لئے وہ شئے سپلائی کی گئی۔ اس کے دونوں پہلوؤں پر غور کرنا ہوگا۔ سیاستداں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے کس درجہ گرنا چاہتے ہیں، وہ اس کا فیصلہ بیشک خود کرلیں، مگر جب کوئی بات عوامی سطح پر آکر کہیں تو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہمارے معاشرے پر ان باتوں کا کیا اثر پڑے گا۔ ہماری نوجوان نسل سیاست اور سیاستدانوں کو کس نظریہ سے دیکھے گی۔ مطلب کیا ہم انہیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی غیرمہذب پیشہ ہے اور اس میں اچھے لوگوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے اور وہاں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، ایک وہ جو سپلائر ہیں اور ایک وہ جن کے لئے قابل اعتراض اشیا سپلائی کی جاتی ہیں۔ کیا اس میں ملک اور قوم کی کوئی بھلائی نظر آتی ہی؟ بیشک جواباً دھمکی دئے جانے کے بعد کہہ دیا جائے کہ میزکرسی اور مائک سپلائی کرنے کی بات تھی، اس کے لئے سپلائر کہا گیا تھا تو محترم آپ کو یہ حق تو ہے کہ آپ خود کو بے پناہ عقلمند سمجھیں، مگر خدا کے لئے عوام کو اتنا بے وقوف بھی نہ سمجھیں کہ وہ آپ کے سپلائی اور سپلائر جیسے ذومعنی جملوں کا مطلب نہ سمجھتے ہوں۔
y اب دو باتیں محترم ملائم سنگھ یادو کی خدمت میں بھی عرض کرنا ضروری ہی۔ آپ کا کس سے کیا رشتہ ہی؟ آپ کب کس کو پارٹی میں لیتے ہیں اور کب نکالتے ہیں، یہ فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار آپ کو ہی، مگر جس کو مسلمانوں کو چہرہ بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں، جس کے ذریعہ مسلمانوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ایسا طریقہ اختیار نہ کریں، جس سے پوری قوم کی شبیہ متاثر ہوتی ہو۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جن مسلم سیاستدانوں کو دبنگ یا ایک فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کرنے والا چہرہ بناکر پیش کیا گیا، انہوں نے تھوڑے ہی وقت میں شہرت تو حاصل کرلی، وہ مشہور تو ہوگئی، مگر انہیں زیادہ دن شرف قبولیت حاصل نہ ہوسکا۔ اگر عوام کے درمیان انہیں، ان کی شخصیت کو قبول کرلیا گیا ہوتا تو پھر یہ قوم آج تک قیادت سے خالی نہ ہوتی۔ ہمارے خیال میں تو ایسے لوگوں کا استعمال سیاستدانوں نے اپنی سیاست کے لئے کیا، جب تک ان کے ذریعہ مسلمانوں کو متاثر کیا جاسکتا تھا، کیا جاتا رہا اور جب ان کی ضرورت ختم ہوگئی تو انہیں دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا گیا۔ اعظم خاں خود اس کا شکار ہوچکے ہیں۔ آج انہیں خود یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ امرسنگھ کی وجہ سے نکالے گئے یا کلیان سنگھ کی وجہ سی۔ آج جس طرح وہ پارٹی میں واپس آنے کے بعد امرسنگھ کے خلاف بول رہے ہیں، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ ان کی ناراضگی امرسنگھ سے تھی اور ان کو پارٹی سے نکالے جانے کی وجہ امرسنگھ تھی۔ ہم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اعظم خاں کلیان سنگھ کے پارٹی میں آنے سے ناراض ہیں۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ ایک پارٹی میں نہیں رہنا چاہتی، جو بابری مسجد کی شہادت کا مجرم ہی، لیکن پارٹی میں واپسی کے بعد سے اب تک انہوں نے ایک بار بھی تو یہ نہیں کہا کہ ان کی تو پارٹی میں اسی وقت واپسی طے ہوگئی تھی، جب کلیان سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد باقاعدہ پارٹی میں شمولیت تو محض ایک رسم کی ادائیگی تھی۔ اچھا لگتا یہ سن کر کہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے یہ فیصلہ لیا تھا اور انہیں اسی بنا پر پارٹی سے الگ ہونا پڑا، لیکن جب وہ کلیان سنگھ کی بجائے امرسنگھ کو یا پھر امرسنگھ کی بات بھی جانے دیجئی، جیہ پردا کو نشانہ بناتے ہیں تو سوچنا پڑتا ہے کہ آخر مسلمانوں کی جیہ پردا سے کیا ناراضگی ہی؟ مسلمانوں کے آخر کون سے ایشوز کے خلاف جیہ پردا کھڑی نظر آئی ہیں۔ وہ کب کلیان سنگھ سے بھی زیادہ تنقید کا نشانہ بننے کے لائق ہوگئیں؟ اس سے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ناراضگی کی بنیاد رامپور کی ایک سیٹ اور امرسنگھ سے ذاتی رشتے تھی۔ اگر ایسا ہے تو ان کی پارٹی سے علیحدگی نہ مسلمانوں کے لئے تھی، نہ کلیان سنگھ کی ناراضگی کی بنا پر تھی اور نہ پارٹی میں واپسی کلیان سنگھ کی علیحدگی کی بنا پر ہی۔ جہاں تک میں امرسنگھ کے ذہن کو سمجھتا ہوں، وہ بے پناہ ذہین سیاستداں ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ امرسنگھ نے اعظم خاں کی پارٹی میں واپسی کو بے اثر کرنے کے لئے اس زبانی جنگ کا خیرمقدم اسی لئے کیا، کیونکہ وہ جس طرح عبیداللہ خاں اعظمی کو ساتھ لے کر مسلمانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور پروانچل کو ایک الگ ریاست بنانے کی مہم چھیڑے ہوئے ہیں، وہ اعظم خاں کی سماجوادی پارٹی میں شمولیت کے بعد متاثر ہوسکتی تھی۔ مسلمان اعظم اور اعظمی میں سے کس کو چنیں یہ سوچنے لگتی، لیکن اگر پارٹی میں پھر سے شمولیت کے بعد اعظم خاں صرف اور صرف کلیان سنگھ کے ایشو پر بولتے اور ملائم سنگھ کے گلے لگ کر کہتے کہ آپ نے جس دن کلیان سنگھ کو پارٹی سے دفع کیا، سمجھ لیجئے اسی دن مجھے خوش آمدید کہہ دیا۔ ہاں رامپور سے لکھنؤ تک کا سفر طے کرنے میں کچھ وقت ضرور لگا، مگر دل کا دروازہ تو اسی دن کھل گیا تھا، جب آپ کے دروازہ سے بابری مسجد کے قاتل کے قدم باہر نکلی، تب بات کچھ اور ہوتی۔ لیکن اب جبکہ واضح طور پر یہ کھلی جنگ امرسنگھ اور اعظم خاں کے درمیان منظرعام پر آگئی ہے تو پھر اب کیا کہیں گے اعظم خاں۔ کیا وہ امرسنگھ کی وجہ سے پارٹی سے باہر نکلے تھے یا پھر کلیان سنگھ کی وجہ سی؟ اگر کلیان سنگھ کی وجہ سے نکلے ہوتے تو وجہ مسلمانوں کو بتائی جاسکتی تھی اور اگر امرسنگھ کی وجہ سے نکلے تو یہ تو دو سیاستدانوں کے درمیان کی آپسی جنگ تھی، اس سے مسلمانوں کو کیا لینا دینا۔ ساتھ ہی اگر ملائم سنگھ غور سے سوچیں تو انہیں سمجھ میں آجائے گا کہ اس سے انہیں کتنا بڑا نقصان ہونے جارہا ہی۔ میں امرسنگھ کے ذریعہ کی جانے والی بیان بازی کا ذکر نہیں کررہا ہوں۔ میں توجہ اس بات پر دلانا چاہتا ہوں کہ اگر یہی بات واضح ہوگئی کہ اعظم خاں کی علیحدگی اور واپسی کی وجہ کلیان سنگھ نہیں، امرسنگھ تھے تو پھر وہ مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لئے اعظم خاں کی واپسی کے بارے میں کیا کہیں گی؟ میرے سامنے اس وقت اعظم خاں کی واپسی کے بعد کی خبروں کے تراشے ہیں، جنہیں میں آپ کے اور اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کردینا چاہتا ہوں، تاکہ سیاسی جنگ کی حقیقت کو سمجھا جاسکی۔ ایک نظر ان خبروں پر:
سیاسی لوگ جیل جانے سے نہیںڈرتی، لیکن صنعت کاروں کے لئے جیل کافی تکلیف دہ جگہ ہی،لہٰذا امرسنگھ سوچ سمجھ کر زبان کھولیں تو بہتر ہی۔امرسنگھ بیمار ہیں اور وہ اپنا ذہنی توازن کھوچکے ہیں۔وہ پروگراموں میں کرسی، ٹینٹ سے لے کر ہیلی کاپٹر تک سپلائی کا ذکر خود کرچکے ہیں، اب سپلائر پکارنے میں برا کیوں لگ گیا؟ جیہ پردا فلمی اداکارہ ہیں۔ رامپور میں گھونگھٹ نکال کر مریم یا زلیخا نہیں بن سکتیں۔جیہ ہاں ناچتی اچھا ہیں۔ وہ سیاست میں ناسمجھ ہیں، اس لئے خاموش رہیں تو ہی بہتر ہی۔ امرسنگھ کو سبھی نے دلال کہا، لیکن ہاں ہم نے انہیں دلّا کہا۔
(’’راشٹریہ سہارا‘‘(ہندی)، ’’امراجالا‘‘، ’’ہندوستان‘‘، ’’نوبھارت ٹائمزـ 06-12-2010)
دیکھا آپ نی، ہے کوئی جملہ اس میں کلیان سنگھ کے حوالہ سی۔ نہیں ہے نہ، اب کیا کہیں گے آپ؟ ناراضگی کس سے تھی، کلیان سنگھ سے یا امرسنگھ اور جیہ پردا سی؟ ہوسکتا ہے اب ہمارے یاد دلانے کے بعد زبان پر کلیان سنگھ کا نام بھی آجائی، مگر یہ واپسی کے فوراً بعد ہی ہوتا تو کچھ اور بات ہوتی۔ جانے دیجئے یہ تو سب سیاستدانوں کے سیاسی انداز ہیں، شاید ہم بھی نظرانداز کردیتی، مگر لکھنا اس لئے پڑا کہ بیشک یہ سیاست ان کی ہوتی ہی، مگر شکار تو ہماری قوم کو ہی ہونا پڑتا ہی۔
پھر معذرت کئی روز تک نہیں لکھ سکا، وجہ میری کتاب کی اشاعت اور اس کی رسم اجرا، ہندوستان بھر میں ترسیل کا مرحلہ ابھی باقی ہی، تاہم اس موقع پر جناب دگ وجے سنگھ کی تقریر کا ایک جملہ ضرور ایسا ہی، جس پر مجھے نئے سرے سے لکھنا ہوگا اور مسلسل لکھنا ہوگا اور وہ ہے ’’شہید وطن ہیمنت کرکرے کی شہادت سے محض 3گھنٹے قبل ان کی ٹیلی فون پر گفتگو اور ہیمنت کرکرے کا یہ کہنا کہ وہ اپنی زندگی کے دشوارترین دور سے گزر رہے ہیں، ان کے اہل خانہ کو سنگھ پریوار کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔‘‘ ملاحظہ فرمائیں، کل کا مضمون اسی موضوع پر۔
……………

1 comment:

BIJU KRISHNAN said...

Namasthe Burneyji,

Burneji, this is my Sangh Maryda to call u as Ji, because I tought to respect seniors. Sir how can you say that RSS is behind 26/11? Do you feel that all Indian law and order were mistaken? Are u supporting Pakisthan, just because of a Muslim country?

Sir I like to ask you just one qstn...Sir prophet Muhammed always respect his ancienters, he respected Jesus, Moosa, Adam, etc? Even they all were not born & boughtup as Muslim? Sir then why wont you respect and love your Hindu forfathers?

Shame on you sir...