Thursday, April 1, 2010

ज्योति दिवस-एक अनुकरर्णीय प्रणाली









مسلمان کی شناخت کیا ہے، اسلام کا نظریہ کسی بھی موضوع پر کیا ہے، یہ جاننے اور سمجھنے کے لےے ہمارے پاس دو ہی طریقے ہیں،یا تو باقاعدہ طور پر قرآن کریم کا مطالعہ کریں، سیرتِ رسولؐ کو سمجھیں اور ان کی روشنی میں اپنے مسئلہ کا حل یا اپنے سوالوں کا جواب حاصل کرلیں۔ اب یہ ان کے لےے تو ممکن ہے، جن کا مذہب اسلام سے تعلق ہے یا کہ وہ مذہب اسلام میں اس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرکے اسلام کی حقیقت اور اس کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ اب اگر ہمارے برادرانِ وطن یا ایک عام مسلمان جو مکمل طور پر تعلیمات اسلام کا مطالعہ نہیں کرپایا ہے اور جو اپنے مسئلوں کے حل کے لےے علمائے کرام کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو پھر اس کے لےے سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہمارے مذہبی رہنمائوں سے رجوع کرے۔ اب اگر مسئلے اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ان کے لےے علمائے کرام سے رجوع کےے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا، ورنہ وہ حرام یا شرک کے راستہ میں آسکتا ہے تب تو وہ بیحد ضروری ہے۔ ورنہ عام طور پر ہر معاملے میں علمائے کرام یا دارلفتاح سے رجوع نہیں کیا جاسکتا اور برادران وطن، قومی یا بین الاقوامی میڈیا یا ہمارے سیاستداں ہر مسئلہ پر علماء سے رجوع کریں یا فتویٰ لیں یہ ضروری نہیں ہے اور اگر وہ مسئلہ مسلم خواتین کے الیکشن میں حصہ لینے سے تعلق رکھتا ہوں، تب تو وہ اس کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں کریں گے، مگر ہاں، ہمارے علمائے کرام کا موقف کیا ہے، اس پر ان کی نظر ضرور رہے گی۔ اب ہمارے عالمِ دین جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں، وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کہہ رہے ہیں یا کہ یہ ان کا ذاتی نظریہ ہے۔ دونوں الگ الگ باتیں ہیں، مگر ہر سننے والا اس گہرائی میں جاکر ان کے نظریات کو نہیں سمجھ سکتا۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، اگر وہ ان کی ذاتی رائے ہے تو بھی ایک عالم دین کے منہ سے نکلے الفاظ بہت حد تک
جیوتی دِوسـایک قابل تقلید قدم
دو جنموں کی تھیوری (Theory)، بات کچھ عجیب سی لگتی ہے، مگر جب اپنے بارے میں سوچتا ہوں تو کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ مجھے ایک ہی زندگی میں دو بار جنم لینے کا موقع ملا ہے۔ ایک تو وہ جب مجھے میرے اپنے گھر پریوار میں اپنی ماں کے ذریعہ جنم دیا گیا اور دوسری بار جب ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ میں میں نے جنم لیا۔ دونوں ہی پریواروں کے سنسکار میں اپنی شخصیت میں محسوس کرتا ہوں۔ میرا مذہب کیا ہے، مذہب کے تقاضے کیا ہیں، مذہب کے مطابق زندگی جینے کا طریقہ کیا ہے، یہ سیکھا میں نے اس پریوار سے جس میں جنم لیا اور ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ میں آنے کے بعد معاشرہ کو سمجھنے کا سلیقہ ملا، مختلف مذاہب اور سوچ کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ آج پہلی اپریل ہے، وہ دن جسے ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ کے لوگ عالیجناب سبرت رائے سہارا (سہاراشری جی) کے والدمحترم جناب سدھیرچندررائے کا جنم دن یعنی ’’جیوتی دِوس‘‘ کی شکل میں مناتے ہیں۔ ایک عظیم شخصیت کے والد کی عظمت کو کئی معنوں میں سلام کرنے کو دل چاہتا ہے، ساتھ ہی آج کے دن کی جو بات سب سے زیادہ قابل ذکر ہے اور جسے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لےے سنجوکررکھنا چاہتا ہوں وہ ہے ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ میں آج کے دن پریوار سے جڑے چھوٹے چھوٹے سمجھے جانے والے عہدوں پر بڑی بڑی ذمہ داری نبھانے والوں کے احترام کے روپ میں یاد کیا جانا۔ جس وقت یہ تقریب چل رہی تھی تو میں وہاں کھڑے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہم جن کے کام کو چھوٹا سمجھتے ہیں، اگر وہ دو دن بھی دفتر میں نہ آئےں، اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائیں تو ہمارا کام کتنا مشکل ہوجائے۔ دو روز تک صفائی نہ کےے جانے پر دفتر میں بیٹھنا مشکل ہوگا، دو روز تک ڈرائیور نہ آئے تو خود گاڑی چلاکر سارے کام نمٹانا بہت مشکل ہوگا اور اگر اتفاق سے دو روز تک آپ کا صفائی کرمی نہ آئے تو ضروریات سے فارغ ہونا بھی ہمارے لےے بے پناہ تکلیف دہ ہوجائے گا۔ کتنا اہم مقام ہے ان سب کاموں کا ہماری زندگی میں اور کتنی اہمیت دیتے ہیں ہم انہیں۔ میں ایک بڑے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے والا ایک سینئر افسر ہوں، کئی روز تک دفتر نہ آئوں تو شاید کام کاج میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ آئے، مگر مجھ سے وابستہ دیگر کارکنان کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی، لہٰذا آج کا دن مجھے یہ سیکھاتا ہے کہ اسلام میں جو سب کو برابری کا درجہ دینے کی بات کہی گئی ہے، وہ اسی لےے کہ معاشرے کی ضروریات کے پیش نظر سب کے کام الگ الگ ہوسکتے ہیں، مگر ایک معاشرتی ڈھانچے کی تعمیر کے لےے سب کی اپنی اپنی جگہ بے پناہ اہمیت ہے، لہٰذا کسی کو بھی کم کرکے نہیں دیکھا جانا چاہےے۔

No comments: