Thursday, June 24, 2010

’’کشمیر‘‘ بٹوارے کی حقیقت کا ’’آئینہ‘‘ ہے

عزیز برنی

ریاست جموں و کشمیر کے چند انتہائی اہم دستاویزاس وقت میرے ہاتھوں میں ہیں، جن میں شامل ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجا ہری سنگھ کا لارڈ مائونٹ بیٹن کو بحیثیت گورنر جنرل ہندوستان لکھا گیا وہ خط جس میں کشمیر کے ہنگامی حالات کا تذکرہ ہے۔ یہ خط 26اکتوبر947 کو لکھا گیا تھا، یعنی حصول آزادی کے دوماہ 12دن بعد۔ اب یہ سوال ذہنوں میں پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر مہاراجا ہری سنگھ کی پاکستان میں بات چیت محمد علی جناح اور وزیراعظم لیاقت علی خاں سے چل رہی تھی تو ہندوستان میں مہاتماگاندھی یا وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لعل نہرو سے کیوں نہیں۔ کیا آزادی کے بعد تقریباً ڈھائی مہینہ کا وقت گزر جانے پر بھی لارڈ مائونٹ بیٹن ہی اس قدر بااختیار تھے کہ ہندوستان سے مدد طلب کرنے کے لےے ایک ریاست کا مہاراجا نہ تو بابائے قوم آزادی کے مسیحا مہاتماگاندھی سے مدد طلب کرنے کو اتنی اہمیت دیتا ہے اور نہ پنڈت جواہر لعل نہرو سے، بہرحال ایسے تمام موضوعات پر گفتگو جاری رہے گی۔ اس کے علاوہ دیگر اہم دستاویز ہیں۔ شیخ محمد عبداللہ کے ذریعہ 5فروری948کو یونائٹیڈ نیشنس کی سکیوریٹی کونسل میٹنگ میں کی گئی تقریر کے اہم اقتباسات۔ ساتھ ہی یونائیٹڈنیشنس کمیشن برائے ہندوپاک کے ذریعہ 1948میں منظور قرارداد اور جموںوکشمیر کانسٹیٹیوٹ اسمبلی میں 5نومبر 1951 کو شیخ محمدعبداللہ کی ابتدائی تقریر کے اہم اقتباسات۔
9باری باری سے ہم ان تمام دستاویز اور ان سب کے علاوہ تاریخی اہمیت کی دیگر معلومات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے، تاکہ اس وقت کے حالات کو بخوبی سمجھا جاسکے اور آج جو صورتحال ہے اس کا جائزہ لیتے وقت یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تقسیم وطن کے فوراً بعد کے حالات کیا تھے، آج کی صورتحال کیا ہے اور اس کے لےے کون کتنا ذمہ دار ہے، لہٰذا اس کڑی میں پہلا اہم دستاویز جو ہم آج شامل اشاعت کرنے جارہے ہیں، وہ ہے مہاراجا ہری سنگھ کے ذریعہ لارڈ مائونٹ بیٹن کو لکھے گئے خط کا متن۔ ملاحظہ فرمائیں تاریخ کے اوراق میں درج یہ تحریر، پھر اس کے بعد ہماری تحریر۔
تاریخ:6اکتوبر 1947
میرے پیارے لارڈ مائونٹ بیٹن
مجھے عزت مآب کو یہ بتانا ہے کہ میری ریاست میں ہنگامی صورت حال پیدا ہوگئی ہے اورمیں آپ کی حکومت سے فوری مدد کی درخواست کرتا ہوں۔
جیسا کہ عزت مآب کو معلوم ہے کہ ریاست جموں وکشمیر ہندوستان یا پاکستان ڈومی نین (Dominion)میں شامل نہیں ہوا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے میری ریاست دونوں ڈومی نین سے منسلک ہے۔ دونوں کے ہی ساتھ اس کے اہم اقتصادی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ میری ریاست کی سرحد سوویت ریپبلک اور چین سے ملی ہوئی ہے۔ اپنے خارجی امور کے تعلقات میں ہندوستان اور پاکستان دونوں ڈومی نین ان حقائق کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔
میں یہ طے کرنے کے لئے وقت چاہتا ہوں کہ مجھے کس ڈومی نین میں شامل ہونا چاہئے یا پھر کیا یہ دونوں ڈومی نین میری ریاست کے حق میں بہتر نہیں اور آزاد رہا جائے۔ یہ ضرور ہے کہ دونوں کے ساتھ دوستانہ اور قریبی تعلقات بھی ہوں۔
اس سلسلے میں میں نے ہندوستان اور پاکستان ڈومی نین سے اپنی ریاست کے ساتھ توقف کے معاہدہ (Standstill agreement)کے لئے رابطہ کیا ہے۔ پاکستان حکومت نے اس معاہدہ کو قبول کرلیا ہے۔ ہندوستان ڈومی نین میری حکومت کے نمائندوں کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ اوپر ذکر کئے گئے حالات کے مد نظر میں بات چیت کے لئے نظم نہیں کرسکا ہوں۔ تاہم پاکستانی حکومت ریاست کے اندر پوسٹ اور ٹیلی گراف کے سسٹم کو چلا رہی ہے۔
حالانکہ ہم نے پاکستانی حکومت کے ساتھ توقف کا معاہدہ کیا ہے، حکومت نے میری ریاست کو کھانے کے سامان، نمک اور تیل کی سپلائی کو لگاتار کم کرنے کی بات کہی ہے۔
آفریدیوں، سادے لباس میں فوجی اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ لڑاکوں کو پہلے ریاست کے پنچھ میں دراندازی کی اجازت دی جاتی رہی پھر اس کے بعد سیالکوٹ اور آخر میں ہزاراضلع کے رام کوٹ سے منسلک علاقے میں۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ریاست کے بندوبست کے لئے محدود تعداد میں موجود فوج کو بکھیرنا پڑا ہے اور کئی مقامات پر ایک ساتھ دشمن سے سامنا کرنا پڑرہا ہے، ایسے میں ہلاکت اور لوٹ مار کو روک پانا مشکل ہورہا ہے۔ پورے سری نگر کو بجلی سپلائی کرنے والے ماہورا پاور ہائوس کو جلادیا گیاہے۔ اغوا اور زنا کی شکار خواتین کی تعداد سے میں بہت دلبراشتہ ہوں او ریہ طاقتیں میری ریاست کی موسم گرما کی راجدھانی سری نگر پر قبضہ کی نیت سے ریاست میں مارچ کررہی ہیں اور یہ پوری ریاست پر قبضہ کرنے کے لئے ابتدائی قدم کے طور پر ایسا کررہی ہیں۔
Wنارتھ ویسٹ فرنٹیر کے دور دراز علاقے سے بڑی تعداد میں قبائلی لوگوں کی ٹرکوں کے ذریعہ منشیرا مظفرآباد روڈ سے دراندازی ہورہی ہے اور جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور یہ نارتھ ویسٹ فرنٹیر صوبہ کی عارضی حکومت اور پاکستانی حکومت کی جانکاری کے بغیر نہیں ہوسکتا ہے۔ میری حکومت کے ذریعہ کئی بار درخواست کئے جانے کے باوجود میری ریاست میں دراندازی روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان ریڈیو نے یہ خبر نشر کردی کہ کشمیر میں عارضی حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے۔ اس میں میری ریاست کے مسلمان یا غیر مسلمان دونوں نے کوئی بھی کردار ادا نہیں کیا ہے۔
جس طرح کے حالات میری ریاست میں پیدا ہورہے ہیں اور جو ہنگامی صورت حال پہلے سے موجود ہے، ایسے میں ہندوستان ڈومی نین سے مدد مانگنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ بغیر ہندوستان ڈومی نین میں میری ریاست کے شامل ہوئے ہمارے مطالبے پر وہ مدد روانہ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس لئے ہم نے ایسا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، آپ کی حکومت کے ذریعہ قبول کرنے کے لئے الحاق کا فارمولہ (Instrument of Accession)منسلک کررہا ہوں۔ دوسرا متبادل یہ ہے کہ اپنی ریاست اور عوام کو آزاد فوجیوں کے حوالے چھوڑ دیا جائے۔ ان بنیادوں پر نہ کوئی حکومت موجود رہ سکتی ہے اور نہ ہی برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ میں اس متبادل کو کسی بھی صورت میں ہونے نہیں دوں گا جب تک کہ میں ریاست کا حکمراں ہوں اور اپنے ملک کی حفاظت کے لئے میری زندگی ہے۔
میں عزت مآب کی حکومت کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ یہ میری نیت ہے کہ فوراً ایک عارضی حکومت کا قیام عمل میں لایاجائے اور میں شیخ عبداللہ کو کہوں کہ اس ہنگامی صورت میں وہ میرے وزیر اعظم کی ذمہ داری نبھائیں۔
اگر میری ریاست کو بچانا ہے تو سری نگر میں فوری مدد مہیا کرانا ضروری ہے۔ جناب مینن پورے حالات سے واقف ہیں، اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہوگی تو وہ ہم کریں گے۔
آپ کا خیر اندیشـہری سنگھ
بیحد ادب کے ساتھ
دی پیلیس، جموں
26اکتوبر947کو لکھے گئے اس خط سے صاف ظاہر ہے کہ 14اگست یا5اگست کو ریاست جموںوکشمیر کے عوام یا مہاراجا نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ انہیں پاکستان کے ساتھ شامل ہونا ہے یا ہندوستان کے ساتھ۔ مہاراجا ہری سنگھ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی حتمی فیصلہ لینے کے لےے مزید وقت درکار ہے۔ وہ اس سلسلہ میں غوروفکر میں مصروف ہیں کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا جائے یا ہندوستان کے ساتھ یا پھر دونوں ہی ممالک سے بہتر رشتے بنائے رکھتے ہوئے ریاست جموںوکشمیر اپنے الگ آزادانہ وجود کے ساتھ رہے۔
بعد میں کس طرح تصویر بدلتی گئی، اس کا ذکر ہم آئندہ قسطوں میں کریں گے، لیکن جن ہنگامی حالات کا ذکر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو لکھے گئے اس خط میں مہاراجا ہری سنگھ نے کیا ہے، وہ ہنگامی حالات تھے کشمیر پر قبائلیوں کا حملہ، جس ایک واقعہ نے کشمیر کی صورتحال اور اندازفکر کو یکسر بدل ڈالا، وہ یہی قبائلیوں کا حملہ تھا۔ اس حملہ کی بنیاد کیا تھی، کس کی ایما پر، کن مقاصد کے پیش نظر یہ حملہ کیا گیا، یہ جاننے کے لےے ہمیں پھر 60-62برس پرانی تاریخ کے دامن میں جھانک کردیکھنا ہوگا، لیکن اتنا تو صاف ظاہر ہے کہ اس حملہ کے باوجود ریاست جموں وکشمیر کے مہاراجا ہندوستان یا پاکستان میں شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کرپائے تھے اور دونوں ممالک میں سےکسی سے بھی رشتوں میں اتنی کڑواہٹ نہیں تھی کہ گفت و شنید کا سلسلہ بند ہوگیا ہو۔ ریاست کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش میں مہاراجا ہری سنگھ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ہی رابطہ میں تھے اور یہ سلسلہ 26اکتوبر یعنی اس خط کے لکھے جانے کے بعد تک بھی جاری رہا۔ اپنی اس بات کی تصدیق کے لےے ہم مزید تاریخی دستاویز انشاء اللہ اپنی آئندہ قسطوں میں شامل اشاعت کریں گے۔
ہم کسی بھی نتیجہ پر پہنچنے یا کسی نتیجہ کی طرف اشارہ کرنے سے قبل یہ فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتے ہیں کہ وہ پہلے اس سلسلہ وار مضمون کی معرفت تمام تاریخی سچائیوں کا مطالعہ فرمائیں اور پھر نتیجہ اخذ کریں کہ آج کشمیر کی جو صورتحال ہے، جو خوف و دہشت کا عالم ہے، جو خون میں ڈوبی ہوئی جھیلیں ہیں، جو پہاڑوں سے اونچے انسانی لاشوں کے ڈھیر ہیں۔ جہاں اب فضائوں میں نغمے نہیں گونجتے، اب وہاں گولیوں اور بم دھماکوں کی آوازیں، انسانی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ آخر ان تباہ کن حالات کے لےے کون کتنا ذمہ دار ہے؟ یہ سارے کا سارا سچ آہستہ آہستہ ہر دن آپ کی نگاہوں کے سامنے آتا رہے گا، مگر ایک بات جو سبھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور جس پر بہت زیادہ بحث و مباحثہ کی گنجائش نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کو دو قومی نظریہ کے تحت بتایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ1برس سے اسی ایک بات کو تمام ذہنوں میں پیوست کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ ہندوستان کی تقسیم مذہبی بنیادوں پر عمل میں آئی۔ اگر یہی سچ تھا… اگر یہی سچ ہے… تو کشمیر کا سوال اور بھی پیچیدہ واہم ہوجاتا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں اس وقت بھی مسلمانوں کی اکثریت تھی اور آج بھی مسلمانوں کی اکثریت قائم ہے۔ 80فیصد مسلمانوں کی اکثریت والی ریاست نے بھی اگر مذہب کے نام پر بنے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا تو پھر یہ دعویٰ اپنے آپ میں کمزور ہوجاتا ہے کہ ہندوستان کا بٹوارہ مذہبی بنیادوں پر ہوا تھا، اس لےے کہ ریاست جموںوکشمیر کی سرحدیں پاکستان سے ملتی تھیں، کوئی جغرافیائی دقت اس کے سامنے نہیں تھی اور اگر اس کی وجہ یہ مان لی جائے کہ بیشک اکثریت مسلمانوں کی تھی، مگر ریاست جموںوکشمیر کا نظام مہاراجا ہری سنگھ کے ماتحت تھا اور ان کی رائے پاکستان کے ساتھ شمولیت کے حق میں نہیں تھی، تب بھی یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے، اس لےے کہ اگر بٹوارہ مذہبی بنیادوں پر تھا، ہندو، مسلم عوام کی خواہشات کے مطابق تھا تو راجاؤں، مہاراجاؤں یا نوابوںکا کوئی بھی فیصلہ حتمی فیصلہ نہیں ہوسکتا تھااور کیا ریاست کے مہاراجا کے اس فیصلہ کے خلاف ریاست کے عوام نے بغاوت کی، پاکستان کے ساتھ شامل ہونے پر زوردیا۔ ہم اس سلسلہ وار مضمون کی آئندہ قسطوں میں یہ بھی واضح کردیں گے کہ بالآخر یہ فیصلہ تو عوام کو ہی کرنا تھا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ان کی رائے کیا تھی……؟

‘‘कश्मीर’’ बटवारे की हक़ीक़त का ‘‘आईना’’ है
अज़ीज़ बर्नी

जम्मू कश्मीर राज्य के कुछ अत्यधिक महत्वपूर्ण दस्तावेज़ इस समय मेरे हाथों में हैं। जिनमें शामिल है उस समय के जम्मू कश्मीर राज्य के महाराजा हरि सिंह का लार्डमाउंट बेटन को गवर्नर जनरल भारत के तौर पर लिखा गया वह पत्र जिसमें कश्मीर की आपातकालीन परिस्थितियों का उल्लेख है। यह पत्र 26 अक्तूबर 1947 को लिखा गया था। अर्थात स्वतंत्रता प्राप्ति के केवल दो माह 12 दिन बाद। अब यह प्रश्न मस्तिष्क में पैदा हो सकता है कि महाराजा हरि सिंह की बातचीत पाकिस्तान में मोहम्मद अली जिन्ना और प्रधानमंत्री लियाक़त अली ख़ां से चल रही थी तो भारत में महात्मा गांधी या भारत के प्रधानमंत्री पंडित जवाहर लाल नेहरू से क्यों नहीं। क्या स्वतंत्रता के बाद लगभग ढाई महीने का समय गुज़र जाने पर भी लार्ड माउंट बेटन ही इस हद तक सक्षम थे कि भारत से सहायता प्राप्त करने के लिए एक राज्य का महाराजा न तो राष्ट्र पिता आज़ादी के मसीहा महात्मा गांधी से सहायता मांगने को इतना महत्व देता है और न पंडित जवाहर लाल नेहरू से, बहरहाल ऐसे तमाम विषयों पर बातचीत जारी रहेगी। इसके अतिरिक्त अन्य महत्वपूर्ण दस्तावेज़ हैं। शेख़ मुहम्मद अब्दुल्ला द्वारा 5 फरवरी 1948 को संयुक्त राष्ट्र संघ की सुरक्षा परिषद की मीटिंग में किए गए भाषण के प्रमुख उद्धरण। साथ ही संयुक्त राष्ट्र संघ के भारत पाक से संबंध आयोग के द्वारा 1948 में स्वीकृत किया गया प्रस्ताव और जम्मू व कश्मीर कान्स्टिट्यूट असेम्बली में 5 नवम्बर 1951 को शेख़ मुहम्मद अब्दुल्ला के आरम्भिक भाषण के महत्वपूर्ण उद्धरण।

बारी बारी से हम इन तमाम दस्तावेज़ और इन सबके अतिरिक्त ऐतिहासिक महत्व की अन्य जानकारियां अपने पाठकों की सेवा में प्रस्तुत करेंगे। ताकि उस समय के हालात को अच्छी तरह समझा जा सके और आज जो स्थिति है उसका जायज़ा लेते समय भी यह हमारे मस्तिष्क में रहे कि देश विभाजन के तुरंत बाद के हालात क्या थे, आज की स्थिति क्या है और इसके लिए कौन ज़िम्मेदार है। इसलिए इस कड़ी में पहला महत्वपूर्ण दस्तावेज़ जो हम आज प्रकाशित करने जा रहे हैं वह है महाराजा हरि सिंह के द्वारा ‘लार्ड माउंट बेटन’ को लिखा गया पत्र। देखिए इतिहास के पन्नों में दर्ज यह तहरीर फिर इसके बाद हमारे लेख का सिलसिला जारी रहेगा।

दिनांक 26 अक्तूबर 1947

मेरे प्रिय लार्ड माउंट बेटन

मुझे महामहिम को बताना है कि मेरे राज्य में आपातकालीन स्थिति पैदा हो गई है और मैं आपकी सरकार से तुरंत सहायता की प्रार्थना करता हूं। जैसा कि महामहिम को ज्ञात है कि जम्मू व कश्मीर राज्य भारत या पाकिस्तान डोमिनियन (Dominion) में सम्मिलित नहीं हुआ है। भौगोलिक दृष्टि से मेरा राज्य दोनों डोमिनियन से संबद्ध है। दोनों के ही साथ उसके महत्वपूर्ण, आर्थिक और सांस्कृतिक संबंध हैं। इसके अतिरिक्त मेरे राज्य की सीमा सोवियत रिपब्लिक और चीन से मिली हुई है। अपने विदेशी मामलों के संबंध में भारत और पाकिस्तान दोनों डोमिनियन इन तथ्यों को अनदेखा नहीं कर सकते।

मैं यह तय करने के लिए समय चाहता हूं कि मुझे किस डोमिनियन में शामिल होना चाहिए या फिर यह दोनों डोमिनियन और मेरे राज्य के पक्ष में बेहतर नहीं है और उचित है कि स्वतंत्र रहा जाए। यह अवश्य है कि दोनों के साथ मैत्रिपूर्ण और निकट के संबंध हों।

इस सिलसिले में मैंने भारत और पाकिस्तान डोमिनियन से मेरे राज्य के साथ जूं का त्यूं रहने से संबद्ध समझौते Standstill agreement के लिए सम्पर्क किया है। पाकिस्तान सरकार ने इस समझौते को स्वीकार कर लिया है। भारत डोमिनेंट मेरे राज्य के प्रतिनिधियों के साथ वार्ता करना चाहती है। उपरोक्त परिस्थितियों के मद्द्नज़र मैं बातचीत के लिए व्यवस्था नहीं कर सका हूं। परंतु पाकिस्तानी सरकार राज्य के अंदर पोस्ट और टेलीग्राफ़ की व्यवस्था को चला रही है।

हालांकि हमने पाकिस्तानी सरकार के साथ स्टैंड स्टिल एग्रीमेंट किया है। सरकार ने मेरे राज्य को खाद्य सामग्री, नमक और तेल की सप्लाई को लगातार कम करने की बात कही है।

आफ़रीदियों, सादे वस्त्र में सैनिक और आधुनिक हथियारों के साथ लड़ाकों को पहले राज्य के पुंछ में घुसपेठ की आज्ञा दी जाती रही। फिर इसके बाद सियालकोट और अंत में हज़ारा ज़िले के रामकोट से संबंध क्षेत्र में। परिणाम यह हुआ कि राज्य की व्यवस्था के लिए सीमित संख्या में मौजूद सेना को बिखेरना पड़ा है और कई स्थानों पर एक साथ दुश्मन से सामना करना पड़ रहा है। ऐसे में हत्या और लूटमार को रोक पाना मुश्किल हो रहा है। पूरे श्रीनगर को बिजली सप्लाई करने वाले माहौरा पावर हाउस को जला दिया गया है। अपहरण और बलात्कार की शिकार स्त्रियों की संख्या से मेरा दिल बहुत उदास है और यह शक्तियां मेरे राज्य की गर्मी के मौसम की राजधानी श्रीनगर पर क़ब्जे़ की नियत से राज्य में मार्च कर रही हैं और यह पूरे राज्य पर क़ब्ज़ा करने के लिए प्रारंभिक क़दम के तौर पर ऐसा कर रही हैं।

नार्थ वेस्ट फ़रंटियर के दूरदराज़ क्षेत्रों से बड़ी संख्या में क़बाइली लोगों के ट्रकों के द्वारा मंशीरा मुज़फ़्फ़राबाद रोड से घुसपैठ कराई जा रही है और जो आधुनिक हथियारों से लेस है और यह नार्थ वेस्ट फ्ऱंटियर सूबे की अस्थाई सरकार और पाकिस्तानी सरकार की जानकारी के बिना नहीं हो सकता है। मेरे राज्य के द्वारा कई बार प्रार्थना किए जाने के बावजूद मेरे राज्य में घुसपैठ रोकने के लिए कोई क़दम नहीं उठाया गया है। यहां तक पािकस्तान रेडियो ने यह ख़बर प्रसारित कर दी कि कश्मीर में अस्थाई सरकार स्थापित की जा चुकी है। इसमें मेरे राज्य के मुसलमान या ग़ैर मुसलमान दोनों ने कोई भी भूमिका अदा नहीं की है।

जिस प्रकार की परिस्थितियां मेरे राज्य में पैदा हो रही हैं और जो आपातकालीन स्थिति पहले से मौजूद है ऐसे में भारतीय डोमिनेंट से सहायता मांगने के अलावा कोई चारा नहीं है। भारतीय डोमिनियन में मेरे राज्य के शामिल हुए बिना हमारी मांगों पर वह मदद नहीं भेज सकते हैं। इसलिए हमने ऐसा करने का निर्णय लिया है, आपकी सरकार के द्वारा स्वीकार करने के लिए विलय का सूत्र (instrument of ऑकेस्सिओन) संलग्न कर रहा हूं। दूसरा विकल्प यह है कि अपने राज्य और जनता को आज़ाद सैनिकों के हवाले छोड़ दिया जाए। इन बुनियादों पर न कोई सरकार मौजूद रह सकती है और ना ही बरक़रार रखी जा सकती है। मैं इस विकल्प को किसी भी सूरत में होने नहीं दूंगा। जब तक कि मैं राज्य का शासक हूं और अपने देश की रक्षा के लिए मेरा जीवन है।

मैं महामहिम की सरकार को यह भी बताना चाहता हूं कि यह मेरी नियत है कि तुरंत एक अस्थाई सरकार स्थापित की जाए और मैं शेख़ अब्दुल्ला को कहूं कि इस आपातकालीन स्थिति में वह मेरे प्रधानमंत्री की ज़िम्मेदारी संभालें।

यदि मेरे राज्य को बचाना है तो श्रीनगर में तुरंत सहायता उपलब्ध कराना आवश्यक है। श्री मेनन सारे हालात से परिचित हैं। यदि किसी स्पष्टीकरण की आवश्यकता होगी तो वह हम करेंगे।

आपका शुभचिंतक-हरि सिंह

सःसम्मान

द पेलेस जम्मू

26 अक्तूबर 1947 को लिखे गए इस पत्र से साफ़ पता चलता है कि 14 अगस्त या 15 अगस्त को जम्मू व कश्मीर राज्य की जनता या महाराजा ने यह फै़सला नहीं किया था कि उन्हें पाकिस्तान के साथ सम्मिलित होना है या भारत के साथ। महाराजा हरि सिंह अपने पत्र में लिखते हैं कि उन्हें कोई भी अंतिम फैसला लेने के लिए और अधिक समय की आवश्यकता है। वह इस सिलसिले में विचार विमर्श में लगे हुए हैं। कि पकिस्तान के साथ विलय का फैसला किया जाए या भारत के साथ या फिर दोनों ही देशों से बेहतर संबंध बनाए रखंे और जम्मू कश्मीर राज्य अपने अलग स्वतंत्र अस्तित्व के साथ रहे।

बाद में किस तरह तस्वीर बदलती गई इसका उल्लेख हम अगली क़िस्तों में करेंगे। परंतु जिन आपातकालीन परिस्थितियों का विवरण लार्ड माउंट बेटन को लिखे गए इस पत्र में महाराजा हरि सिंह ने किया है, वह आपातकालीन परिस्थितियां थीं। कश्मीर पर क़बाइलियों का आक्रमण। जिस एक घटना ने कश्मीर की स्थिति और विचार की दिशा को बिल्कुल बदल डाला वह यही क़बाइलियों का आक्रमण था। इस आक्रमण की बुनियाद क्या थी, किसके इशारे पर, किन उद्देश्यों को दृष्टि में रख कर यह आक्रमण किया गया था, यह जानने के लिए हमें फिर 60-62 वर्ष पुराने इतिहास के दामन में झांक कर देखना होगा, परंतु इतना तो स्पष्ट है कि इस आक्रमण के बावजूद जम्मू व कश्मीर राज्य के महाराजा भारत या पाकिस्तान में विलय का अंतिम फैसला नहीं कर पाए थे और दोनों देशों में से किसी से भी संबंधों में इतनी कड़वाहट नहीं थी कि बातचीत का सिलसिला बंद हो गया हो। राज्य की परिस्थितियों को बेहतर बनाने के प्रयास में महाराजा हरि सिंह भारत और पाकिस्तान दोनों के साथ ही संपर्क में थे और यह सिलसिला 26 अक्तूबर यानी इस पत्र के लिखे जाने के बाद भी जारी रहा। अपनी इस बात के प्रमाण के लिए हम और अधिक ऐतिहासिक दस्तावेज़ इन्शाअल्लाह अपनी आइंदा क़िस्तों मंे प्रकाशित करेंगे।

हम किसी भी परिणाम पर पहुंचने या किसी परिणाम की ओर संकेत करने से पहले यह निर्णय पाठकगणों पर छोड़ते हैं कि वह पहले इस क़िस्तवार लेख के द्वारा तमाम ऐतिहासिक सच्चाइयों का अध्ययन करें और फिर परिणाम निकालें कि आज कश्मीर की जो स्थिति है जो आतंक की माहौल है, जो ख़ून में डूबी हुई झीलें हैं, जो पहाड़ों से ऊंचे मानवीय शवों के ढेर हैं जहां अब वातावरण में गीत नहीं गूंजते, अब वहां गोलियों और बम धमाकों की आवाज़ें और इन्सानी चीख़ें सुनाई देती हैं। आख़िर विनाशकारी परिस्थितियों के लिए कौन कितना ज़िम्मेदार है यह सारे का सारा सच आहिस्ता आहिस्ता हर दिन आपकी नज़रों के सामने आता रहेगा, परंतु एक बात जो सभी अच्छी तरह जानते हैं और जिस पर बहुत अधिक चर्चा व परिचर्चा की गुंजाइश नहीं है वह यह है कि भारत के विभाजन को द्विय राष्ट्रीय सिद्धांत के तहत बताया जाता रहा है। पिछले 61 वर्षों से इस एक बात को तमाम दिमाग़ों में बैठाने की कोशिश की जाती रही कि भारत विभाजन धार्मिक बुनियादों पर अमल में आया। यदि यही सच था..... यदि यही सच है...... तो कश्मीर का सवाल और भी पेचीदा व महत्वपूर्ण हो जाता है। जम्मू कश्मीर राज्य में उस समय भी मुसलमानों की संख्या अधिक थी और आज भी मुसलमान बहुसंख्यक हैं। 80 प्रतिशत मुसलमानों की जनसंख्या वाले राज्य में भी यदि धर्म के नाम पर बने पाकिस्तान में सम्मितल होने का फैसला नहीं किया तो फिर यह दावा अपने आप में कमज़ोर हो जाता है कि भारत का बटवारा धार्मिक बुनियादों पर हुआ था इसलिए कि जम्मू व कश्मीर राज्य की सीमाएं पाकिस्तान से मिलती थीं, कोई भौगोलिक कठिनाई इसके सामने नहीं थी और यदि इसका कारण यह मान लिया जाए कि निःसंदेह अधिक जनसंख्या मुसलमानों की थी, परंतु जम्मू व कश्मीर राज्य की व्यवस्था महाराजा हरि सिंह के अधीन थी और उनकी राय पाकिस्तान के साथ विलय के पक्ष में नहीं थी तब भी यह प्रश्न अपनी जगह बना रहता है, इसलिए कि यदि बटवारा धार्मिक बुनियादों पर था, हिंदू मुस्लिम जनता की इच्छाओं के अनुसार था तो राजाओं, महाराजाओं या नवाबों का कोई भी फैसला अंतिम फैसला नहीं हो सकता था और क्या राज्य के महाराजा के इस फैसले के विरुद्ध राज्य की जनता ने बग़ावत की, पाकिस्तान के साथ सम्मिलित होने पर ज़ोर दिया। हम इस क़िस्तवार लेख की अगली क़िस्तों में यह भी स्पष्ट कर देंगे कि अंततः यह फैसला तो जनता को ही करना था कि वह क्या चाहती है और उसकी राय क्या थी......?

.........................................

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

عزیز برنی

اسلام وہ مذہب ہے، جو اتحاداخوت، انصاف، انسان دوستی اور حب الوطنی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن وہ مقدس کتاب ہے، جو ہمیں نہ صرف مذہبی تعلیمات سے روشناس کراتی ہے، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات بھی مہیا کراتی ہے، یعنی "Quran is a complete constitution of life for all mankind"۔ اگر ہم قرآن کریم میں درج ایک ایک آیت کے ترجمہ، تفسیر اور شان نزول کا بغور مطالعہ کریں تو زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیںہے، جس کے لےے ہمیں قرآن کریم سے رہنمائی حاصل نہ ہو۔ اگر ہم اپنی یومیہ نمازوں کو مذہبی نقطۂ نظر یعنی عبادتِ الٰہی کے ساتھ ساتھ سماجی نقطۂ نظر سے دیکھیں، تب بھی ان کی افادیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔ ہم اپنی پنج وقتہ نمازیں اپنے گھر پر یا اپنے گھر اورکام کی جگہ کے نزدیک کی مساجد میں ادا کرتے ہیں۔ اگر سفر کا موقع ہے تو بات دیگر ہے، وہ اس لےے کہ ہمارے گھروں میں مذہبی ماحول قائم رہے اور جب ہم اپنے گھر یا دفتر کے نزدیک کی مساجد میں نماز ادا کررہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے آس پاس رہنے والوں یا ساتھ کام کرنے والوں سے ملاقات کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ ہم ان کے دکھ، تکلیف اور حالات کو سمجھیں، وہ ہماری پریشانیوں کو جانیں اور جب نماز کے بعد ہم ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ہماری ایک نظر ایک دوسرے کے چہرے پر لکھی عبارت، دل کا حال پڑھ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے، پھر ہفتہ میں ایک بار ہم جمعہ کی نماز اپنے محلے یا علاقہ کی جامع مسجد میں ادا کرتے ہیں، یعنی پنج وقتہ یومیہ نمازوں کے مقابلہ جمعہ کی نماز کی افادیت اس لےے بھی زیادہ ہے کہ ہفتہ میں ایک بار یہ دائرہ کچھ بڑا ہوجاتا ہے۔ اس مرتبہ ہم نہ صرف اپنے ان بھائیوں سے ملاقات کا موقع پالیتے ہیں جو ہم سے ذرا فاصلہ پر رہتے ہےں، جو دوسرے محلوں میں مقیم ہیں، جمعہ کے روز ہمیں ان کے ساتھ بھی ملنے کا موقع ملتا ہے۔ پھر نمازِ جمعہ سے قبل ہمارے امام عالی مقام کا خطبہ ہمیں ملک اور شہر کے حالات سے روشناس کراتا ہے۔ اس مخصوص دن دئے جانے والے خطبہ میں پیغام الٰہی بھی ہوتا ہے اور حالات حاضرہ پر گفتگو بھی۔ ہمارے ملک کو، ہمارے شہر کو یا ہماری قوم کو کن حالات کا سامنا ہے، وہ کن کن پریشانیوں سے گزر رہے ہیں، اس پر سیرحاصل گفتگو ہوتی ہے۔ پھر سال میں دو مرتبہ عیدین کی نمازوں کے لےے یعنی عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نمازوں کے لےے ہم شہر کی عیدگاہوں میں جمع ہوتے ہیں، یعنی اس بار یہ دائرہ اور بھی وسیع ہوجاتا ہے۔ اب ہم اپنے محلے یا قرب و جوار کے محلوں سے زیادہ بڑے دائرے میں جاکر پورے شہر کے لوگوں کے ساتھ ملنے کا موقع حاصل کرلیتے ہیں۔ یہ خوشی کا تہوار جسے ہم عیدملن کی شکل میں بھی یاد کرتے ہیں، صحیح معنوں میں سال میں دو مرتبہ یہ ہمارے ملن کا موقع ہوتا ہے اور پھر کم ازکم زندگی میں ایک بار جب پروردگارِعالم ہمیں حج کی سعادت سے نوازتا ہے تو ہمارے پاس موقع ہوتا ہے، پوری دنیا کے مسلمانوں سے ایک ساتھ ملنے کا۔ حج کے ایام میں ہم دنیا کے گوشے گوشے سے پہنچنے والے ایمان والوں سے ملنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ کس ملک کے رہنے والوں کو کن مسائل کا سامنا ہے، ہم کس بین الاقوامی سازش کا شکار ہیں، ہماری اتحاد کی طاقت ہمیں کس طرح ان مسائل سے نجات دلا سکتی ہے، اس پر غوروفکر کا موقع ملتا ہے ہمیں حج بیت اللہ کی زیارت کے ساتھ جب حج کے مختلف ارکان میں ہم قدم بہ قدم اپنے ہم مذہب افراد کے ساتھ ہوتے ہیں۔
آج اس موقع پر اس گفتگو کی ضرورت اس لےے پیش آئی کہ جس مسئلہ کو ہم نے اٹھایا ہے، اسے ساری دنیا تک پہنچانے کا ایک ہی طریقہ ہے ہماری مساجد۔ ہمارے ائمہ کرام اگر بعدنما زِجمعہ ان کی دعاؤں میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہوجائے تو بیشک یہ صدا بارگاہِ رب العزت تک بھی پہنچے گی و ایوانِ اقتدار تک بھی اور انشاء اللہ شرف قبولیت بھی حاصل کرے گی۔ اگر ہمارے ائمہ کرام بروز جمعہ نمازجمعہ سے قبل اپنے خطبہ میں دیگر ان تمام مسائل کے ساتھ جو ہماری قوم و ملک کو درپیش ہیں، مسئلہ کشمیر کو بھی شامل کرلیں اور اس اتحاد کے پیغام کو ہر نمازی کے دل و دماغ تک پہنچا دیں، جس کا حکم پروردگارِعالم نے قرآن کریم کی درج ذیل آیت میں دیا ہے تو اس مسئلہ کے حل کی تلاش ضرور کسی منزل تک پہنچ سکتی ہے۔
’واعتصموا بحبل اللّٰہِ جمیعا ولا تفرقوا۔‘
ترجمہ:اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور ٹکڑوں میں نہ بٹو۔ (سورہ آل عمران، آیتـ02)
بیشک ہم اس آیت کریمہ کی تلاوت کرتے ہیں، اس کے معنی اور مفہوم کو بھی سمجھتے ہیں، لیکن کاش اس آیت کے معنی کو ہم نے اس طرح سمجھ لیا ہوتا کہ یہ پیغام ہمارے دلوں میں اترجانا ہماری زندگی کا ایک حصہ بن جاتا۔ ہمارے عمل میں نظر آتا تو یہ ملکوں کی سرحدیں ہمارے دلوں میں فاصلہ پیدا نہیں کرسکتی تھیں۔ یہ فرقہ واریت، یہ زبانوں کی تفریق ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کرپاتی۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح آبادی کے لحاظ سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی طاقت ہونے کے باوجود ہم پریشان حال ہیں۔ ہم نہ صرف ٹکڑوں میں بٹے ہیں، بلکہ ہمارے جو ملک آزاد اور خودمختار نظر آتے ہیں، جنہیں پروردگارِ عالم نے بھرپور مال و دولت سے نوازا ہے اور جو ہمارے اپنوں کی حکمرانی میں ہیں، درحقیقت انہیں بھی مکمل آزادی حاصل نہیں ہے۔ کوئی طاقت ہے، جو درپردہ انہیں اپنی غلامی میں رکھتی ہے۔ بیشک پروردگارِعالم نے انہیں اپنی عنایتوں کی دولت سے مالا مال کیا ہے، مگر اللہ کی بخشی ہوئی اس دولت پر ان سے زیادہ غیروں کا قبضہ ہے۔ 1990میں بغداد میں خلیجی جنگ کے موقع پر اسلامی ممالک کے نمائندگان کی موجودگی میں تقریر کے دوران صدام حسین نے اسی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم عرب متحد ہوجائیں، پروردگارِعالم کی بخشی ہوئی اس دولت کو جو پیٹرول کی شکل میں ہمیں حاصل ہے، اپنی عیاشی پر خرچ نہ کریں، عورتوں کی منڈیاں لگانی بند کردیں، اس کا استعمال اپنے عوام کی فلاح و بہبود کے لےے کریں اور جس طرح کسان کو اپنے غلہ کی قیمت طے کرنے کا حق ہوتا ہے، اسی طرح ہم عرب ممالک کے حکمرانوں کو بھی اپنی زمین سے نکلنے والے پیٹرول کی قیمت طے کرنے کا حق حاصل ہو۔ ہم اپنے پیٹرول کو پونڈ میں بیچےں گے، ڈالر میں، ریال میں یا دینار میں، یہ فیصلہ کرنے کا حق ہمیں حاصل ہو۔ ہم اس معاملہ میں امریکی فیصلہ کے محتاج کیوں ہوں؟ وہ کیوں ہمارے پیٹرول کی قیمتیں طے کرے؟ صدام حسین کی زبان سے نکلنے والا یہ پیغام اتحاد جب دنیا کی اس سب سے بڑی طاقت سمجھے جانے والے ملک امریکہ کے سربراہ تک پہنچا تو اس نے سمجھ لیا کہ مسلمانوں کی صفوں میں انتشار کی حکمت عملی ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے اور ہمیں ان پر حکمرانی کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر یہ متحد ہوگئے، اپنے فیصلے خود کرنے لگے تو ہماری برتری قائم نہیں رہ سکے گی۔ نتیجہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ عراق تباہ ہوا، افغانستان تباہ ہوا، صدام حسین سے ان کی زندگی چھین لی گئی، اس سیال دولت پر امریکہ کا قبضہ ہوگیا۔
15اگست947سے پہلے 190برس تک ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی میں رہا۔ 100برس تک ہم ہندوستانی خواہ ہندو ہوں یا مسلمان، نہ صرف ان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے، بلکہ ہم اتنی ہمت بھی نہ کرسکے کہ اپنی آزادی کے لےے آواز بلند کرسکیں۔00برس لگے، ہمیں اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو یکجا کرنے میں، اپنے اندر اتنا حوصلہ پیدا کرنے میں کہ جو ہم پر مسلط ہیں، ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرسکیں۔ مذہب کے نام پر پیدا کردی گئی جن منافرتوں نے ہمارے دلوں میں فاصلہ پیدا کردیا تھا، اسے بھول کر اپنی آزادی کی خاطر متحد ہوجائیں، لہٰذا 1857میں ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ طاقت نے پہلی بار ان غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈالنے کے عزم کے ساتھ انگریزوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا، پھر0برس تک ہم کاندھے سے کاندھا ملا کر یہ جنگ لڑتے رہے۔ نتیجتاً 1947میں ہمیں آزادی نصیب ہوئی، مگر وہ انگریز جس نے ریاستوں میں بٹی مملکت ہند کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کیا تھا اور جو ہماری نفسیات کو بخوبی سمجھتا تھا، جاتے جاتے ہمارے درمیان انتشار کے بیج بو گیا۔ ہندوستان، پاکستان دو الگ ملک کی شکل میں سامنے آئے اور ہمیں ملا کشمیر ایک مشترکہ مسئلہ کی شکل میں۔
چند جملوں میں تاریخی پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہمیں اتحاد کے پیغام کو بھی سمجھنا ہے اور انتشار کی وجوہات پر بھی غور کرنا ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آج سرزمین ہند پر ہم جتنے بھی مسائل سے دوچار ہیں، وہ کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی شکل میں اس کشمیر کے مسئلہ سے وابستہ ہیں۔ مذہبی منافرت، پاکستان کے ساتھ خراب رشتے، کشمیر میں مسلسل خونریزی اور ہندوستان میں دہشت گردانہ واقعات۔ اگر ہم ان سب کا مشاہدہ کریں تو بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی ذہنیت تنہا ایک شخص کی ذہنیت نہیں تھی، جس نے آزادی سے قبل کشمیری عوام کو ہزاروں زخم دئے اور آزادی کے بعد ایک ایسا ناسور، جو اب ہر طرح سے جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ 1931میں ریاست جموںوکشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ نے وہی کیا، جس مقصد کے پیش نظر 1901میں ہندومہاسبھا کا جنم ہوا تھا۔ اس کے بعد948میں کشمیر کے مسئلہ کو لے کر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ سے جو دو ہمسایہ ملکوں میں نفرت کا ماحول پیدا ہوا، وہ آج تک بھی جاری ہے۔ کاش شیخ محمد عبداللہ نے ہری سنگھ کی ذہنیت کو اسی وقت سمجھ لیا ہوتا، کشمیری عوام کے دل کی آواز کو سن لیا ہوتا تو دنیا کی جنت کشمیر آج جہنم کے شعلوں میں نہ جل رہا ہوتا۔ اس وقت بہت آسان تھایہ…،
مگر آج بارگاہِ الٰہی میں یہ دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ سن لے ان کی صدا، جو برسوں سے تیری رحمت کے طلبگار ہیں۔
ایک مختصر سے خطبہ میں کشمیر کے تمام حالات کو سمو دینا آسان نہیں ہے، مگر مسجد کی میناروں سے یہ پیغام پوری دنیا تک پہنچنا شروع ہوجائے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ان مظلومین کے حالات کی طرف متوجہ ہوں، جو آج دہشت گردی کا شکار ہیں، جنہیں انصاف نہیں مل رہا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ جب حالات بدلتے نظر آئیں۔ یہ تاریخ اتنی پرانی نہیں ہے کہ کاغذ پر ہی نہیں دلوں پر لکھی عبارت کو پڑھا نہ جاسکے۔ وہ لوگ آج بھی موجود ہیں، جو ان سچائیوں کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ ہم اپنی حکومت اور اپنے ملک کے عوام سے یہ مؤدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ خدارا انسانیت کے ناطے اب اس مسئلہ کے حل کی جانب ایک سنجیدہ پیش رفت کریں۔
کشمیر کے حوالہ سے تحقیقی مضامین کا سلسلہ انشاء اللہ جاری رہے گا، آج کی یہ مختصر تحریر اپنے تمام ائمہ کرام کی خدمت میں ایک مؤدبانہ درخواست کی طرح ہے کہ اگر وہ اپنی صفوں سے اتحاد کے پیغام کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی جانب قوم کی توجہ مبذول کرادیں، اپنی دعاؤں میں ان مظلومین کو بھی شامل کرلیں، جو گزشتہ1برس سے دکھ، تکلیف اور پریشانیوں کے شکار ہیں۔ ان پر مظالم ڈھانے والے کوئی بھی ہوں، مگر ہماری دعا تو مظلومین کے حق میں ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ مسئلہ جو گزشتہ1برس سے اپنی جگہ قائم ہے اور ہم نے کبھی اس کی طرف سنجیدگی سے غور کیا ہی نہیں۔ خدا جانے کن وجوہات کی بنا پر یا کس خوف و دہشت کے پیش نظر ہمیں ان کو نظرانداز کردیتے رہے۔ شاید اب ہماری توجہ ان کے لےے کچھ بہتری کا سامان مہیا کردے۔ کل سے پھر میں اپنی تحریر کو حالات حاضرہ کے ساتھ ساتھ تاریخی حوالوں کی روشنی میں کشمیر کے مکمل سچ کو سامنے رکھنے کی کوشش کی شکل میں جاری رکھوں گا۔ ساتھ ہی جموںوکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ صاحب سے درخواست بھی کروں گا کہ وہ ان تمام حقائق کی روشنی میں مرکزی حکومت سے گفت و شنید کریں، تاکہ جموںوکشمیر کے عوام کو پرامن، پرسکون اور خوشحال زندگی کا موقع مل سکے۔

लब पे आती है दुआ बन के तमन्ना मेरी
अज़ीज़ बर्नी

इस्लाम वह धर्म है जो एकता व भाईचारा, न्याय, इंसान दोस्ती और देश पे्रम का संदेश देता है। क़ुरआन वह पवित्र किताब है जो हमें न केवल धार्मिक शिक्षा से परिचित कराती है, बल्कि एक पूर्ण जीवन दर्शन भी उपलब्ध कराती है, अर्थात Quran is a completeconstitution of life for all mankind यदि हम क़ुरआन करीम में लिखी एक एक आयत का अनुवाद, व्याख्या और शान-ए-नज़ूल का ध्यानपूवर्क अध्यन करें तो जीवन का कोई पहलू ऐसा नहीं है, जिसके लिए हमें कुरआन करीम से मार्गदर्शन प्राप्त न हो। यदि हम अपनी प्रतिदिन की नमाज़ों को धार्मिक दृष्टिकोण से अर्थात इबादत-ए-इलाही के साथ साथ सामाजिक दृष्टिकोण से देखें, तब भी इसके उद्देश्य को समझा जा सकता है। हम अपनी पांच समय की नमाज़ें अपने घर पर या अपने घर और काम की जगह के निकट की मस्जिदों में अदा करते हैं, यदि यात्रा पर हैं तो दूसरी बात है, वह इसलिए कि हमारे घरों में धार्मिक वातावरण बना रहे और जब हम अपने घर या आॅफ़िस के निकट की मस्जिद में नमाज़ अदा कर रहे होते हैं तो हमें अपने आस पास रहने वालों या साथ काम करने वालों से मेल-मिलाप का अवसर प्राप्त होता है। हम उनके दुख, दर्द और हालात को समझें, वह हमारी परेशानियों को जानें और जब नमाज़ के बाद हम एक दूसरे से हाथ मिलाते हैं तो हमारी एक निगाह एक दूसरे के चहरे पर लिखी इबारत, दिल का हाल पढ़ लेने का अवसर उपलब्ध कराती है। फिर सप्ताह में एक बार हम जुमे की नमाज़ अपने मुहल्ले या क्षेत्र की जामा मस्जिद में अदा करते हैं यानी पांच वक़्त की प्रतिदिन की नमाज़ों के मुकाबले जुमा की नमाज़ का लाभ इसलिए भी अधिक है कि सप्ताह में एक बार यह दायरा कुछ बड़ा हो जाता है। इस बार हम न केवल अपने उन भाइयों से मिलने का अवसर पा लेते हैं, जो हमसे अधिक दूरी पर रहते हैं, जो दूसरे क्षेत्र या मुहल्ले में रहते हैं, जुमे के रोज़ हमें उनके साथ भी मिलने का अवसर मिलता है। फिर जुमा की नमाज़ से पहले हमारे इमाम आली मुक़ाम का ख़ुत्बा हमें देश और शहर के हालात से वाक़िफ़ (जानकारी) कराता है। इस विशेष दिन दिया जाने वाले ख़ुत्बा में पैग़ाम-ए-इलाही (ईश्वर का संदेश) भी होता है और मौजूदा हालात पर बातचीत भी। हमारे देश को, हमारे शहर को या हमारी क़ौम को किन हालात का सामना है, वह किन किन परेशानियों से जूझ रहा है, उस पर विस्तृत बातचीत होती है। फिर साल में दो मर्तबा ईदैन की नमाज़ों के लिए यानी ईदुल फ़ित्र और ईदुल अज़हा की नमाज़ों के लिए हम शहर की ईदगाहों में जमा होते हैं, यानी इस बार यह दायरा और भी विशाल हो जाता है। अब हम अपने मुहल्ले या आसपास के मुहल्लों से अधिक बड़े दायरे में जाकर पूरे शहर के लोगों के साथ मिलने का अवसर प्राप्त कर लेते हैं। यह ख़ुशी का त्यौहार है जिसे हम ईद मिलन के शब्द से भी याद करते हैं। सही अर्थों में वर्ष में दो बार यह ईद मिलन का अवसर होता है और फिर कम से कम जीवन में एक बार जब परवरदिगारे आलम हमें हज का अवसर प्रदान करता है तो हमारे पास अवसर होता है। पूरी दुनिया के मुसलमानों से एक साथ मिलने का। हज के दिनों में हम दुनिया के कोने कोने से पहुंचने वाले ईमान वालों से मिलने का अवसर प्राप्त करते हैं। किस देश के रहने वालों को किन परेशानियों का सामना है, हम किस अंतर्राष्ट्रीय षड़यंत्र का शिकार हैं, हमारी एकता की ताक़त हमें किस तरह इन मसाइल से छुटकारा दिला सकती है, इस पर विचार विमर्श का अवसर मिलता है। हमें हज बैतुल्लाह की ज़ियारत के साथ जब हज के मुख़तलिफ़ अरकान में हम क़दम से क़दम मिलाकर अपने धर्म के लोगों के साथ होते हैं।
आज इस अवसर पर बातचीत की आवश्यकता इसलिए पेश आई कि जिस मसले को हमने उठाया है, उसे सारी दुनिया तक पहुंचाने का एक ही तरीक़ा है, हमारी मस्जिदें। हमारे अइम्मा किराम यदि जुमे की नमाज़ के बाद उनकी दुआओं में कश्मीर की समस्या भी शामिल हो जाए तो निश्चित ही यह आवाज़ बारगाह-ए-रब्बुल इज़्ज़त तक भी पहुंचेगी व सत्ता के गलियारों तक भी और इन्शाअल्लाह शर्फ़े क़ुबूलियत (स्वीकृति) भी हासिल करेगी। यदि हमारे अइम्मा किराम (मस्जिदों के इमाम) जुमा के दिन नमाज़े जुमा से पहले अपने ख़ुतबा में दूसरी तमाम समस्याओं के साथ जो हमारी क़ौम के सामने हैं, कश्मीर की समस्या को भी शामिल कर लें और इस एकता के संदेश को हर नमाज़ी के दिल व दिमाग़ तक पहुंचा दें जिसका आदेश परवरदिगारे आलम (ईश्वर) ने क़ुरआन करीम की निम्नलिखित आयत में दिया है तो इस समस्या के हल की तलाश आवश्य किसी मंज़िल तक पहुंच सकती है।
‘वातसिमू बिहब्लिल्लाअि जमीऔं-वला तफर्रक़ू’
अनुवादः अल्लाह की रस्सी मज़बूती से थामे रहो और टुकड़ों में न बटो। (सूरा आले इमरान, आयत-102)
निःसंदेह हम इस आयत-ए-करीमा की तिलावत (पढ़ते) करते हैं और उसके अर्थों को भी समझते हैं, लेकिन काश इस आयत के अर्थों को हमने इस तरह समझा लिया होता कि यह संदेश हमारे दिलों में उतर जाता, हमारे जीवन का एक अंग बन जाता। हमारे व्यवहार में नज़र आता तो यह देशों की सरहदें हमारे दिलों में दूरी पैदा नहीं कर सकती थीं। यह साम्प्रदायिकता, यह भाषा का भेदभाव हमें एक दूसरे से अलग नहीं कर पाता। आज हम देख रहे हैं कि आबादी की लिहाज़ से दुनिया की दूसरी सबसे बड़ी ताक़त होने के बावजूद हम परेशानहाल हैं, हम न केवल टुकड़ों में बटे हैं बल्कि हमारे जो देश स्वतंत्र नज़र आते हैं, जिन्हें परवरदिगार-ए-आलम ने धन दोलत से नवाज़ा है और जो हमारे अपनों के शासन में हैं, निःसंदेह उन्हें भी पूरी स्वतंत्रता प्राप्त नहीं है। कोई ताक़त है तो पर्दे के पीछे से उन्हें अपनी ग़्ाुलामी में रखती है। निःसंदेह परवरदिगार-ए-आलम (ख़ुदा) ने उन्हें अपनी मेहरबानियों की दौलत से मालामाल किया मगर अल्लाह की दी हुई दौलत पर उनसे अधिक ग़्ौरों का क़ब्ज़ा है। 1990 में बग़दाद में खाड़ी युद्ध के अवसर पर इस्लामी देशों के प्रतिनिधियों की उपस्थिति में भाषण के दौरान सद्दाम हुसैन ने इसी पहलू पर प्रकाश डालते हुए कहा था कि यदि हम अरब एकत्रित हो जाएं और परवरदिगारे आलम की इस दी हुई इस दौलत को जो पैट्रोल के रूप में हमें प्राप्त है अपनी अय्याशी पर ख़र्च न करें, औरतों की मंडियां लगानी बंद करें, इसका प्रयोग अपनी जनता के कल्याण के लिए करें और जिस तरह किसान को अपने अनाज की क़ीमत तय करने का अधिकार होता है उसी तरह हम अरब देशों को शासकों को भी अपनी ज़मीन से मिलने वाले पैट्रोल की क़ीमत तय करने का हक़ प्राप्त हो। हम अपने पैट्रोल को पोंड में बेचेंगे, डाॅलर में, रियाल में या दीनार में यह फैसला करने का अधिकार हमें प्राप्त हो। हम इस मामले में अमेरिकी फैसलों के अधीन क्यों हों? वह क्यों हमारे पैट्रोल की क़ीमतें तय करे? सद्दाम हुसैन की ज़ुबान से निकलने वाला यह एकता का संदेश जब दुनिया की इस सबसे बड़ी ताक़त समझे जाने वाले देश अमेरिका के शासक तक पहुंचा तो उसने समझ लिया कि मुसलमानों की सफ़ों में बिखराव की रणनीति ही हमारी सबसे बड़ी ताक़त है और हमें इन पर शासन करने का अवसर प्रदान करती है। यदि यह एकजुट हो गए और अपने फैसले स्वयं करने लगे तो हमारे एक वर्चस्व श्रेष्ठता क़ायम नहीं रह सकेगी। परिणाम सारी दुनिया के सामने है। इराक़ तबाह हुआ, अफ़ग़ानिस्तान तबाह हुआ, सद्दाम हुसैन से उनका जीवन छीन लिया गया, इस तरल दौलत (पैट्रोल) पर अमेरिका का क़ब्ज़ा हो गया।
15 अगस्त 1947 से पहले 190 वर्ष तक हमारा मुल्क अंग्रेज़ों की ग़्ाुलामी में रहा। 100 वर्ष तक हम भारतीय चाहे वह हिंदू हों या मुसलमान न केवल इनकी ग़्ाुलामी की जं़जीरों में जकड़े रहे, बल्कि हम इतनी हिम्मत भी नहीं कर सके कि अपनी स्वतंत्रता के लिए आवाज़ उठा सकें। 100 वर्ष लगे हमें अपनी खोई हुई ताक़त को को एकत्र करने में, अपने अंदर इतना साहस पैदा करने में कि जिनको हम पर थोप दिया गया है उनके ख़िलाफ़ बग़ावत का झंडा उठाने की, धर्म के नाम पर पैदा की गई नफ़रतों ने हमारे दिलों में जो दूरियां पैदा कर दी थीं उनको भूल कर अपनी स्वतंत्रता की ख़ातिर एकत्र हो जाएं। लिहाज़ा 1857 में हिंदू और मुसलमानों की मिली जुली ताक़त पहली बार इस ग़्ाुलामी की जं़जीरों को तोड़ डालने के इरादे के साथ अंगे्रज़ों के विरूद्ध जंग की शुरूआत की। फिर 90 वर्षों तक हम कंधे से कंधा मिलाकर यह यह जंग लड़ते रहे। परिणामस्वरूप 1947 में हमें स्वतंत्रता प्राप्त हुई। मगर वह अंग्रेज़ जिसने राज्यों में बटे भारत का बड़ी गहराई से अध्यन किया था और जो हमारे मनोविज्ञान को अच्छी तरह समझता था, जाते जाते हमारे बीच बिखराव के बीज बो गया। भारत व पाकिस्तान दो अलग अलग देशों की शक्ल में सामने आए और हमें मिला कश्मीर एक मिलीजुली समस्या की शक्ल में।
चंद वाक्यों में ऐतिहासिक पृष्ठ भूमि को बयान करने का उद्देश्य यही था कि हमें एकता के संदेश को भी समझना है और बिखराव के कारणों पर भी सोचना है। कश्मीर समस्या एक महत्वपूर्ण समस्या है, बल्कि सच तो यह है कि आज भारत की भूमि पर हम जितनी समस्याओं से जूझ रहे हैं, वह कहीं न कहीं, किसी न किसी शक्ल में इस कश्मीर की समस्या से जुड़ी हुई है। धार्मिक मतभेद, पाकिस्तान के साथ ख़राब रिश्ते कश्मीर में लगातार क़तले आम और भारत में आतंकवादी घटनाएं। यदि हम इन सब पर नज़र डालें तो सरलता से समझ ससकते हैं कि महाराजा हरि सिंह की मानसिकता अकेले एक आदमी की मानसिकता नहीं थी जिसने आज़ादी से पहले कश्मीरी जनता को हज़ारों घाव दिए और आज़ादी के बाद एक ऐसा नासूर जो अब हर तरह से जानलेवा साबित हो रहा है। 1931 में जम्मू व कश्मीर राज्य में महाराजा हरि सिंह ने वही किया जिस उद्देश्य से 1901 में हिंदू महा सभा का जन्म हुआ था। उसके बाद 1948 में कश्मीर की समस्या को लेकर हिंदुस्तान और पाकिस्तान के बीच जंग से जो दो पड़ोसी देशों में नफ़रत का वातावरण पैदा हुआ, वह आज तक जारी है। काश शेख़ मोहम्मद अब्दुल्लाह ने हरि सिंह की मानसिकता को उस समय समझ लिया होता, कश्मीरी जनता के दिल की आवाज़ को सुन लिया होता तो दुनिया की जन्नत कश्मीर आज जहन्नम के शोलों में न जल रही होती। उस समय बहुत सरल था यह ह्न,
मगर आज बारगाहे इलाही में यह दुआ ही की जा सकती है कि सुन ले उनकी सदा जो बरसों से तेरी रहमत के तलबगार हैं।
एक संक्षिप्त से बयान में कश्मीर के तमाम हालात को इकट्ठा करना आसान नहीं है, मगर मस्जिदों के मीनारों से यह संदेश पूरी दुनिया तक पहुंचना शुरू हो जाए की अब समय आ गया है कि अब हम उन पीड़ितों के हालात की ओर ध्यान दें जो आज आतंकवाद का शिकार हैं, जिन्हें न्याय नहीं मिल रहा है तो वह दिन दूर नहीं जब हालात बदलते नज़र आएंगे। यह तारीख़ इतनी पुरानी नहीं है कि काग़ज़ पर ही नहीं दिलों पर लिखी इबारत को पढ़ा न जा सके। वह लोग आज भी मौजूद हैं तो इन सच्चाईयों को सामने रख सकते हैं। हम अपनी सरकार और देश की जनता से सादर निवेदन करते हैं कि ख़ुदा के लिए इन्सानियत के नाते अब इस समस्या के समाधान की ओर एक गंभीर पहल करें।
कश्मीर के संदर्भ में शोधपूर्ण लेखों का सिलसिला इन्शाअल्लाह जारी रहेगा, आज का यह संक्षिप्त लेख अपने तमाम अइम्मा-ए-किराम की सेवा में एक सादर निवेदन की तरह है कि यदि वह अपनी सफ़ों (पंक्तियों) से एकता के संदेश के साथ कश्मीर समस्या की ओर क़ौम का ध्यान दिलाएं, अपनी दुआओं में इन पीड़ितों को भी शामिल कर लें जो पिछले 61 वर्षों से दुख, तक्लीफ़ व परेशानियों से जूझ रहे हैं इन पर ज़्ाुल्म ढाने वाले कोई भी हों मगर हमारी दुआ तो पीड़ितों के हक़ में है। तो आशा की जा सकती है कि वह समस्या जो पिछले 61 वर्षों से अपनी जगह क़ायम है और हमने कभी इसकी ओर गंभीरता से ध्यान दिया ही नहीं। ख़ुदा जाने किन कारणों से या किस भय और दहशत के कारण हम उनको अनदेखा करते रहे। शायद अब हमारा ध्यान उनके लिए कुछ बेहतरी का सामान प्रदान कर दे। कल से फिर मैं अपने लेख को मौजूदा हालात के साथ साथ ऐतिहासिक संदभों के प्रकाश में कश्मीर के मुकम्मल सच को सामने रखने के प्रयास की शक्ल में जारी रखूंगा। साथ ही जम्मू व कश्मीर के मुख्यमंत्री उमर अब्दुल्लाह साहब से अनुरोध भी करूंगा कि वह इन तमाम सच्चाइयों के प्रकाश में केंद्र सरकार से बात करें। ताकि जम्मु व कश्मीर की जनता को शांतिपूर्ण, संतोषजनक और ख़ुशहाल जीवन बिताने का अवसर मिल सके।

Tuesday, June 22, 2010

کشمیریوں کو تنہا چھوڑ کر ہم نے بڑی بھول کی ہے

عزیز برنی

کیامل جاتا ہے ہمیں کسی کو اپنی رودادغم سنانے سے اور کیا چھن جاتا ہے ہم سے کسی کی درد بھری داستان سن لےنے سے۔ بس یہی نہ کہ ہم اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں، یا کسی کے دل کا بوجھ ہلکا کردیتے ہیں۔ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے کسی کو اپنے غموں میں شریک کرلیا۔ ہماری ہمدردی کے چند الفاظ اسے مشکل حالات سے لڑنے کا حوصلہ بخش دیتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ہماری یہ تھوڑی سی ہمدردی، انسانیت سے محبت کا یہ رشتہ کسی کی زندگی بدل دے۔ اسے دکھ تکلیف اور پریشانیایوں سے نجات دلا دے، اس کے مسائل کے حل کا کوئی راستہ ہی نکال دے۔ ہاں کبھی کبھی بڑی بڑی الجھنیں معمولی سی پیش رفت سے حل ہوجایا کرتی ہیں۔ شیخ محمد عبداللہ نے کشمیر کے مسئلہ کو اگست948کے فوراً بعد اتنا مشکل نہیں سمجھا ہوگا، جتنا بعد میں ان کی سمجھ میں آیا۔ میں نے جان بوجھ کر راجا ہری سنگھ کے نام کا ذکر نہیں کیا، اس لےے کہ کشمیر کی اکثریت سے ان کے رشتے کیسے تھے، یہ تاریخ کے اوراق میں درج ہے اور جو ظلم و ستم کا سلسلہ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ 1931میں شروع کردیا تھا، اس کے بعد ان سے یہ امید رہ بھی نہیں گئی تھی کہ وہ کشمیری مسلمانوں کے حق کا خیال رکھیں گے اور کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے، جس سے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھا جاسکے، ان کی دل آزاری نہ ہو۔ ہاں، مگر شیخ محمد عبداللہ پر دیر تک کشمیری عوام کا بھروسہ قائم رہا۔ ٹوٹا کب اور کیوں، اس کا ذکر بعد میں۔ میں سلسلہ وار کشمیر کی تاریخ، اس کے مسائل، حالات کی پیچیدگی اور ان سب کی بنیادی وجوہات اپنے قارئین، حکومت ہند اور ہم وطن بھائیوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، لیکن میں نے جس سادہ سی بات کو سامنے رکھ کر آج کے مضمون کی شروعات کی ہے، وہ ہندوستان کی تہذیب سے بھی تعلق رکھتی ہے اور ہماری مذہبی تعلیمات سے بھی۔ ہم اپنے سینوں میں ایسا دردمند دل رکھتے ہیں، جو دوسروں کے دکھ تکلیف سمجھنے کا جذبہ رکھتا ہے۔ ہم کسی کو سڑک پر کراہتے ہوئے دیکھ کر اپنی منزل کی طرف اسی رفتار سے نہیں بڑھ جاتے، رک کر دیکھتے ہیں کہ آخر یہ پریشان حال کون ہے، کس کے ظلم و ستم کا شکار ہے یا کیوں حالات نے اسے اس موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے؟ اگر ہماری تھوڑی سی ہمدردیاں، تھوڑی سی مدد اس کے کام آسکتی ہے تو ہم اس سے گریز نہیں کرتے اور کبھی کبھی ہماری یہ ادنیٰ سی کوشش ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کی طرز پر اسے حالات سے لڑنے کا حوصلہ بخش دیتی ہے۔
\1947کے بعد سے آج تک ہماری سرکاروں نے کشمیر کے ساتھ کیا سلوک کیا، کتنی غلطیاں کیں، یہ ایک طویل داستان ہے۔ اس کا ذکر بعد میں، پہلے ہم اپنے عمل کا احاطہ کرلیں۔ کیا ہم نے وہ انسانی فرض بھی نبھایا، جو ایک عام ہندوستانی کے ناطے، ایک مسلمان کے ناطے ہمیں کشمیریوں کے ساتھ نبھانا چاہےے تھا؟ کیا ہم ان کے غم میں کبھی اس طرح بھی شریک ہوئے، جس طرح ہم دوسرے ممالک کے شہریوں کے غم میں شامل ہوتے رہے ہیں؟ ہمیں چیچنیا، بوسنیا اور فلسطین میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم رلا دیتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں سے باہر نکال کر صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ اپنی حکومت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہیں۔ مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ عراق امریکی جنگ سے لہولہان ہوجائے تو ہم راحت کا سامان اور دوائیاں ٹرکوں میں بھر کر عراق تک پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ میں ان تمام اقدامات کی ستائش کرتا ہوں، یہی تو وہ انسانیت کا جذبہ ہے ہمارے اندر، جس پر ہم فخر کرتے ہیں، ناز کرتے ہیں، مگر انتہائی حیرانی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے اسی انسانی ہمدردی اور محبت کے رشتے سے کشمیر اور کشمیریوں کو الگ کیوں کردیا؟ اگر وہ پریشان حال ہیں تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں تھا کہ ہم ان کی پریشانیوں کو سمجھیں، اگر انہیں انصاف نہیں مل رہا ہے تو کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں تھی کہ ہم انہیں انصاف دلانے کی جستجو کرتے؟ کیوں خوفزدہ ہیں ہم اس بات سے کہ اگر ہم کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلند کریں گے تو ہم پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام عائد کردیا جائے گا؟ یہ کس نے ثابت کردیا کہ کشمیرکا ہر فرد دہشت گرد ہے اور وہاں جو بھی ظلم و زیادتی کا شکار ہیں، وہ سب کے سب دہشت گرد ہیں؟ ہم وہ ہندوستانی ہیں، جو اپنے شہریوں کے جذبات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری پولس فورس کے لےے موت کا پیغام بن جانے والے نکسلیوں کو بھی ہم دہشت گرد قرار نہیں دیتے۔ ہم ان کے مسائل کو سمجھنا چاہتے ہیں، وہ کیوں اور کن حالات میں بندوق اٹھانے کے لےے مجبور ہوئے، ہم اس کی تہہ تک جانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو ہماری فوج ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو دہشت گردوں اور دشمنوں کے ساتھ ہی کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہمارے وزیرداخلہ انہیں دہشت گردوں کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ ہمارے دانشور تو اس سے بھی کئی قدم آگے بڑھ کر اپنی ہمدردیوں اور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ کیا آپ کی نظروں سے نہیں گزرا ’آؤٹ لک‘ کی کور اسٹوری کی شکل میں شائع اروندتی رائے کا یہ مضمون، جس میں انہوں نے نکسلائڈ کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہGandhians with guns'۔ میں درخواست کروں گا محترمہ اروندتی رائے صاحبہ اور دیگر انسانیت سے محبت کا جذبہ رکھنے والے قلمکار حضرات سے کہ وہ تقسیم وطن کے بعد سے آج تک کے کشمیر اور کشمیریوں کے حالات کا بھی جائزہ لیں اور اگر اتنا وقت نہ نکال سکیں تو کم ازکم ان چندماہ کی داستان تو ضرور جان لیں، جب ہندوستان کو تقسیم سے دوچار ہونا پڑا، پاکستان کا وجود عمل میں آیا اور مذہب کے نام پر اس بٹوارے کے بعد 80فیصد سے زیادہ مسلم آبادی والی ریاست کشمیر پاکستان میں شامل نہیں ہوئی۔ آخر کیوں؟ اتنا آسان نہیں ہے، اتنی بڑی بات کو جان کر بھی آگے بڑھ جانا یا نظرانداز کردینا۔ ہمیں تقسیم وطن کی اس تھیوری پر نظر ڈالنی ہوگی، جو آج تک کہی جاتی رہی کہ ہندوستان دو قومی نظریہ کے تحت بٹا، یعنی ہندوؤں کے لےے الگ ملک اور مسلمانوں کے لےے الگ ملک۔ جہاں تک ہماری ذاتی سوچ کا تعلق ہے، جو بعد میں جسونت سنگھ جیسے مصنفوں کی معرفت بھی درست ثابت ہوتی نظر آئی کہ یہ پروپیگنڈہ صحیح نہیں تھا، مگر اس وقت ہم ذاتی نظریہ پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ ہم اسی بات کو سامنے رکھ کر گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہیں کہ یہ ملک دو قومی نظرےے کے تحت بٹا، یعنی مسلمانوں نے اپنے لےے پاکستان کی شکل میں ایک الگ ملک حاصل کرلیا۔ اگر یہی سچ تھا تو 80فیصد مسلم آبادی والی ریاست پاکستان میں شامل کیوں نہیں ہوئی؟ جب ہم گہرائی کے ساتھ ان وجوہات کی تلاش میں جائیں گے تو پھر ہمیں ان دو سوالوں کا جواب حاصل کرنا ہوگا کہ اگر اسی وقت کشمیرہندوستان میں شامل نہیں ہوا تو کیا اس کا بھروسہ پاکستان کی اسلامی حکومت کے مقابلے ہندوستان کی جمہوریت پر زیادہ تھا اور وہ اپنی مرضی سے ہندوستان میں شامل ہوا تھا یا پھر کوئی دوسری وجہ تھی، کوئی مجبوری تھی ہندوستان کے ساتھ شامل ہونے کی یا پھر وہ اپنا ایک الگ وجود چاہتا تھا؟ نہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا اور نہ ہندوستان کے ساتھ رہ جانے کا ارادہ رکھتا تھا، بلکہ اس نے تقسیم وطن کے وقت پاکستان میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ تو صرف اسی لےے کیا کہ وہ اپنا ایک الگ وجود چاہتا تھا۔ تب کیا ہم نے کشمیریوں کو مجبور کیا ہندوستان کے ساتھ رہ جانے کے لےے، کیوں کہ کشمیر ہمیں پسند تھا؟ یا پھر یہ کشمیریوں کا اپنا فیصلہ تھا کہ انہوں نے محمدعلی جناح اور لیاقت علی سے زیادہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور شیخ محمد عبداللہ پر بھروسہ کیا؟ تمام واقعات تاریخ کے اوراق میں درج ہیں (سوائے کشمیر پر قبائلیوں کے حملے کی بنیادی وجوہات کے)۔ ایک ایک حرف چیخ چیخ کر کہے گا کہ سچ کیا ہے، لیکن کل کی تمہید کے بعد اپنے آج کے ابتدائی مضمون میں پہلا سوال میں اپنے قارئین سے ہی کرنا چاہتا ہوں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ اب بات حکمت عملی پر ہوگی، صرف لفظوں کے سہارے حالات حاضرہ کو قلمبند کردینا ہی کافی نہیں ہوگا، لہٰذا اسی حکمت عملی کے پیش نظر پہلا پیغام یہی قوم کو دینا ضروری لگتا ہے کہ ہم نے کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر غلطی کی ہے۔ ہمیں انسانیت کے ناطے ان کے غموں میں شریک ہونا چاہےے تھا۔ بیشک بہت دیر ہوگئی ہے، مگر اب سے ہی سہی ہمیں یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ ہم ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز ضرور بلند کریں گے۔ بیشک یہ اس دائرے میں رہ کر ہی ہوگی، جس کی اجازت ہمیں ہمارے ملک کے قانون نے دی ہے۔
اس وقت جموںوکشمیر کے وزیراعلیٰ عمرفاروق ہیں، جو سابق وزیراعظم جموں وکشمیر شیخ محمد عبداللہ کے پوتے اور ڈاکٹرفاروق عبداللہ کے صاحبزادے ہیں اور آج یوپی اے حکومت کی سربراہ محترمہ سونیاگاندھی ہیں، جو سابق وزیراعظم ہند پنڈت جواہر لعل نہرو کے نواسے راجیوگاندھی کی بہو ہیں۔ کشمیر کے حالات سے پنڈت جواہر لعل نہرو اور شیخ محمد عبداللہ کی دوستی اور اختلافات کی وجوہات کا گہرا تعلق ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور راجیوگاندھی کے درمیان ہوئی مصالحت کشمیر کی تاریخ میں ایک نیا موڑ تھا اور آج جب ہم نوجوان وزیراعلیٰ عمرفاروق اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے جانشین راہل گاندھی کی طرف دیکھتے ہیں تو اندازہ کرسکتے ہیں کہ جو سلسلہ شیخ محمد عبداللہ اور پنڈت جواہر لعل نہرو کی دوستی ٹوٹ جانے کے بعد سے ٹوٹ گیا تھا، وہ ان دو نوجوانون قائدین کی دوستانہ گفتگو کے بعد پھر سے شروع ہوسکتا ہے، لیکن قبل اس کے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ کیا یہ ہماری اپنی پیش رفت کے بغیر ممکن ہوپائے گا، شاید نہیں، لہٰذا ہم مسئلہ کشمیر کے حل کی سمت میں آگے بڑھیں اور آج ہی سے پہلا کام تو یہ کریں کہ کشمیر کے حالات پر گفتگو شروع کریں، کشمیریوں سے تبادلۂ خیال کریں۔ وہ کس طرح کے حالات سے گزر رہے ہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ کشمیر کے حالات کا سچ کیا ہے، یہ جاننے کی جستجو کریں، پھر اس ضمن میں ہم ان کے لےے کیا کرسکتے ہیں، اس پر غور کریں۔ ہم اپنی حکومت سے ان کے بارے میں کیا بات کرسکتے ہیں، اس کا کوئی خاکہ بنائیں۔ پوری دنیا میں ہم جہاں جہاں بھی ہیں، کشمیریوں کو اپنے آپ سے اس طرح الگ نہ سمجھیں کہ اگر وہ ہمارے پڑوس میں رہتے ہیں تو ہم ان سے ہمکلام ہونے میں بھی گریز کریں اور ان سے کاروباری روابط قائم کرنے پر بھی سوبار غور کریں۔ ان کے نام اور چہرے پر جو دہشت گرد کی مہر چسپاں کردی گئی ہے، اسے سوچے سمجھے بغیر من و عن درست تسلیم کرلیں۔ میں جانتا ہوں کشمیر کے موضوع پر قلم اٹھانا کوئی آسان کام نہیں ہے، مگر جو حوصلہ دیا ہے آپ نے، جو طاقت بخشی ہے آپ نے اس قلم کو یہ اسی کی دین ہے کہ میں اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھانے کی جرأت کرسکا، جو عرصۂ دراز سے ہماری اور ہماری حکومتوں کی بے توجہی کا شکار ہے اور جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
آج کا مضمون ختم کرنے سے قبل میں دو دیگر موضوعات پر چند جملے ضرور لکھنا چاہوں گا، کل کے اخبار میں صفحہ اوّل کی خبر، جو مکہ مسجد دھماکہ سے متعلق تھی، ضرور آپ کی نظر سے گزری ہوگی، جس میں سی بی آئی نے یہ انکشاف کیا ہے کہ دھماکہ میں استعمال کےے گئے بم حیدرآباد میں ہی بنائے گئے تھے اور اس منظم سازش کو عملی جامہ پہنانے والے آر ایس ایس سے وابستہ تھے۔ اگر ہم نے بروقت کانپور اور ناندیڑ میں بم بنانے والی گھریلو فیکٹریوں کو نظرانداز نہ کیا ہوتا، بم بنانے کی کوشش میں مارے جانے والوں و ان کے بچ جانے والے ساتھیوں کے معاملے میں ایمانداری سے تحقیق کی ہوتی اور دہشت گردی کے اس چہرے کو چھپانے کی کوشش نہیں کی ہوتی، جو شہید ہیمنت کرکرے مالیگاؤں بم بلاسٹ تحقیقات کی روشنی میں دکھا رہے تھے تو شاید ہم اس دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلہ میں کوئی عملی قدم اٹھاپاتے۔
ایک آخری بات جو انتہائی تکلیف دہ ہے، مگر نظرانداز کےے جانے کے لائق قطعاً نہیںوہ یہ کہ رامپور کی تحصیل سوار میں ایک مسجد کو لے کر دیوبندی اور بریلوی فرقوں کے درمیان تنازع پھر کھڑا ہوگیا ہے۔ آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں، ان میں فرقہ وارانہ اتحاد کے معنی کیا ہیں، اس کی اہمیت کیا ہے، کیا اس پر اب بھی کسی بحث کی گنجائش ہے؟ شاید، نہیں۔ لہٰذا اس طرح کے معاملات جب بھی سامنے آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اب بھی ہم نے اپنی ترجیحات کو سمجھا نہیں ہے، جس چھوٹے دائرے میں سمٹ کر ہم رہ گئے ہیں، اس کے تمام نقصانات سامنے آنے پر بھی ہم بیدار نہیں ہوپارہے ہیں۔اگر ہم نے آج بھی حالات کو نہیں سمجھا، وسیع القلبی اور وسیع النظری سے کام نہیں لیا تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لےے کچھ اور نئے مسائل چھوڑ جائیں گے اور پھر یہ تاریخ کبھی ہمیں معاف نہیں کرے گی

कश्मीरियों को अकेला छोड़ कर हमने बड़ी भूल की है
अज़ीज़ बर्नी

क्या मिल जाता है हमें किसी को अपनी दुखभरी कहानी सुनाने से और क्या छिन जाता है हम से किसी की दर्द भरी दास्तान सुन लेने से। बस यही ना कि हम अपने दिल का बोझ हलका कर लेते हैं, या किसी के दिल का बोझ हलका कर देते हैं। हमें लगता है कि हमने किसी को अपने दुखों में शामिल कर लिया। हमारी सहानुभूति के कुछ शब्द उसे कठिन स्थिति में संघर्ष करने का साहस दे देते हैं। हो सकता है हमारी यह थोड़ी सी हमदर्दी, इन्सानियत से प्रेम का रिश्ता किसी की ज़िंदगी बदल दे उसे दुख, तकलीफ़ और परेशानियांे से छुटकारा दिला दे। उसकी समस्या के हल का कोई रास्ता निकाल दे। हां कभी-कभी बड़ी-बड़ी समस्याएं मामूली सी कोशिश से हल हो जाती हैं। शेख़ मोहम्मद अब्दुल्ला ने कश्मीर की समस्या को अगस्त 1948 के फौरन बाद इतना कठिन नहीं समझा होगा जितना बाद में उनकी समझ में आया। मैंने जानबूझ कर राजा हरि सिंह के नाम का उल्लेख नहीं किया, इसलिए कि कश्मीर के बहुसंख्यकों से उनके रिश्ते कैसे थे यह इतिहास के पृष्ठों में दर्ज हैं, और जो जुल्म व अत्याचार का सिलसिला उन्होंने कश्मीरी मुसलमानों के साथ 1931 में शुरू कर दिया था उसके बाद उन से यह अशा भी नहीं रह गई थी कि वह कश्मीरी मुसलमानों के अधिकारों का ख़याल रखेंगे और कोई ऐसा क़दम उठाएंगे जिससे मुसलमानों की भावनाओं का ख़याल रखा जा सके, उनका दिल न दुखे। हां मगर शेख़ अब्दुल्ला पर देर तक कश्मीरी जनता का विश्वास बना रहा। टूटा कब और क्यों उसका ज़िक्र बाद में, मैं सिलसिलावार कश्मीर का इतिहास, उसकी समस्या, स्थिति की पेचीदगी और उन सबके बुनियादी कारण अपने पाठकों, भारतीय हुकूमत और देशवासियों के सामने रखना चाहता हूं, परंतु मैंने जिस सादा सी बात को सामने रख कर आज के लेख की शुरूआत की है वह भारतीय संस्कृति से भी संबंध रखती है और हमारी धार्मिक शिक्षाओं से भी। हम अपने सीनों में ऐसा दर्दमंद दिल रखते हैं जो दूसरों के दुख-तक्लीफ़ समझने का जज़बा रखता है, हम किसी को सड़क पर कराहते हुए देख कर अपनी मंज़िल की ओर उसी गति से नहीं बढ़ जाते, रुक कर देखते हैं कि आख़िर यह परेशान और दुखी कौन है। किसके ज़ुल्म व अत्याचार का शिकार है या क्यों हालात ने उसे इस मोड़ पर ला खड़ा किया है अगर हमारी थोड़ी सी सहानुभूति, थोड़ी सी सहायता उसके काम आ सकती है तो हम उससे पीछे नहीं हटते। और कभी कभी हमारी यह छोटी सी कोशिश ‘डूबते को तिनके का सहारा’ की भांति उसे हालात से लड़ने का हौसला देती है।
1947 के बाद से आज तक हमारी सरकारों ने कश्मीर के साथ क्या किया, कितनी ग़लतियां कीं यह एक लम्बी दास्तान है। उसका उल्लेख बाद में, पहले हम अपने आप पर नज़र डालें। क्या हमने वह इन्सानी कर्तव्य अदा किया जो एक आम भारतीय होने के नाते एक मुसलमान के नाते हमें कश्मीरियों के साथ निभाना चाहिए था? क्या हम उनके दुख और ग़म में कभी इस तरह भी शामिल हुए जिस तरह हम दूसरे देशों के नागरिकों के दुख और ग़म में शामिल होते रहे हैं? हमें चेचनिया, बोस्निया और फिलिस्तीन में अपने भाइयों पर होने वाले ज़्ाुल्म और अत्याचार रुला देते हैं, हम अपने घरों से बाहर निकल कर सदाए एहतजाज बुलंद करते हैं। अपनी सराकर से हस्तक्षेप की अपील करते हैं, मदद का अनुरोध करते हैं। इराक़ अमेरिकी युद्ध से लहूलुहान हो जाए तो हम राहत सामग्री और दवाएं ट्रकों में भर कर इराक़ तक पहुंचाने की कोशिशों में व्यस्त हो जाते हैं। मैं इन तमाम बातों की प्रशंसा करता हूं, यही तो वह इन्सानियत की भावना है हमारे अंदर, जिस पर हम गर्व करते हैं, मगर बहुत ही खेद की बात है कि हमने अपने इसी इन्सानी सहानुभूति और प्रेम के रिश्ते से कश्मीर और कश्मीरियों को अलग क्यों कर दिया? यदि वह परेशानी में हैं तो क्या यह हमारा कर्तव्य नहीं था कि हम उनकी परेशानियों को समझें, अगर उन्हें इन्साफ़ नहीं मिल रहा है तो क्या यह हमारी ज़िम्मेदारी नहीं थी कि हम उन्हें इन्साफ़ दिलाने की कोशिश करते? क्यों आतंकित हैं हम इस बात से कि अगर हम कश्मीरियों के समर्थन में आवाज़ बुलंद करेंगे तो हम पर दहशतगर्दों के समर्थन का इल्ज़ाम लगा दिया जाएगा? यह किसने साबित कर दिया कि कश्मीर का हर एक व्यक्ति दहशतगर्द है और वहां जो भी ज़्ाुल्म और अत्याचार के शिकार हैं वह सबके सब आतंकवादी हैं? हम वे भारतीय है जो अपने नागरिकों की भावनाओं को भलीभांति समझते हैं। यहां तक कि हमारी पुलिस फोर्स के लिए मौत का पैग़ाम बन जाने वाले नकसलियों को भी हम आतंकवादी नहीं कहते। हम उनकी समस्या को समझना चाहते हैं, वह क्यों और किन परिस्थितियों में बंदूक़ उठाने के लिए बाध्य हुए हम उसकी तह तक जाना चाहते हैं। यही कारण है कि न तो हमारी सेना उनके साथ ऐसा बर्ताव रखने का इरादा रखती है, जो आतंकवादियों और दुश्मनों के साथ ही किया जाता है और न ही हमारे गृहमंत्री उन्हें दहशतगर्दों की श्रेणी में रखते हैं। हमारे बुद्धिजीवी तो उससे भी कई क़दम आगे बढ़ कर उनके साथ अपनी सहानुभूतियों और समर्थन की घोषणा करते हैं। क्या आपकी दृष्टि से नहीं गुज़रा ‘आउट लुक’ की कवर स्टोरी की शक्ल में छपे अरुणधती राॅय का यह लेख जिसमें उन्होंने नक्सलाइट आन्दोलन का समर्थन करते हुए लिखा है कि Gandhians with guns'। मैं प्रार्थना करूंगा कि सुश्री अरुणधती राॅय और इन्सानियत से प्रेम का भाव रखने वाले अन्य लेखक बंधुओं से कि वह देश के बटवारे के बाद से आज तक के कश्मीर और कश्मीरियों की परिथितियों का भी जायज़ा लें और अगर इतना समय न निकाल सकें तो कम से कम उन कुछ महीनों की दास्तान तो ज़रूर जान लें जब हिंदुस्तान को बटवारा सहना पड़ा। पाकिस्तान अस्तित्व में आया और धर्म के नाम पर बटवारे के बाद 80 प्रतिशत से अधिक मुस्लिम बहुल राज्य कश्मीर पाकिस्तान में शामिल नहीं हुआ। आख़िर क्यों? इतना आसान नहीं है, इतनी बड़ी बात को जान कर भी आगे बढ़ जाना या अनदेखा कर देना। हमें मुल्क के बटवारे की इस थ्योरी पर दृष्टि डालनी होगी जो आज तक कही जाती रही कि हिंदुस्तान दो धर्मों के दृष्टिकोण के तहत बटा, अर्थात हिंदुओं के लिए अलग देश और मुसलमानों के अलग देश। जहां तक हमारी अपनी सोच का संबंध है जो बाद में जसवंत सिंह जैसे लेखकों के ज़रिए भी सही साबित होती नज़र आई कि यह दुष्प्रचार सही नहीं था मगर इस वक़्त हम अपने दृष्टिकोण पर बात नहीं करना चाहते। हम उसी बात को सामने रख कर चर्चा को आगे बढ़ाते हैं कि यह देश दो धर्मों के दृष्टिकोण के तहत बटा या मुसलमानों ने अपने लिए पाकिस्तान की शक्ल में एक अलग मुल्क प्राप्त कर लिया। अगर यही सच था तो 80 प्रतिशत मुस्लिम आबादी वाला राज्य पाकिस्तान में शामिल क्यों नहीं हुआ। जब हम गहराई के साथ इन कारणों को ढूंडते हैं तो फिर हमें उन दो प्रश्नों का उत्तर प्राप्त करना होगा कि यदि उसी समय कश्मीर हिंदुस्तान में शामिल नहीं हुआ तो क्या उसका विश्वास पाकिस्तान की इस्लामी सरकार के मुक़ाबले हिंदुस्तान के सैक्युलरिज़्म पर अधिक था और वह अपनी मर्ज़ी से हिंदुस्तान में शामिल हुआ था या फिर कोई दूसरी वजह थी कोई मजबूरी थी भारत के साथ शामिल होने की या फिर वह अपना अलग अस्तित्व चाहता था? न वह पाकिस्तान के साथ शामिल होने का इरादा रखता था और न ही हिंदुस्तान के साथ, बल्कि उसने मुल्क के बटवारे के समय पाकिस्तान में शामिल न होने का फैसला इसीलिए किया कि वह अपना एक अलग अस्तित्व चाहता था। तब क्यों हमने कश्मीरियों को मजबूर किया हिंदुस्तान के साथ रह जाने के लिए, क्योंकि कश्मीर हमें पसंद था? या फिर यह कश्मीरियों का अपना फैसला था कि उन्होंने मोहम्मद अली जिन्ना और लियाक़त अली ख़ां से अधिक पंडित जवाहर लाल नेहरू और शेख़ मोहम्मद अब्दुल्ला पर विश्वास किया? यह तमाम घटनाएं इतिहास के पृष्टों में दर्ज हैं। (सिवाए कश्मीर पर क़बाइलियों के आक्रमण के बुनियादी कारणों के) एक एक शब्द चीख़ चीख़ कर कहेगा कि सच क्या है, लेकिन कल की प्रस्तावना के बाद अपने आज के आरंभिक लेख में पहला सवाल मैं अपने पाठकों से ही करना चाहता हूं और जैसा कि मैंने कहा था कि अब बात रणनीति पर होगी, केवल शब्दों के सहारे मौजूदा स्थिति को लिख देना ही काफ़ी नहीं होगा, लिहाज़ा इसी रणनीति के तहत यही पहला संदेश पाठकों को देना आवश्यक लगता है कि हमने कश्मीरियों को उनके हाल पर छोड़ कर ग़लती की है। हमें इन्सानियत के नाते उनके दुखों में शामिल होना चाहिए था, बेशक बहुत देर हो गई है मगर अब से ही सही हमें यह तय करना होगा कि हम उनके साथ होने वाले ज़्ाुल्म, अत्याचार और ना इन्साफ़ी के ख़िलाफ़ आवाज़ बुलन्द करें। बेशक यह उस दायरे में रह कर ही होगा जिसकी इजाज़त हमें मुल्क के संविधान ने दी है।
इस समय जम्मू व कश्मीर के मुख्यमंत्री उमर फारूक़ हैं, जो पूर्व प्रधानमंत्री (जम्मू व कश्मीर) शेख़ अब्दुल्ला के पोते और डा. फारूक़ अब्दुल्ला के सुपुत्र हैं। आज यूपीए की मुखिया मोहतरमा सोनिया गांधी है जो भारत सरकार के पूर्व प्रधानमंत्री पंडित जवाहर लाल नेहरू के नाति स्वर्गीय राजीव गांधी की पत्नी हैं। कश्मही के हाला से पंडित जवाहर नेहरू और शेख़ अब्दुल्ला की मित्रता और विभेद के कारणों का गहरा संबंध है। डा॰ फारूक़ अब्दुल्ला और राजीव गांधी के बीच हुआ समझौता कश्मीर के इतिहास में एक नया मोड़ था कश्मीर के हालात के लिए और आज जब हम युवा मुख्यमंत्री उमर फारूक़ और पंडित जवाहर लाल नेहरू के युवा नाति राहुल गांधी की तरफ देखते हैं तो अनुमान लगा सकते हैं कि जो सिलसिला शेख़ मोहम्मद अब्दुल्ला और पण्डित जवाहर लाल नेहरू की दोस्ती टूट जाने के बाद से टूट गया था वह इन दो युवा नेताओं की दोस्ताना बातचीत से फिर से शुरू हो सकता है, परंतु इससे पहले हमें यह तय करना होगा कि यह हमारी अपनी पहल के माध्यम के बिना ही संभव हो पायगा, शायद नहीं, लिहाज़ा हम कश्मीर समस्या के हल की ओर आगे बढ़ें और आज ही से पहला काम तो यह करें कि कश्मीर के हालात पर चर्चा शुरू करें, कश्मीरियों से बातचीत करें। वह किस तरह की परिस्थितियों से गुज़र रहे हैं यह समझने की कोशिश करें। कश्मीर के हालात का सच क्या है यह जानने की कोश्ािश करें। इस सिलसिले में हम उनके लिए क्या कर सकते हैं उस पर विचार करें। हम अपनी सरकार से उनके बारे में क्या बात कर सकते है। उसका कोई ख़ाका बनाएं। पूरे विश्व में हम जहां जहां भी हैं कश्मीरियों से अपने आपको इस तरह अलग न समझें कि यदि वह हमारे पड़ोस में रहते हैं तो हम उनसे बात करने से भी हिचकिचाएं और उनसे कारोबारी संबंध विच्छेद कर लें या उनसे कारोबारी संबंध जोड़ने पर भी सौ बार विचार करें। उनके नाम और चेहरे पर आतंकवादी की जो मुहर चिपका दी गई है उसे सोचे समझे बिना एक दम से स्वीकार कर लें। मैं जानता हूं कि कश्मीर के विषय पर क़लम उठाना कोई आसान काम नहीं है मगर आपने जो हौसला दिया है, जो ताक़त बख़्शी हैं आपने इस क़लम को, यह उसी का परिणाम है कि मैं इस नाज़्ाुक और गंभीर मसले पर क़लम उठाने की हिम्मत कर सका जो काफी समय से हमारी अपनी और हमारी हुकूमतों की अनदेखी का शिकार हैं और जिसके परिणाम स्वरूप हज़ारों बेगुनाह अपनी जान से हाथ धो चुके हैं और यह सिलसिला आज भी जारी है।
आजका लेख समाप्त करने से पहले मैं दो अन्य विषयों पर कुछ वाक्य अवश्य लिखना चाहूंगा, कल के समाचार पत्र में पहले पृष्ठ की ख़बर जो ‘मक्का मस्जिद धमाका से संबंधित थी अवश्य आपकी नज़र से गुजरी होगी जिसमें सीबीआई ने यह रहस्योदघाटन किया है कि धमाके में प्रयोग किए गए बम हैदराबाद में ही बनाए गए थे और उस संगठित षड़यंत्र को कार्यान्वित करने वाले आरएसएस से संबंध रखते थे। अगर हमने समय रहते कानपुर और नांदेड़ में बम बनाने वाली घरेलू फैक्ट्रियों को अनदेखा न किया होता, बम बनाने की कोशिश में मारे जाने वालों और उसमें बच जाने वाले साथियों के मामले में ईमानदारी से जांच की होती और आतंकवाद के उस चेहरे को छुपाने की कोशिश नहीं की होती जो शहीद हेमंत करकरे, माले गांव बम धमाके की जांच की रोशनी में दिखा रहे थे तो शायद हम इस आतंकवाद को समाप्त करने के सिलसिले में कोई ठोस क़दम उठा पाते।
एक आख़िरी बात जो बहुत ही दुखदायी है मगर अनदेखी किए जाने के लायक़ तो बिल्कुल नहीं वह यह कि ज़िला रामपुर की तहसील ‘स्वार’ में एक मस्जिद को लेकर देवबंदी और बरेलवी सम्प्रदायों के बीच झगड़ा फिर खड़ा हो गया है आज हम जिन हालात से गुज़र रहे हैं उनमें सम्प्रदायिक एकजुटता के अर्थ क्या हैं, महत्व क्या है, क्या इस पर अभी भी किसी बहस की गुंजाइश है? शायद नहीं। लिहाज़ा इस तरह के मामले जब भी सामने आते हैं ऐसा लगता है कि अब भी हमने अपनी प्राथमिकता को समझा नहीं है। जिस छोटे दायरे में सिमट कर हम रह गए हैं उसके तमाम नुक़्सान सामने आने पर भी जागरूक नहीं हो पा रहे हैं। अगर हमने हालात को नहीं समझा, बड़े दिल और दूरगामी सोच से काम नहीं लिया तो हम अपनी आने वाली नसलों के लिए कुछ और नई समस्याएं छोड़ जाएंगे और फिर यह इतिहास हमें कभी क्षमा नहीं करेगा।

Monday, June 21, 2010

مسائل پر بات کریں اور فرشتوں کی تلاش بند کردیں!

عزیز برنی

چند انتہائی اہم موضوعات پر میری ریسرچ اب اس مقام تک پہنچ چکی ہے کہ میں ایک بار پھر پابندی کے ساتھ لکھنے کا سلسلہ شروع کرسکوں، لیکن آج کا مضمون بس ایک تمہید کی طرح ہے، اس لےے کہ میں اپنے اس سلسلہ وار مضمون کی آئندہ قسطوں میں کن کن موضوعات پر لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں، یہ واضح کرسکوں۔ بیشک اس درمیان وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کا سلسلہ جاری رہے گا، مگر جن خاص موضوعات کا انتخاب میں نے کیا ہے، وہ ہےں ’’مسئلہ کشمیر‘ ـ اس کی بنیادی وجوہات اور آج کے افسوسناک حالات‘‘۔ اس کے علاوہ ’سماجی انصاف‘، ’دہشت گردی‘ اور ’فرقہ پرستی‘ وہ موضوعات ہیں، جن پر پہلے بھی لکھا جاتا رہا ہے اور ایک بار پھر ان موضوعات پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔ دراصل یہ تمام موضوعات آپس میں ایک دوسرے سے ایک حد تک وابستہ ہیں کہ انہیں الگ الگ کرکے دیکھنے سے ان وجوہات کی تہہ تک نہیں پہنچا جاسکتا، جو ان مسائل کو جنم دینے والوں کی ذہنیت کو بے نقاب کرسکےں، لہٰذا آج کے اس تمہیدی مضمون میں، میں اپنے معزز قارئین سے ایک درخواست یہ بھی کرنا چاہوں گا کہ اگر واقعی اب تک آپ کے ذہن میں یہ بات ایک جگہ بناچکی ہے کہ ’’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘‘ محض ایک اخبارہی نہیں، بلکہ آپ کے دلوں کی آواز ہے، آپ کا ترجمان ہے اور میں جو کچھ لکھ رہا ہوں، وہ محض چند مضامین نہیں، بلکہ اس دور کی تاریخ ہے، ایک مشن ہے، ایک تحریک ہے تو پھر مجھے یہ مؤدبانہ درخواست کرنے کی اجازت دیجئے کہ میں اس تحریک کو ریشمی رومال جیسی تحریک کا نام دے سکوں اور اس مشن کی کامیابی تبھی ممکن ہے کہ جب ہم اس تحریک کو جدوجہد آزادی کی تحریک ’ریشمی رومال‘ کی طرز پر قبول فرمائیں۔ نہ صرف یہ کہ ان مضامین کے پیغام کو آگے تک لے جائیں، بلکہ اس سوچ کو عملی جامہ بھی پہنائیں، جو آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اب سے کچھ لائحہ عمل پر بھی بات ہو۔ یہ کافی نہیں ہوگا کہ ہم گفتگو کے سلسلہ کو اس قدر طویل کردیں کہ یہ تمام باتیں سننے میں اچھی تو لگیں، مگر ہم کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکیں۔ اب چونکہ نتیجہ پر پہنچنا بیحد ضروری ہے اس لےے بحث کا سلسلہ بیشک جاری رہے، مگر ہم کوئی لائحہ عمل بھی تیار کرلیں۔ اس ضمن میں آج سے جو خاکہ ملک اور قوم کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے، ضروری نہیں کہ وہی اس کی آخری شکل ہو، مگر اسے سامنے رکھ کر آخری شکل دینے کی جستجو میں ہم ضرور لگ جائیں۔
اب تک جن موضوعات پر بات کی جاتی رہی ہے یا اب جن موضوعات پر بات کرنے کا ارادہ ہے اس سب کا مقصد یہی ہے کہ ملک کی تصویر بدلے، قوم کی تقدیر بدلے۔ وہی امن و اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی جو اس ملک کی شناخت تھی، پھر سے قائم ہو۔ اکثریت اور اقلیت کے درمیان پیدا ہوئے اختلافات کی وجوہات کو ہم سمجھنے اور ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اب چونکہ تقریباً تمام مسائل کا حل سیاست کے ذریعہ ہی ممکن نظر آتا ہے تو ہمارا یہ کہہ کر سیاست سے لاتعلقی ظاہر کرنا کارگر نہیں ہوگا کہ ہم سیاست میں بے حیثیت ہوگئے ہیں اور اب سیاست سے حاصل بھی کیا ہوسکتا ہے، کیوں کہ آج ہمارے سامنے جتنے بھی مسائل ہیں، وہ سب کے سب سیاست کے پیدا کردہ ہیں، ہندواور مسلم عوام کے نہیں اور ان تمام مسائل کا حل بھی سیاست کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ صرف ہندو اور مسلمانوں کے ذریعہ نہیں۔ اس لےے کہ یہ سیاست ہمیں جب جس طرح چاہتی ہے نچانے میں کامیابی حاصل کرلیتی ہے اور ہم جب اس کو سمجھنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تب تک اتنی دیر ہوچکی ہوتی ہے کہ نفرت کی کھائیوں کو پاٹنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔
اب یہ سوال ذہن میں آسکتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت جو آزادی کے بعد سے آج تک ہمارے مسائل کو حل نہ کراسکی، کیا آج ہم اس سے امیدیں وابستہ کریں اور ہماری مسلم قیادت میں ایسا کون ہے، جس کی طرف ہم امید بھری نظروں سے دیکھ سکتے ہیں تو پھر میں بیحد ادب کے ساتھ یہ درخواست کرنا چاہوں گا کہ آزادی کے بعد سے آج تک ہماری صفوں میں سیاسی قیادت کا فقدان نہیں رہا، بلکہ تقسیم وطن کے بعد سے لے کر تاحال ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ بیشک ہم انہیں ناکام قرار دیتے رہے ہیں، جو کہ غلط بھی نہیں ہے مگر ان سب پر تنقید کرنے سے قبل ایک مرتبہ ہمیں خود بھی اپنے عمل پر غور کرنا ہوگا۔ کیا ہمارے ان تمام قائدین کو ہمارا اعتماد حاصل رہا ہے؟ کیا ہم نے ان پر بھروسہ کیا ہے؟ کیا ہم نے ان کو اپنی طاقت پر جتا کر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں بھیجنے کی کوشش کی ہے؟ کیا ہم ان کی پشت پناہی کے لےے آگے آتے رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی شکست پر فکرمند ہوئے ہیں؟ جب تک ہم اپنے قائدین میں فرشتوں جیسی صفت تلاش کرتے رہیں گے، یہ تلاش جاری رہے گی اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ضیاء الرحمن انصاری پر الزام لگے اور وہ بے توجہی کا شکار ہوجائیں، عارف محمد خان ایک غلطی کریں اور ان کا سیاسی کرئیر ختم ہوجائے، عبیداللہ خاں اعظمی ایک غلط فیصلہ کریں اور سیاسی حاشےے پر چلے جائیں، سی کے جعفرشریف، اے آر انتولے ایک بار الیکشن ہار جائیں اور بھلا دئے جائیں، شاہد صدیقی اپنے سیاسی کرئیر کی تلاش میں سیاسی پارٹیاں بدلنے کے لےے مجبور ہوں تو تنقید کا نشانہ بنا دئے جائیں، آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟ کیا ہم اس معاملے میں دلتوں سے، یادوؤں سے، جاٹوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کرسکتے؟ کیا ہمارے قائدین کی طویل فہرست میں مایاوتی، ملائم سنگھ یادو،لالوپرساد یادواور اجیت سنگھ کے قد کا کوئی چہرہ نظر نہیں آتا؟ نہیں، میں ایسا نہیں مانتا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ میری بات سے اتفاق نہ کریں، مگر میں ان سب سے زیادہ باصلاحیت متعدد مسلم سیاسی قائدین کو مانتا ہوں، بس انہیں اپنی قوم کا اس طرح اعتماد حاصل نہیں ہوا ہے، جس طرح مذکورہ بالا لیڈران کو اپنی اپنی قوم کا اعتماد حاصل ہوا۔ احمد پٹیل، غلام نبی آزاد، محسنہ قدوائی،سلمان خورشید،طارق انور، مولانا محمود مدنی، مولانا اسرارالحق قاسمی، ظفر علی نقوی وغیرہ وغیرہ (مجھے معاف فرمائیں، میں اپنے سبھی سیاسی قائدین کے نام نہیں لکھ پارہا ہوں، مگر میری مراد سبھی سے ہے۔)ایسے مسلم سیاستداں ہیں، جن پر اگر بھروسہ کیا جائے تو سب کے سب بہت بااثرانداز میں قوم کی ترجمانی کرسکتے ہیں۔ میرا تو یہ ماننا ہے کہ سیدشاہنواز حسین اور مختارعباس نقوی ہی نہیں، محمدشہاب الدین، عتیق احمد، افضال انصاری، رضوان ظہیر وغیرہ کو بھی ایک دم سے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہےے۔ کیاپھولن دیوی اور تحصیلدار سنگھ کی طرح ہم ان سے امیدیں وابستہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں میں اپنے نمائندوں کی ضرورت ہے، ہاں مگر وہ اپنی اپنی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ قومی اور ملی مسائل پر اس وقت جبکہ واقعی اس کی ضرورت ہوتو اپنی قوم کی بھی ترجمانی کرتے نظر آئیں، بیشک چاہے یہ ان کی پارٹی کے اصولوں سے انحراف کرتی ہو، مگر چونکہ جمہوری اصولوں میں یہ گنجائش موجود ہے کہ آپ سوچوں میں اختلاف ہونے کے بعد بھی پارٹی میں رہ سکتے ہیں اور اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔
ہم ایسا کوئی کرشمائی چہرہ تلاش کرنے میں جٹ جائیں اور ان سب کو جنہوں نے ایک طویل جدوجہد کے بعد سیاست میں اپنی جگہ بنائی ہے، نظرانداز کردیں تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ جو جہاں ہے اور جس طرح بھی ملک و قوم کی بہتر خدمت انجام دے سکتا ہے، اسے ساتھ لے کر چلا جائے۔ میں اگر صحافت کے ذریعہ کچھ کرپارہا ہوں تو یہ کوشش جاری رہے۔ہمارے ادیب اور شعرا ایک بار پھر اسی طرح اپنی ادبی خدمات انجام دیں، قوم کو ایسے ہی نغمے دیں جو ہمیں مکمل انصاف دلا سکیں۔ ہمارے مسائل کے حل کی طرف عوام اور برسراقتدار جماعتوں کو متوجہ کرسکیں۔ ہمارے صحافی دوست پھر ایسی ہی قلمی تحریک چلائیں، جیسی ’الہلال البلاغ‘، ’زمیندار‘ اور ’ہمدرد‘ کے ذریعہ چلائی گئی تھی۔ ہمارے علمائے کرام پھر اسی طرح قوم کی رہنمائی فرمائیں، جس طرح انہوں نے جدوجہد آزادی کے دوران فرمائی تھی۔ اگر ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے تو چاہے برسراقتدار جماعت ہو، حزب اختلاف یا درمیانی راستہ اختیار کرنے والی سیاسی پارٹیاں، کوئی بھی ہمارے مسائل نظرانداز نہیں کرسکے گا۔
میں کل سے کشمیر کے موضوع پر لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں، بلکہ صاف کہوں تو ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کے حل کی تلاش میں ایک سنجیدہ کوشش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تبھی ممکن ہے، جب آپ سب کا بشمول دیگر ہم وطن بھائیوں کا تعاون حاصل ہو، اس لےے کہ کوئی بھی ملک اور قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی، جب تک کہ وہاں پرامن ماحول نہ ہو، آپس میں اتحادواخوت کا رشتہ نہ ہو۔ ساتھ ہی میں یہ کہنا بھی انتہائی ضروری سمجھتا ہوں کہ آج ہندوستان کو جتنے مسائل درپیش ہیں، اس کی بنیادی وجہ فرقہ واریت ہے، لہٰذا ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی بیحد ضروری ہے، جو ہمارے درمیان منافرت کے بیچ بوتے رہے ہیں۔ میں اس وقت سیاست پر بہت طویل گفتگو نہیں کرنا چاہتا، مگر یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ سیاست سے دور رہ کر بھی سیاست سے لاتعلق نہیں ہوں۔ سیاسی داؤپیچ خوب سمجھتا ہوں اور آپ سے بھی توقع رکھتا ہوں کہ آپ سیاست کو ریسرچ کا موضوع بنائیں، اس سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور اس کے لےے ضروری نہیں ہے کہ آپ سیاست میں داخل ہی ہوں۔ مجھے اپنے اخبار کی کارکردگی پر اطمینان بھی ہے اور فخر بھی کہ اس نے شبلی کالج اعظم گڑھ کی مسلم لڑکیوں کی تصویر کے غلط استعمال کو منظرعام پر لاکر نہ صرف ایک ایسے سیاستداں کی سوچ کو بے نقاب کیا، جس کے نام پر گجرات فسادات کا بدنما داغ ہے، بلکہ یہ واضح کیا کہ جس شخص کا نام گجرات سانحہ میں بے گناہ انسانوں بالخصوص مسلمانوں کے قتل کے لےے لیا جاتا رہا ہے، وہ بھی آج اپنی سیاست کے پیش نظر ریاست گجرات میں مسلمانوں کی خوشحالی اور تعلیمی میدان میں ترقی کو دکھانے کے لےے بیقرار نظر آرہا ہے اوراس کو ثابت کرنے کے لےے جو تصویر گجرات کے اشتہار میں استعمال کی گئی، وہ اسی اعظم گڑھ کی مسلمان لڑکیوں کی تھی، جسے ’آتنک گڑھ‘ کے نام سے بدنام کیا جاتا رہا۔ اگر ہم اس سچائی کو سامنے نہ رکھتے، اس کے دوررس نتائج کی جانب بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کو متوجہ نہیں کرتے تو شاید جنتا دل یونائیٹڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رشتے ابھی اور لمبے عرصہ تک جاری رہتے۔ ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ بہار کے آئندہ انتخابات میں کس سیاسی پارٹی کو سرکار بنانے کا موقع ملے گا یا کون سی پارٹی نئی طاقت کے ساتھ سامنے آئے گی،مگر ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ملک کی بقا سیکولرزم میں ہے، کوئی بھی سیکولر پارٹی ریاست میں برسراقتدار آئے، اگر وہ سیکولرزم کو مضبوط کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس سے عوام کے دلوں سے نفرتیں کم ہوںگی اور وہ جو صرف دھرم کی بنیاد پر ہی سیاست کرتے رہے ہیں، انہیں ایک بار پھر یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہندوستان میں سیاسی اعتبار سے کامیاب ہونا ہے تو اس روش کو بدلنا ہوگا۔ ایک بار یا کبھی کبھار تو مذہبی منافرت پیدا کرکے اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن ہندوستان کے عوام کا مزاج یہ نہیں ہے کہ ہمیشہ اسی پر گامزن رہ کر کامیابی کی منزلیں طے کی جاسکیں۔ ہاں، مگر جن کا نصب العین ہی ملک کو مذہب کی بنیادوں پر تقسیم کردینا رہا ہو، ہندوستانی عوام کو ٹکڑوں میں بانٹ دینا رہا ہو، انہیں شاید اپنے مقاصد کی کامیابی اسی میں نظر آتی ہے۔ ہماری تحریک کا ایک مقصد اس منفی سوچ کو بدلنا بھی ہے اور ان تمام حقائق کو منظرعام پر لاکر اس منافرت کی وجہ ظلم و تعصب کا شکار بنے تمام مظلومین کو انصاف دلانا بھی ہے۔ ہم پرامید ہی نہیں ہیں، ہمیں یقین کامل ہے کہ یہ ہوگا اور بہت جلد ہوگا۔ ملاحظہ فرمائیں کل سے ’مسئلہ کشمیر‘ پر گفتگو، پھردیکھیں آپ کی مشترکہ کوششوں سے یہ تصویر بدلتی نظر آتی ہے کہ نہیں۔ یہ تباہی و بربادی کا سلسلہ رکتا ہے کہ نہیں۔ وادئ کشمیر میں پھر سے امن قائم ہوتا ہے کہ نہیں، ہمیں تو یقین ہے کہ ایسا ہوگا، ضرور ہوگا اور بہت جلد ہوگا، بس آپ کا تعاون درکار ہے۔
محترم ذاکر نائک صاحب کے تعلق سے چند جملے لکھے بغیر اگر آج کا مضمون ختم کردیا جائے تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ کرنے کا حق تو برطانیہ کو ہے کہ وہ ذاکر نائک صاحب کو ویزا دے یا نہ دے، انہیں باعزت طریقہ سے اپنے ملک میں مدعو کرے یا آنے سے روک دے، مگر ان کے بیان کو غلط تناظر میں پیش کرکے ان کی شبیہ کو خراب کرنے کا حق برطانوی حکومت کو نہیں دیا جاسکتا۔ محترم ذاکر نائک نے بن لادن کی حمایت نہیں کی، بلکہ دہشت گرد طاقتوں کے خلاف جنگ لڑنے والوں کی تائید کی ہے۔ ہاں، ان میں بن لادن جیسوں کے طریقۂ کار پر تنقید کی جاسکتی ہے، مگر جو اس طرح کے دہشت گرد پیدا کرتے ہیں اورپوری دنیا کو دہشت گردی میں جھونک دیتے ہیں، ان کے اس عمل کے بارے میں کیا کہا جائے اور جب کوئی ایسی دہشت گرد طاقتوں کے خلاف جنگ لڑتا نظر آئے تو امن پسند دنیا اسے کیا نام دے، یہ ذاکر نائک صاحب پر تنقید کرنے سے قبل تمام امن پسندوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور جواب دینا ہوگا