Tuesday, April 6, 2010

یہ کوئی تحریک ہے یا صرف اور صرف دہشت گردی

عزیز برنی

نکسلوادیوں کو ہم دہشت گرد مانیں یا جہادی، آج یہ بھی طے کرنے کی ضرورت ہے، اس لےے کہ جتنا بڑا دہشت گردانہ حملہ نکسلوادیوں نے آج ہندوستان کی فوج پر کیا، اگر کسی دشمن ملک کے حملے میں بھی ہمارے اتنے فوجی جوان مارے گئے ہوتے تو ہم اس ملک کو تہس نہس کرنے یا کم از کم منھ توڑ جواب دینے کا تہیہ ضرور کرلیتے، لیکن یہ کوئی دشمن ملک نہیں، ہمارے اپنے ہی ملک کے ایک ایسی تنظیم کے کارکنان کا حملہ تھا، جن سے ہمدردیاں بھی ظاہر کی جاتی رہی ہیں اور اس ہمدردی کی بنیاد ہے کہ سماجی نابرابری کا شکار لوگ ماؤوادی بن گئے اور انہوں نے ان لوگوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا، جنہیں وہ اس سماجی نابرابری کے لےے ذمہ دار مانتے ہیں۔ کیا یہی ایک طریقہ ہے؟ برابری کا درجہ حاصل کرنے کے لےے کیا ایسے لوگوں کو ہمدردیاں حاصل ہونی چاہئیں؟ کیا ایسے لوگوں کو کسی بھی بنیاد پر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جانی چاہےے؟ آج ہمیں اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
دلت ہندوستان کا وہ طبقہ تھا، جسے سب سے لمبے عرصے تک سماجی نابرابری کے بدترین دور سے گزرنا پڑا۔ کیا اس نے وہ طریقہ اپنایا، جو آج نکسلوادی اپنا رہے ہیں؟ کیا دلت آج برابری کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہیں؟ متعدد پسماندہ طبقات کو سماجی نابرابری کا شکار ہونا پڑا، کیا انہوں نے معاشرے میں اپنا حق حاصل کرنے کے لےے یہی راستہ اپنایا؟
میری عادت ہے کچھ بھی لکھنے سے قبل اس موضوع سے متعلق مواد کا بھرپور مطالعہ کرنا۔ یہی میں نے آج بھی کیا، وقت کم تھا اور حادثہ بہت بڑا تھا، لہٰذا دیر تک تو میری نظر اس افسوسناک سانحہ سے متعلق خبروں پر ہی رہی۔ پھر یہ جاننے اور سمجھنے کے لےے کہ آخر یہ نکسلواد کیا ہے؟ کب شروع ہوا، کیوں شروع ہوا اور دیگر زمیندار لوگوں کی اس پر رائے کیا ہے؟ پھر جب میں نے ان سب موضوعات پر پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ نکسلواد کی شروعات 1967میں ہوئی تھی، جب مغربی بنگال کے نکسلماڑی گاؤں میں یہ تحریک مقامی زمینداروں کے خلاف مسلح کسانوں اور مزدوروں کا استحصال اور سماجی نابرابری کی مخالفت کی ایک تحریک کے نام پر شروع کی گئی۔چارومجمدار کی قیادت میں جاری ہوئی اس پہلی نکسلوادی تحریک کو دو مہینے کے اندر ہی ناکام بنادیا گیا اور ’نکسلواد‘ لفظ کا استعمال اس لےے ہوا کہ نکسلباڑی نام کے گاؤں سے اس کی شروعات ہوئی تھی۔ابتدا میں یہ تحریک تین مقاصد کو سامنے رکھ کر شروع کی گئی تھی۔ -1 کھیت جوتنے والے کسانوں کو کھیت کا مالکانہ حق حاصل ہو، -2غیرملکی سرماےے کی اجارہ داری اور طاقت کو ختم کیا جائے اور3 ذات پات اور طبقات کے نظام کے خلاف جدوجہد کی جائے۔ اس تحریک کی شروعات کے بعد ماؤوادی نظریات میں یقین رکھنے والے متعدد اداروں نے کئی ریاستوں میں اس کی داغ بیل ڈالی۔ آندھراپردیش میں کونڈاپلّی سیتار مئیا کی قیادت میں ’’پیپلزوار گروپ‘‘ قائم کیا گیا تو مغربی بنگال میں کنہائی چٹرجی نے ’’ماؤوادی کمیونسٹ سینٹر‘‘کی بنیاد رکھی۔ اس وقت یہ تحریک محض چار ریاستوں تک محدود تھی، مگر آج ملک کی 16ریاستوں کے95اضلاع اس سے متاثر ہیں۔ نکسلواد سے متاثر تمام اضلاع میں ان کی متوازی حکومت چلتی ہے۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں پانچ ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں۔ حالیہ واقعہ جس میں تازہ اطلاعات کے مطابق 83جوان شہید ہوچکے ہیں اور متعدد زخمی ہیں، اب تک کا سب سے بڑا نکسلی حملہ ہے۔ اس ضمن میں اور اس تحریک کے تعلق سے کہنے اور لکھنے کے لےے ابھی بہت کچھ باقی ہے، مگر اس وقت میرے سامنے دو سنجیدہ اور قابل ذکر قلمکاروں کے مضامین ہیں، جن میں ایک 7اگست008کو شائع شریمتی مہاشویتا دیوی کا مضمون ’’زندہ رہے گا نکسلواد‘‘ اور دوسری مدراراکھشس جی کی تحریر جس کا عنوان ہے ’’اسمے:نکسلواد میں ان کی کیا سزا!(بے وقت : نکسلزم میں ان کی کیا سزا)‘‘۔
میں چاہتا ہوں کہ یہ دونوں مضامین ہمارے قارئین کی نظروں سے گزریں، اس لےے کہ جب آج کے بعد میں اس موضوع پر لکھ رہا ہوں تو بہت کچھ وہ باتیں بھی میرے سامنے ہوں، جو اب تک اس تحریک کو لے کر کہی جاتی رہی ہیں، لکھی جاتی رہی ہیں، اس کے بعد بات ہوگی کہ اب اس پر قابو پانے کے لےے کیا طریقہ اپنا جائے اور جو بھی، جس کی بھی ہمدردیاں کسی نہ کسی شکل میں ان کو حاصل تھیں یا ہیں، کیارہنی چاہےے تھیں؟ کیا ان کے اس دہشت گردانہ عمل کو ’’جہاد‘‘ یا ’’تحریک‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔
زندہ رہے گا نکسلزم
نکسلزم کے جواز اور اس کے تئیں عوامی رجحانوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ لگتا ہے، 70 کی دہائی سے اس کی ضرورت آج ہے۔ گزشتہ 15-10 برسوں میں بھوکوں، غریبوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔سیاسی ، اقتصادی، مشینری پوری طرح امیروں کے حوالے ہے۔ یہ تحریک اور آگے بڑھے گی، کیونکہ موجودہ نظام میں کثیر تعداد میں لوگ حاشیے پر کھڑے ہیں اور ان کی عیادت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ حکومت بھی تسلیم کر رہی ہے کہ نکسلزم کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ابھی یہ ملک کے ایک تہائی سے زیادہ علاقوںمیں اپنی جڑیں جماچکا ہے، لیکن حکومت نکسلزم کو لے کر ہمیشہ اس پس و پیش میں رہی ہے کہ اسے نظم و نسق کا مسئلہ مانا جائے یا سماجی -اقتصادی مسئلہ۔پریشانی یہ ہے کہ حکومت نکسلیوں کو دبانے کی پالیسی پرچلتی رہی اور ان مسائل پر بالکل غور نہیں کیا، جن کے پس منظر میں نکسلزم کا ظہور ہوا تھا۔
نکسلزم لوگوں کے دلوں میںاس لئے جگہ بنائے ہوئے ہے، کیونکہ اس کے تحریک کاروں کا اپنا کوئی مفاد نہیں ہوتا۔ انھیں نہ تو اقتدار چاہئے اور نہ ووٹ۔ وہ نظریاتی لڑائی لڑنے والے بے لوث لوگ ہیں۔ ان میں غضب کا حوصلہ ہے۔ ان کی جاں نثار شخصیت میں مجھے اصول نظر آتا ہے۔ان کی تحریک ، پرکشش اور نیک مقاصد کے لئے ہے۔ یہی سبب ہے کہ میری تحریر میں بھی یہ نمایاں طور پرموجود ہے۔ اس کے علاوہ آپ کویہ سمجھنا ہوگا کہ اُلفا، بوڈو، این ایس سی این کی طرح یہ کوئی علیحدگی پسند تحریک نہیں ہے۔ پھر نکسلی تنظیموں کومقامی سطح پر حمایت بھی علیحدگی پسند تنظیموں سے کافی زیادہ حاصل ہے۔ نکسلزم کی جڑیں اس لئے بھی موجود ہیں کہ نکسلی تنظیموں نے بالکل نچلی سطح سے اپنی جڑیں جمانی شروع کیں۔ جیسے چھتیس گڑھ میں سب سے پہلے آیباسیوں کو بچولیوں اور تیندوپتا کے ٹھیکے داروں کے خلاف متحد کیاگیا۔ زمینی سطح پر یہ تحریک شروع ہوئی، اس لئے حکومت کے سامنے یہ آج بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ ریاستی انتظامیہ میں جرائم کی آمیزش اور اس کے مفلوج ہونے کا نتیجہ ہے کہ نکسلزم کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
kجن ایشوز پریہ تحریک شروع ہوئی تھی، وہ آج بھی موجود ہیں، اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اس تحریک کی جڑیں کمزور ہوجائیں۔ آج ملک میں 56 نکسلی گروہ موجود ہیں اور ان کے زیرِ اثر ملک کی ایک تہائی سرزمین ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس کے دائرہ اختیار میں اور اضافہ ہوگا، کیونکہ سماج سے بے چینی اور بے اطمینانی کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ لاکھوں لوگ بھوکے، متاثر، استحصال کا شکاراور اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں، ایسے میں نکسلزم کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ اقتصادی نظام کا جب تک غیر متوازن فروغ ہوگا، دبے کچلے لوگ نظام کی مخالفت میں ہتھیار اٹھائیں گے ہی۔ یہ صورتحال ہمیشہ سے اور ہر ملک میں ہوگی۔
………………
بے وقت : نکسلزم میں ان کی کیا سزا
اخبار اور ٹی وی میڈیا نکسلی مہموں کی تنقید کرتے وقت اکثر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ نکسلی اپنے حلقۂ اثر میں غیر قانونی وصولی کرتے ہیں، ٹھیک مافیاکی طرز پر۔ عام طورپر کمیونسٹ پارٹی اپنے اراکین سے لیوی لیتی ہے اور اسی لیوی کی بنیاد پر پارٹی کا کام چلتا ہے۔ کل وقتی اراکین کو تنخواہ وغیرہ ملتی ہے۔ جب کبھی اخباری دنیامیں عام آدمی سے غیر قانونی وصولی کا ذکر ہوا، ہم نے یہی کہا کہ باضابطہ لیوی کو غلط سمجھا جارہا ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتہ ایک ایسی تنظیم سے غیرقانونی وصولی کی خبر ملی، جس سے میرا قریبی تعلق رہا ہے۔ ان کے ذریعہ تشکیل کردہ دلت فریڈم نیٹ ورک نے بین الاقوامی سطح پردلتوں کے لئے آواز اٹھائی اور 2002 کے گجرات قتلِ عام جیسے فرقہ وارانہ واقعات پر عالمی رائے عامہ تیار کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ اس تنظیم سے وابستہ لیڈروں نے ہندوستان میںدلتوں اور آدیباسی بچوں کے لئے کافی محنت سے اسکول کھولے ہیں۔ ایسے کچھ اسکول جھارکھنڈ میں بھی ہیں۔ یہ سخت تکلیف کی بات تھی کہ جھارکھنڈ کے اسی علاقے کی ایک اسکول چلانے والی تنظیم کے لیڈر نے بتایا کہ ان کے اسکولوں سے نکسلی تنظیم بڑی رقم وصول کر رہی ہے اور رقم نہ ملنے پر اسکول جلا دینے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں کبھی بھوجپور کو ویتنام بنانے کا عہدکرکے جگدیش مہتو، رامیشور اہیر جیسے لوگوں نے حالات بدلنے کے لئے کیا مانگا نہیں اپنی جانیں دی تھیں۔ گزشتہ صدی کے نصف اول میں تلنگانہ اور 60 کی دہائی میں نکسلزم میں جو عوامی جدوجہد شروع ہوئی اور جنھوں نے ملک کی نوجوان نسل پر گہرا اثر ڈالا تھا، وہ غیر قانونی وصولی کے سبب نہیں، بلکہ وہ اصول کے لیے اپنی جان کی قیمت پر کی گئی عوامی جدوجہد تھی۔ ڈی وی رائے سے لے کر چارومجمدار اور کانو سانیال تک اور پھر مائوئسٹ کمیونسٹ سینٹر یا پیپلز وار گروپ جیسی تنظیموں سے ہم جیسے لوگ چاہے جتنا نظریاتی اختلاف محسوس کریں، لیکن ان پر اوچھے غنڈوں والی غیرقانونی وصولی کے الزام کبھی نہیں لگے۔ گزشتہ سال جب نکسلزم پر پابندی کا فیصلہ لیا گیا تو اس قدم کی سخت مخالفت خود ہندوستان کی اس کمیونسٹ پارٹی نے کی،جس کا سب سے تلخ تجربہ کرنے کے لئے ہی نکسلباڑی تحریک تشکیل ہوئی تھی۔ ظاہر ہے کہ نکسلزم کے اوپر پابندی کی مخالفت کرنے والی ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسوادی) بھی یہ تصور نہیں کرسکتی تھی کہ نکسلائٹ غیرقانونی وصولی کرنے والوں کی تنظیم ہے۔ مارکسوادی پارٹی نے بھی کبھی یہ الزام نہیں لگایا۔ کئی نکسلی تنظیموں کے درمیان اتحاد ہوا اور نئی نکسلی پارٹیاں وجود میں آئیں۔ ان کے نئے دستاویز بہت حد تک بھگت سنگھ کے نظریات کی یاد دلاتے ہیں، یعنی ان کا ترجیحی طریق کار بلیٹ سے شروع ہوکر بلیٹ پر ہی ختم ہونے کا نہیں ہے۔ ان کی سرگرمی میں تمام محروم سماج کے مابین عوامی بیداری کے بیج بونا ہے۔ حالانکہ مختلف گروپوں میں تقسیم اس تحریک کی اپنی ایک بڑی بیماری بھی ہے ایک ہی مقصد کے باوجود ایک دوسرے سے سخت نفرت۔ یہ گروہی نفرت ان کے دستاویزوں میں بہت کھل کر سامنے آئی ہے۔ اس آپسی منافرت کو دیکھ کر تھوڑی حیرانی ہوتی ہے۔ زیادہ نفرت کچھ اس لیے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہر گروپ کا اصول اپنے کو دوسرے سے کہیں زیادہ دانشورانہ مانتا ہے اور دانشوری کی حد تو یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسرے ہم مسلک سے بحث کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ بحث کی کوئی گنجائش نہ چھوڑنے کا ہی ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ تحریک گروہ در گروہ تقسیم ہوتی اور بکھرتی جاتی ہے۔ ایک اور بڑی کمزوری ہے جوشاید ساری کمیونسٹ تحریک کے ساتھ لگی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے ،خاص طور سے ہندوستان میں۔ اس کا یہ نظریہ صحیح ہے کہ عوامی جدوجہد کے ساتھ ہی عام آدمی کی بیداری کی کوشش ضروری ہے۔ لیکن یہ کام صرف اس طرح ممکن نہیں ہے کہ تحریک کی فکر ان کے درمیان پہنچائی جائے۔ ہندوستانی سماج میں نسلی اذیت اور خواتین کے ساتھ ثقافتی عدم مساوات کے علاوہ فرقہ وارانہ آگ لگانے والوں کے خلاف واضح مہم بھی ضروری ہے۔ چرچ جلائے جائیں، مسجدیں منہدم کی جائیں، گجرات کا قتلِ عام ہو یا اتر پردیش کو گجرات بنانے کی کوشش، نکسلزم اس کی سخت مخالف کرتا ہے، عوام کو یہ اعتماد بھی تو ہونا چاہئے اور اس سے آگے بڑھ کر عوام کو یہ پیغام بھی پہنچنا چاہئے کہ نکسلی آدیباسی اور دلت بچوں کے لئے طویل عرصہ سے کام کرنے والے مشنری اسکولوں سے غیر قانونی وصولی کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے قابلِ سزا جرم سمجھتے ہیں، ورنہ یہ داغ پورے نکسلزم کا کبھی نہ چھوٹنے والا داغ بن جائے گا۔

Sunday, April 4, 2010

26/11

کا سچ جاننا ہے تو۔۔۔۔۔

عزیز برنی

جب کسی معاملہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنا ہو تو اس سے بے توجہی اختیار کرلیجئے۔ اس پر گفتگو بند کردیجئے۔ اگر کوئی ذکر چھیڑ بھی دے تو بات بدل دیجئے۔ کچھ مخصوص لوگوں تک یہ اطلاع پہنچا دیجئے کہ اس موضوع پر گفتگو ناپسندیدہ ہے، لہٰذا زیادہ بات نہ کریں۔ کوشش کیجئے کہ میڈیا بھی اس پر زیادہ توجہ نہ دے،بلکہ ہلکے پھلکے انداز میں کبھی کبھی خبر بھلے ہی آجائے، مگر یہ ایشو نہ بن پائے اس بات کا خاص خیال رکھا جائے۔ سماجی تنظیمیں اگر اس کو ایشو بناکر جلسے جلوس، دھرنا پردرشن کرنا چاہیں تو ان کی حوصلہ شکنی کی جائے، راستے میں رکاوٹیں ڈالی جائیں اور یہ سب کام اتنی دانشمندی اور خوبصورتی کے ساتھ ہو کہ عوام کی توجہ اس طرف مرکوز ہی نہ ہوپائے۔کیا ہیڈلی کو بچانے کی کوشش کرنے والے ایسا کچھ کررہے ہیں؟26نومبر008 کو ممبئی پر ہوا دہشت گردانہ حملہ اتنی بڑی بات تھی کہ اس پر گفتگو نہ ہو، اس سے تو کسی کو روکا نہیں جاسکتا، مگر ہاں گفتگو کسی خاص نتیجے پر نہ پہنچے، اس سمت میں کوششیں ضرور کی جاسکتی ہیں۔ آپ بھول گئے نہ انیتا اُدّیا کا نام؟ کہاں یاد ہے آپ کو؟ بات تو چھوٹی نہیں تھی! ہمارے ملک پر دہشت گردانہ حملہ کرنے آئے تقریباً تمام دہشت گردوں کو زندہ دیکھا تھا اس نے، جب وہ بدھوارا پر ربڑ کی کشتی سے اترے تھے، پھر اس کے بعد اسے مردہ خانہ شناخت کے لےے بھی لے جایا گیا تھا۔ یہ عینی شاہد اس قدر اہم تھی کہ بناپاسپورٹ اور ویزا کے انتہائی رازداری کے ساتھ اسے امریکہ لے جایا گیا۔ صبح کا سورج نکلنے سے قبل جب وہ گھر سے رفع حاجت کے لےے نکلی تو واپس اپنے گھر پہنچنے کی بجائے امریکہ پہنچ گئی۔ کچھ اخبارات نے توجہ دی، چھٹ پٹ خبریں ٹی وی پر بھی آئیں، پھر بات رفع دفع ہوگئی۔ کسی نے کہا یہاں چلی گئی، وہاں چلی گئی، امریکہ نہیں گئی، فلاں کے گھر چلی گئی تھی، کسی نے کہا امریکہ ہی گئی تھی، ایف بی آئی نے پوچھ تاچھ بھی کی تھی اس سے، پھر یوں ہوا کہ جتنے منھ اتنی باتیں، یعنی مقصد پورا ہوگیا، بات آئی گئی ہوگئی۔ کسی نے اس بات کو ایشو بنایا ہی نہیں۔اسی طرح کا ایک اور معاملہ۔یہ لڑکی Sandra Samuel ’’شبدہاؤس‘‘ میں رہنے والے ربی خاندان کی گھریلو ملازمہ تھی۔ جب اس حادثہ میں،… جیسی کہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی ربیavriel اور اس کی بیویivka اس دہشت گرانہ حملہ میں مارے گئے تو اس نے اپنی جان پر کھیل کر ان کے معصوم بچے کو بچایا اس گھریلو ملازمہ نے اور وہ اس بچہ سے اس قدر محبت کرتی تھی کہ اپنی سگی اولاد کوغیروں کے حوالے چھوڑ کر اس بچے کی پرورش کے لےے اسرائیل جاکر بس گئی۔ کیجئے یقین اسی کہانی پر، کیوں کہ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہے آپ کے پاس۔ یہ گھریلو ملازمہ بھی عینی شاہد تھی اس دہشت گردانہ حملے کی۔ سب سچ جانتی تھی، ہمارے ملک کے ذمہ دار افسران کو بتاسکتی تھی۔ ہم نے ضرورت ہی نہیں سمجھی، پوچھ تاچھ کے لےے بھی اسے اسرائیل سے واپس ہندوستان لانے کی۔ اتنی اہم بات اس حد تک ذہن سے نکل گئی کہ اب مجھے اس کا نام بھی زبانی یاد نہیں۔ پرانی فائلوں سے تلاش کرکے لکھنے کی ضرورت پڑی، حالانکہ یہ ایک ایسی چشم دیدگواہ ہے، جو اس دہشت گردانہ حملے کے ٹھوس حقائق سے واقف ہے، بلکہ بہت حد تک بنیادی وجہ بھی سامنے رکھ سکتی ہے۔ کیا سچ مچ یہ اسرائیلی ربی اس حملے میں مارے گئے تھے؟ کیا ان کے مرنے کے بعد زخمی حالت کی تصویریں کہیں موجود ہیں؟ عمارت میں سی سی ٹی وی لگا تھا، ظاہر ہے ان کے فلیٹ میں بھی خفیہ کیمرے لگے ہوں گے، راقم الحروف نے پولس کے پہرے کے بیچ اس گلی کے اندر جاکر کچھ دکانداروں سے اسی وقت بات کی تھی، جنہوں نے یہ تصدیق کی کہ عمارت کے اندر کوئی باہری یا انجان شخص داخل ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ صدر دروازے پر خفیہ کیمرا لگا تھا۔ کون آنا چاہتا ہے، یہ تصدیق ہوجانے پر ہی اسے اندر داخلے کی اجازت ملتی تھی۔ بہرحال اس دہشت گردانہ حملے کے دوران کا منظر کیا تھا، کس نے کس پر گولیاں چلائیں، کون کس کی گولی سے مارا گیا یا زخمی ہوا، گھنٹوں تک وہاں رہ کر دہشت گردوں نے کس سے کیا بات کی، وہ گھریلو ملازمہ کس طرح اس بچے کو بچانے میں کامیاب ہوئی، Sandra Samuel نام کی اس ملازمہ کے خاندان کے کچھ لوگ تو ممبئی یا ہندوستان کے کسی بھی علاقے میں رہتے ہوں گے، وہ سب سامنے کیوں نہیں آئے، حادثے کے پہلے بھی اس اسرائیلی خاندان کے طرززندگی کے بارے میں کچھ تو وہ اپنے گھر جاکر باتیں کرتی ہوگی، اگر کوئی بات غیرمعمولی لگی ہوگی تو اس نے اپنے اہل خانہ کو بتایا ہوگا، کیسے لوگوں کا اس گھر میں آناجانا تھا، وہ کیا باتیں کرتے تھے، وہ دہشت گرد چہرے، زندہ اجمل عامر قصاب اور باقی لاشیں، اب ان میں ہیڈلی اور تہورحسین رانا کا نام بھی شامل کرلیجئے، کیا کبھی شبدہاؤس گئے تھے؟ کیا وہاں آتے جاتے تھے؟ ان سب میں حملے کے وقت کون کون دہشت گرد شبدہاؤس میںموجود تھا؟ اگر واقعی یہ ربی اور اس کی اہلیہ اس دہشت گردانہ حملے میں مارے گئے تو کس دہشت گرد نے انہیں گولی ماری۔ اجمل عامر قصاب اور باقی لاشوں کے فوٹو دیکھ کر وہ کچھ تو بتا سکتی ہے۔میں ربی اور اس کی بیوی کے مارے جانے پر بار بار لفظ ’’اگر‘‘ کا استعمال کررہا ہوں۔ کچھ لوگوں کے لےے یہ اسی طرح قابل اعتراض ہوسکتا ہے، جس طرح دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد میرا یہ کہنا اور لکھنا قابل اعتراض تھا کہ میں یہ کیوں کہتا ہوں کہ ان دس کے علاوہ کوئی گیارہواں دہشت گرد بھی اس حملے میں شامل ہوسکتا ہے اور صرف اتنی سی بات پر مجھے غدارِوطن تک کہا گیا، انٹرنیٹ پر میرے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، وزیراعلیٰ اور وزیرداخلہ کو خطوط لکھے گئے، میرے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔ بہرحال آج میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔ میں اس وقت جو سوال اٹھا رہا ہوں اور لفظ ’’اگر‘‘ کے استعمال کے ساتھ اٹھا رہا ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کون ہیں، جنہوں نے اس اسرائیلی ربی اور اس کی اہلیہ کی لاش دیکھی۔ کس ڈاکٹر نے ان کا پوسٹ مارٹم کیا؟ ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ یہ پوسٹ مارٹم ہندوستان میں ہمارے ڈاکٹروں کے ذریعہ کیا گیا ہوتا۔ دیر سے ہی سہی بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں مارے گئے عاطف اور ساجد کی پوسٹ مارٹم کی طرح ان کی رپورٹ بھی حاصل ہوئی ہوتی تو کچھ رازفاش ہوتے، اگر ہم اس حد تک دباؤ میں تھے کہ اس صورتحال میں ہمارے لےے یہ ممکن نہیں ہوسکا تو اسرائیل پہنچنے کے بعد تو ان لاشوں کا پوسٹ مارٹم ہوا ہوگا، وہ رپورٹ کہاں ہے اور کیا کہتی ہے، کم ازکم ہم تو اس قیاس کو ایک دم سے خارج الامکان نہیں مانتے کہ یہ اسرائیلی ربی بھی ڈیوڈ کولمین ہیڈلی یا تہورحسین رانا جیسی ایک اور کڑی ہو… اور… اسے جان بوجھ کر دہشت گردانہ حملے میں مارا گیا دکھا دیا گیا ہو اور وہ گھریلو ملازمہ کیوں کہ سچ جانتی ہے اس لےے اسے سب کی نظروں سے ہٹالیا گیا ہو۔ خطرہ جب ایک گھر پر ہوتا ہے تو گھر کے لوگ ہر اس سمت میں سوچتے ہیں، جہاں سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ خطرہ اگر ملک پر ہو تو ہم سوچنا بند کیسے کردیں؟ آج اگر اس حملے کے تار امریکہ سے جڑتے نظر آرہے ہیں، بھلے ہی وہ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے ایف بی آئی ایجنٹ کی شکل میں ہوں تو پھر اسرائیل کو بنا تصدیق بغیر ہرپہلو سے کی گئی جانچ پڑتال کے کس طرح کلین چٹ دی جاسکتی ہے؟ سوچنا ہوگا، آخر راز کیا ہے Sandra Samuel نام کی اس گھریلو نوکرانی کے حادثے کے بعد سے نظروں سے اوجھل کردئےے جانے کا؟ کیوں اس کی واپسی کے بارے میں کوئی قدم ہماری حکومت نہیں اٹھاتی؟ کیوں ایک گواہ کے طورپر اس سے پوچھ گچھ کی ضرورت محسوس نہیں کرتی؟ اگر ایسا کچھ ہوا ہے تو وہ منظرعام پر لایا کیوں نہیں گیا؟ میڈیا نے اس معاملے کو بار بار اٹھایا کیوں نہیں؟ …… سوچئے، آپ کا ذہن کوئی جواب دے اگر تو بتائےے گا ضرور۔میں کیوں لکھ رہا ہوں، مسلسل ڈیوڈ کولمین ہیڈلی پر؟ کیا کوئی اور موضوع نہیں ہے لکھنے کے لےے؟ شاہی امام احمدبخاری ملے وزیراعظم سے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کو لے کر۔ مجھ سے امام بخاری صاحب کی طویل گفتگو ہوئی۔ انتہائی اہم موضوع ہے یہ، ہمارا ہی اٹھایا ہوا معاملہ ہے، لکھنے کی بیحد ضرورت ہے، مگر اوّلیت ابھی بھی ہیڈلی ہی کو کیوں؟ عاطف اور ساجد کے خاندان والوں کے درد کا احساس ہے مجھے۔ اعظم گڑھ کی مٹی نے ملک کو اتنی عظیم ہستیاں دی ہیں کہ اس زمین کو سلام کرنے کو دل چاہتا ہے۔ کوئی آنکھ اٹھاکر دیکھے اس طرف، کوئی آتنک گڑھ کہے، اچھا نہیں لگتا، مگر ایک گھر، ایک شہر اور ایک قوم سے زیادہ ایک ملک کی اہمیت سمجھ میں آتی ہے ہمیں، اس لےے ملک کا خطرہ ہماری ذات پر خطرے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ اسی لےے جاری ہے گفتگو ہیڈلی پر۔قلم اٹھانا ہے نریندرمودی کی پیشی پر بھی۔ مضامین کی تو گنتی یاد نہیں، تین تین کتابیں بھی لکھی ہیں میں نے گجرات کے اس دردناک فساد پر، مگر اس وقت میں مسلسل لکھ رہا ہوں ہیڈلی پر اس لےے کہ آخر کوئی طوفان برپا کیوں نہیں ہوتا، اس بات پر کہ ہیڈلی وہ دہشت گرد جو ہمیں ہماری زمین پر ہوئے اس سب سے بڑے دہشت گردانہ حملے کا سچ بتا سکتا ہے، وہ ہمارے سپرد کیوں نہیں کیا جاتا؟وہ جو ہمیں اس دہشت گردانہ حملے سے ایف بی آئی اور سی آئی اے کے رشتے کا خلاصہ کرسکتا ہے، ہماری گرفت میں کیوں نہیں ہے؟ امریکہ جو ہمارا دوست ہے، ساری دنیا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے، وہ ہمارے دہشت گرد کو ہمارے سپرد کرتا کیوں نہیں؟ امریکہ جو صرف مہلک ہتھیاروں کا شبہ ہونے پر، دہشت گردی کا حامی ہونے کا گمان ہونے پر عراق کے منتخب صدر صدام حسین کی جان لینے کا فیصلہ کرسکتا ہے، عراق کو خاک اور خون میں ملاسکتا ہے وہ اور ہماری زمین پر دہشت گردی برپا کرنے والے ہیڈلی کے مجرم ثابت ہوجانے پر بھی اسے اپنی امان میں کیوں رکھتا ہے؟ اس کے لےے سزائے موت کے فیصلے سے انکار کیوں کرتا ہے؟ امریکہ جو بن لادین کے چھپے ہونے کے شک کی بنیاد پر افغانستان کو تباہ کرسکتا ہے، اس لےے کہ لادین اس کا دہشت گرد تھا، ہمارے دہشت گرد کو چھپائے کیوں بیٹھا ہے اور ہم چپ کیوں ہےں؟ یہ کوئی ایسی غیراہم خبر نہیں ہے کہ ایک بار دو چار کالم میں چھاپ دیا اور بات ختم ہو۔ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ ایک بار ہمارے کسی وزیر نے کوئی بیان دے دیا اور بات درگزر ہوگئی، اسی لےے تو میں نے لکھا تھا اپنی پچھلی تحریر میں کہ پٹنہ میں اگر شرکت کرپاتا تو جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس میں ضرور کہتا ’’کیوں نہیں ہرسمت سے یہ آواز اٹھتی کہ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی ہمارا مجرم ہے، وہ دہشت گرد ہے، جس نے ہندوستان کی سالمیت پر حملہ کیاہے، ہمیں حق ہے اسے حاصل کرنے کا اور اپنے قانون کے مطابق اسے سزا دینے کا۔ ہمیں یہ کہنے میں جھجھک کیوں ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دینے اور فروغ دینے کی بنیاد پر دہشت گرد ملک قرار دیا جاسکتا ہے تو امریکہ کے ذریعہ ایک دہشت گرد کو پناہ دینے کی واضح حقیقت سامنے آنے پر اسے کس نام سے پکارا جائے؟

26/11 का सच जानना है तो.......
अज़ीज़ बर्नी

जब किसी मामले को ठंडे बस्ते में डालना हो तो उससे ध्यान हटा लीजिए, उस पर गुफ़्तुगू बंद कर दीजिए। अगर कोई चर्चा छेड़ भी दे तो बात बदल दीजिए। कुछ विशेष लोगों तक यह सन्देश पहुंचा दीजिए कि इस विषय पर बातचीत नापसंद है। इसलिए अधिक बात न करें, कोशिश कीजिए कि मीडिया भी उस पर अधिक ध्यान न दे, बल्कि हल्के फुल्के ढंग से ख़बर भले ही आ जाए मगर यह मुद्दा न बन पाए इस बात का विशेष ध्यान रखा जाए। सामाजिक संगठन अगर इसको मुद्दा बनाकर जलसे जुलूस, धरना-प्रदर्शन करना चाहें तो उनका उत्साह तोड़ा जाए, रास्ते में रुकावटें डाली जाएं और यह सब काम इतनी अक़्लमंदी और ख़ूबसूरती के साथ हो कि जनता का ध्यान उस ओर केंद्रित ही न हो पाए। क्या हेडली को बचाने की कोशिश करने वाले ऐसा कुछ कर रहे हैं? 26/11/2008 को मुम्बई पर हुआ आतंकवादी हमला इतनी बड़ी बात थी कि उस पर गुफ़्तगू न हो, इससे तो किसी को रोका नहीं जा सकता, मगर हां, चर्चा किसी ख़ास निष्कर्ष पर न पहुंचे, इस दिशा में प्रयास अवश्य किए जा सकते हैं। आप भूल गए ना अनीता उद्दया का नाम? कहां याद है आपको? बात तो छोटी नहीं थी, हमारे देश पर आतंकवादी हमला करने आए लगभग सभी आतंकवादियों को जीवित देखा था उसने, जब वह बुधवारा पर रबड़ की नाव से उतरे थे, फिर उसके बाद उसे मुर्दाघर में पहचान के लिए भी ले जाया गया था। यह प्रत्यक्षदर्शी इतनी अहम थी कि बिना पासपोर्ट और वीज़ा के अत्यंत रहस्यमय अंदाज़ में उसे अमेरिका ले जाया गया। प्रातः सूर्योदय से पूर्व जब वह घर से दिनचर्या के लिए निकली तो वापस अपने घर पहुंचने की बजाए अमेरिका पहुंच गई। कुछ समाचार पत्रों ने महत्व दिया, झुटपुट ख़बरें टी॰वी॰ पर भी आईं, फिर बात आई गई हो गई। किसी ने कहा यहां चली गई, वहां चली गई, अमेरिका नहीं गई, अमुक के घर चली गई थी, किसी ने कहा अमेरिका ही गई थी, एफ॰बी॰आई॰ ने पूछताछ भी की थी उससे, फिर यूं हुआ कि जितने मुंह उतनी बातें, यानी उद्देश्य पूरा हो गया बात आई गई हो गई। किसी ने इस बात को मुद्दा बनाया ही नहीं।इसी तरह का एक और मामला: यह लड़की ैंदकं ैंउनमस ‘शबद हाऊस’ में रहने वाले रब्बी परिवार की घरेलू नौकरानी थी। जब इस घटना में, जैसी कि सूचनाएं हैं कि इस्राईली रब्बी ळंअतपमस और उसकी पत्नी त्पआं इस आतंकवादी हमले में मारे गए तो उसने अपनी जान पर खेल कर उनके मासूम बच्चे को बचाया उस घरेलू नौकरानी ने, और वह बच्चे से इतनी मुहब्बत करती थी कि अपनी सगी औलाद को दूसरों के हवाले छोड़ कर उस बच्चे का पालन पोषण करने के लिए इस्राईल जाकर बस गई। कीजिए विश्वास इस कहानी पर क्योंकि इसके सिवा कोई चारा ही नहीं है आपके पास। यह घरेलू नौकरानी भी प्रत्यक्षदर्शी थी उस आतंकवादी हमले की। सारी सच्चाई जानती थी, हमारे देश के ज़िम्मेदार अफ़सरों को बता सकती थी। हमने आवश्यकता ही नहीं समझी, पूछताछ के लिए भी उसे इस्राईल से वापस भारत लाने की। इतनी महत्वपूर्ण बात इस हद तक दिमाग़ से निकल गई कि अब मुझे उसका नाम भी याद नहीं। पुरानी फाइलों से तलाश करके लिखने की ज़रूरत पड़ रही है, हालांकि यह एक ऐसी प्रत्यक्षदर्शी है जो उस आतंकवादी हमले के ठोस तथ्यों से अवगत हैं, बल्कि बहुत हद तक बुनियादी कारण भी सामने रख सकती है। क्या सचमुच यह इस्राईली रब्बी उस हमले में मारे गए थे? क्या उनके मरने के बाद घायल अवस्था के चित्र कहीं मौजूद हैं? भवन में सी॰सी॰टी॰वी॰ लगा था, ज़ाहिर है उनके फ़्लेट में भी गुप्त कैमरे लगे होंगे। लेखक ने पुलिस के पहरे के बीच उस गली के अंदर जाकर कुछ दुकानदारों से उसी समय बात की थी, जिन्होंने यह पुष्टि की कि भवन के अंदर कोई बाहरी या अनभिज्ञ व्यक्ति प्रवेश ही नहीं कर सकता था। मुख्य द्वार पर गुप्त कैमरा लगा था। कौन आना चाहता है, यह पुष्टि हो जाने पर ही प्रवेश की अनुमति मिलती थी। बहरहाल इस आतंकवादी हमले के दौरान का दृश्य क्या था, किसने किस पर गोलियां चलाईं, कौन किसकी गोली से मारा गया या घायल हुआ, घंटों तक वहां रह कर आतंकवादियों ने किससे क्या बात की, वह घरेलू नौकरानी उस बच्चे को बचाने में कैसे सफल हुई। ैंदकतं ैमउनमस नामक उस नौकरानी के परिवार के कुछ लोग तो मुम्बई या भारत के किसी भी क्षेत्र में रहते होंगे, वह सब सामने क्यों नहीं आए, घटना के पहले भी उस इस्राईली परिवार की जीवन शैली के बारे में कुछ तो वह घर जाकर बातें करती होगी, अगर कोई बात असाधारण लगी होगी तो उसने अपने घर वालों को बताया होगा, कैसे लोगों का उस घर में आना जाना था, वह क्या बातें करते थे, वह आतंकवादी चेहरे, ज़िंदा अजमल आमिर क़साब और बाक़ी लाशें, अब उनमें हेडली और तहव्वुर हुसैन राना का नाम भी शामिल कर लीजिए, क्या कभी ‘शबद हाऊस’ गए थे? क्या वहां आते जाते थे? उन सब में हमले के समय कौन कौन आतंकवादी शबद हाऊस में मौजूद था? अगर वाक़ई यह रब्बी और उसकी पत्नी उस आतंकवादी हमले में मारे गए तो किस आतंकवादी ने उन्हें गोली मारी। अजमल आमिर क़साब और बाक़ी लाशों के फोटो देखकर वह कुछ तो बता सकती है। मैं रब्बी और उसकी बीवी के मारे जाने पर बार बार शब्द ‘अगर’ का प्रयोग कर रहा हूं। कुछ लोगों के लिए यह उसी प्रकार आपत्तिजनक हो सकता है, जिस प्रकार आतंकवादी हमले के तुरंत बाद मेरा यह कहना और लिखना आपत्तिजनक था कि मैं क्यों यह कहता हूं कि उन 10 के अतिरिक्त कोई 11 वां आतंकवादी भी उस हमले में शामिल हो सकता है और केवल इतनी सी बात पर मुझे देशद्रोही कहा गया। इंटरनेट पर मेरे विरुद्ध प्रोपेगंडा किया गया, प्रधानमंत्री तथा गृहमंत्री को पत्र लिखे गए। मेरे विरुद्ध केस दायर किया गया। बहरहाल आज मैं इस तफ़सील में नहीं जाना चाहता। मैं इस वक़्त जो प्रश्न उठा रहा हूं और शब्द ‘अगर’ के प्रयोग के साथ उठा रहा हूं तो इसका कारण यह है कि वह कौन हैं जिन्होंने उस इस्राईली रब्बी और उसकी पत्नी की लाशें देखीं। किस डाक्टर ने उनका पोस्टमार्टम किया? होना तो यह चाहिए था कि यह पोस्टमार्टम भारत में हमारे डाक्टरों द्वारा किया गया होता। देर से ही सही बटला हाउस एन्काउन्टर में मारे गए आतिफ़ और साजिद के पोस्टमार्टम की तरह उनकी रिपोर्ट भी प्राप्त हुती तो, कुछ राज़ फ़ाश होते, अगर हम इतने दबाव में थे कि इस स्थिति में हमारे लिए यह संभव नहीं हो सका तो इस्राईल पहुंचने के बाद तो उन लाशों का पोस्टमार्टम हुआ होगा, वह रिपोर्ट कहां है और क्या कहती है, कम से कम हम तो इस अनुमान को एक दम से असंभव नहीं मानते कि यही इस्राईली रब्बी भी डेविड कोलमैन हेडली या तहव्वुर हुसैन राना जैसी एक कड़ी हो, और उसे जानबूझ कर आतंकवादी हमले में मृत दिखा दिया गया हो और वह घरेलू नौकरानी क्यांेकि सच जानती है इसलिए उसे सबकी नज़रों से हटा लिया गया हो। ख़तरा जब एक घर पर होता है तो घर के लोग हर उस दिशा में सोचते हैं, जहां से ख़तरे की आशंका हो। ख़तरा अगर देश पर हो तो हम सोचना बंद कैसे कर दें? आज अगर इस हमलेके तार अमेरिका से जुड़ते नज़र आ रहे हैं, भले ही वह डेविड कोलमैन हेडली के एफ॰बी॰आई॰ एजेंट के रूप में हांे, तो फिर इस्राईल को बिना पुष्टि, बिना हर कोण से जांच पड़ताल किए, किस तरह क्लीन चिट दी जा सकती है? सोचना होगा, आख़िर राज़ क्या है ैंदकतं ैंउनमस नामक इस घरेलू नौकरानी कोे घटना के बाद से नज़रों से ओझल कर दिए जाने का? क्यांे उसकी वापसी के बारे में कोई क़दम हमारी सरकार नहीं उठाती? क्यों एक गवाह के रूप में उससे पूछताछ की आवश्यकता महसूस नहीं करती? अगर ऐसा कुछ हुआ है तो वह सबके सामने लाया क्यों नहीं गया? मीडिया ने इस मामले को बार बार उठाया क्यों नहीं? ह्न ह्न ह्न सोचिए, आपका दिमाग़ कोई जवाब अगर दे तो बताइएगा ज़रूर।मैं क्यांे लिख रहा हूं, लगातार डेविड कोलमैन हेडली पर? क्या कोई विषय नहीं है लिखने के लिए? शाही इमाम अहमद बुख़ारी मिले प्रधानमंत्री से बटला हाऊस एन्काउन्टर पर पोस्टमार्टम रिपोर्ट को लेकर। मुझसे इमाम बुख़ारी साहब की लम्बी बातचीत हुई। अत्यंत महत्वपूर्ण विषय है यह, और हमारा ही उठाया हुआ मामला है, लिखने की अत्यंत आवश्यकता है, मगर प्राथमिकता अभी भी हेडली को ही क्यों? आतिफ़ और साजिद के परिवार वालों के दर्द का एहसास है मुझे। आज़म गढ़ की मिट्टी ने देश को इतने महान व्यक्ति दिए हैं कि उस धरती को सलाम करने को जी चाहता है। कोई आंख उठाकर देखे उस तरफ़, कोई आतंकगढ़ कहे, अच्छा नहीं लगता, परंतु एक घर, एक शहर और एक क़ौम से ज़्यादा एक देश का महत्व समझ में आता है हमें, इसलिए देश का ख़तरा हमारे व्यक्तित्व पर ख़तरे से कहीं अधिक बड़ा है। इसीलिए जारी है गुफ़्तगू हेडली पर। क़लम उठाना है नरेंद्र मोदी की पेशी पर भी। लेखों की तो कोई गिन्ती याद नहीं, तीन तीन किताबें भी लिखी हैं मैंने, गुजरात के इस दर्दनाक फसाद पर, मगर इस समय मैं लगातार लिख रहा हूं हेडली पर, इसलिए कि आख़िर कोई तूफ़ान क्यों नहीं उठता इस बात पर कि हेडली वह आतंकवादी है जो हमें हमारी धरती पर हुए इस सबसे बड़े आतंकवादी हमले का सच बता सकता है, उसे हमारे हवाले क्यों नहीं किया जाता? वह जो हमें उस आतंकवादी हमले से एफ॰बी॰आई॰ और सी॰आई॰ए॰ के रिशते का ख़ुलासा कर सकता है, हमारी पकड़ में क्यों नहीं? अमेरिका जो हमारा मित्र है, सारी दुनिया में आतंकवाद के विरुद्ध जंग लड़ रहा है, वह हमारे आतंकवादी को हमारे हवाले क्यों नहीं करता? अमेरिका जो घातक हथियारों का संदेह होने पर, आतंकवाद का समर्थक होने का संदेह होने पर इराक़ के निर्वाचित राष्ट्रपति सद्दाम हुसैन की जान लेने का निर्णय कर सकता है, इराक़ को ख़ाक और ख़ून में मिला सकता है वह, और हमारी धरती पर आतंक फैलाने वाले हेडली के अपराधी साबित हो जाने पर भी उसे अपनी पनाह में क्यों रखता है? उसके लिए मृत्यु दण्ड के फैसले से इन्कार क्यों करता है? अमेरिका जो बिन लादेन के छुपे होने के संदेह के आधार पर अफ़ग़ानिस्तान को तबाह कर सकता है, इसलिए कि लादेन उसका आतंकवादी था, हमारे आतंकवादी को छुपाए क्यों बैठा है और हम चुप क्यों हैं? यह कोई ऐसी साधारण ख़बर नहीं है कि एक बार दो चार काॅलम में छाप दिया और बात समाप्त। यह कोई ऐसा मामला नहीं है कि हमारे किसी मंत्री ने कोई बयान दे दिया और बात ख़त्म हो गई, इसीलिए तो मैंने लिखा था अपने पिछले लेख में कि पटना में अगर शामिल हो पाता तो जमीअत उलमा-ए-हिंद के इजलास में अवश्य कहता ‘क्यों नहीं हर तरफ़ से यह आवाज़ उठती कि डेविड कोलमैन हेडली हमारा अपराधी है, वह आतंकवादी है, जिसने भारत की अखंडता पर हमला किया है, हमें अधिकार है उसे प्राप्त करने का और अपने क़ानून के अनुसार उसे सज़ा देने का। हमें यह कहने में संकोच क्यों है कि अगर पाकिस्तान आतंकवादियों को पनाह देने और बढ़ावा देने के आधार पर आतंकवादी देश घोषित किया जा सकता है तो अमेरिका द्वारा एक आतंकवादी को पनाह देने की स्पष्ट वास्तिविकता सामने आने पर उसे किस नाम से पुकारा जाए।

Thursday, April 1, 2010

کانگریس مجھے پسند ہے اور امیتابھ بچن بھی

عزیز برنی…………………………………قسط 111

کانگریس پارٹی مجھے پسند ہے،اس لےے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی اور سیکولر پارٹی ہے، جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امیتابھ بچن مجھے پسند ہیں، اس لےے کہ اپنے فن کی معرفت انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کیا ہے۔ اگر میں ایک ہی وقت میں دونوں کا ساتھ چاہوں اور یہ مشکل نظر آئے تو بڑی تکلیف دہ اور افسوسناک بات ہوگی۔ امیتابھ بچن سیاستداں نہیں ہیں۔ ہوتے بھی تو کیا دو مخالف پارٹیوں کے لیڈر ایک ساتھ بیٹھتے نہیں ہیں، اس میں حرج ہی کیا ہے۔ اشوک چوہان اور امیتابھ بچن ممبئی میں سی لنک فلائی اوور کے افتتاح کے موقع پر ایک ساتھ مل کر کیا بیٹھے، دیر تک یہ واقعہ موضوع بحث بنا رہا۔کیوں! امیتابھ بچن گجرات کے برانڈ ایمبسڈر ہیں۔ کچھ سوال ان کی اس پوزیشن کے بھی کےے جارہے ہیں۔کیوں! سمجھ میں نہیں آتا امیتابھ بچن گجرات کے ایمبسڈر ہیں، گجرات ہندوستان کی ایک ریاست ہے، جہاں آزادی کے مسیحا مہاتماگاندھی نے جنم لیا، یہ کسی بھی شخص کے لےے باعث فخر ہے کہ اسے اپنے ملک کی ایسی ریاست کا برانڈ ایمبسڈر منتخب کیا جائے۔ ہاں، یہ سوال حق بجانب ہوسکتا ہے کہ اگر امیتابھ بچن اس سرکار کے برانڈ ایمبسڈر ہوتے، جو 2002میں گجرات فسادات کے لےے ہندوستان کی پیشانی پر کلنک کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ہاں، امیتابھ بچن سے سوال ہوسکتا تھا، اگر وہ اس سیاسی پارٹی کے برانڈ ایمبسڈر کے طور پر سامنے رکھے جاتے، جسے فرقہ وارانہ فسادات کے لےے جانا جاتا ہے۔ ریاست گجرات کا برانڈ ایمبسڈر ہونا کس طرح قابل اعتراض ہوسکتا ہے۔ اگر آج وہی شخص اس ریاست کا وزیراعلیٰ ہے، جو 2002میں گجرات فسادات کے لےے ذمہ دار ہے اور جسے اس وقت کے وزیراعظم نے بھی ’’راج دھرم‘‘ نبھانے کی تلقین کی تھی… اور اسے پھر سے اس عہدے پر پہنچانے میں امیتابھ بچن جی کا نمایاں کردار ہے اور اسی کے عوض انہیں یہ تمغہ ملا ہوتا، تب تو ان سے سوال کیا جاسکتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان سے یہ سوال کیوں؟ یہ سوال ان سے کیوں نہیں، جنہوں نے اسی شخص کو ایک بار پھر گجرات کا وزیراعلیٰ بنایا، جو گجرات فسادات کے لےے ذمہ دار ہے؟ خامی اگر سسٹم میں ہے تو یہ سوال اس سسٹم سے کیوں نہیں، جس سسٹم نے ایک ایسے شخص کو، جس کے دامن پر بے گناہوں کے خون کے داغ ہیں، ریاست کا وزیراعلیٰ بنایا۔ یہ شخص آج بھی اس لےے اس کرسی پر موجود ہے، کیوں کہ عدلیہ کی رفتار بہت سست ہے اور ریاست کے چیف جسٹس خود اس کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھتے ہیں تو یہ سوال عدلیہ سے کیوں نہیں؟ اگر قانون میں اس بات کی گنجائش ہے کہ ایک ایسی سرکار، جس سے عدل، جمہوریت کی بقا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی امید نہ ہو تو اسے برخاست کیا جاسکے (ماضی میں ایسی سرکاریں برخاست کی گئی ہیں) تو پھر یہ سوال ان سے کیوں نہیں، جو قانون کی اس دفعہ کا استعمال نہ کرکے اسے اپنی کرسی پر جمے رہنے کا موقع فراہم کرتے رہے ہیں، کررہے ہیں؟ ہمیں بہت سی باتوں کو ذاتی سطح سے اوپر اٹھ کر بھی سوچنا ہوگا اور قدم وہ اٹھانا ہوگا، جو ملک کے مفاد میں ہو، قوم کے مفاد میں ہو۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں ہی عرض کیا تھا کہ کانگریس پارٹی مجھے پسند ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کانگریس گجرات سرکار کے مکھیا کو اس کرسی سے ہٹانے کا موقع ملنے کے باوجود اس کا استعمال نہ کرے۔ اس پسندیدگی کے یہ معنی بھی نہیں کہ فرضی انکاؤنٹر ہوتے رہیں اور لب سی لےے جائیں۔ اس پسندیدگی کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کے لےے پاکستان کو ذمہ دار سمجھا جائے تو مرکزی حکومت زمین آسمان ایک کردے اور اگر اس کی زد میں امریکہ نظر آئے تو وہ خاموشی اختیار کرلے۔ میرا ایسا کوئی رشتہ نہیں ہے امیتابھ بچن صاحب سے۔ چند ملاقاتوں کی بات چھوڑ دی جائے تو شاید ان جیسے مصروف شخص کو میرا نام اور چہرہ یاد بھی نہ ہوگا۔ اور جو کچھ میں لکھ رہا ہوں، یہ ان کے بچاؤ میں ہے بھی نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ حق اور انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی کو اس کے ناکردہ گناہوں کے لےے موردالزام نہ ٹھہرایا جائے۔
مجھے آج ایک نہیں تین موضوعات پر مختصر مختصر گفتگو کرنی ہے، اس لےے کہ جمعہ اور ہفتہ کے روز میں نہیں لکھوں گا، یعنی اب میرا یہ مسلسل مضمون پیر کے روز میرے قارئین کے سامنے ہوگا۔ اس وقت میں جس موضوع پر مسلسل گفتگو کررہا ہوں، وہ ہیڈلی کے بے نقاب ہونے کے بعد ہندوستان پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کو مختلف زاویوں سے دیکھنا ہے، لہٰذا گفتگو آج بھی اسی موضوع پر تمام ہوگی، لیکن ایک اور موضوع جس پر چند سطریں لکھنا ضروری سمجھتا ہوں، وہ اس لےے کہ دراصل مجھے آج اس وقت پٹنہ میں ہونا چاہےے تھا، جہاں جمعیۃ علماء ہند کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ مجھے بھی اس میں شرکت کرنی تھی، مگر یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ مقررین کو جن موضوعات کی روشنی میں بولنے کے لےے دعوت دی گئی تھی، وہ حسب ذیل ہیں:
-1سیاسی اداروں میں مسلمانوں کے لےے ریزرویشن۔
-2وقف جائداد پر ناجائز قبضے۔
-3بہار میں فرقہ وارانہ فساد مخالف بل کی شروعات۔
-4پولس فورس میں مسلمانوں کے لےے ریزرویشن۔
-5بھاگلپور فسادات متاثرین کو معاوضہ۔
-6مدرسہ بورڈ کے نصاب میں اصلاح۔
-7مسلم اکثریتی علاقوں میں تکنیکی اداروں کا قیام۔
-8مسلم علاقوں میں سڑک، اسکول اور اسپتال جیسی بنیادی سہولتوں کا فقدان۔
-9اقلیتی اداروں کی تعمیر کے معاملے میں قانون کو نرم بنانا۔
-10مسلم اکثریتی علاقوں میں بینک جیسے اقتصادی اداروں کا فقدان۔
-11اقلیتی محکموں کے لےے زیادہ بجٹ رقم کا التزام۔
-12اردو جاننے والے پولس افسران اور سب انسپکٹر کی تقرری۔
-13بلاک اور کلکٹر دفتر میں اردو مترجمین کی تقرری۔
-14تکنیکی تعلیم کے لےے مسلمانوں کو بلاسودی قرض۔
میں ان سبھی سے اتفاق کرتا ہوں اور یہ تمام موضوعات ایسے ہیں، جن میں سے ہر ایک پر مجھے بولنا چاہےے تھا۔ شاید آئندہ کسی اجلاس میں یہ ممکن ہوپائے، لیکن آج اگر میں وہاں ہوتا تو ان موضوعات سے ہٹ کر بھی کوئی بات کرتا اور وہ یہ ہوتی کہ ہندوستان کی اس عظیم الشان تنظیم نے ہندوستان کی آزادی میں ایک تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا ہے۔ آج پھر ملک کی آزادی کے تحفظ کے لےے جمعیۃ علماء ہند کے ایسے ہی تاریخ ساز رول کی ضرورت ہے۔ اس وقت ملک پر فرنگیوں کا قبضہ تھا، جب جمعیۃ علماء ہند کی داغ بیل ڈالنے والوں نے ہندوستان کی آزادی کو مقدم سمجھا اور آج ایک بار ہم غیر ملکی سازشوں کا شکار ہوتے رہے ہیں، جسے دیکھنے اور سمجھنے کے لےے انتہائی دواندریشی کی ضرورت ہے اور جمعیۃ علماء ہند کے پاس ایسی دوراندریش نگاہیں ہیں۔ وہ تیسرا موضوع جس پر مجھے اپنی گفتگو تمام کرنی ہے، اسی کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔ کیوں خاموش ہے جمعیۃ علماء ہند، ہیڈلی کے سوال پر؟ میری اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان کی خاموشی پر کوئی سوال کررہا ہوں، ہوسکتا ہے کہ وہ اس ضمن میں بول بھی رہے ہوں، مگر اس طرح نہیں جس طرح دہشت گردی کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے قومی سطح پر ایک تحریک چلائی تھی۔ میں خود اس کے متعدد جلسوں میں شریک ہوا تھا۔ ان جلسوں کو خاطرخواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ کسی بھی دہشت گردانہ حملے کے بعد جو فضا قائم کردی جاتی تھی، اللہ کا کرم ہے اب وہ نہیں ہوتی، مگر آج بھی ملک دہشت گردی سے پاک کہاں ہے؟ ملک میں دہشت گردی جاری ہے، بس مسلمانوں کو موردالزام ٹھہرانا بند کردیا جائے یا کم کردیا جائے تو اس سے ہمارا مقصد کہاں حل ہوتا ہے۔ ہم صرف مسلمانوں کا بچاؤ ہی نہیں کرنا چاہتے، ہم ہندوستان کو دہشت گردانہ حملوں سے بچانا چاہتے ہیں، اس لےے اتنا ہی کافی نہیں ہے کہ مسلمان موردالزام ٹھہرانے سے بچ جائیں، بلکہ لازم یہ بھی ہے کہ جو اصل مجرم ہےں، وہ بے نقاب ہوں۔ ملزم اگر کمزور ہو تو ہم چیخ چیخ کر کہیں اور ملزم اگر طاقتور ہو تو ہم دبی زبان میں گفتگو کریں یا نام آنے پر بغلیں جھانکنا شروع کردیں۔ نہیں، یہ وطن سے محبت کی شناخت نہیں ہے۔ لہٰذا کرے بے نقاب جمعیۃ علماء ہند ان دہشت گرد طاقتوں کو جن کا مقصد ہندوستان کی تباہی ہے اور ترغیب دے اوروں کو بھی۔
جی ہاں! اب میں واپس آتا ہوں اپنے اسی موضوع پر، جس پرگزشتہ کئی روز سے گفتگو جاری ہے۔ دو روز قبل میرے مضمون کا عنوان تھا ’’کیا کبھی سوچا ہے آپ نے ’’ٹیررٹریڈ‘‘ کے بارے میں!۔ ہوسکتا ہے آپ نے اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالی ہو اور اسے بہت گہرائی سے سوچنے کے لائق نہ سمجھا ہو، مگر جناب جب آپ حقائق سے روبرو ہوں گے تو آپ چونک جائیں گے۔ اس وقت جنگی ہتھیاروں کی خریدوفروخت سے تعلق رکھنے والی ایک اہم فائل میرے سامنے ہے، جس میں 2001سے008تک ہتھیاروں کی بکری کی تفصیل بھی موجود ہے اور 2008کے اعدادوشمار بھی۔ اس درمیان کس ملک نے کس ملک کو کتنے ہتھیار فروخت کئے، کتنی دولت کمائی، یہ سب اعدادوشمار آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ آج دنیا کے بڑے حصہ میں جو دہشت گردانہ حملے ہورہے ہیں، کہیں نہ کہیں ان کا کوئی رشتہ اس ’’ٹیررٹریڈ‘‘ بالفاظ دیگر ہتھیاروں کی خریدوفروخت سے بھی ہوسکتا ہے۔ آج اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اعدادوشمار کے ساتھ بات کروں، وہ تمام تفصیل اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کروں، جو یہ واضح کردے کہ دنیا میں ہتھیاروں کے دو بڑے تاجر ملک امریکہ اور روس کا بزنس گزشتہ آٹھ برسوںمیں کیسا رہا؟ امریکہ ہتھیاروں کی فروخت میں کتنا آگے گیا؟ روس کتنا پیچھے گیا؟ کس ملک نے کتنے ہتھیار خریدے؟ پھر جب ان تمام اعدادوشمار کی روشنی میں 9/11 یعنی امریکہ کے شہر نیویارک میں ہوئے دہشت گردانہ حملے سے لے کر6/11یعنی ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے تک کے واقعات پر غورفرمائیں گے، افغانستان اور عراق کی تباہی کے پس منظر پر غور کریں گے، لیبیا کی خودسپردگی، ایران پر منڈلاتے خطرے کے بادل اور پاکستان کے تباہ کن حالات کا جائزہ لیں گے تو سب کچھ آئینہ کی طرح صاف نظر آنے لگے گا۔ یہ بھی کہ 9/11 اور 26/11میں مماثلت کیا ہے۔ دونوں دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے کیا سازش کارفرما ہے، اس لےے کہ بات صرف اتنی سی نہیں ہے کبھی طالبان کو ذمہ دار قرار دے دیں اور بات ختم ہوجائے۔ القاعدہ، لشکرطیبہ کے نام سارے دہشت گردانہ حملے لکھ دیں اور بات ختم کردی جائے۔ پاکستان کو دہشت گردملک ثابت کردیں اور باقی سب کو کلین چٹ دے دی جائے، نہیں یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ہمیں اس دہشت گردی کی بنیاد کو تلاش کرنا ہوگا۔ طالبان دہشت گرد ہیں تو وہ چاہتے کیا ہیں؟ طالبان دہشت گرد ہیں تو امریکہ ان کی مدد کیوں کرتا تھا؟ آخر وہ ان دہشت گردوں کا کیا استعمال کررہا تھا، کیااستعمال کرنا چاہتا تھا؟ لشکرطیبہ دہشت گرد ہے اور امریکہ امن پسند تو دونوں کے رشتے اتنی قربت والے کیسے ہیں کہ وہ جب جسے چاہیں لشکرطیبہ میں دہشت گردی کی ٹریننگ کے لےے داخل کردیں اور جب چاہیں اس دہشت گرد کا استعمال ہندوستان اور پاکستان کی تباہی کے لےے کرلیں۔ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے تو وہ پاکستان کو اپنا دوست کیوں رکھتے ہیں؟ یاد کریں، افغانستان اور عراق کی امریکہ کے ذریعہ تباہی اور پاکستان سے اس کے دوستانہ رشتے۔ پاکستان ایک دہشت گردملک ہے تو وہ اسے ہتھیار بیچتے کیوں ہیں؟ کیا نہیں جانتے کہ یہ ہتھیار دہشت گردی کے لےے بھی استعمال ہوسکتے ہیں؟ بات پھر اسی مقام پر ختم کرتا ہوں، جہاں سے شاید کوئی پیغام آپ تک پہنچا سکوں۔ وہ ہندوستان کو ہتھیار بیچتے ہیں، تاکہ ہندوستان دہشت گردی کا مقابلہ کرسکے، وہ پاکستان کو ہتھیار بیچتے ہیں، تاکہ دہشت گردی کے لےے ان کا استعمال ہوسکے۔ اگر ان دونوں باتوں میں ذرا بھی سچائی ہے تو پھر یاد کرلیجئے وہ تیسری چوتھی کلاس والی کہانی، جب ایک چالاک بندر دو بلیوں کی روٹی خود ہضم کرجاتا ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں بچپن کی باتیں بھولتا ہی نہیں، آپ کو بھی کچھ یاد آتا ہے کیا؟

कांग्रेस मुझे पसंद है और अमिताभ बच्चन भी
अज़ीज़ बर्नी

कांग्रेस पार्टी मुझे पसंद है, इसलिए कि यह देश की सबसे बड़ी और धर्मनिरपेक्ष पार्टी है, जो सबको साथ लेकर चलने का इरादा रखती है। अमिताभ बच्चन मुझे पसंद हैं, इसलिए कि अपनी कला के माध्यम से उन्होंने अंतर्राष्ट्रीय स्तर पर भारत का नाम रोशन किया है। अगर मैं एक ही समय में दोनों का साथ चाहूं और यह कठिन नज़र आए तो बड़ी पीड़ादायक और खेदपूर्ण स्थिति होगी। अमिताभ बच्चन राजनीतिज्ञ नहीं हैं। होते भी तो क्या दो विरोधी पार्टियों के नेता एक साथ बैठते नहीं हैं, इसमें हर्ज ही क्या है। अशोक चैहान और अमिताभ बच्चन मुम्बई में सी-लिंक फ्लाई ओवर के उद्घाटन के अवसर पर एक साथ मिल कर क्या बैठे, देर तक यह घटना चर्चा का विषय बनी रही, क्यों? अमिताभ बच्चन गुजरात के ब्रांड एम्बेसेडर हैं। कुछ प्रश्न उनकी इस स्थिति पर भी किए जा रहे हैं, क्यों? समझ में नहीं आता कि अमिताभ बच्चन गुजरात के ब्रांड एम्बेसेडर हैं, गजरात भारत का एक राज्य है जहां स्वतंत्रता के मसीहा महात्मा गंाधी ने जन्म लिया, यह किसी भी व्यक्ति के लिए गर्व की बात है कि उसे अपने देश के ऐसे राज्य का ब्रांड एम्बेसेडर चुना जाए। हां, यह सवाल उचित हो सकता था यदि अमिताभ बच्चन उस सरकार के ब्रांड एम्बेसेडर होते, जिसे 2002 में गुजरात दंगों के लिए भारत के माथे पर कलंक के रूप में देखा जाता है। हां, अमिताभ बच्चन से प्रश्न हो सकता था, अगर वह उस राजनीतिक दल के ब्रांड एम्बेसेडर के रूप में पेश किए जाते, जिसे साम्प्रदायिक दंगों के लिए जाना जाता है। गुजरात राज्य का ब्रांड एम्बेसेडर होना किस प्रकार आपत्तिजनक हो सकता है। अगर आज वही व्यक्ति उस राज्य का मुख्यमंत्री है, जो 2002 में गुजरात दंगों के लिए ज़िम्मेदार है और जिसे उस समय के प्रधानमंत्री ने भी ‘‘राजधर्म’’ निभाने का उपदेश दिया था ह्न ह्न और उसे फिर से उस पद पर पहुंचाने पर अमिताभ बच्चन जी की सक्रिय भूमिका होती और उसी के बदले उन्हें यह पदवी मिली होती, तब तो उनसे यह प्रश्न किया जा सकता था और अगर ऐसा नहीं है तो फिर उनसे यह प्रश्न क्यों? यह प्रश्न उनसे क्यों नहीं, जिन्होंने उसी व्यक्ति को एक बार फिर गुजरात का मुख्यमंत्री बनाया, जो गुजरात दंगों के लिए ज़िम्मेदार है? त्रुटि अगर व्यवस्था में हैं तो यह प्रश्न उस व्यवस्था से क्यों नहीं, जिस व्यवस्था ने एक ऐसे व्यक्ति को, जिसके दामन पर निर्दोष लोगों के ख़ून के दाग़ हैं, राज्य का मुख्यमंत्री बनाया। यदि वह व्यक्ति आज भी इसलिए उस कुर्सी पर बिराजमान है, क्योंकि न्यायालय की रफ़्तार बहुत धीमी है और देश के चीफ़ जस्टिस स्वयं उसके साथ स्टेज पर बैठते हैं, तो यह प्रश्न न्यायपालिका से क्यों नहीं? अगर क़ानून में इस बात की गंुजाइश है कि एक ऐसी सरकार हो जिससे न्याय, लोकतंत्र के अस्तित्व और साम्प्रदायिक सद्भावना की उम्मीद न हो तो उसे हटाया जा सके। (अतीत में ऐसी सरकारों को गिराया गया है) तो फिर यह प्रश्न उनसे क्यों नहीं, जो क़ानून की उस धारा का प्रयोग न करके उसे अपनी कुर्सी पर जमे रहने का अवसर उपलब्ध कराते रहे हैं? हमें बहुत सी बातों को निजी स्तर से ऊपर उठ कर भी सोचना होगा और वह क़दम उठाना होगा जो देश के हित में हो, राष्ट्र के हित में हो, जैसा कि मैंने आरंभ में ही अर्ज़ किया था कि कांग्रेस पार्टी मुझे पसंद है, लेकिन इसका यह अर्थ नहीं कि कांगे्रस गुजरात सरकार के मुख्यिा को उस कुर्सी से हटाने का अवसर प्राप्त होने के बावजूद उसका प्रयोग न करे। इस पसंदीदगी के यह मायने भी नहीं कि फ़र्ज़ी एन्काउन्टर होते रहें और हांेठ सी लिए जाएं। इस पसंदीदगी का यह अर्थ भी नहीं कि भारत में आतंकवादी हमले के लिए पाकिस्तान को ज़िम्मेदार समझा जाए तो कंेंद्र सरकार ज़मीन-आसमान एक कर दे और अगर उसकी लपेट में अमेरिका दिखाई दे तो वह चुप्पी साध ले। मेरा ऐसा कोई संबंध नहीं है अमिताभ बच्चन साहब से। कुछ मुलाक़ातों की बात छोड़ दी जाए तो शायद उन जैसे व्यस्त व्यक्ति को मेरा नाम और चेहरा याद भी नहीं होगा और जो कुछ मैं लिख रहा हूं यह उनके बचाव में है भी नहीं। मुझे लगता है कि यह हक़ और न्याय की मांग है कि किसी को उसके नाकर्दा गुनाहों के लिए दोषी ठहराया जाए।
मुझे आज एक नहीं तीन विषयों पर थोड़ी-थोड़ी गुफ़्तुगू करनी है वह, इसलिए कि शुक्रवार और शनिवार मैं नहीं लिखूंगा, अर्थात अब मेरा यह क़िस्तवार लेख सोमवार को मेरे पाठकों के सामने होगा। इस समय जिस विषय पर मैं मुसलसल गुफ़्तुगू कर रहा हूं वह हेडली के बेनक़ाब होने के बाद भारत पर हुए आतंकवादी हमले को विभिन्न दृष्टिकोण से देखना है। इसलिए बातचीत आज भी उसी विषय पर समाप्त होगी, लेकिन एक और विषय जिस पर कुछ पंक्तियां लिखना ज़रूरी समझता हूं। वह इसलिए कि दरअसल मुझे आज इस समय पटना में होना चाहिए था, जहां जमीअत उलमा-ए-हिंद की एक महत्वपूर्ण सभा आयोजित की गई है। मुझे भी इसमें शामिल होना था, मगर यह संभव नहीं हो सका। वक्ताओं को जिन विषयों की रोशनी में बोलने के लिए निमंत्रण दिया गया था वह निम्नलिखित हैं:
1. राजनीतिक संस्थानों में मुसलमानों के लिए आरक्षण।
2. वक़्फ़ सम्पत्तियों पर अवैद्य क़ब्ज़े।
3. बिहार में ‘साम्प्रदायिक दंगा विरोधी बल का गठन।
4. पुलिस बल में मुसलमानों के लिए आरक्षण।
5. भागलपुर दंगा पीड़ितों को मुआवज़ा।
6. मदरसा बोर्ड के पाठ्यक्रम में सुधार।
7. मुस्लिम बहुल क्षेत्रों में तकनीकी संस्थानों की स्थापना।
8. मुस्लिम क्षेत्रों में सड़क, स्कूल और अस्पताल जैसी बुनियादी सुविधाओं का अभाव।
9. अल्पसंख्यक संस्थानों की स्थापना के मामले में नियमों को लचीला बनाना।
10.मुस्लिम बहुल क्षेत्रों में बैंक जैसे आर्थिक संस्थानों का अभाव।
11.अल्पसंख्यक विभागों के लिए अधिक बजट राशि का प्रावधान।
12.उर्दू जानने वाले पुलिस अधीक्षकों और सब-इंस्पैक्टरों की नियुक्ति।
13.प्रत्येक ब्लाक और कलक्टरिएट में उर्दू अनुवादकों की नियुक्ति।
14.तकनीकी शिक्षा के लिए मुसलमानों को ब्याज रहित त्रृण।
मैं इन सभी से सहमत हूं और यह सभी विषय ऐसे हैं जिनमें से हर एक पर मुझे बोलना चाहिए। शायद अगली किसी सभा में यह संभव हो पाए, लेकिन आज अगर मैं वहां होता तो इन विषयों से हट कर भी कोई बात करता और वह यह होती कि भारत के इस भव्य संगठन ने भारत की आज़ादी में एक ऐतिहासिक कारनामा अंजाम दिया है, आज फिर देश की आज़ादी की सुरक्षा के लिए जमीअत उलमा-ए-हिंद की ऐसी ही ऐतिहासिक भूमिका की आवश्यकता है। उस समय देश पर फ़िरंगियों का क़ब्ज़ा था, जब जमीअत उलमा-ए-हिंद की स्थापना करने वालों ने भारत की आज़ादी को सर्वोपरी समझा और आज एक बार हम विदेशी साज़िशों का शिकार हो रहे हैं, जिसे देखने और समझने के लिए अत्यंत दूर दृष्टि की आवश्यकता है और जमीअत उलमा-ए-हिंद के पास ऐसी दूर दृष्टि है। वह तीसरा विषय जिस पर मुझे अपनी बात ख़त्म रहनी है, इसी के साथ शामिल हुई जाती है। क्यों चुप है जमीअत उलमा-ए-हिंद, हेडली के प्रश्न पर? मेरी इस बात का अर्थ यह नहीं कि मैं इनकी चुप्पी पर प्रश्न कर रहा हूं, हो सकता वह इस बारे में बोल भी रहे हों, मगर इस तरह नहीं जिस तरह आतंकवाद के बाद जमीअत उलमा-ए-हिंद ने राष्ट्रीय स्तर पर एक अभियान चलाया था। मैं स्वयं उसकी विभिन्न सभाओं में शामिल हुआ था। उन सभाओं को पर्याप्त सफलता भी प्राप्त हुई, किसी भी आतंकवादी हमले के बाद जो वातावरण पैदा कर दिया जाता था, अल्लाह का करम है अब वह नहीं होता, परंतु आज भी देश आतंकवाद से मुक्त कहां है? देश में आतंकवाद जारी है, बस मुसलमानों को दोषी ठहराना छोड़ दिया जाए या कम कर दिया जाए तो इससे हमारा उद्देश्य कहां पूरा होता है। हम केवल मुसलमानों का बचाव ही नहीं करना चाहते, हम भारत को आतंकवादी हमलों से बचाना चाहते हैं, इसलिए इतना ही काफी नहीं है कि मुसलमान दोषी ठहराए जाने से बच जाएं, बल्कि आवश्यक यह भी है कि जो असल दोषी हैं वह बेनक़ाब हों। आरोपी अगर निर्बल हो तो हम चीख़-चीख़ कर कहें और अगर बलवान हो तो हम दबी ज़बान में बात करें या नाम आने पर बग़लें झांकना शुरू कर दें। नहीं, यह देश से मुहब्बत की पहचान नहीं है इसलिए करे बेनक़ाब जमीअत उलमा-ए-हिंद उन आतंकवादी शक्तियों को जिनका उद्देश्य भारत की तबाही है और यह प्रेरणा दे औरों को भी।
जी हां, अब मैं वापस आता हूं अपने उसी विषय पर जिस पर पिछले कई दिनों से बातचीत जारी है। दो दिन पूर्व मेरे लेख का शीर्षक था ‘क्या कभी सोचा है आपने ‘टेरर ट्रेड’ के बारे में’, हो सकता है आपने इस पर एक उचटती नज़र डाली हो और उसे बहुत गंभीरता से सोचने योग्य न समझा हो मगर जनाब, जब आप तथ्यों से रूबरू होंगे तो आप चैंक जाएंगे। इस समय जंगी हथियारों की ख़रीद व बिक्री से संबंध रखने वाली एक महत्वपूर्ण फाइल मेरे सामने है, जिसमें 2001 से 2008 तक हथियारों की बिक्री का विवरण भी मौजूद है और 2008 के आंकड़े भी। इस बीच किसने किस देश को कितने हथियार बेचे, कितना धन कमाया, यह सारे आंकड़े आपकी निगाहों के सामने होंगे तो आपको अंदाज़ा हो जाएगा कि आज दुनिया के बड़े हिस्से में जो आतंकवादी हमले हो रहे हैं, कहीं न कहीं उनका कोई संबंध इस ‘टेरर ट्रेड’ दूसरे शब्दों में हथियारों की ख़रीद व बिक्री से भी हो सकता है। आज इतनी गुंजाइश नहीं है कि आंकड़ों के साथ बात करूं, वह पूरे विवरण अपने पाठको की ख़िदमत में पेश करूं जो यह स्पष्ट कर दें कि दुनिया में हथियारों के दो बड़े व्यापारी देश अमेरिका और रूस का बिज़नेस पिछले 8 वर्षों में कैसा रहा। अमेरिका हथियारों की बिक्री में कितना आगे गया? रूस कितना पीछे गया? किस देश ने कितने हथियार ख़रीदे? फिर जब उन सभी आंकड़ों की रोशनी में 9/11 यानी अमेरिका के न्यूयार्क शहर में हुए आतंकवादी हमले से लेकर 26/11 अर्थात मुंबई में हुुए आतंकवादी हमले तक की घटनाओं पर विचार करेंगे, अफ़ग़ानिस्तान और इराक़ की तबाही के परिदृश्य पर विचार करेंगे। लीबया का आत्मसमर्पण, ईरान पर मंडराते ख़तरे के बादल और पाकिस्तान की विध्वंसक परिस्थितियों का विशलेषण करेंगे तो सब कुछ आईने की तरह साफ़ दिखाई देने लगेगा। यह भी कि 9/11 और 26/11 में समानता क्या है। दोनों आतंकवादी हमलों के पीछे क्या साज़िश काम कर रही है, इसलिए कि बात केवल इतनी सी नहीं है। कभी तालिबान को दोषी ठहरा दें और बात समाप्त हो जाए। अलक़ाएदा, लश्कर-ए-तैयबा के नाम सारे आतंकवादी हमले लिख दें और बात समाप्त कर दी जाए। पाकिस्तान को आतंकवादी देश साबित कर दें और बाक़ी सबको क्लीन चिट दे दी जाए, नहीं, यह समस्या का समाधान नहीं है। हमें उस आतंकवाद की जड़ को तलाश करना होगा। तालिबान आतंकवादी हैं तो वह चाहते क्या हैं? तालिबान आतंकवादी हैं तो अमेरिका उनकी मदद क्यों करता था? आख़िर वह उन आतंकवादियों का क्या इस्तेमाल कर रहा था, क्या इस्तेमाल करना चाहता था? लश्कर-ए-तैयबा आतंकवादी है और अमेरिका शांतिप्रिय तो दोनों के संबंध इतनी घनिष्ट कैसे हैं कि वह जब जिसे चाहें लशकर-ए-तैयबा में आतंकवाद के प्रशिक्षण के लिए प्रवेश करा दें और जब चाहें उस आतंकवादी का प्रयोग भारत और पाकिस्तान के विनाश के लिए करें। पाकिस्तान एक आतंकवादी देश है तो वह पाकिस्तान को अपना मित्र क्यों रखते हैं? याद करें, अफ़ग़ानिस्तान और ईराक़ के अमेरिका द्वारा विनाश और पाकिस्तान से उसके मित्रता के संबंध। पाकिस्तान एक आतंकवादी देश है तो वह उसे हथियार बेचते क्यों हैं? क्या नहीं जानते कि यह हथियार आतंकवाद के लिए भी प्रयोग हो सकते हैं? बात फिर उसी स्थान पर समाप्त करता हूं, जहां से शायद कोई संदेश आप तक पहुंचा सकूं। वे भारत को हथियार बेचते हैं ताकि भारत आतंकवाद का मुक़ाबला कर सके, वह पाकिस्तान को हथियार बेचते हैं ताकि आतंकवाद के लिए उनका प्रयोग हो सके। अगर इन दोनों बातों में ज़रा भी सच्चाई है तो फिर याद कर लीजिए वह तीसरी चैथी क्लास वाली कहानी जब एक चालाक बंदर दो बिल्लियों की रोटी स्वयं डकार जाता है। पता नहीं क्यों मैं बचपन की बातें भूलता ही नहीं, आपको भी कुछ याद आता है क्या।

ज्योति दिवस-एक अनुकरर्णीय प्रणाली









مسلمان کی شناخت کیا ہے، اسلام کا نظریہ کسی بھی موضوع پر کیا ہے، یہ جاننے اور سمجھنے کے لےے ہمارے پاس دو ہی طریقے ہیں،یا تو باقاعدہ طور پر قرآن کریم کا مطالعہ کریں، سیرتِ رسولؐ کو سمجھیں اور ان کی روشنی میں اپنے مسئلہ کا حل یا اپنے سوالوں کا جواب حاصل کرلیں۔ اب یہ ان کے لےے تو ممکن ہے، جن کا مذہب اسلام سے تعلق ہے یا کہ وہ مذہب اسلام میں اس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرکے اسلام کی حقیقت اور اس کے پیغام کو سمجھ سکیں۔ اب اگر ہمارے برادرانِ وطن یا ایک عام مسلمان جو مکمل طور پر تعلیمات اسلام کا مطالعہ نہیں کرپایا ہے اور جو اپنے مسئلوں کے حل کے لےے علمائے کرام کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا ہے تو پھر اس کے لےے سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں ہے کہ ہمارے مذہبی رہنمائوں سے رجوع کرے۔ اب اگر مسئلے اس قدر پیچیدہ ہیں کہ ان کے لےے علمائے کرام سے رجوع کےے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا، ورنہ وہ حرام یا شرک کے راستہ میں آسکتا ہے تب تو وہ بیحد ضروری ہے۔ ورنہ عام طور پر ہر معاملے میں علمائے کرام یا دارلفتاح سے رجوع نہیں کیا جاسکتا اور برادران وطن، قومی یا بین الاقوامی میڈیا یا ہمارے سیاستداں ہر مسئلہ پر علماء سے رجوع کریں یا فتویٰ لیں یہ ضروری نہیں ہے اور اگر وہ مسئلہ مسلم خواتین کے الیکشن میں حصہ لینے سے تعلق رکھتا ہوں، تب تو وہ اس کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں کریں گے، مگر ہاں، ہمارے علمائے کرام کا موقف کیا ہے، اس پر ان کی نظر ضرور رہے گی۔ اب ہمارے عالمِ دین جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں، وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کہہ رہے ہیں یا کہ یہ ان کا ذاتی نظریہ ہے۔ دونوں الگ الگ باتیں ہیں، مگر ہر سننے والا اس گہرائی میں جاکر ان کے نظریات کو نہیں سمجھ سکتا۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، اگر وہ ان کی ذاتی رائے ہے تو بھی ایک عالم دین کے منہ سے نکلے الفاظ بہت حد تک
جیوتی دِوسـایک قابل تقلید قدم
دو جنموں کی تھیوری (Theory)، بات کچھ عجیب سی لگتی ہے، مگر جب اپنے بارے میں سوچتا ہوں تو کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ مجھے ایک ہی زندگی میں دو بار جنم لینے کا موقع ملا ہے۔ ایک تو وہ جب مجھے میرے اپنے گھر پریوار میں اپنی ماں کے ذریعہ جنم دیا گیا اور دوسری بار جب ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ میں میں نے جنم لیا۔ دونوں ہی پریواروں کے سنسکار میں اپنی شخصیت میں محسوس کرتا ہوں۔ میرا مذہب کیا ہے، مذہب کے تقاضے کیا ہیں، مذہب کے مطابق زندگی جینے کا طریقہ کیا ہے، یہ سیکھا میں نے اس پریوار سے جس میں جنم لیا اور ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ میں آنے کے بعد معاشرہ کو سمجھنے کا سلیقہ ملا، مختلف مذاہب اور سوچ کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ آج پہلی اپریل ہے، وہ دن جسے ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ کے لوگ عالیجناب سبرت رائے سہارا (سہاراشری جی) کے والدمحترم جناب سدھیرچندررائے کا جنم دن یعنی ’’جیوتی دِوس‘‘ کی شکل میں مناتے ہیں۔ ایک عظیم شخصیت کے والد کی عظمت کو کئی معنوں میں سلام کرنے کو دل چاہتا ہے، ساتھ ہی آج کے دن کی جو بات سب سے زیادہ قابل ذکر ہے اور جسے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لےے سنجوکررکھنا چاہتا ہوں وہ ہے ’’سہارا انڈیا پریوار‘‘ میں آج کے دن پریوار سے جڑے چھوٹے چھوٹے سمجھے جانے والے عہدوں پر بڑی بڑی ذمہ داری نبھانے والوں کے احترام کے روپ میں یاد کیا جانا۔ جس وقت یہ تقریب چل رہی تھی تو میں وہاں کھڑے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہم جن کے کام کو چھوٹا سمجھتے ہیں، اگر وہ دو دن بھی دفتر میں نہ آئےں، اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائیں تو ہمارا کام کتنا مشکل ہوجائے۔ دو روز تک صفائی نہ کےے جانے پر دفتر میں بیٹھنا مشکل ہوگا، دو روز تک ڈرائیور نہ آئے تو خود گاڑی چلاکر سارے کام نمٹانا بہت مشکل ہوگا اور اگر اتفاق سے دو روز تک آپ کا صفائی کرمی نہ آئے تو ضروریات سے فارغ ہونا بھی ہمارے لےے بے پناہ تکلیف دہ ہوجائے گا۔ کتنا اہم مقام ہے ان سب کاموں کا ہماری زندگی میں اور کتنی اہمیت دیتے ہیں ہم انہیں۔ میں ایک بڑے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے والا ایک سینئر افسر ہوں، کئی روز تک دفتر نہ آئوں تو شاید کام کاج میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ آئے، مگر مجھ سے وابستہ دیگر کارکنان کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی، لہٰذا آج کا دن مجھے یہ سیکھاتا ہے کہ اسلام میں جو سب کو برابری کا درجہ دینے کی بات کہی گئی ہے، وہ اسی لےے کہ معاشرے کی ضروریات کے پیش نظر سب کے کام الگ الگ ہوسکتے ہیں، مگر ایک معاشرتی ڈھانچے کی تعمیر کے لےے سب کی اپنی اپنی جگہ بے پناہ اہمیت ہے، لہٰذا کسی کو بھی کم کرکے نہیں دیکھا جانا چاہےے۔

ज्योति दिवस-एक अनुकरर्णीय प्रणाली









दो जन्मों की थ्योरी (Theory) बात कुछ अजीब सी लगती है, मगर जब अपने बारे में सोचता हूं तो कभी-कभी यह लगता है कि मुझे एक ही जीवन में दो बार जन्म लेने का अवसर मिला है। एक तो वह जब मैंने अपने घर परिवार में अपनी माँ के द्वारा जन्म किया और दूसरी बार जब ‘‘सहारा इण्डिया परिवार’’ में मैंने जन्म लिया। दोनों ही परिवारों के संस्कार में अपने व्यक्तित्व में महसूस करता हूं। मेरा धर्म क्या है, धर्म के तक़ाज़े क्या हैं, धर्म के अनुसार जीवन जीने का तरीक़ा क्या है, यह सीख़ा मैंने उस परिवार से जिसमें जन्म लिया और ‘‘सहारा इण्डिया परिवार’’ में आने के बाद समाज को समझने का सलीख़ा मिला, विभिन्न धर्माें और सोच के लोगों के साथ काम करने का अवसर मिला। आज पहली अप्रैल है, वह दिन जिसे ‘‘सहारा इण्डिया परिवार’’ के लोग माननीय सुब्रत राॅय सहारा (सहाराश्री जी) के पिताश्री परमआदरणीय श्री सुधीर चन्द्र राॅय के जन्मदिन को ‘‘ज्योति दिवस’’ के रूप में मनाते हैं। एक महान व्यक्तित्व के पिता की महानता को कई अर्थों में सलाम करने को दिल चाहता है, मगर आज के दिन की जो बात सबसे ज़्यादा अनुकरणीय चर्चा के योग्य है और जिसे मैं हमेशा हमेशा के लिए संजो कर रखना चाहता हूं वह है ‘‘सहारा इण्डिया परिवार’’ में आज के दिन परिवार से जुड़े छोटे छोटे समझे जाने वाले पदों पर बड़ी बड़ी ज़िम्मेदारी निभाने वालों के सम्मान के रूप में याद किया जाना। जिस समय यह समारोह चल रहा था तो मैं वहां खड़े हुए सोच रहा था कि हम जिनके काम को छोटा मानते हैं, अगर वह दो दिन भी दफ़्तर में न आऐं, अपनी ज़िम्मेदारियां न निभाऐं तो हमारी दिनचर्या मुश्किल हो जाए। दो दिन तक सफाई न किए जाने पर दफ्तर में बैठना मुश्किल होगा, दो दिन तक ड्राईवर न आए तो ख़ुद गाड़ी चला कर सारे काम निमटाना बहुत मुश्किल होगा और अगर इत्तेफाक़ से दो दिन तक आपका सफाईकर्मी न आए तो नियमित आवश्यकताओं की पूर्ति करना भी हमारे लिए बहुत पीड़ाजनक हो जाएगा। कितना महत्वपूर्ण स्थान है इन सबका हमारे जीवन में और कितना महत्व देते हैं हम इन्हें। मैं एक बड़े पद की ज़िम्मेदारियां संभालने वाला वरिष्ठ अधिकारी हूं, कई दिन तक दफ्तर न आऊं तो शायद कामकाज में कोई बड़ी रूकावट न आए, मगर मुझ से जुड़े दूसरे कार्यकर्ताओं के बारे में यह बात नहीं कही जा सकती, इसलिए आज का दिन मुझे यह सिखाता है कि इस्लाम में जो सबको बराबरी का दर्जा देने की बात कही गई है, वह इसीलिए कि समाज की आवश्यकताओं के अनुसार सबके काम अलग-अलग हो सकते हैं, मगर एक समाजी ढ़ांचे के निर्माण के लिए सबकी अपनी अपनी जगह बहुत महत्वपूर्ण है, इसलिए किसी को भी कम करके नहीं देखा जाना चाहिए।