Tuesday, June 22, 2010

کشمیریوں کو تنہا چھوڑ کر ہم نے بڑی بھول کی ہے

عزیز برنی

کیامل جاتا ہے ہمیں کسی کو اپنی رودادغم سنانے سے اور کیا چھن جاتا ہے ہم سے کسی کی درد بھری داستان سن لےنے سے۔ بس یہی نہ کہ ہم اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں، یا کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کردیتے ہیں۔ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے کسی کو اپنے غموں میں شریک کرلیا۔ ہماری ہمدردی کے چند الفاظ اسے مشکل حالات سے لڑنے کا حوصلہ بخش دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ہماری یہ تھوڑی سی ہمدردی، انسانیت سے محبت کا یہ رشتہ کسی کی زندگی بدل دے۔ اسے دکھ تکلیف اور پریشانیایوں سے نجات دلا دے، اس کے مسائل کے حل کا کوئی راستہ ہی نکال دے۔ ہاں کبھی کبھی بڑی بڑی الجھنیں معمولی سی پیش رفت سے حل ہوجایا کرتی ہیں۔ شیخ محمد عبداللہ نے کشمیر کے مسئلہ کو اگست948کے فوراً بعد اتنا مشکل نہیں سمجھا ہوگا، جتنا بعد میں ان کی سمجھ میں آیا۔ میں نے جان بوجھ کر راجا ہری سنگھ کے نام کا ذکر نہیں کیا، اس لےے کہ کشمیر کی اکثریت سے ان کے رشتے کیسے تھے، یہ تاریخ کے اوراق میں درج ہے اور جو ظلم و ستم کا سلسلہ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ 1931میں شروع کردیا تھا، اس کے بعد ان سے یہ امید رہ بھی نہیں گئی تھی کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے حق کا خیال رکھیں گے اور کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے، جس سے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جاسکے، ان کی دل آزاری نہ ہو۔ ہاں، مگر شیخ محمد عبداللہ پر دیر تک کشمیری عوام کا بھروسہ قائم رہا۔ ٹوٹا کب اور کیوں، اس کا ذکر بعد میں۔ میں سلسلہ وار کشمیر کی تاریخ، اس کے مسائل، حالات کی پیچیدگی اور ان سب کی بنیادی وجوہات اپنے قارئین، حکومت ہند اور ہم وطن بھائیوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، لیکن میں نے جس سادہ سی بات کو سامنے رکھ کر آج کے مضمون کی شروعات کی ہے، وہ ہندوستان کی تہذیب سے بھی تعلق رکھتی ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات سے بھی۔ ہم اپنے سینوں میں ایسا دردمند دل رکھتے ہیں، جو دوسروں کے دکھ تکلیف سمجھنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ ہم کسی کو سڑک پر کراہتے ہوئے دیکھ کر اپنی منزل کی طرف اسی رفتار سے نہیں بڑھ جاتے، رک کر دیکھتے ہیں کہ آخر یہ پریشان حال کون ہے، کس کے ظلم و ستم کا شکار ہے یا کیوں حالات نے اسے اس موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے؟ اگر ہماری تھوڑی سی ہمدردیاں، تھوڑی سی مدد اس کے کام آسکتی ہے تو ہم اس سے گریز نہیں کرتے اور کبھی کبھی ہماری یہ ادنیٰ سی کوشش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی طرز پر اسے حالات سے لڑنے کا حوصلہ بخش دیتی ہے۔
\1947کے بعد سے آج تک ہماری سرکاروں نے کشمیر کے ساتھ کیا سلوک کیا، کتنی غلطیاں کیں، یہ ایک طویل داستان ہے۔ اس کا ذکر بعد میں، پہلے ہم اپنے عمل کا احاطہ کرلیں۔ کیا ہم نے وہ انسانی فرض بھی نبھایا، جو ایک عام ہندوستانی کے ناطے، ایک مسلمان کے ناطے ہمیں کشمیریوں کے ساتھ نبھانا چاہےے تھا؟ کیا ہم ان کے غم میں کبھی اس طرح بھی شریک ہوئے، جس طرح ہم دوسرے ممالک کے شہریوں کے غم میں شامل ہوتے رہے ہیں؟ ہمیں چیچنیا، بوسنیا اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم رلا دیتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں سے باہر نکال کر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ اپنی حکومت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہیں۔ مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ عراق امریکی جنگ سے لہولہان ہوجائے تو ہم راحت کا سامان اور دوائیاں ٹرکوں میں بھر کر عراق تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ میں ان تمام اقدامات کی ستائش کرتا ہوں، یہی تو وہ انسانیت کا جذبہ ہے ہمارے اندر، جس پر ہم فخر کرتے ہیں، ناز کرتے ہیں، مگر انتہائی حیرانی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے اسی انسانی ہمدردی اور محبت کے رشتے سے کشمیر اور کشمیریوں کو الگ کیوں کردیا؟ اگر وہ پریشان حال ہیں تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں تھا کہ ہم ان کی پریشانیوں کو سمجھیں، اگر انہیں انصاف نہیں مل رہا ہے تو کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں تھی کہ ہم انہیں انصاف دلانے کی جستجو کرتے؟ کیوں خوفزدہ ہیں ہم اس بات سے کہ اگر ہم کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلند کریں گے تو ہم پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کردیا جائے گا؟ یہ کس نے ثابت کردیا کہ کشمیرکا ہر فرد دہشت گرد ہے اور وہاں جو بھی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں، وہ سب کے سب دہشت گرد ہیں؟ ہم وہ ہندوستانی ہیں، جو اپنے شہریوں کے جذبات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری پولس فورس کے لےے موت کا پیغام بن جانے والے نکسلیوں کو بھی ہم دہشت گرد قرار نہیں دیتے۔ ہم ان کے مسائل کو سمجھنا چاہتے ہیں، وہ کیوں اور کن حالات میں بندوق اٹھانے کے لےے مجبور ہوئے، ہم اس کی تہہ تک جانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو ہماری فوج ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو دہشت گردوں اور دشمنوں کے ساتھ ہی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہمارے وزیرداخلہ انہیں دہشت گردوں کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ ہمارے دانشور تو اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھ کر اپنی ہمدردیوں اور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ کیا آپ کی نظروں سے نہیں گزرا ’آؤٹ لک‘ کی کور اسٹوری کی شکل میں شائع اروندتی رائے کا یہ مضمون، جس میں انہوں نے نکسلائڈ کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہGandhians with guns'۔ میں درخواست کروں گا محترمہ اروندتی رائے صاحبہ اور دیگر انسانیت سے محبت کا جذبہ رکھنے والے قلمکار حضرات سے کہ وہ تقسیم وطن کے بعد سے آج تک کے کشمیر اور کشمیریوں کے حالات کا بھی جائزہ لیں اور اگر اتنا وقت نہ نکال سکیں تو کم ازکم ان چندماہ کی داستان تو ضرور جان لیں، جب ہندوستان کو تقسیم سے دوچار ہونا پڑا، پاکستان کا وجود عمل میں آیا اور مذہب کے نام پر اس بٹوارے کے بعد 80فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والی ریاست کشمیر پاکستان میں شامل نہیں ہوئی۔ آخر کیوں؟ اتنا آسان نہیں ہے، اتنی بڑی بات کو جان کر بھی آگے بڑھ جانا یا نظرانداز کردینا۔ ہمیں تقسیم وطن کی اس تھیوری پر نظر ڈالنی ہوگی، جو آج تک کہی جاتی رہی کہ ہندوستان دو قومی نظریہ کے تحت بٹا، یعنی ہندوؤں کے لےے الگ ملک اور مسلمانوں کے لےے الگ ملک۔ جہاں تک ہماری ذاتی سوچ کا تعلق ہے، جو بعد میں جسونت سنگھ جیسے مصنفوں کی معرفت بھی درست ثابت ہوتی نظر آئی کہ یہ پروپیگنڈہ صحیح نہیں تھا، مگر اس وقت ہم ذاتی نظریہ پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اسی بات کو سامنے رکھ کر گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں کہ یہ ملک دو قومی نظرےے کے تحت بٹا، یعنی مسلمانوں نے اپنے لےے پاکستان کی شکل میں ایک الگ ملک حاصل کرلیا۔ اگر یہی سچ تھا تو 80فیصد مسلم آبادی والی ریاست پاکستان میں شامل کیوں نہیں ہوئی؟ جب ہم گہرائی کے ساتھ ان وجوہات کی تلاش میں جائیں گے تو پھر ہمیں ان دو سوالوں کا جواب حاصل کرنا ہوگا کہ اگر اسی وقت کشمیرہندوستان میں شامل نہیں ہوا تو کیا اس کا بھروسہ پاکستان کی اسلامی حکومت کے مقابلے ہندوستان کی جمہوریت پر زیادہ تھا اور وہ اپنی مرضی سے ہندوستان میں شامل ہوا تھا یا پھر کوئی دوسری وجہ تھی، کوئی مجبوری تھی ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کی یا پھر وہ اپنا ایک الگ وجود چاہتا تھا؟ نہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا اور نہ ہندوستان کے ساتھ رہ جانے کا ارادہ رکھتا تھا، بلکہ اس نے تقسیم وطن کے وقت پاکستان میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ تو صرف اسی لےے کیا کہ وہ اپنا ایک الگ وجود چاہتا تھا۔ تب کیا ہم نے کشمیریوں کو مجبور کیا ہندوستان کے ساتھ رہ جانے کے لےے، کیوں کہ کشمیر ہمیں پسند تھا؟ یا پھر یہ کشمیریوں کا اپنا فیصلہ تھا کہ انہوں نے محمدعلی جناح اور لیاقت علی سے زیادہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور شیخ محمد عبداللہ پر بھروسہ کیا؟ تمام واقعات تاریخ کے اوراق میں درج ہیں (سوائے کشمیر پر قبائلیوں کے حملے کی بنیادی وجوہات کے)۔ ایک ایک حرف چیخ چیخ کر کہے گا کہ سچ کیا ہے، لیکن کل کی تمہید کے بعد اپنے آج کے ابتدائی مضمون میں پہلا سوال میں اپنے قارئین سے ہی کرنا چاہتا ہوں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ اب بات حکمت عملی پر ہوگی، صرف لفظوں کے سہارے حالات حاضرہ کو قلمبند کردینا ہی کافی نہیں ہوگا، لہٰذا اسی حکمت عملی کے پیش نظر پہلا پیغام یہی قوم کو دینا ضروری لگتا ہے کہ ہم نے کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر غلطی کی ہے۔ ہمیں انسانیت کے ناطے ان کے غموں میں شریک ہونا چاہےے تھا۔ بیشک بہت دیر ہوگئی ہے، مگر اب سے ہی سہی ہمیں یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ ہم ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز ضرور بلند کریں گے۔ بیشک یہ اس دائرے میں رہ کر ہی ہوگی، جس کی اجازت ہمیں ہمارے ملک کے قانون نے دی ہے۔
اس وقت جموںوکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرفاروق ہیں، جو سابق وزیراعظم جموں وکشمیر شیخ محمد عبداللہ کے پوتے اور ڈاکٹرفاروق عبداللہ کے صاحبزادے ہیں اور آج یوپی اے حکومت کی سربراہ محترمہ سونیاگاندھی ہیں، جو سابق وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لعل نہرو کے نواسے راجیوگاندھی کی بہو ہیں۔ کشمیر کے حالات سے پنڈت جواہر لعل نہرو اور شیخ محمد عبداللہ کی دوستی اور اختلافات کی وجوہات کا گہرا تعلق ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور راجیوگاندھی کے درمیان ہوئی مصالحت کشمیر کی تاریخ میں ایک نیا موڑ تھا اور آج جب ہم نوجوان وزیراعلیٰ عمرفاروق اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے جانشین راہل گاندھی کی طرف دیکھتے ہیں تو اندازہ کرسکتے ہیں کہ جو سلسلہ شیخ محمد عبداللہ اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی دوستی ٹوٹ جانے کے بعد سے ٹوٹ گیا تھا، وہ ان دو نوجوانون قائدین کی دوستانہ گفتگو کے بعد پھر سے شروع ہوسکتا ہے، لیکن قبل اس کے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا یہ ہماری اپنی پیش رفت کے بغیر ممکن ہوپائے گا، شاید نہیں، لہٰذا ہم مسئلہ کشمیر کے حل کی سمت میں آگے بڑھیں اور آج ہی سے پہلا کام تو یہ کریں کہ کشمیر کے حالات پر گفتگو شروع کریں، کشمیریوں سے تبادلۂ خیال کریں۔ وہ کس طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ کشمیر کے حالات کا سچ کیا ہے، یہ جاننے کی جستجو کریں، پھر اس ضمن میں ہم ان کے لےے کیا کرسکتے ہیں، اس پر غور کریں۔ ہم اپنی حکومت سے ان کے بارے میں کیا بات کرسکتے ہیں، اس کا کوئی خاکہ بنائیں۔ پوری دنیا میں ہم جہاں جہاں بھی ہیں، کشمیریوں کو اپنے آپ سے اس طرح الگ نہ سمجھیں کہ اگر وہ ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں تو ہم ان سے ہمکلام ہونے میں بھی گریز کریں اور ان سے کاروباری روابط قائم کرنے پر بھی سوبار غور کریں۔ ان کے نام اور چہرے پر جو دہشت گرد کی مہر چسپاں کردی گئی ہے، اسے سوچے سمجھے بغیر من و عن درست تسلیم کرلیں۔ میں جانتا ہوں کشمیر کے موضوع پر قلم اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے، مگر جو حوصلہ دیا ہے آپ نے، جو طاقت بخشی ہے آپ نے اس قلم کو یہ اسی کی دین ہے کہ میں اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھانے کی جرأت کرسکا، جو عرصۂ دراز سے ہماری اور ہماری حکومتوں کی بے توجہی کا شکار ہے اور جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
آج کا مضمون ختم کرنے سے قبل میں دو دیگر موضوعات پر چند جملے ضرور لکھنا چاہوں گا، کل کے اخبار میں صفحہ اوّل کی خبر، جو مکہ مسجد دھماکہ سے متعلق تھی، ضرور آپ کی نظر سے گزری ہوگی، جس میں سی بی آئی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ دھماکہ میں استعمال کےے گئے بم حیدرآباد میں ہی بنائے گئے تھے اور اس منظم سازش کو عملی جامہ پہنانے والے آر ایس ایس سے وابستہ تھے۔ اگر ہم نے بروقت کانپور اور ناندیڑ میں بم بنانے والی گھریلو فیکٹریوں کو نظرانداز نہ کیا ہوتا، بم بنانے کی کوشش میں مارے جانے والوں و ان کے بچ جانے والے ساتھیوں کے معاملے میں ایمانداری سے تحقیق کی ہوتی اور دہشت گردی کے اس چہرے کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہوتی، جو شہید ہیمنت کرکرے مالیگاؤں بم بلاسٹ تحقیقات کی روشنی میں دکھا رہے تھے تو شاید ہم اس دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلہ میں کوئی عملی قدم اٹھاپاتے۔
ایک آخری بات جو انتہائی تکلیف دہ ہے، مگر نظرانداز کےے جانے کے لائق قطعاً نہیںوہ یہ کہ رامپور کی تحصیل سوار میں ایک مسجد کو لے کر دیوبندی اور بریلوی فرقوں کے درمیان تنازع پھر کھڑا ہوگیا ہے۔ آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان میں فرقہ وارانہ اتحاد کے معنی کیا ہیں، اس کی اہمیت کیا ہے، کیا اس پر اب بھی کسی بحث کی گنجائش ہے؟ شاید، نہیں۔ لہٰذا اس طرح کے معاملات جب بھی سامنے آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب بھی ہم نے اپنی ترجیحات کو سمجھا نہیں ہے، جس چھوٹے دائرے میں سمٹ کر ہم رہ گئے ہیں، اس کے تمام نقصانات سامنے آنے پر بھی ہم بیدار نہیں ہوپارہے ہیں۔اگر ہم نے آج بھی حالات کو نہیں سمجھا، وسیع القلبی اور وسیع النظری سے کام نہیں لیا تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لےے کچھ اور نئے مسائل چھوڑ جائیں گے اور پھر یہ تاریخ کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گی

1 comment:

Dr. Ahmad Ali Barqi Azmi said...

Hai isi meiN falah e nau e bashar
Log ek dosare ke saath chaleiN

Koii apna ho ya paraaya ho
Yahi behtar hai sab se mil ke rahiN

Is payam e Aziz Burney ko
Apne ahl e watan meiN aam kareiN