Monday, January 11, 2010

ملائم سنگھ، امرسنگھ کے بیچ آگیا اب

کلیان سنگھ

ملائم سنگھ ایک عرصہ تک مسلمانوں کے پسندیدہ لیڈر رہے ہیں، انہیں سماجوادی پارٹی اپنی پارٹی لگتی تھی، پھر گزشتہ ایک برس کے دوران اس میں بہت سے بدلاﺅ آتے چلے گئے۔ اس بدلاﺅ کے پیچھے وجہ کیا تھی؟ زیادہ بہتر تو ملائم سنگھ ہی جانتے ہوں، مگر انہوں نے جو بھی قدم اٹھائے، اس کو سیاست میں اور زیادہ پانے کی چاہت کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ ورنہ جو نظریاتی اعتبار سے ان کے شدید مخالف تھے، وہ ان کے دوست کیسے بن سکتے تھے۔ بہرحال آج وہ بھی ملائم سنگھ کے ساتھ نہیں ہیں۔ اچھا ہوتا، جو فیصلہ ملائم سنگھ یادو نے فیروزآباد کی سیٹ پر شکست کے بعد لیا، وہ فیصلہ انہوں نے پارلیمانی انتخابات کے نتائج آنے کے فوراً بعد ہی لے لیا ہوتا تو کم ازکم ایسا تو لگتا کہ انہیں مسلمانوں کو کھودینے کا احساس ہے۔ اپنی بہو کی ہار کے بعد ان کے اس فیصلہ سے تو یہی ظاہر ہوا کہ انہیں فیروزآباد کی ایک سیٹ کھودینے کا زیادہ احساس ہے۔ میں ملائم سنگھ اور کلیان سنگھ کے ایشو پر آج بات نہیں کرنا چاہتا۔ میں ملائم سنگھ یادو کے اس جذبہ کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتا، جو انہیں ایک بار پھر مسلمانوں کے نزدیک لے جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے اس سوال پر گفتگو صرف اس لےے کی کہ امرسنگھ کے حامیوں کی طرف سے یہ آواز آئی کہ کلیان سنگھ کے ساتھ کھڑے ہونے کے فیصلہ میں امرسنگھ کا کوئی کردار نہیں تھا۔ دراصل ملائم سنگھ اور کلیان سنگھ کے معاملہ نے جس قدر بھی طول پکڑا، اس کی ایک خاص وجہ میرا مسلسل کالم بھی رہا۔ اس موضوع پر امرسنگھ اور ملائم سنگھ سے طویل بحثیں ہوئیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ امرسنگھ کا کلیان سنگھ کو لانے میں کوئی کردار ہے یا نہیں، مگر میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جب یہ مسئلہ شباب پر تھا اور اس موضوع پر ملائم سنگھ سے ایک طویل اور بے نتیجہ بحث ہوئی، جس کا ذکر میں نے اپنے پچھلے مضمون میں کیا تھا تو امرسنگھ مجھ سے ایک خاص مقام پر ملے۔ ملاقات رازدارانہ نہیں تھی، مگر اس کا ذکر اس سے پہلے کہیں ہوا بھی نہیں۔ اس ملاقات میں میرے اور امرسنگھ کے علاوہ اور کون کون تھا، یہ اتنا اہم نہیں ہے، جتنا یہ کہ جب ایک طویل بحث کے بعد ایک بار پھر میں نے کلیان سنگھ کے موضوع پر اپنے موقف سے ہٹنے سے صاف انکار کردیا اور ان کے سامنے تجویز رکھی کہ اگر آپ مسلمانوں کو اپنے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں تو، کلیان سنگھ سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی ہوگی۔ میں جانتا ہوں یہ بات بار بار میرے سامنے لائی گئی ہے کہ کلیان سنگھ سے دل کا رشتہ نہیں مصلحت کا رشتہ ہے۔ اترپردیش میں 24سیٹیں ایسی ہیں، جہاں کلیان سنگھ کا اچھا اثر ہے اور انہیں کلیان سنگھ کی مدد سے جیتا جاسکتا ہے۔ لیکن میرا جواب تھا کہ ملک میں 124ایسی سیٹیں ہیں، جن پر مسلمانوں پر اچھا اثر ہے اور انہیں مسلمانوں کی مدد سے ہی جیتا جاسکتا ہے۔ اگر آپ 24سیٹیوں کے لےے اس قدر فکرمند ہوسکتے ہیں کہ اپنے نظریات بھی بدل ڈالیں تو پھر میں ان124سیٹوں کے لےے فکرمندکیوں نہیں ہوسکتا اور اپنی قوم کے جذبات کے لےے اپنے موقف پر کیوں قائم نہیں رہ سکتا؟
اب میں اپنی آج کی اس تحریر کے اس اہم جزو پر آرہا ہوں، جسے اپنے قارئین کے سامنے رکھنے کے لےے میں نے اس واقع کا ذکر کیا۔ ہاں، یہ ضرور عرض کرتا چلوں کہ امرسنگھ نے گفتگو کے بعد یہ کہا تھا کہ میں آپ کی بات سے بہت حد تک متفق ہوں اور میں اسے اپنی پارٹی کے سامنے رکھوں گا۔ اب وہ بات جس کی طرف میں آپ کی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں۔ دراصل گزشتہ 60برسوں میں یا یوں کہئے کہ 1952میں ہوئے پہلے پارلیمانی انتخابات کے بعد پہلا موقع ہے، جب مسلمانوں نے ہندوستان کی سیاست میں ایک طوفان برپا کردیا ہے۔ ہر بڑی پارٹی اس سمت میں سوچنے کے لےے مجبور ہے۔ وہ چاہے اس کا اظہار کرے یا نہ کرے، مگر اس سچائی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس وقت ہندوستان کی سیاست میں مسلمان مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کانگریس آج اگر برسراقتدار ہے تو صرف اس لےے کہ 6دسمبر1992 کے بعد پیدا ہوئی تلخی کو بھلاکر پہلی بار انہوں نے کانگریس کا ساتھ دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اگر اندرونی چپقلش کا شکار ہے اور ایک کے بعد دیگر اس کے لیڈر بغاوت پر آمادہ نظر آتے رہے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہوں نے دیکھ لیا تو فرقہ پرست اور تنگ نظر سیاست کے سہارے بہت دور تک نہیں چلا جاسکتا۔ اگر برسراقتدار آنا ہے تو سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ذہن رکھنا ہی ہوگا۔ امرسنگھ-ملائم سنگھ تنازع کا تعلق نہ تو کلیان سنگھ سے ہے، نہ مسلمانوں سے ہے۔ مگر یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ اگر سماجوادی پارٹی مسلمانوں کی نظروں سے نہ گری ہوتی تو کانگریس کو مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرنے کی بنیاد پر ہی سہی، اسے حکومت میں ساتھ رکھنے کے لےے غور کرنا پڑا ہوتا۔ سماجوادی پارٹی کو مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوئی ہوتی تو شاید اس کی سیٹیوں کی تعداد بھی کچھ زیادہ ہوتی اور ان میں کچھ مسلمان بھی منتخب ہوکر آتے۔ اگر ایسا ہوتا تو اقتدار کی چاشنی سب کو جوڑے رکھتی۔ شاید پھر امرسنگھ یا ملائم سنگھ الگ ہونے کے بارے میں نہ سوچتے۔ نہ اتنی فرصت ہوتی، نہ اس کا موقع ہوتا، سرکار میں حصہ داری ہوتی، مصروفیت اس قدر ہوتی کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر کون غور کرے کہ القاب و آداب میں کس لفظ کا خیال رکھا گیا اور کس کا نہیں، جب دل ملتے ہیں تو سب چلتا ہے اور جب دل میں کدورت ہو تو سب کھلتا ہے۔
عین ممکن ہے کہ میری بات سے یہ لگ رہا ہوں کہ میں نے اس مسئلہ کا رُح بھی مسلمانوں کی طرف موڑ دیا، جبکہ اس مسئلہ کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو امرسنگھ کی حمایت میں آنے والوں میں نہ تو مسلمانوں کی کثرت دکھائی دیتی اور نہ بار بار ان کے نام زبان پر آتے۔ اب وہ چاہے ابوعاصم اعظمی ہوں، جنہیں اعظم خان کے بعد پارٹی کا مسلم چہرہ سمجھا گیا ہو یا عبیداللہ خاں اعظمی، جنہیں مسلم چہرے کے طور پر پارٹی میں شامل کیا گیا ہو۔ شاید امرسنگھ کے حامی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سماجوادی پارٹی کی مسلم قیادت ان کے ساتھ ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ شاہد منظور، نواب اقبال محمود اور محبوب علی جو امرسنگھ کی مخالفت میں کھڑے ہوئے ہیں، یہ عبیداللہ خاں اعظمی اور ابوعاصم اعظمی کا جواب ہے یا اب اسے پوری طرح صاف سمجھ لیا جائے کہ امرسنگھ کا استعفیٰ واپس لینے کا اب کوئی سوال ہی نہیں ہے،پوری پارٹی میں خیمہ بندی ہوچکی ہے، سب نے اپنااپنا مورچہ کھول دیا ہے اور اب بات صرف کچھ لیڈران یا پارٹی کارکنان تک ہی نہیں رہ گئی ہے، بلکہ دونوں کی نظر ووٹ بینک پر ہے اور وہ ووٹ بینک ہے مسلم ووٹ بینک، جسے عبیداللہ خاں اعظمی اور ابوعاصم اعظمی کی حمایت کی معرفت امرسنگھ اپنے ساتھ دکھانا چاہتے ہیں اور شاہد منظور، اقبال محمود و محبوب علی کی معرفت ملائم سنگھ اپنے ساتھ۔

1 comment:

dilshad ahmad said...

Artical sachaai bayan kar raha hai.Acha hai.