Saturday, October 2, 2010

مکمل انصافـیہ خوابـکس کے بھروسہ؟

عزیز برنی

ہاں، 30ستمبر010کو بابری مسجد ملکیت کے تعلق سے دیا گیا الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانون کے مطابق لیا گیا فیصلہ نہیں ہے۔ ہاں، یہ عقیدے کی بنیاد پر لیا گیا فیصلہ ہے۔ ہاں، اس فیصلہ میں سیاست کی بو آتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ عدالت کے تمام فیصلے ثبوتوں اور شہادتوں کی بنیاد پر ہی ہونے چاہئےں، جو کہ اس فیصلہ میں نہیں ہوا۔ ہندوستانی عوام کی ایک بڑی تعداد، جس میں صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ سیکولر ہندوؤں کا بھی ماننا ہے کہ یہ انصاف پر مبنی نہیں ہے اور اب یہ امکان بھی قوی ہیں کہ سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی جائے گی۔ کوئی ایک یا چند لوگ اگر اپنی اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ اسی فیصلہ کو تسلیم کرلینا چاہئے اور اب سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کرنا چاہئے تو اس بات کو تمام ذمہ داران تسلیم کرلیں گے، اس غلط فہمی کا شکار کسی کو نہیں رہنا چاہئے۔ راقم الحروف کو بھی ایسی کوئی غلط فہمی نہیں ہے، تاہم اگر اس فیصلہ کی حمایت کی گئی اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اسے موجودہ حالات میں مناسب فیصلہ قرار دیا گیا تو کوئی وجہ تو ہوگی بیشک اسے رد کردیا جائے، مگر کیا تمام نشیب و فراز پر غور کیا جانا غلط ہوگا؟ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کیا یہ پہلا فیصلہ ہے، جس سے ہم نے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل کئے گئے تمام فیصلوں نے کیا ہمیں انصاف دیاہے؟ بیشک وزیرداخلہ پی چدمبرم آج یہ کہہ رہے ہیں کہ بابری مسجد کی شہادت ایک الگ معاملہ ہے اور اس کے مجرموں کا جرم اس فیصلہ سے متاثر نہیں ہوگا، مگر سرکار اس سوال کا کیا جواب دے گی کہ آخر لبراہن کمیشن کی رپورٹ پیش کئے جانے کے باوجود آج تک بھی سرکار خاموش کیوں ہے؟ شری کرشن کمیشن کی رپورٹ کا کیا ہوا؟ آج تک انصاف کے نام پر ہمیں ناانصافی ہی تو ملی ہے، تاہم اگر آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کے لئے ہم جیسے کچھ لوگ بھی تیار ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم گزشتہ0برس میں جن حالات سے گزرے ہیں، ہم نے اپنے جذباتی استحصال کے ساتھ ساتھ جس قدر اپنے نوجوانوں کو کھویا ہے، ہم نے جس قدر اپنی قوم کے مستقبل کو سیاست کی نذر ہوتے دیکھا ہے، اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم امید بھلے ہی کریں ، لیکن اس سے بہت بہتر فیصلہ کا بھروسہ نہیں ہوتا۔
q
ایسا نہیں ہے کہ ہم نہیں جانتے تھے یہ قانون کی روشنی میں دیا گیا فیصلہ نہیں ہے، مگر وہ فیصلے بھی تو ہمارے ذہن میں ہیں، جو قانون کی روشنی میں دئے گئے ہیں، ان سے بھی ہمیں کتنا انصاف ملا؟ ہوسکتا ہے کہ عقیدہ کی بنیاد پر دیا گیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہو، اس لئے کہ تمام عدالتوں کے چھوٹے بڑے کل مقدمات کی جانکاری کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ کیا اس سے پہلے بھی کہیں کسی عدالت نے عوام کے جذبات، احساسات یا مذہبی عقائد کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ دیا، مگر وہ موضوع بحث نہ بننے کی وجہ سے سب کے سامنے نہیں آیا۔ بہرحال ہمیں اس فیصلہ پر اعتراض کرنے کا پورا پورا حق ہے اور جو اسے ناانصافی یا عدالتی نظام کی توہین سے تعبیر کرتے ہیں تو اس وقت مجھے ان کی رائے پر کچھ نہیں کہنا، لیکن ایک شعر ضرور میں اپنے تمام قارئین کی نذر کردینا چاہتا ہوں۔ یہ شعر 30ستمبر010 کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں بابری مسجد کی ملکیت کا فیصلہ آنے سے بہت پہلے لکھا گیاہے۔یہ شعر بارہا ہمارے سیاستدانوں اور سماجی کارکنان کے ذریعہ کبھی پارلیمنٹ کے اندر تو کبھی پارلیمنٹ کے باہر ایسے فیصلوں کو ذہن میں رکھ کر اپنے جذبات کی عکاسی کرنے کے لئے پڑھا گیا، جنہیں انصاف پر مبنی تسلیم نہیں کیا گیا تھا، مگر وہ فیصلے آستھا یا جذبات کی بنیاد پر نہیں تھے، قانون کی روشنی میں کئے گئے فیصلے تھے۔ میں نے خود بارہا اس شعر کو اپنی تقاریر اور اپنی تحریروں میں شامل کیا ہے۔ گجرات میں ظہیرہ شیخ کی آنکھوں کے سامنے اس کے خاندان کے 14 افراد کو زندہ جلادیا گیا۔ اس کی بیکری جسے ’بیسٹ بیکری‘ کے نام سے جانا گیانذرآتش کردی گئی۔ گجرات کی عدالت نے قانون کے مطابق گواہوں اور ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، جو فیصلہ سنایا اس میںتمام ملزم جسٹس مہیدا کی عدالت سے بری کردئے گئے۔ ظہیرہ شیخ کو ایک جھوٹا گواہ تسلیم کرکے اس کی گواہی کو ناقابل قبول مان لیا گیا۔ قانون کی روشنی میں کیا گیا یہ فیصلہ کیا انصاف تھا؟ ایسے ہی فیصلوں کو سامنے رکھ کر شاید لکھا ہوگا پروفیسر ملک زادہ منظور احمد صاحب نے:
وہی قاتل، وہی منصف، عدالت اس کی وہی شاہد
بہت سے فیصلوں میں طرفداری بھی ہوتی ہے
'آج ہمارے سامنے ایک ایسا فیصلہ ہے، جو عدالت کے ذریعہ قانون کی روشنی میں نہیں، عقیدہ کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ ہم اسے رد کرسکتے ہیں۔ ہم اسے نامنظور کرسکتے ہیں۔ ہم سپریم کورٹ میں جانے کا حق رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ سے انصاف کی امید کرسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر ہوگا، ایسی امید کرسکتے ہیں۔ باوجود اس سب کے وہ فیصلہ ہمارے حق میں اس سے بہتر ہوگا، وہ قابل نفاذ ہوگا اور دوسرے طبقہ کو منظور بھی ہوگا، کیا اس کی امید ہے۔ حالانکہ وہ فیصلہ جو بھی ہو، اسے قانون کا درجہ حاصل ہوگا، تاہم اس کے بعد بھی گنجائش بچتی ہے، اس لئے کہ پارلیمنٹ میں قانون بناکر اس فیصلہ میں بھی تبدیلی کی امیدوں کو زندہ رکھا جاسکتا ہے۔ یہ کام دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی کرسکتا ہے۔ اس وقت پارلیمنٹ میں اکثریت کس ذہن کے لوگوں کی ہوگی آج کیسے کہا جاسکتا ہے، مگر قیاس تو کیا ہی جاسکتا ہے۔ ان بیانات کو تو یاد رکھا ہی جاسکتا ہے، جو اکثر کہتے رہے کہ پارلیمنٹ میں قانون بناکر رام مندر کی تعمیر کا راستہ بنایا جائے گا۔ آج ہم ان تمام خدشات کو نظرانداز کرسکتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری حدود کیا ہیں۔ کیا ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ دوسروں کے ارادے کیا ہیں؟ کتنے لوگ ہیں پارلیمنٹ میں جو آپ کے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے ہیں؟ اپنی سیاست کے لئے زبانی جمع خرچ الگ بات ہے، جذباتی بیان بازی کرکے قوم کے جذبات کو مشتعل کرنا الگ بات ہے، مگر ان کے لئے حق اور انصاف کی جنگ لڑنا الگ بات ہے۔ ہم جانتے ہیں یہ بات اور آگے بڑھے گی تو بہت دور تک جائے گی، ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم وہ تمام لوگ جو آج اس بحث ومباحثہ میں شامل ہےں، زندہ رہیں نہ رہیں، مگر اس مقدمہ کو زندہ رکھا جاسکتا ہے، بیشک ہمیں اختیار ہے کہ ہم انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد میں آخری حد تک جائیں اور اس خدشہ کو بھی نظرانداز کردیں کہ عدالت کے ذریعہ دیا گیا فیصلہ درست ہونے کی صورت میں بھی اس کا نفاذ مشکل ہوگا، بلکہ ناممکن ہوگا، مگر یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ حکومتیں اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام ہوسکتی ہیں، ہم ان کے خلاف آواز بلند کرسکتے ہیں۔ ان سرکاروں کو گرایا جاسکتا ہے، ہٹایا جاسکتا ہے یا سرکار کا مکھیا خود استعفیٰ دے کر غیرذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدہ سے ہٹ سکتا ہے۔ یہ سب کچھ، سب کچھ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ مدت اتنی زیادہ بھی نہیں گزری ہے کہ ہماری یادداشت ساتھ نہ دے۔ 6دسمبر992کو بابری مسجد شہید ہوئی، جس کے ذمہ دار مرکزی حکومت کے مکھیا پی وی نرسمہاراؤ اور براہِ راست اترپردیش سرکار کے اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ تھے۔اترپردیش سرکار برخاست کی گئی، کلیان سنگھ پر مقدمہ بھی چلا، ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر چلا، قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے چلا، سزا بھی دی گئی۔ کیا تھی وہ سزا؟ یاد ہے آپ کویا بھول گئے؟ایک دن کی سزا…! صبح سے شام تک عدالت میں کھڑے رہنے کی سزا… قانون کی روشنی میں عدالت کے ذریعہ دئے گئے اس انصاف پر کتنی آوازیں بلند کی گئیں، کیا یہ انصاف تھا؟ جرم تھا بابری مسجد کی شہادت اور سزا چند گھنٹے۔ گجرات میں نریندر مودی کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے دو ہزار سے زائد مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی۔ سپریم کورٹ نے نریندر مودی کو ’نیرو‘ تک کہا، پھر کیا ہوا؟ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ وہ آج بھی اسی ریاست کے وزیراعلیٰ ہیں۔ گجرات فسادات کے لئے ریاستی سرکار سے تعلق رکھنے والی مایاکوڈنانی فسادات میں ملوث قرار دی گئیں۔ کیا جرم کے مطابق سزا مل سکی؟ یہ تمام نظیریں پیش کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ عدالتوں سے اعتماد جاتا رہے، ان کے ذریعہ کئے گئے انصاف کو انصاف نہ مانا جائے۔ غلطی کی گنجائش حقائق اور شواہد کو سامنے رکھ کر کئے گئے فیصلہ میں بھی ممکن ہے۔ اور یہ فیصلہ جس میں قانون سے زیادہ عقیدہ کو اہمیت دی گئی ہے، جس میں ہماری جیت ہونی چاہئے تھی، مگر ہم ہار گئے، لیکن ایسی ہار جس میں جیت کے احساس کی گنجائش باقی ہے۔ مسجد کی ازسرنوتعمیر کی گنجائش باقی ہے، پھر بھی ہم اس فیصلہ پر برہم ہیں قبول نہیں کرنا چاہتے، جبکہ آگے کا مرحلہ ہمارے لئے بہت زیادہ پرامید نہیں ہے۔ ذرا سوچیں، کیا وہ لوگ ایسا کوئی بھی فیصلہ قبول کرپائیں گے، جس میں ان کی مکمل ہار ہو، جیت کا قطعاً احساس نہ ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر… اس پر غور کرنا ہوگا۔ ہم کرسکتے ہیں نامنظور اس فیصلہ کو، اس لئے کہ اس فیصلہ نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے جستجو کے راستے بند نہیں کئے ہیں، لیکن ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس فیصلہ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے راستے کھول دئے ہیں۔ ایسے تمام خدشات کو درکنار کردیا، جن کو سوچ سوچ کر 30ستمبر سے پہلے ہندوستانی عوام کی ایک بڑی تعداد پریشان تھی۔ رد کر دیجئے اس فیصلہ کو، مگر اس لحاظ سے یہ فیصلہ قابل ستائش تو ہے کہ اس نے ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کا موقع فراہم کیا ہے اس فیصلہ کی روشنی میں۔ آپسی بات چیت سے مسئلہ کا حل نکالنے کا ایک راستہ بھی دیا ہے اور اگر اس سب کے باوجود ہم تمام خطرات، تمام خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے سپریم کورٹ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ راستہ بھی کہاں بند ہے۔ ممکن ہے یہ فیصلہ خالص سیاسی فیصلہ ہو، اگر ایسا ہے تو بھی تنقید کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ کتنا مثبت سیاسی ذہن تھا، جس نے ملک کو 6دسمبر992جیسے حالات سے بچالیااور آگے جانے کا راستہ دکھایا۔ اگر یہ فیصلہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، تب بھی کھلے ذہن سے یہ سوچنا ہوگا کہ کیا واقعی آج ہماری سیاست اتنی سنجیدہ ہوگئی ہے کہ دو الگ الگ، بلکہ جو مخالف نظریات کے تحت ووٹ حاصل کرکے اقتدار کا ارادہ رکھتے ہوں، وہ بھی اس نازک مسئلہ پر ایک رائے ہوسکتے ہیں؟ ہاں، ہم اس فیصلہ سے خسارے میں ہیں، مگر جو مسجد کھو چکے ہیں، اس کی جگہ مسجد حاصل کرنے کا موقع تو ہے، مسجد کو شہید کرنے والوں کو سزا دلوانے کا موقع تو ہے، باقی مساجد کے تحفظ کی بات کرنے کا موقع تو ہے۔ کیا ہمیں ان تمام موضوعات پر نہیں سوچنا چاہئے؟ کیا ہمیں قطعاً ملک و قوم کے تحفظ کے بارے میں نہیں سوچنا چاہئے؟ اگر ایسے ذہن بھی ہمارے درمیان میں ہےں، جن کے نزدیک ملک و قوم کے مفاد سے کہیں زیادہ اصولوں اور قانون کی بنیاد پر حاصل کیا جانے والا فیصلہ ہے تو ازراہِ کرم کچھ وقت کے لئے خود اپنے آپ کو جج تسلیم کریں۔ وہ تمام ثبوت جنہیں سامنے رکھ کر آپ فیصلہ پانا چاہتے ہیں، ان کی روشنی میں اپنی پسند کا ایک فیصلہ کاغذ پر نوٹ فرمالیں اور ذہن میں رکھیں کہ اس فیصلہ کا نفاذ بھی ممکن ہو اور ملک کا امن و امان بھی قائم رہے۔ اگر ہم فیصلہ دیتے وقت خود کو اس ذمہ داری سے برطرف مانتے ہیں تو ہمیں غور کرنا ہوگا کہ ہم کس حد تک ملک و قوم کے مفادات کو اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔ اس وقت کے صلح کے حالات کو کیا صلح حدیبیہ کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے؟ کیا ہمارے رسول اللہ حضرت محمد مصطفیؐ نے اپنی زندگی میں تنازعات کو ختم کرنے کے لئے نرمی کا رُخ اختیار نہیں کیا؟ کیا ہمیں اسلام کی تاریخ میں ایسی مثالیں نہیں ملتیں؟ اس معاملہ میں زیادہ بہتر روشنی تو ہمارے علمائے کرام ہی ڈال سکتے ہیں، مگر اتنا تو ہم جنہیں اسلام کی تھوڑی بھی جانکاری ہے، اچھی طرح جانتے ہیں کہ امن واتحاد کے پیش نظر لئے گئے ہر فیصلہ کا نتیجہ مثبت ہی سامنے آیا ہے۔
eہاں، مگر اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر ایک بار قانون کو درکنار کرکے عقائد کی بنیاد پر فیصلے دینے کا چلن شروع ہوگیا تو پھر متھرا اور کاشی کی مساجد کا کیا ہوگا؟ اور آثارقدیمہ کی نگرانی میں جو مساجد ہیں، کل وہ تنازع کا شکار بنتی ہیں تو آج کے اس فیصلہ کا کتنا اثر ان سب پر ہوگا۔ لہٰذا اس بات کی گارنٹی اس وقت ضرور لے لینی چاہئے کہ اگر ملک کے اندر امن و اتحاد کے پیش نظر تمام ثبوتوں اور حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے پر غور ہو تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور آخری فیصلہ ہو، اس کے بعد اس نوعیت کا کوئی اور فیصلہ قابل قبول نہیں ہوگا۔

मुकम्मल इंसाफ-यह ख़्वाब-किसके भरोसे?
अज़ीज़ बर्नी

हां, 30 सितम्बर 2010 को बाबरी मस्जिद मामले के संबंध में दिया गया इलाहाबाद उच्च न्यायालय का निर्णय क़ानून के अनुसार लिया गया निर्णय नहीं है। हां, यह आस्था की बुनियाद पर लिया गया निर्णय है। हां, इस निर्णय में राजनीति की गंध आती है। यह सच है कि न्यायालय के सभी निर्णय सबूतों और शहादतों की बुनियाद पर ही होने चाहियें, जो कि इस निर्णय में नहीं हुआ। भारतीय जनता की एक बड़ी संख्या जिसमें केवल मुस्लिम ही नहीं, बल्कि हिन्दुओं का भी मानना है कि यह न्याय पर आधारित नहीं है और अब यह संभावना भी बड़ी हद तक है कि उच्चतम न्यायालय के दरवाज़े पर दस्तक़ दी जाएगी। कोई एक या कुछ लोग यदि अपनी इस राय को प्रकट करते हैं कि इस निर्णय को स्वीकार कर लेना चाहिए और अब उच्चतम न्यायालय से सम्पर्क नहीं करना चाहिए तो इस बात को सभी ज़िम्मेदार स्वीकार कर लेंगे, इस भ्रम का शिकार किसी को नहीं रहना चाहिए। लेखक को भी ऐसा कोई भ्रम नहीं है, फिर भी अगर इस निर्णय का समर्थन किया गया और इस पर अपनी राय प्रकट करते हुए इसे वर्तमान परिस्थितियों में उचित फैसला ठहरा दिया गया तो कोई कारण तो होगा, निसंदेह उसे रद्द कर दिया जाए, परंतु क्या सभी हालात पर विचार किया जाना गलत होगा? आजाद भारत के इतिहास में क्या यह पहला फैसला है, जिससे हमने असहमती व्यक्त की है। इससे पूर्व किये गए सभी फैसलों ने क्या हमें न्याय दिया है? निसंदेह गृह मंत्री पी चिदम्बरम आज यह कह रहे हैं कि बाबरी मस्जिद की शहादत एक अलग मामला है और उसके अपराधियों का अपराध इस निर्णय से प्रभावित नहीं होगा, परंतु सरकार इस प्रश्न का क्या जवाब देगी कि आखिर लिब्राहन कमीशन की रिपोर्ट प्रस्तुत किये जाने के बावजूद आज तक सरकार खामोश क्यों है? श्री कृष्णा आयोग की रिपोर्ट का क्या हुआ? आजतक न्याय के नाम पर हमें अन्याय ही तो मिला है, फिर भी अगर आॅंखों देखी मक्खी निगलने के लिए हम जैसे कुछ लोग भी तैयार हैं तो उसका कारण यह है कि हम पिछले 20 वर्षों में जिन परिस्थितियों से गुजरे हैं, हमने अपने भावनात्मक शोषण के साथ साथ जितना अपने युवकों को खोया है, हमने जितना अपने समुदाय के भविष्य को राजनीति की भेंट चढ़ते हुए देखा है उसको ध्यान में रखते हुए हम आशा भले ही करें परंतु इससे बहुत अच्छे फैसले का भरोसा नहीं होता।
ऐसा नहीं है कि हम नहीं जानते थे कि यह कानून की रोशनी में दिया गया फैसला नहीं है, परंतु वह फैसले भी तो हमारे मन में हंै, जो कानून की रोशनी में दिये गए हैं, उनसे भी हमें कितना न्याय मिला? हो सकता है कि आस्था के आधार पर दिया गया यह अपने प्रकार का पहला निर्णय हो, इसलिए कि सभी अदालतों के छोटे-बड़े कुल मुकदमों की जानकारी का दावा नहीं किया जा सकता कि क्या इससे पूर्व भी कहीं किसी न्यायालय ने जनता की भावनाओं, संवेदनाओं या धार्मिक आस्था को सामने रखते हुए कोई फैसला दिया, परंतु वह चर्चा का विषय न बनने के कारण सब के सामने नहीं आया। बहरहाल हमें इस निर्णय पर आपत्ती जताने का पूरा-पूरा अधिकार है और जो इसे अन्याय या न्यायिक व्यवस्था के अपमान की संज्ञा देते हैं तो इस समय मुझे उनके विचार पर कुछ नहीं कहना, लेकिन एक शेर अवश्य मैं अपने सभी पाठकों को भेंट कर देना चाहता हॅू। यह शेर 30 सितम्बर 2010 को इलाहाबाद हाईकोर्ट में बाबरी मस्जिद की ज़मीन के स्वामित्व का निर्णय आने से बहुत पहले लिखा गया है। यह शेर बार-बार हमारे राजनीतिज्ञों तथा सामाजिक कार्यकर्ताओं द्वारा कभी संसद के भीतर तो कभी संसद के बाहर ऐसे फैसलों को ध्यान में रखकर अपनी भावनाओं को प्रकट करने के लिए पढ़ा गया, जिन्हें न्याय पर आधारित स्वीकार नहीं किया गया था परंतु वह फैसले आस्था या भावनाओं के आधार पर नहीं थे, कानून की रोशनी में दिये गए फैसले थे। मैंने स्वयं कई बार इस शेर को अपने भाषणों तथा अपने लेखों में शामिल किया है। गुजरात में ज़हीरा शेख़ की आंखों के सामने उसके परिवार के 14 सदस्यों को जीवीत जला दिया गया। उसकी बेकरी जिसे ‘बेस्ट बेकरी’ के नाम से जाना गया आग लगा दी गई। गुजरात की अदालत ने कानून के अनुसार गवाहों तथा सबूतों को मददेनजर रखते हुए जो फैसला सुनाया उसमें सभी आरोपी जस्टिस महिदा की अदालत से बरी कर दिये गए। ज़हीरा शेख को एक झूठा गवाह मानकर उसकी गवाही को अस्वीकार मान लिया गया। कानून की रोशनी मे किया गया यह निर्णय क्या न्याय था? ऐसे ही निर्णयों को सामने रखकर शायद लिखा होगा प्रोफेसर मलिकज़ादा मंज़ूर अहमद साहब नेः
वही क़ातिल,वही मुंसिफ अदालत उसकी वह शाहिद
बहुत से फ़ैसलों में तरफदारी भी होती है
आज हमारे सामने एक ऐसा निर्णय है, जो न्यायालय के द्वारा क़ानून की रोशनी में नहीं, आस्था की बुनियाद पर दिया गया है। हम इसे रद्द कर सकते हैं। हम इसे नामंज़ूर कर सकते हैं। हम उच्चतम न्यायालय में जाने का हक़ रखते हैं। उच्चतम न्यायालय से न्याय की उम्मीद कर सकते हैं। उच्चतम नयायालय का निर्णय सबूतों और गवाहों की बुनियाद पर होगा, ऐसी आशा कर सकते हैं। इस सबके बावजूद वह निर्णय हमारे पक्ष में इससे बेहतर होगा, वह पालन किए जाने योग्य होगा और दूसरे वर्ग को स्वीकार भी होगा, क्या इसकी उम्मीद है। हालांकि वह निर्णय जो भी हो, उसे क़ानून का दर्जा प्राप्त होगा, फिर भी उसके बाद भी गुंजाइश बचती है, इसलिए कि संसद में क़ानून बना कर इस निर्णय में भी बदलाव की उम्मीद को जीवित रखा जा सकता है। यह काम दोनों पक्षों में से कोई भी कर सकता है। उस समय संसद में बहुमत किस मानसिकता के लोगों की होगी आज कैसे कहा जा सकता है, परन्तु अनुमान तो किया ही जा सकता है। उन बयानों को तो याद रखा ही जासकता है, जो अक्सर कहते रहे कि संसद में कानून बनाकर राम मन्दिर निर्माण का मार्ग बनाया जाएगा। आज हम उन सभी आशंकाओं की अनदेखी कर सकते हैं। हम जानते हैं कि हमारी सीमाएं क्या हैं। क्या हम यह भी जानते हैं कि दूसरों के इरादे क्या हैं? कितने लोग हैं संसद में जो आपके अधिकारों के लिए आवाज़ उठाते हैं? अपनी राजनीति के लिए ज़ुबानी जमा-खर्च अलग बात है, भावनात्मक बयानबाज़ी करके क़ौम की भावनाओं को भड़काना अलग बात है परंतु उनके लिए हक़ और न्याय की जंग लड़ना अलग बात है। हम जानते हैं यह बात और आगे बढ़ेगी तो बहुत दूर तर जाएगी। हमें यह भी ध्यान में रखना चाहिए कि वह सभी लोग जो आज इस चर्चा में शामिल हैं, जीवित रहें न रहें, परंतू इस मुकदमे को जीवित रखा जा सकता है। निसंदेह हमे अधिकार है कि हम न्याय प्राप्त करने के संघर्ष में अंतिम पड़ाव तक जाएं और इस आशंका की भी अनदेखी कर दें कि अदालत के द्वारा दिया गया फैसला ठीक होने की स्थिति में भी उसका लागू किया जाना कठिन होगा, बल्कि असंभव होगा, परंतु यह सरकारों की ज़िम्मेदारी है। सरकारें अपना दायित्व निभाने में असफल हो सकती हैं, हम उनके विरूद्व आवाज़ उठा सकते हैं। उन सरकरों को गिराया जा सकता है, हटाया जा सकता है या सरकार का मुखिया स्वयं त्यागपत्र देकर ग़ैर जिम्मेदारी स्वीकार करते हुए अपने पद से हट सकता है। यह सब कुछ हमने अपनी आंखों से देखा है। इतना अधिक समय भी नहीं बीता है कि हमारी याददाश्त साथ न दे। 6 दिसम्बर 1992 को बाबरी मस्जिद शहीद हुई, जिसके जिम्मेदार केन्द्र सरकार के मुखिया पी वी नरसिम्हा राव और परोक्ष रूप से उत्तर प्रदेश सरकार के उस समय के मुख्यमंत्री कल्याण सिंह थे। उत्तर प्रदेश सरकार बर्खास्त की गई, कल्याण सिंह पर मुकदमा भी चला, सबूतों और गवाहों के आधार पर चला, कानूनी मांगों को पूरा करते हुए चला, सज़ा भी दी गई। क्या थी वह सज़ा? याद है आपको या भूल गए? एक दिन की सज़ा--! सुबह से शाम तक अदालत में खडे़ रहने की सज़ा-- कानून की रोशनी में न्यायालय द्वारा दिए गए इस न्याय पर कितनी आवाज़ें उठाइ गईं, क्या यह न्याय था? अपराध था बाबरी मस्जिद का विध्वंस और सज़ा कुछ घंटे। गुजरात में नरेन्द्र मोदी के मुख्यमंत्री रहते 2000 से अधिक मुसलमानों का नरसंहार किया गया। उच्चतम न्यायालय ने नरेन्द्र मोदी को ‘नीरो’ तक कहा, फिर क्या हुआ? परिणाम हम सब के सामने है। वह आज भी उसी राज्य के मुख्यमंत्री हैं। गुजरात दंगो के लिए राज्य सरकार से संबंध रखने वाली माया कोडनानी दंगों में लिप्त ठहराई गईं। क्या अपराध के अनुसार सज़ा मिल सकी? यह सभी उदाहरण प्रस्तुत करने का उद्देश्य यह नहीं कि अदालतों से भरोसा जाता रहे, उनके द्वारा किये गए न्याय को न्याय न माना जाए। ग़लती की संभावना तथ्यों तथा प्रमाणों को सामने रख कर किये गए फैसले में भी संभव है और यह फैसला जिसमें कानून से अधिक आस्था को महत्व दिया गया है, जिसमें हमारी जीत होनी चाहिए थी परंतु हार गए, लेकिन ऐसी हार जिसमें जीत के एहसास की संभावना बाक़ी है। मस्जिद के पुर्ननिर्माण की संभावना बाकी है, फिर भी हम इस फैसले पर नाराज़ हैं, स्वीकार नहीं करना चाहते, जबकि आगे का चरण हमारे लिए बहुत अधिक आशाजनक नहीं है। ज़रा सोचें, क्या वह लोग ऐसा कोई भी फैसला स्वीकार कर पाएंगें, जिसमें उनकी पूरी हार हो, जीत का क़तई एहसास न हो। यदि ऐस होता है तो फिर...... इस पर विचार करना होगा। हम कर सकते हैं अस्विकार इस फैसले को, इसलिए कि इस फैसले ने न्याय की मांग को पूरा करने के लिए आगे जाने के रास्ते बंद नहीं किए हैं, लेकिन एक सकारात्मक पहलू यह भी है कि इस फैसले ने साम्प्रदायिक सौहार्द के रास्ते खोल दिए हैं। ऐसी सभी आशंकाओं को दरकिनार कर दिया जिनको सोच-सोच कर 30 सितम्बर से पूर्व भारतीय जनता की एक बड़ी तादाद परेशान थी। रद्द कर दीजिए इस फैसले को, परंतु इस दृष्टि से यह फैसला प्रशंसनीय तो है कि इसने ठंडे दिमाग से सोचने का अवसर प्रदान किया है इस फैसले की रोशनी में। आपसी बातचीत से समस्या का समाधान निकालने का एक रास्ता भी दिया है और यदि इस सबके बावजूद हम सभी खतरों, सभी आशंकाओं को ध्यान में रखते हुए उच्च्तम न्यायालय जाने का इरादा रखते हैं तो वह रास्ता भी कहां बंद है। संभव है यह निर्णय शुद्ध राजनीतिक निर्णय हो, यदि ऐसा है तो भी अलोचना के साथ-साथ इस बात को भी दिमाग़ में रखना होगा कि कितना साकारात्मक राजनीतिक दिमाग़ था, जिसने देश को 6 दिसम्बर 1992 जैसी परिस्थितियों से बचा लिया और आगे जाने का मार्ग प्रशस्त किया। यदि यह निर्णय कांग्रेस और भारतीय जनता पार्टी की मिलीभगत का परिणाम है, तब भी खुले दिमाग़ से यह सोचना होगा कि क्या वास्तव में आज हमारी राजनीति इतनी गंभीर हो गई है कि दो अलग-अलग, बल्कि जो विरोधी दृष्टिकोण के आधार पर वोट प्राप्त करके सरकार बनाने का इरादा रखते हों, वह भी इस नाज़ुक समस्या पर एक राय हो सकते हैं? हां, हम इस निर्णय से घाटे में हैं, मगर जो मस्जिद खो चुके हैं, उसके स्थान पर मस्जिद प्राप्त करने का अवसर तो है, मस्जिद को शहीद करने वालों को सज़ा दिलवाने का अवसर तो है, बाक़ी मस्जिदों की सुरक्षा की बात करने का अवसर तो हैं। क्या हमें उन सभी विषयों पर नहीं सोचना चाहिए? क्या हमें कतई क़ौम और मुल्क की सुरक्षा के बारे में नहीं सोचना चाहिए? अगर ऐसे लोग भी हमारे बीच में हैं जिनके नज़दीक क़ौम और मुल्क के हितों से कहीं अधिक सिद्वांतों तथा नियमों के आधार पर प्राप्त किया जाने वाला निर्णय है, जिसे भले ही अमलीजामा नहीं पहनाया जा सके तो कृप्या कुछ समय के लिए स्वयं अपने आप को जज मान लें। वह सभी सबूत जिन्हें सामने रखकर आप फैसला पाना चाहते हैं, उनकी रोशनी में अपनी पसंद का एक फैसला काग़ज पर लिख लें और मन में रखें कि इस फैसले को लागू किया जाना भी संभव हो और देश की शांति भी बनी रहे। अगर हम फैसला देते समय स्वयं को इस दायित्व से अलग मानते हैं तो हमें विचार करना होगा कि हम किस हद तक देश तथा राष्ट्र के हितों को अपने ध्यान में रखते हैं। इस समय की समझौते की परिस्थितियों को क्या सुलह हुदैबिया की रोशनी में देखा जा सकता है? क्या हमारे रसूलुल्लाह हज़रत मोहम्मद मुस्तफा स.अ.व. ने अपने जीवन में विवादों को समाप्त करने के लिए नरमी का रूख इख्तियार नहीं किया? क्या हमें इसलाम के इतिहास में ऐसे उदाहरण नहीं मिलते? इस मामलें में अधिक बेहतर रोशनी तो हमारे उलेमा-ए-कराम ही डाल सकते हैं, परंतु इतना तो हम जिन्हें इस्लाम की थोड़ी भी जानकारी है, अच्छी तरह जानते हैं कि शांति तथा एकता के मद्देनज़र लिए गए ऐसे हर फैसले का परिणाम सकारात्मक ही सामने आया है।
हां, मगर इस सच्चाई से भी इंकार नहीं किया जा सकता कि यदि एक बार क़ानून को नज़रअंदाज़ करके आस्था की बुनियाद पर निर्णय देने का चलन शुरू हो गया तो फिर मथुरा और काशी की मस्जिदों का क्या होगा? और पुरातत्व विभाग की निगरानी में जो मस्जिदें हैं, कल वह विवाद का शिकार बनती हैं तो आज के इस निर्णय का कितना प्रभाव उन सब पर होगा, इसलिए इस बात की गारंटी इस समय अवश्य ले लेनी चाहिए कि यदि देश के अंदर शांति तथा एकता को देखते हुए सभी सबूतों और तथ्यों की अनदेखी करते हुए इस निर्णय को स्वीकार किये जाने पर विचार हो तो यह अपनी तरह का पहला और अंतिम निर्णय हो, इसके बाद इस प्रकार का कोई और निर्णय स्वीकार्य नहीं होगा।
......................................................

Friday, October 1, 2010

کیا ضروری ہے سپریم کورٹ جاناـذرا غور کریں…!

عزیز برنی

تیس ستمبر010 ایک انتہائی مشکل دن تھا، ہندوستان کے عوام کے لئے اور سرکاروں کے لئے بھی بشمول مرکزی و ریاستی سرکاروں کے، جنہوں نے 6دسمبر992دیکھا ہے، وہ اچھی طرح اس بات کا اندازہ کرسکتے تھے کہ اس دن، یعنی0ستمبر010کو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ جس طرح کی تیاریوں کی باتیں فضاؤں میں گردش کرتی رہی تھیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا، ہم نے اپنے اسی کالم میں0ستمبر010کو بعنوان ’’دسمبر نہ بنے4ستمبریہ خیال رہے…!‘‘کے تحت لکھے گئے مضمون کے ذریعہ مدھیہ پردیش میں0ہزارہندو یودھا کی بھرتی کے معاملہ کو سامنے رکھا تھا اور بابری مسجد کے تعلق سے ہائی کورٹ میں چل رہے مقدمے کے فیصلہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ہماری تحریر کے منظرعام پر آنے کے فوراً بعد ریاستی حکومت نے کارروائی کی اور بھرتی کرنے والوں دامودر سنگھ اور راجیش جی بھڑکرکو قومی سلامتی قانون (NSA)کے تحت گرفتار کرلیا۔ ایسے معاملے اور بھی ہوسکتے تھے، جو ہمارے سامنے نہیں آئے، لہٰذا یہ صورت حال فکرمندی کا احساس کراتی تھی۔ اجودھیا تنازع کو لے کر ہی گجرات میں ہوئے فساد کو ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ کس طرح سابرمتی ایکسپریس میں سوار کچھ لوگوں کی نعرے بازی نے پوری ریاست کو فرقہ وارانہ فساد کی زد میں لادیا۔ شاید ہندوستان کی تاریخ بھی اسے کبھی فراموش نہیں کرپائے۔
6دسمبر992کے بعد ملک کو کن کن حالات سے گزرنا پڑا، مہاراشٹر میں کس طرح ایک مخصوص قوم کی نسل کشی کی گئی، جسٹس سری کرشن کمیشن کی رپورٹ میں آج بھی وہ تمام حقائق واضح الفاظ میں درج ہےں، گزشتہ کچھ ہفتوں سے ہر شخص خوفزدہ تھا کہ بابری مسجد ملکیت کے تنازع کو لے کر 24ستمبرکو جو فیصلہ آنا ہے، اس کے بعد پورے ملک کے حالات کیا ہوں گے۔ بیرون ملک بسے یا روزگار کی تلاش میں گئے ہندوستانیوں نے بارہا فون پر اپنی فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے رابطہ قائم کیا، پھر یہ تاریخ تبدیل ہوئی اور0ستمبر کا دن طے کیا گیا۔ سرکاری سطح پر جس طرح کی تیاریاں تھیں،اترپردیش کی وزیراعلیٰ مایاوتی نے جس طرح بار بار فکرمندی کا احساس جتایا، محترمہ سونیا گاندھی، ملک کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور وزیرداخلہ پی چدمبرم نے، جس طرح امن و اتحاد قائم رکھنے کی بار بار جو اپیلیں کیں، اس سے واضح ہوتا تھا کہ عام ہندوستانی ہی نہیں حکومت ہند بھی فکرمند ہے کہ فیصلہ کے بعد ملک کن حالات سے گزر سکتا ہے۔ آج اس وقت جب میں مضمون قلمبند کررہا ہوں، فیصلے کو منظرعام پر آئے 24گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ اللہ کا کرم ہے، کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ اس فیصلہ کی سب سے بڑی خوبی اور کامیابی ہے یقینا۔ ہمارے قارئین کو یاد ہوگا، میں نے اپنے پچھلے مضمون میں لکھا تھا کہ ’فیصلہ تو آئے پر فاصلہ نہ بڑھنے پائے‘21-09-2010)، اس کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی لگاتار لکھنے کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔ دراصل اس درمیان دہلی میں امن و اتحاد قائم رکھنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دینے کے لئے ایک کانفرنس منعقد کی گئی تھی، جس میں راقم الحروف نے اظہارخیال کرتے ہوئے کچھ مخصوص شخصیتوں کا نام لے کر یہ کہا کہ اگر اس وقت یہ اور ان جیسے لوگ خاموش رہیں تو بہتر ہوگا۔ اس کی وجہ ماضی کے تلخ تجربات تھے۔ حالانکہ اس مرتبہ سبھی نے بڑی احتیاط سے کام لیا، پھر مجھے لگا کہ اگر اپنے اس جملہ کے بعد خود میں اس موضوع پر لکھنے کا سلسلہ جاری رکھتا ہوں تو اخلاقی اعتبار سے یہ درست نہیں ہوگا کہ میں دیگر افراد سے تو یہ درخواست کروں کہ قانون کو اپنی راہ چلنے دیں، اس موضوع پر اپنے تاثرات کا زیادہ اظہار نہ کریں اور خود ہر روز لکھتا رہوں۔ بہرحال آج میں پروردگارعالم کے بعد ہندوستانی قوم اور حکومت ہند کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جج صاحبان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ایک ایسا تاریخ ساز فیصلہ، جو قانون سے زیادہ اعتقاد اور جذبات کو سامنے رکھ کر دیا گیا فیصلہ ہے۔ پھر بھی اس کی پسند ناپسند سے بالاتر اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ملک کا امن و اتحاد قائم رہا، جو وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔
قانونی نقطۂ نظر سے ابھی اس فیصلہ پر گفتگو کرنے کی بہت گنجائش ہے۔ عدالتی چارہ جوئی کا راستہ بھی کھلا ہے۔ تین مہینے کے اندر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔ تقریباًہزار صفحات پر مشتمل اس فیصلہ کا ابھی تک ہمارے یا ہماری ٹیم کے ذریعہ مطالعہ نہیں کیا جاسکا ہے اور چند روز میں یہ ممکن بھی نہیں ہے، جو کچھ جتنا بھی میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعہ سامنے لایا گیا ہے، وہ بھی گفتگو کو آگے بڑھانے کے لئے کچھ کم نہیں ہے۔ ہمارے مذہبی اور قومی رہنمائوں کے جو تاثرات سامنے آئے ہیں، ان کی روشنی میں بھی ایک صحافی کی حیثیت سے اپنے خیالات کا اظہار کیا جاسکتا ہے، مگر میں اپنی اس تحریر کی معرفت اپنے قارئین کی خدمت میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں، وہ بھی میرے لئے اتنا ہی مشکل فیصلہ ہے، جتنا کہ اس تاریخ ساز فیصلہ کو انجام دینے والے جسٹس ایس یو خان، جسٹس دھرم ویر شرما اور جسٹس سدھیر اگروال کے لئے مشکل رہا ہوگا۔
’’بابری مسجدـرام جنم بھومی ملکیت‘‘مقدمہ کے وکیل محترم ظفریاب جیلانی سمیت دیگر تمام مسلم قائدین اور علمائے اکرام کا شکریہ ادا کیا جانا چاہئے کہ آج جو بھی فیصلہ ہمارے سامنے ہے، یہ ان کی حکمت عملی، جدوجہد اور دعائوں کا نتیجہ ہے۔ ظفریاب جیلانی صاحب کا اس فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ جانے کا بیان مقدمہ سے وابستہ ایک وکیل کا فطری بیان ہے۔ ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ جانے کی گنجائش تقریباً تمام مقدموں میں باقی رہتی ہے، لیکن کیا اس معاملہ میں ایسا کیا جائے؟ ہمارے متعدد مذہبی رہنمائوں نے بھی سپریم کورٹ جانے کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ مسلمانوں کی سیاست کرنے والے کچھ سیاسی رہنمائوں نے بھی اس فیصلہ سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حقائق پر نہیں، اعتقاد کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔ میں بیحد ادب اور احترام کے ساتھ یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا اب اس موضوع پر سیاست بند کردیں اور ہم جو سپریم کورٹ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ایک بار پھر اس ارادے پر نظرثانی کریں اپنے اس فیصلہ پر اور غور کرکے دیکھیں اور فیصلہ جو 30ستمبر کو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج صاحبان کے ذریعہ سنایا گیا۔ اس پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ یہ بھی غور کریں کہ اگر یہ فیصلہ نہیں ہوتا اور وہ ہوتا جو ہم چاہتے تھے، بلکہ صاف لفظوں میں اگر کہیں کہ اس مخصوص مقام جسے آستھا کی بنیاد پر رام جنم بھومی کہا جاتا ہے اور عدالت نے بھی اسی کو بنیاد مانتے ہوئے فیصلہ دیا ہے، جبکہ مسلمانوں کا ماننا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے، جس جگہ پر مسجد واقع تھی اور یہ جگہ مسلمانوں کو ہی ملنی چاہئے تھی، بھلے ہی وہ کل اراضی کا ایک تہائی حصہ ہی کیوں نہ ہوتی تو اس فیصلہ کے بعد ملک کی صورتحال کیا ہوسکتی تھی، عوام کی اکثریت کا ردعمل کیا ہوسکتا تھا، اگر ہم اسے بھی حکومت کی ذمہ داری مان لیں کہ فیصلہ کا نفاذ کرانا اور امن قائم رکھنا تو حکومتوں کا کام ہے تو بھی کیا یہ ممکن تھا کہ وہاں ازسرنو اسی مقام پر بابری مسجد کی تعمیر کی جاسکتی؟ ہاں، یہ ہوسکتا تھا کہ پھر ایک نئے تنازع کے ساتھ یہ معاملہ ایک لمبے عرصہ کے لئے تنازع کا باعث بنا رہتااور ہر دن نفرتوں میں اضافہ کرتا رہتا اور پھربرسہابرس گزرجانے کے بعد بھی جب یہ فیصلہ آتا تو ہماری آنے والی نسلوں کے لئے خوف و دہشت کا ماحول پیدا کردیتا۔ اب اگرہم سپریم کورٹ میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کس فیصلہ کی امید میں، کس فیصلہ کی چاہت میں، وہی نہ جس کا تذکرہ میں نے اپنی بالائی چند سطروں میں کیاہے۔ اس کے برعکس اگر ہم یہ طے کرتے ہیں کہ عدالت نے جو بھی فیصلہ دیا ہے، ہم اسے بخوشی تسلیم کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ جانے کا ارادہ بھی ترک کردیتے ہیں۔ ہندو بھائیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک شاندار رام مندر کی تعمیر کریں، اس زمین پر جو عدالت کے ذریعہ انہیں دی گئی ہے، ہم ان کے معاون ثابت ہوں گے اور ہم مسجد تعمیر کرتے ہیں، اس جگہ پر جو عدالت نے مسجد کے لئے طے کی ہے۔ ایک ہی جگہ کھڑی یہ دو عبادت گاہیں مندراور مسجد کی شکل میں آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیں گی کہ یہ ہمارے ملک کی اس گنگا جمنی تہذیب کی نشانیاں ہیں ، جن کے لئے ہمارا ملک پوری دنیا میں منفرد شناخت رکھتا ہے اور یہی وہ جذبہ ہے، جس نے حضرت امام حسین کو کربلا کے میدان سے ہندوستان کی طرف چلے آنے کی خواہش کا اظہار کرایا تھا اور بصورت دیگر اگر ہم یہ فیصلہ کرتے ہےں کہ نہیں، ہمیں تو سپریم کورٹ جانا ہی ہے، نتیجہ کچھ بھی ہو تو اس کا مطلب ہم موجودہ فیصلہ کو نامنظورکرتے ہیں۔ ہمیں عدالت کے ذریعہ مختص کی گئی اراضی پر مسجداورمندر کی تعمیر منظور نہیں ہے۔ کیا اس کا مثبت پیغام جائے گا؟ کیا پھر سے ایک نئے تنازع کی شروعات نہیں ہوگی؟ ہم پھر سے اسی خوف و دہشت کے عالم میں نہیں پہنچ جائیں گے، جس میں0ستمبرسے پہلے تھے۔ پھر یہ تین مہینہ کی مدت تو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے ہے۔ سپریم کورٹ کو اپنا فیصلہ سنانے کے لئے کتنی مدت درکار ہوگی، ہمیں اس کا اندازہ کرلینا چاہئے۔ یہ فیصلہ 60سال کی جدوجہد اورہزاروں بے گناہو ںکی جانیں چلے جانے کے بعد آیا ہے۔ اربوں روپئے کی جائیداد برباد ہونے، کروڑوں ہندوستانیوں کو خون کے آنسو رلانے کے بعد آیا ہے، پھر اگر ایسی ہی نفرت کا ماحول پیدا ہو اور 15-20برس تک مقدمہ چلتا رہے، یعنی بابری مسجد کی شہادت 6دسمبر992کے 18سال بعد عدالت اس نتیجہ پر پہنچی، جو آج ہمارے سامنے ہے۔ اب 8ہزار صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے زیرمطالعہ رہے، جس کے لئے اسے برسوں کی مدت درکار ہوگی۔ پھر نئے سرے سے ثبوتوں اور شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوگا، یعنی پھر5-20برس یہ تنازع زندہ رہے گا(یہ مدت کم یا اور بھی زیادہ ہوسکتی ہے) پھر ایک نئی پیڑھی ان حالات کا سامنا کرنے کے لئے مجبور ہوگی، جو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پیدا ہوسکتے ہیں۔ پھر اگر عدالت (سپریم کورٹ) نے یہی فیصلہ درست قرار دیا یا اس جیسا ہی کوئی فیصلہ سامنے رکھا تو اس صورت میں ہم کیا کریں گے۔ اس ساری جدوجہد کے دوران ہندو بھائیوں تک تو یہ پیغام چلا ہی جائے گا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعدبھی ہم ایک طویل مدت تک یعنی سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کی مدت تک رام مندر کی تعمیر میں رکاوٹ بنے رہے۔ ہمیں ان کے جذبات اور احساسات سے کچھ بھی لینادینا نہیں ہے اور اب جو بھی کچھ ہمارے حق میں ہوا ہے، وہ عدالت(سپریم کورٹ) کا فیصلہ ہے، جس میں مسلمانوں کا جذبۂ خیرسگالی شامل نہیں ہے۔ بصورت دیگر فیصلہ اگر واضح طور پر مسلمانوں کے حق میں آجاتا ہے تو پھر وہی مسئلہ جس سے آنے والی نسلوں کو کن حالات سے دوچار ہونا پڑے گا۔ کیا ہمارے لئے یہ دانشمندی بھرا فیصلہ ہوگا کہ ہم آج کے اس مسئلہ کو اپنی آنے والی نسلوں پر منتقل کرجائیں اور پھر ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہم صرف اور صرف اس سے بہتر فیصلہ کی توقع ہی کیوں کریں۔ اگر فیصلہ اس سے بدتر ہوا تو…… ابھی اس فیصلہ میں مسلمانوں کے لئے جو گنجائش رکھی گئی ہے، وہ بھی نہ رہی تو…… جو سامنے ہے، وہ بھی گیا اور تلخی الگ سے۔
لہٰذا کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ عوامی سطح پر بالخصوص مسلمانوں کے اندر اس بات پر غور وفکر کا سلسلہ شروع ہو کہ ہم اس جگہ جو عدالت کے ذریعہ مسجد کے لئے مختص کی گئی ہے، ایک شاندار مسجد، (جس میں ہر روز نماز بھی ادا کی جاتی رہے۔) تعمیر کریں اور مندر کو دی جانے والی جگہ پر بخوشی رام مندر کی تعمیر میں پہل کرنے کے جذبہ کااظہار کریں۔ اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شری رام جنم بھومی ایک ہی ہوسکتی ہے، ہم دیگر مساجد کے لئے اس معاملہ کو ایک نظیر کیوں سمجھیں، پھر بھی اگر خدشہ ہو تو اس سمت میں مناسب پیش رفت کریں۔ ان خدشات کو دور کیا جائے۔ آج پیدا ہوئے بہتر ماحول میں یہ ممکن ہے۔ جس طرح وہ مسلمان بھائیوں سے اپیل کررہے ہیں، اسی طرح اپنے خدشات کو سامنے رکھ کر مسلمان ہندوبھائیوں سے اپیل کریں اور ایسے تنازعات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیں، جو کل پھر ہمارے دلوں میں نفرت کی دیواریں کھڑی کرسکتے ہیں۔

क्या ज़रूरी है उच्चतम न्यायालय जाना-ज़रा ग़ौर करें......!
अज़ीज़ बर्नी

30 सितम्बर 2010 एक अत्यंत कठिन दिन था, भारत की जनता के लिए और सरकारों के लिए भी, केन्द्रीय और राज्य सरकारों सहित! जिन्होंने 6 दिसम्बर 1992 देखा है, वह भली भांति इस बात का अंदाज़ा कर सकते थे, कि इस दिन,अर्थात 30 सितम्बर 2010 को कुछ भी हो सकता था। जिस तरह की तैयारियांे की बातें फिज़ाओं में गर्दिश करती रही थीं वह किसी से ढकी-छुपी नहीं। पाठकों को याद होगा, हमने अपने इसी काॅलम में 20 सितम्बर को ‘‘6 दिसम्बर न बनें 24 सितम्बर यह ख़याल रहे...!’’ के शीर्षक से लिखे गये लेख के माध्यम से प्रदेश में 10 हजार हिन्दू योद्धाओं की भर्ती के मामले को सामने रखा था और बाबरी मस्जिद के सिलसिले में उच्च नयायालय में चल रहे मुकदमें के फैसले को दृष्टिगत रखते हुए अपनी चिंता प्रकट की थी। हमारे लेख के प्रकाशन के तुरंत बाद राज्य सरकार ने कार्रवाई की और भर्ती करने वालों को राष्ट्रीय सुरक्षा कानून (छै।) के तहत गिरफ्तार कर लिया। ऐसे मामले और भी हो सकते थे, जो हमारे सामने नहीं आए। अतः यह स्थिति चिंता का एहसास तो कराती ही थी। अयोध्या विवाद को लेकर ही गुजरात में हुए दंगों को हम सब ने अपनी आंखों से देखा है। किस तरह साबरमती एक्सप्रेस में सवार कुछ लोगों की नारेबाजी में पूरे राज्य को साम्प्रदायिक दंगों की चपेट में ला दिया। शायद भारत का इतिहास भी इसे कभी भुला नहीं पाए।
6 दिसम्बर 1992 के बाद देश को किन-किन परिस्थितियों से गुजरना पड़ा, महाराष्ट्र में किस तरह एक सम्प्रदाय विशेष का नरसंहार किया गया, जस्टिस श्री कृष्ण आयोग की रिपोर्ट में आज भी वे सभी तथ्य स्पष्ट शब्दों में दर्ज हैं। गत कुछ सप्ताह से हर व्यक्ति भयभीत था कि बाबरी मस्जिद मिल्कियत के विवाद को लेकर 24सितम्बर को जो फैसला होना है उसके बाद पूरे देश के हालात क्या होंगे। विदेशों में बसे या रोज़गार की तलाश में रह रहे भारतीयों ने प्रायः फोन पर अपनी चिंता व्यक्त करते हुए सम्पर्क स्थापित किया। फिर यह तारीख परिवर्तित हुई,और 30 सितम्बर का दिन निर्धारित किया गया। सरकारी स्तर पर जिस प्रकार की तैयारियां थी, उत्तर प्रदेश की मुख्य मंत्री मायावती ने जिस तरह बार-बार चिंता जताई, श्रीमती सोनिया गांधी, देश के प्रधानमंत्री डाॅक्टर मनमोहन सिंह और गृहमंत्री पी.चिदम्बरम ने जिस प्रकार शांति एवं एकता बनाये रखने की बार बार अपीलें की, उससे स्पष्ट होता था कि आम भारतीय ही नहीं सरकार भी चिंतित है कि फैसले के बाद देश किन परिस्थितियों से गुजर सकता है। आज इस समय जब मैं यह लेख लिख रहा हूं ,फैसले को आये 24 घंटे से ज्यादा का वक़्त गुजर चुका है। अल्लाह का करम है, कहीं से किसी अप्रिय घटना की सूचना नहीं है।यह इस फैसले की सबसे बड़ी विशेषता और सफलता है, निश्चित रूप से। हमारे पाठकों को याद होगा, मैंने अपने पिछले लेख में लिखा था कि ‘फैसला तो आये मगर फासला न बढ़ने पाये’,(21.09.2010), उसके बाद न चाहते हुए भी लगातार लिखने का सिलसिला रोकना पड़ा। दरअसल इस बीच दिल्ली में शांति एवं एकता बनाये रखने और साम्प्रदायिक सद्भावना का संदेश देने के लिए एक सम्मेलन आयोजित किया गया था, जिसमें मैंने विचार व्यक्त करते हुए कुछ विशेष व्यक्तियों का नाम लेकर यह कहा कि अगर इस समय ये और इन जैसे लोग खामोश रहें तो बेहतर होगा। इसका कारण अतीत के कड़ुवे अनुभव थे। यद्यपि इस बार सभी ने बड़ी सावधानी से काम लिया। फिर मुझे लगा कि अगर अपने इस वाक्य के बाद इस विषय पर लिखने का सिलसिला जारी रखता हूं तो नैतिक रूप से यह उचित नहीं होगा कि मैं अन्य लोगों से यह अपील करूं कि कानून को अपनी राह चलने दें, इस विषय पर अपने विचारों की अधिक अभिव्यक्ति न करें और स्वंय हर दिन लिखता रहूं। बहरहाल आज मैं परवरदिगार-ए- आलम के बाद भारत की जनता और भारत सरकार का शुक्रिया अदा करता हूं ,जज साहेबान को बधाई देता हूं कि एक ऐतिहासिक निर्णय जो क़ानून से अधिक आस्था और भावनाओं को सामने रख कर दिया गया फैसला है। फिर भी इसकी पसंद-नापसंद से बढ़कर इस वास्ताविकता को स्वीकार करने से कोई इंकार नहीं कर सकता कि देश की शांति और एकता बनी रही, जो वक्त की सबसे बड़ी जरूरत थी।
न्यायिक दृष्टिकोण से अभी इस निर्णय पर बात करने की काफी गुंजाईश है। अदालती कार्रवाई का रास्ता भी खुला है। तीन महीने के अन्दर सुप्रीम कोर्ट का दरवाज़ा खटखटाया जा सकता है। लगभग 8 हजार पृष्ठों पर आधारित इस निर्णय का अभी तक हमारे और हमारी टीम द्वारा अध्ययन नहीं किया जा सका है और चन्द दिनों में यह संभव भी नहीं है। जो कुछ जितना भी मीडिया और इंटरनेट द्वारा सामने लाया गया है, वह भी बात को आगे बढ़ाने के लिए कुछ कम नहीं है। हमारे धार्मिक और राष्ट्रीय नेताओं की जो प्रतिक्रियाऐं सामने आई हैं, उनकी रौशनी में भी एक पत्रकार के तौर पर अपने विचारों को प्रकट किया जा सकता है, मगर मैं अपने इस लेख के माध्यम से अपने पाठकों से जो निवेदन करना चाहता हूं, वह भी मेरे लिए उतना ही मुश्किल फैसला है, जितना कि यह ऐतिहासिक निर्णय देने वाले जस्टिस एस.यू खान, जस्टिस धर्मवीर शर्मा और जस्टिस सुधीर अग्रवाल के लिए मुशिकल रहा होगा।
‘‘बाबरी मस्जिद-राम जन्म भूमि मिल्कियत’’ मुकदमे के वकील मोहतरम जफरयाब जीलानी सहित अन्य सभी मुस्लिम नेता और उलेमा-ए-किराम का आभार प्रकट किया जाना चाहिए कि आज जो भी फैसला हमारे सामने है, यह उनकी रणनीति, संघर्ष और दुआओं का परिणाम है। जफरयाब जिलानी साहब का इस फैसले के बाद सुप्रीम कोर्ट जाने का बयान मुकदमे से जुड़े एक वकील का स्वभाविक बयान है। उच्च न्यायालय के बाद उच्चतम न्यायालय जाने की गुंजाइश लगभग सभी मुकदमों में बाकी रहती है, लेकिन क्या इस मामले में ऐसा किया जाये? हमारे कई धार्मिक नेताओं ने भी उच्चतम न्यायालय जाने की राय प्रकट की है। मुसलमानों की राजनीति करने वाले कुछ राजनीतिक नेताओं ने भी इस फैसले से असंतुष्टि प्रकट करते हुए कहा है कि यह निर्णय तथ्यों पर नहीं, आस्था की बुनियाद पर दिया गया है। मैं अत्यंत सम्मानपूर्वक यह अनुरोध करना चाहता हूं कि खुदा के लिए अब इस विषय पर राजनीति बन्द कर दें। और हम जो सुप्रीम कोर्ट जाने का इरादा रखते हैं, एक बार फिर इस इरादे पर पुनर्विचार करें, अपने इस फैसले पर और गौर करके देखें और फैसला जो 30 सितम्बर को उच्च न्यायालय के जज साहेबान द्वारा सुनाया गया, उस पर अत्यंत गंभीरता के साथ यह भी विचार करें कि अगर यह फैसला नहीं होता और वह होता जो हम चाहते थे, बल्कि स्पष्ट शब्दों में अगर कहें कि उस स्थानविशेष, जिसे आस्था की बुनियाद पर रामजन्म भूमि कहा जाता है और अदालत ने भी इसी को बुनियाद मानते हुए निर्णय दिया है, जबकि मुसलमानों का मानना है कि यह वह स्थान है, जिस जगह पर मस्जिद मौजूद थी और यह जगह मुसलमानों को ही मिलनी चाहिए थी, भले ही वह समस्त भूमि का एक तिहाई भाग ही क्यों न होती तो इस फैसले के बाद देश की स्थिति क्या हो सकती थी, बहुसंख्यक जनता की प्रतिक्रिया क्या हो सकती थी। अगर हम इसे भी सरकार की जिम्मेदारी मान लें कि निर्णय को लागू कराना और शांति स्थापित रखना तो सरकारों का काम है तो भी क्या यह संभव था कि वहां नये सिरे से उसी स्थान पर बाबरी मस्जिद का निर्माण किया जा सकता? हां, यह हो सकता था कि फिर एक नये विवाद के साथ यह मामला एक लंबे समय के लिए विवाद का कारण बना रहता और हर दिन नफरतों में वृद्धि करता रहता फिर वर्षों बीत जाने के बाद भी जब यह फैसला आता तो हमारी आने वाली पीढ़ियों के लिए भय और आतंक का वातावरण पैदा कर देता। अब अगर हम सुप्रीम कोर्ट में जाने का इरादा रखते हैं तो किस निर्णय की उम्मीद में, किस फैसले की चाहत में, वही न जिसका उल्लेख मैंने अपनी उपरोक्त कुछ पक्तियों में किया है। इसके विपरीत अगर हम यह तय करते हैं कि अदालत ने जो भी फैसला दिया है हम उसे खुशी के साथ स्वीकार करते हैं, सुप्रीम कोर्ट जाने का इरादा भी छोड़ देते हैं, हिन्दू भाईयों से अपील करते हैं कि एक भव्य मंदिर का निर्माण करें, उस भूमि पर जो न्यायालय द्वारा उन्हें दी गई है, हम उनके सहयोगी साबित होंगे और हम मस्जिद का निर्माण करते हैं, उस जगह पर जो अदालत ने मस्जिद के लिए निर्धारित की है। एक ही जगह खड़े ये दो धार्मिक स्थल मंदिर और मस्जिद के रूप में आने वाली पीढ़ियों के लिए संदेश देंगे कि ये हमारे देश की उस गंगा-जमुनी संस्कृति का प्रतीक हैं, जिनके लिए हमारा देश पूरी दुनिया में एक अलग पहचान रखता है और यही वह ज़ज़्बा है जिसने हज़रत इमाम हुसैन को कर्बला के मैदान से भारत की तरफ चले आने की इच्छा को व्यक्त कराया था और इसके विपरीत अगर हम यह निर्णय करते हैं कि नहीं, हमें तो सुप्रीम कोर्ट जाना ही है, नतीजा कुछ भी हो तो इसका मतलब हम मौजूदा फैसले को नामंजूर करते हैैं। हमें अदालत द्वारा दी गई भूमि पर मस्जिद और मंदिर का निर्माण मंजूर नहीं है। क्या इसका सकारात्मक संदेश जायेगा? क्या फिर से एक नये विवाद की शुरूआत नहीं होगी? हम फिर से उसी भय और आतंक की स्थिति में नहीं पहुंच जायेंगे, जिसमें 30 सितम्बर से पहले थे। फिर यह तीन महीने की अवधि तो सुप्रीम कोर्ट मंे अपील दायर करने के लिए है। सुप्रीम कोर्ट को अपना फैसला सुनाने के लिए कितना समय चाहिये होगा, हमें इसका अंदाज़ा कर लेना चाहिए। यह फैसला 60 साल की जद्दोजेहद और हजारों बेगुनाहों की जानें चली जाने के बाद आया है। अरबों रूपये की समपत्ती नष्ट होने, करोड़ों भारतवासियों को खून के आंसू रूलाने के बाद आया है, फिर अगर ऐसे ही नफरत का माहौल पैदा हो और 15-20 वर्ष तक मुकदमा चलता रहे, अर्थात बाबरी मस्जिद की शहादत 6 दिसम्बर 1992 के 18 साल बाद अदालत इस नतीजे पर पहुंची, जो आज हमारे सामने है। अब 8 हजार पृष्ठों पर आधारित इस निर्णय का सुप्रीम कोर्ट अध्ययन करे, जिसके लिए उसे वर्षों का समय चाहिए होगा, अर्थात फिर 15-20 वर्ष यह विवाद ज़िन्दा रहेगा (यह अवधि कम या और भी अधिक हो सकती है) फिर एक नई पीढ़ी उन परिस्थतियों का सामना करने के लिए विवश होगी, जो सुप्रीम कोर्ट के फैसले के बाद उत्पन्न हो सकती है। फिर अगर अदालत (सुप्रीम कोर्ट)ने इसी फैसले को उचित करार दिया या इस जैसा ही कोई फैसला सामने रखा तो उस परिस्थिति में हम क्या करेंगे। इस सारी जद्दोजेहद के दौरान हिन्दू भाईयों तक यह संदेश तो चला ही जायेगा कि हाईकोर्ट के फैसले के बाद भी हम एक लंबी अवधि तक अर्थात सुप्रीम कोर्ट के फैसला आने की अवधि तक राम मन्दिर के निर्माण में रूकावट बने रहे। हमें उनकी भावनाओं और मान्यताओं से कुछ भी लेना देना नहीं है और अब जो भी कुछ हमारे हक़ में हुआ है, वह न्यायालय (उच्चतम न्यायालय) का निर्णय है, जिसमें मुसलमानों की सौहार्द की भावना शामिल नहीं है। दूसरी स्थिति में निर्णय यदि स्पष्ट रूप से मुसलमानों के पक्ष में आ जाता है तो फिर वही समस्या जिससे आने वाली पीढ़ियों को किन परिस्थितियों से झूझना पड़ेगा। क्या हमारे लिए यह विवेकपूर्ण निर्णय होगा कि हम आज की इस समस्या को अपनी आने वाली पीढ़ियों के लिए छोड़ जाऐं और फिर हमें यह भी ज़हन में रखना चाहिए कि हम सिर्फ और सिर्फ इससे बेहतर निर्णय की उम्मीद ही क्यों करें। यदि निर्णय इससे बुरा हुआ तो.................... अभी इस निर्णय में मुसलमानों के लिए जो गुंजाइश रखी गई है, वह भी न रही तो.................. जो सामने है, वह भी गया और कड़ुवाहट अलग से।
अतः क्या यह उचित नहीं होगा कि सार्वजनिक स्तर पर मुख्यतः मुसलमानों के अंदर इस बात पर विचार विमर्श का सिलसिला आरम्भ हो कि हम इस स्थान पर जो न्यायालय द्वारा मस्जिद के लिए निर्धारित की गई है, एक शानदार मस्जिद (जिसमें प्रतिदिन नमाज़ भी अदा की जाती रहे) का निमार्ण करें और मंदिर को दिए जाने वाले स्थान पर खुशी-खुशी राम मंदिर के निर्माण में पहल करने की भावना प्रकट करें। और यह भी ज़हन में रखें कि श्रीराम जन्मभूमि एक ही हो सकती है, हम दूसरी मस्जिदों के लिए इस मामले को उदाहरण क्यों समझें। फिर भी अगर यह शंका हो तो इस दिशा में उचित क़दम उठायेें। इन शंकाओं को दूर किया जाए। आज पैदा होने वाले बेहतर वातावरण में यह संभव है। जिस तरह वे मुसलमान भाईयों से अपील कर रहे हैं, उसी तरह अपनी शंकाओं को सामने रख कर मुसलमान हिन्दू भाईयों से अपील करें और ऐसे विवादों को हमेशा-हमेशा के लिए ख़त्म कर दें, जो कल फिर हमारे दिलों में नफरत की दीवारें खड़ी कर सकते हैं।

Monday, September 20, 2010

فیصلہ تو آئے پر فاصلہ نہ بڑھنے پائے

عزیز برنی

جیسے جیسے4ستمبر کا دن قریب آرہا ہے، لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں بڑھتی جارہی ہیں،کچھ فکر بھی ہے اور کچھ خوف بھی۔ آج صبح جب دہلی کی وزیراعلیٰ محترمہ شیلا دیکشت نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا کہ عزیز بھائی آپ کا اخبار بہت مقبول ہے اور آپ کا لکھا بہت پڑھا جاتا ہے اور اس وقت امن و اتحاد کا پیغام گھر گھر تک پہنچنا بے حد ضروری ہے، لہٰذا میری یہ درخواست ہے کہ آپ اپنے لفظوں میں میرا یہ پیغام ہر گھر تک پہنچادیں کہ ہم سب امن و اتحاد قائم رکھیں، افواہوں پر توجہ نہ دیں، لوگ جگہ جگہ اکٹھے ہوکر اس طرح کی باتیں نہ کریں، جس سے افواہیں پھیلانے والوں کو کوئی موقع ملے۔ ہماری اپنی طرف سے حفاظتی انتظامات کی تیاری مکمل ہے، لیکن عوام اور میڈیا کے تعاون کے بغیر یہ مشکل ہوگا۔
باتیں اور بھی ہوئیں، ان کے لہجہ میں ایک ایک لفظ سے ان کی ذمہ داری اور امن و اتحاد کے لئے فکرمندی کے جذبہ کا احساس ہورہا تھا۔ ان کی بات کا اصل مقصد یہی تھا کہ تمام ہندواورمسلمان 24ستمبر کو بابری مسجد کی ملکیت کے سلسلہ میں آنے والے فیصلہ کو لے کر قطعاً فکرمند نہ ہوں۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ جانے کا راستہ سبھی کے لئے کھلا ہے۔ ہاں، مگر کچھ شرارتی عناصر ضرور ماحول بگاڑنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ہمیں ان سے محتاط رہنا ہے، انہیں ناکام بنانا ہے۔میں ان کے اس جذبہ کی قدر کرتا ہوں اور ان کی رائے سے اتفاق بھی رکھتا ہوں۔
کل صبح سے ہی تقریباً تمام ٹی وی چینلوں پر اور آج صبح کے اخبارات میں، میں نے دیکھا کہ دہلی کی جامع مسجد کے سامنے غیرملکی سیلانیوں کی بس پر حملہ کئے جانے کی خبر سرخیوں میں تھی۔ بیشک یہ خبر نظرانداز کئے جانے کے لائق تو قطعاً نہیں تھی، اس کا نشر کیا جانا اور شائع کیا جانا ضروری تھا۔ حکومت کے لئے ضرور یہ ایک فکرمندی کی بات تھی کہ وہ سمجھ لے کہ اس کا حفاظتی انتظام کتنا چست درست ہے یا اسے مزید بہتر بنانے کی کس حد تک ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اس بات کے لئے ضرور اللہ کا شکر ادا کیا جانا چاہئے اور مستعد پولیس اہلکاروں کی تعریف بھی کی جاسکتی ہے، مگر جس طرح صبح 11.22بجے کے اس واقعہ کے بعد سے دیر رات تک اس خبر کے صرف ایک ہی پہلو کو لے کر گفتگو کی جاتی رہی، کیا اس سے پورے ملک میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا نہیں ہوگا؟ جیسا کہ میں نے ابتدا میں ہی عرض کیا کہ خبر نظرانداز کئے جانے کے لئے لائق نہیں تھی، اس پر بھرپور توجہ دینے اور سرکار کو متوجہ کرنے کی ضرورت تھی، مگر ایسی خبروں کو بہت زیادہ طول دینے کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ یقینا یہ کچھ شرارتی عناصر رہے ہوں گے، جن کا مقصد ماحول کو خراب کرنا ہی رہا ہوگا۔ یہ کسی دہشت گرد تنظیم کی منظم سازش کا حصہ نہیں لگتا، جیسا کہ پولیس کا ماننا بھی ہے، تاہم بی بی سی کو انڈین مجاہدین کی جانب سے ملے ایـمیل کی خبر بھی موضوع بحث رہی۔ 13ستمبر008کو دہلی میں ہوئے بم دھماکوں کے بعد سے جس نامعلوم دہشت گرد تنظیم ’’انڈین مجاہدین‘‘ کا نام سامنے آیا تھا، وہ ایک بار پھر سرخیوں میں نظر آیا۔ حالانکہ اس درمیان گزشتہ دو برسوں میں انڈین مجاہدین کا نام سننے کو نہیں ملا۔ جہاں تک ہمارا ماننا ہے، اس نازک وقت میں بغیر تصدیق کے کسی کے ذریعہ بھی کوئی ایسی بات نہیں کہی جانی چاہئے، جسے مذہبی تناظر میں دیکھا جاسکے، جس سے کسی مخصوص فرقہ کی طرف انگلیاں اٹھائی جاسکیں۔ دہشت گردانہ عمل کسی مسلمان کا ہو یا کسی ہندو کا، ایسی کوئی بھی کارروائی کسی مسلم دہشت گرد تنظیم کی جانب سے ہو یا ہندو دہشت گرد تنظیم کی جانب سے، پہلی کوشش اسے ناکام بنانے کی، مجرموں کو گرفتار کرکے انہیں ان کے کیفرکردار تک پہنچانے کی ہونی چاہئے، نہ کہ اس سے کوئی ایسا پیغام جائے کہ اشارہ کسی مخصوص مذہب کی جانب ہے۔
اس وقت رہ رہ کر ایک سوال ہر طرف سے ذہن میں ابھر رہا ہے کہ کیا پھردسمبرجیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہمیں دونوں واقعات کے فرق کو سمجھنا ہوگا۔ یہ فیصلہ عدالت کی جانب سے آنا ہے اور 6دسمبر992کو جو کچھ ہوا، وہ کسی عدالت کی جانب سے نہیں تھا، وہ ایک ہجوم تھا، جس کے جذبات کو مشتعل کردیا گیا تھا اور کرنے والوں کا سیاسی مقصد جگ ظاہر تھا، تاہم شاید وہ لوگ بھی جو اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، ان ہنگامی حالات کے لئے تیار نہیں تھے۔جیسا کہ مسجد کی شہادت کے لئے ذمہ دار لیڈران کا بھی کہنا تھا کہ ان کا ارادہ مسجد کی عمارت کو مسمار کرنے کا یا نقصان پہنچانے کا قطعاً نہیں تھا، لیکن بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے، بھیڑ کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔ ان کی بات پوری طرح سچ ہویا نہ ہو، مگر اس حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مرکزی حکومت نے بھی یہی سوچا تھا کہ مسجد کے تحفظ کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آج خدانخواستہ اس فیصلہ کو لے کر کسی بھی جگہ لاکھوں لوگوں کے یکجا ہونے کا تو کوئی امکان نہیں ہے، پھر کون شخص ہے جو یہ نہیں جانتا تھا کہ عدالت میں چل رہے اس مقدمے کا ایک دن فیصلہ آنا ہے۔ ہمیں یعنی تمام ہندوستانیوں کو کسی بھی فیصلہ کو کھلے دل سے قبول کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہئے۔ ہمیں یعنی تمام ہندوستانیوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ فیصلے پر اطمینان نہ ہونے کی صورت میں، اسے اپنے موافق نہ پانے کی صورت میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور یہ تو ہوگا ہی، فیصلہ چاہے جو بھی ہو، تب پھر کسی بھی منفی سوچ کو ذہن میں رکھنے کی وجہ کیا۔ ہاں، فکرمندی کی دو باتیں ہیںکہ کسی بھی طبقہ کی جانب سے عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد خوشی یا غصہ کے اظہار میں نکالے جانے والا جلوس لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بھی خراب کرسکتا ہے اور جذبات کو مشتعل کرکے فرقہ وارانہ تصادم کی شکل بھی دے سکتا ہے۔ بس اسی سے بچنے اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہرامن پسند سنجیدہ ہندوستانی کو اپنے اپنے طبقہ میں ذمہ داروں تک پہنچ کر انہیں اس بات کے لئے رجوع کرنا چاہئے کہ اپنی اپنی سطح پر وہ امن و اتحاد کی تلقین کریں۔ مثلاً مساجد میں تمام نمازوں کے بعد امن و اتحاد کی دعا ہو اور ہمارے پیش امام اپنے خطبات میں نمازیوں کو امن و اتحاد قائم رکھنے اور اس پیغام کو آگے تک پہنچانے کی درخواست بھی کریں۔ مسلمان اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ اور ہندو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کے دل میں اٹھنے والے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ حال ہی میں ممبئی میں گنیش مورتی وسرجن کے وقت تک ماحول کا پرامن رہنا اور مکمل تقریب کا انتہائی خوبصورتی سے اختتام تک پہنچنا ایک بڑی اور حوصلہ افزا بات قرار دی جاسکتی ہے، کیوںکہ اسی دوران عیدالفطر کا تہوار بھی تھا۔ مہاراشٹر اور گجرات حساس ریاستیں ہیں۔ مہاراشٹر کے لئے ’’گنیش چترتھی‘‘ کا تہوار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ شیوسینا اورمہاراشٹر نونرمان سینا کو لے کر برابر فکرمندی بھی رہتی ہے، مگر جس طرح کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا، اس کو سامنے رکھ کر یہ امید تو بندھتی ہی ہے کہ 24ستمبر کا دن بھی سکون کے ساتھ گزر جائے گا۔ ہاں،مگر ملک گیر پیمانہ پر جہاں مرکزی حکومت کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا، وہیں ریاستی سرکاروں کو ضلع اور قصباتی سطح پر معقول تیاری رکھنی ہوگی، اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ بڑی تعداد میں جلسہ جلوس کی شکل میں لوگ ایک جگہ اکٹھا نہ ہوں۔ اگر اس دوران کچھ اہم تقریبات یا جلسہ جلوس اور کانفرنسوں کی اجازت پہلے ہی دے دی گئی ہے تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس کا موضوع یا اظہارخیال کرنے والوں کی تقاریر کسی کے بھی جذبات کو مشتعل کرنے والی نہ ہوں۔ ویسے سب سے بہتر صورتحال تو یہی ہوگی کہ عوام خود اپنے طور پر یہ ذمہ داری قبول کریں کہ بغیر کسی خاص ضرورت کے گھر کے باہر جاکر عوامی مقامات پر اکٹھا ہونے سے بچیں۔ کسی بھی طرح کے جلسہ جلوس میں شرکت نہ کریں، جہاں بھی اس کا اندیشہ ہو کہ اس کا تاثر غلط بھی جاسکتا ہے، اس جگہ یا اس عمل سے دور رہیں کیونکہ شرپسند عناصر ایسے کسی بھی موقع کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ باوجود ان تمام پیش بندیوں اور احتیاط کے اگر پھر بھی کہیں یہ نظر آئے کہ کوئی جلوس منعقد کیا جارہا ہے، اظہارمسرت یا فیصلہ سے غیرمطمئن ہونے کی شکل میں اظہار ناراضگی کے ساتھ کچھ نعرے بازی کی جارہی ہے تو آپ اس کے درمیان میں نہ آئیں، خاموشی سے کسی نزدیک کے محفوط مقام پر پناہ لیں۔ اگر یہ ممکن ہوسکے تو اپنے گھروں کے اندر رہیں۔ انتظامیہ کو مطلع کریں اور کسی کے اکسانے پر بھی جوابی کارروائی نہ کریں۔ انتظامیہ کو اطلاع دیتے وقت بھی احتیاطاً صرف ایک جگہ اطلاع دے دینا ہی کافی نہ سمجھیں، بلکہ ایک سے زیادہ ذمہ دار افسروں تک یہ اطلاع پہنچائیں کہ آپ فلاں علاقہ سے فلاں شخص بول رہے ہیں اور وہاں کی صورتحال حکومت اور انتظامیہ کے لئے توجہ طلب ہے۔ بلاتاخیر اپنے علاقہ کے پولیس تھانوں کے نمبر اور ذمہ دار افسروں کے نام مہیا کرلیں اور اپنے پاس حفاظت سے رکھیں۔ ممبران اسمبلی اور پارلیمنٹ، جو بھی آپ کے علاقہ کی نمائندگی کرتے ہوں اور علاقہ کے اخبار یا ٹیلی ویژن چینل ، ان کے دفاتر یا نمائندوں جن کے بھی نمبر آپ کو دستیاب ہوسکیں، ضرور اپنے پاس رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر آپ ان سے رجوع کرسکیں۔ گھر سے باہر کسی بھی ضرورت کے پیش نظر جو شخص نکلے وہ اپنی شناخت ضرور اپنے ساتھ رکھے، تاکہ اچانک اس کی ضرورت پیش آئے تو اسے دکھایا جاسکے اور احتیاطاً ایسے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں کراکر اپنے پاس ضرور رکھیں۔ کسی بھی افسر کے دیکھے جانے کے بعد اگر وہ اسے اپنے پاس چھوڑنے کی ضد کرے تو آپ اسے فوٹوکاپی دے کر اوریجنل اپنے پاس محفوظ رکھ سکیں۔ آپ خود اپنے علاقوں کے حساس مقامات کی نشاندہی کرلیں، اگر بہت ضرورت نہ ہو تو ایسی جگہوں پر جانے سے گریز کریں، جہاں پہلے بھی چھوٹی چھوٹی سی باتوں پر فرقہ وارانہ تصادم ہوتا رہا ہے۔ یہ تمام احتیاطی قدم ہیں، ان کو سامنے رکھنے کا مقصد قطعاً یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ حالات کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے محتاط رہنے کی غرض سے ایسی چند باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سب سے بہتر فیصلہ تو آپ خود لے سکتے ہیں، بہرحال ایسے موقعوں پر پڑوسیوں سے خوشگوار رشتے بہت کام آتے ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ 24ستمبر کو لے کر ہمارے دل و دماغ میں جتنے بھی خدشات ہیں، وہ انشاء اللہ دور ہوں گے، امن و سکون کے ساتھ یہ دن گزر جائے گا، پھر فیصلہ جو بھی آئے، بات صرف اس فیصلہ پر ہوگی۔ اس کے تعلق سے جو بھی قدم اٹھانے کی ضرورت ہوگی، ذمہ دار افراد اس سلسلہ میں اپنی پیش رفت جاری رکھیں گے۔ ہر شخص کو اس فکر میں اس قدر مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ معمول کی زندگی متاثر ہو۔
…………

फैसला तो आए पर फ़ासला न बढ़ने पाए
अज़ीज़ बर्नी

जैसे-जैसे 24 सितम्बर का दिन निकट आ रहा है, लोगों के दिलों की धड़कनें बढ़ती जा रही हैं, कुछ चिंता भी है और कुछ भय भी। आज प्रातः जब दिल्ली की मुख्यमंत्री श्रीमति शीला दीक्षित ने फ़ोन पर गुफ़्तगू करते हुए यह कहा कि अज़ीज़ भाई आपका अख़्बार बहुत लोकप्रिय है, आपका लेख बहुत पढ़ा जाता है और इस समय शांति और एकता का संदेश घर-घर तक पहुंचना बेहद आवश्यक है, इसलिए मेरा यह निवेदन है कि आप अपने शब्दों में मेरा यह संदेश हर घर तक पहुंचा दें कि हम सब मिलकर शांति व एकता बनाए रखें, अफ़वाहों पर ध्यान न दें, लोग जगह-जगह इकट्ठे होकर इस तरह की बातें न करें, जिससे अफ़वाहें फैलाने वालों को कोई मौक़ा मिले। हमारी अपनी तरफ़ से सुरक्षा व्यवस्था की तैयारी मुकम्मल है, लेकिन जनता और मीडिया के सहयोग के बिना यह कठिन होगा।

बातें और भी हुईं, उनके स्वर और एक एक शब्द से उनकी ज़िम्मेदारी और शांति तथा एकता के लिए चिंता की भावनाओं का एहसास हो रहा था। उनकी हर बात का असल उद्देश्य यही था कि तमाम हिंदू और मुसलमान 24 सितम्बर को बाबरी मस्जिद के स्वामित्व के संबंध में आने वाले फ़ैसले को लेकर क़तई चिंतित न हों। हाईकोर्ट के फ़ैसले के बाद सुप्रीमकोर्ट जाने का मार्ग सभी के लिए खुला है। हां, परंतु कुछ शरारती तत्व ज़रूर माहौल बिगाड़ने का प्रयास कर सकते हैं। हमें उनसे सचेत रहना है, उन्हें असफल बनाना है। मैं उनकी इस भावना का सम्मान भी करता हूं और उनकी राय से सहमति भी रखता हूं।

कल सुबह से ही लगभग सभी टेलीविज़न चैनलों पर और आज सुबह के समाचारपत्रों में मैंने देखा कि दिल्ली की जामा मस्जिद के सामने विदेशी सैलानियों की बस पर हमला किए जाने का समाचार सु़िर्ख़यों में था। निःसंदेह यह ख़बर अनदेखी किए जाने योग्य तो बिल्कुल नहीं थी, इसका प्रसारण किया जाना और प्रकाशित किया जाना आवश्यक था। सरकार के लिए ज़रूर यह एक चिंता की बात थी कि वह समझ ले कि उसकी सुरक्षा व्यवस्था कितनी चुस्त-दुरुस्त है या उसे और अधिक बेहतर बनाने की कितनी आवश्यकता है। साथ ही इस बात के लिए ज़रूर अल्लाह का शुक्र अदा किया जाना चाहिए और चैकस पुलिसकर्मियों की प्रशंसा भी की जा सकती है, परंतु जिस तरह सुबह 11.22 की इस घटना के बाद से देर रात तक इस समाचार के केवल एक ही पहलू को लेकर गुफ़्तगू की जाती रही, क्या उससे पूरे देश में भय तथा आतंक का माहौल पैदा नहीं होगा, जैसा कि मैंने आरंभ में ही कहा कि समाचार अनदेखी किए जाने योग्य नहीं थे, इस पर भरपूर ध्यान देने और सरकार का ध्यान आकर्शित करने की आवश्यकता थी। परंतु ऐसे समाचारों को बहुत अधिक तूल देने का नुक़सान भी हो सकता है। निश्चित ही कुछ शरारती तत्व रहे होंगे, जिनका उद्देश्य माहौल को ख़राब करना ही रहा होगा। यह किसी आतंकवादी संगठन के संगठित षड़यंत्र का भाग नहीं लगता, जैसा कि पुलिस का मानना भी है। फिर भी बीबीसी को इण्डियन मुजाहिदीन की ओर से मिले ई-मेल का समाचार भी चर्चा का विषय रहा। 13 सितम्बर 2008 को दिल्ली में हुए बम धमाकों के बाद से जिस अज्ञात आतंकवादी संगठन इण्डियन मुजाहिदीन का नाम सामने आया था वह एक बार फिर सुर्ख़ियों में नज़्ार आया। हालांकि इस बीच पिछले दो वर्षों में इण्डिण्यन मुजाहिदीन का नाम सुनने को नहीं मिला। जहां तक हमारा मानना है इस नाज़्ाुक समय में बिना पुष्टि किए किसी के द्वारा भी कोई ऐसी बात नहीं कही जानी चाहिए, जिसे धार्मिक परिपेक्ष में देखा जा सके, जिससे किसी विशेष समुदाय की ओर उंगलियां उठाई जा सकें। आतंकवादी कार्यवाही किसी मुसलमान की हो या किसी हिंदू की, ऐसी कोई भी कार्रवाई किसी मुस्लिम आतंकवादी, किसी संगठन की ओर से हो या हिंदू आतंकवादी संगठन की ओर से, पहला प्रयास उसे असफल बनाने का, अपराधियों को गिरफ़्तार करके उन्हें उनके अनजाम तक पहुंचाने का होना चाहिए, न कि उससे कोई ऐसा संदेश जाए कि संकेत किसी विशेष धर्म की ओर है। इस समय रह-रह कर एक प्रश्न हर तरफ़ से मन में उभर रहा है कि क्या फिर 6 दिसम्बर जैसी परिस्थितियां हो सकती हैं। हमें दोनों घटनाओं के अंतर को समझना होगा। यह फ़ैसला अदालत की ओर से आना है और 6 दिसम्बर 1992 को जो कुछ हुआ, वह किसी अदालत की ओर से नहीं था, वह एक भीड़ थी, जिसकी भावनाओं को भड़का दिया गया था और भड़काने वालों का राजनीतिक उद्देश्य जग ज़ाहिर था फिर भी शायद वह लोग भी जो इसका राजनीतिक लाभ उठाना चाहते थे इन आकस्मिक परिस्थितियों के लिए तेयार नहीं थे। जैसा कि मस्जिद की शहादत के लिए ज़िम्मेदार नेताओं का भी कहना था कि उनका इरादा मस्जिद की इमारत को ध्वस्त करने या क्षति पहुंचाने का क़तई नहीं था, लेकिन बड़ी संख्या में लोग एकत्र हो गये थे और भीड़ को नियंत्रण में रखना कठिन हो गया था। उनकी बात पूरी तरह सच हो या न हो परंतु इस सच्चाई से तो इनकार नहीं किया जा सकता कि केंद्र सरकार ने भी यही सोचा था कि मस्जिद की सुरक्षा को कोई ख़तरा नहीं है। आज ख़ुदानख़ास्ता इस फैसले को लेकर किसी भी जगह लाखों लोगों के एकत्र होने की तो कोई संभावना नहीं है, फिर कौन व्यक्ति है जो यह नहीं जानता था कि न्यायालय में चल रहे इस केस का एक दिन फैसला आना है। हमें अर्थात सभी भारतीयों को किसी भी फैसले को खुले मन से स्वीकार करने के लिए मानसिक रूप से तैयार रहना चाहिए। हमें अर्थात सभी भारतीयों को यह अधिकार भी प्राप्त है कि फैसले पर संतोष न होने की स्थिति में उसे अपने पक्ष में न पाने की स्थिति में सुप्रीम कोर्ट का दरवाज़ा खटखटाएं और यह तो होगा ही, फैसला चाहे जो भी हो, तब फिर किसी भी नकारात्मक सोच को मन में रखने का कारण क्या है। हां, चिंता की दो बातें हैं कि किसी भी समुदाय की ओर से अदालत का फैसला आने के बाद प्रसन्नता या क्रोध प्रकट करने के लिए निकाली जाने वाली यात्रा क़ानून व्यवस्था की स्थिति को ख़राब कर सकती है और भावनाओं को उत्तेजित करके साम्प्रदायिक टकराव का रूप भी दे सकती है। बस इसी से बचने तथा सावधान रहने की आवश्यकता है। इस समय हर शांतिप्रिय, सहनशील भारतीय को अपने-अपने समुदायों में ज़िम्मेदारों तक पहुंच कर उन्हें इस बात के लिए अनुरोध करना चाहिए कि अपने-अपने स्तर पर वह शांति तथा एकता की अपील करें। उदाहरण स्वरूप मस्जिदों में सभी नमाज़ों के बाद शांति तथा एकता की दुआ हो और हमारे पेशइमाम अपने ख़ुतबों में नमाज़ियों को शांति तथा एकता बनाए रखने और इस संदेश को आगे तक पहुंचाने की भी दरख़्वास्त करें। मुसलमान अपने हिंदू भाइयों के साथ और हिंदू अपने मुसलमान भाइयों के साथ मिलकर एक दूसरे के मन में उठने वाली आशंकाओं को दूर करने का प्रयास करें। हाल ही में मुम्बई में गणेश मूर्ति विसर्जन के समय तक माहौल का शांतिपूर्ण रहना तथा संपूर्ण समारोह का अत्यंत संुदरता के साथ समापन तक पहुंचना एक बड़ी और उत्साहजनक बात कही जा सकती है, क्योंकि इसी दौरान ईदुलफ़ित्र का त्यौहार भी था। महाराष्ट्र तथा गुजरात संवेदनशील राज्य हैं। महाराष्ट्र के लिए ‘गणेश चतुर्थी’ का त्योहार अत्यंत महत्वपूर्ण है। शिवसेना तथा महाराष्ट्र नवनिर्माण सेना को लेकर सदैव चिंता भी रहती है, परंतु जिस प्रकार कहीं कोई अप्रिय घटना घटित नहीं हुई, इसको सामने रख कर यह आशा तो बंधती ही है कि 24 सितम्बर का दिन भी शांति के साथ बीत जाएगा। हां, परंतु देशव्यापी स्तर पर जहां केंद्र सरकार को किसी भी स्थिति से निपटने के लिए मानसिक रूप से तैयार रहना होगा, वहीं राज्य सरकारों को ज़िला तथा क़सबा के स्तर पर पर्याप्त तैयारी रखनी होगी, इस बात का ध्यान रखना होगा कि बड़ी संख्या में जलसे, जुलूस की शक्ल में लोग एक स्थान पर एकत्र न हों। अगर इस बीच कुछ महत्वपूर्ण कार्यक्रमों या सभाओं, यात्राओं तथा सम्मेलनों की अनुमति पहले ही दे दी गई है तो इस बात का ध्यान रखा जाए कि इसका विषय या विचार व्यक्त करने वालों के भाषण किसी की भी भावनाओं को भड़काने वाले न हों। वैसे सबसे बेहतर स्थिति तो यही होगी कि जनता स्वयं अपने तौर पर यह ज़िम्मेदारी स्वीकार करे कि बिना किसी विशेष आवश्यकता के घर के बाहर जाकर सार्वजनिक स्थल पर इकट्ठा होने से बचें। किसी भी तरह के जलसे जुलूस में भाग न लें, जहां भी इसकी आशंका हो कि इसका प्रभाव ग़लत भी पड़ सकता है उस जगह या उस कार्य से दूर रहें क्योंकि शरारती तत्व ऐसे किसी भी अवसर का लाभ उठा सकते हैं। इन तमाम पेशबंदियों तथा सतर्कता के बावजूद अगर फिर भी कहीं यह दिखाई दे कि कोई जुलूस आयोजित किया जा रहा है, प्रसन्नता प्रकट करने या फैसले से असंतोष होने की स्थिति में नाराज़गी प्रकट किए जाने के साथ कुछ नारेबाज़ी की जा रही है तो आप उसके बीच में न आएं, ख़ामोशी से किसी निकट के सुरक्षित स्थान पर शरण लंे अगर यह संभव हो सके तो अपने घरों के अंदर रहें, प्रशासन को सूचित करें और किसी के उकसाने पर जवाबी कार्यवाही न करें। प्रशासन को सूचना देते समय भी सावधानी के तौर पर केवल एक जगह सूचना दे देना ही प्रयाप्त न समझें, बल्कि एक से अधिक ज़िम्मेदार अधिकारियों तक यह सूचना पहुंचाएं कि आप अमुक क्षेत्र से अमुक व्यक्ति बोल रहे हैं और वहां की स्थिति सरकार तथा प्रशासन के लिए ध्यान देने योग्य है। अविलंब अपने क्षेत्र के पुलिस थानों के नम्बर और ज़िम्मेदार अधिकारियों के नाम प्राप्त कर लें और अपने पास सुरक्षित रखें। विधायकों तथा सांसद, जो भी आपके क्षेत्र का प्रतिनिधित्व करते हों और क्षेत्र के समाचारपत्र या टेलीविज़न चैनल, उनके कार्यालय या प्रतिनिधि जिनके भी नम्बर आपको प्राप्त हो सकें, अवश्य अपने पास रखें, ताकि ज़रूरत पड़ने पर आप उनसे सम्पर्क कर सकें। घर से बाहर किसी भी आवश्यकता के मद्देनज़र जो व्यक्ति निकले वह अपनी पहचान अवश्य अपने साथ रखे, ताकि अचानक इसकी आवश्यकता पेश आए तो उसे दिखाया जा सके और एहतियातन ऐसे पहचानपत्रों की फोटोकाॅपियां कराकर अपने पास अवश्य रखें। किसी भी अधिकारी के देखे जाने के बाद अगर वह उसे अपने पास छोड़ने की ज़िद करे तो आप उसे फोटोकाॅपी देकर ओरिजनल अपने पास रख सकें। आप स्वयं अपने क्षेत्रों के संवेदनशील स्थानों को चिन्हित कर लें, अगर बहुत आवश्यक न हो तो ऐसे स्थानों पर जाने से बचें, जहां पहले भी छोटी-छोटी सी बातों पर साम्प्रदायिक टकराव होता रहा है। यह सभी एहतियाती क़दम हैं, इनको सामने रखने का उद्देश्य क़तई यह न समझा जाए कि यह हालात की गंभीरता की ओर इशारा करते हैं, बल्कि किसी भी अप्रिय घटना से सावधान रहने के उद्देश्य से ऐसी कुछ बातों की निशानदही की गई है। सबसे बेहतर फैसला तो आप स्वयं ले सकते हैं, बहरहाल ऐसे अवसरों पर पड़ोसियां से मधुर संबंध बहुत काम आते हैं। आशा की जानी चाहिए कि 24 सितम्बर को लेकर हमारे मन तथा मस्तिष्क में जितनी भी आशंकाएं हैं वह इनशाअल्लाह दूर होंगी। शांति के साथ यह दिन बीत जाएगा, फिर फैसला जो भी आए बात केवल उस फैसले पर होगी। इससे संबंधित जो भी क़दम उठाने की आवश्यकता होगी, ज़िम्मेदार व्यक्ति इस सिलसिले में अपनी पेशरफ़्त जारी रखेंगे, हर व्यक्ति को इस चिंता में इतना पड़ना नहीं चाहिए कि रोज़मर्रा का जीवन प्रभावित हो।

...................................

Wednesday, August 11, 2010

لندن میں جشن آزادی کانفرنس

عزیز برنی

ورلڈ اسلامک فورم لندن کی جانب سے منعقد یوم آزادیِ ہند کی تقریبات کے سلسلے میں 8اگست کی شام 6 بجے 56 Big land street, E1 2ND London یعنی دار العلماء میں ایک اہم کانفرنس منعقد کی گئی ، جس کی صدارت فورم کے چیئرمین عالی جناب مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی۔ دیگر اہم مقررین میں مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ، مدھوبنی ضلع سپول بہار (انڈیا) اور لندن میں روزنامہ جنگ کے سابق ایڈیٹر ظہور نیازی تشریف فرما تھے۔ راقم الحروف نے اس کانفرنس میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ موضوع تھا’’ ہندوستان کی آزادی کے 62 برس کیا کھویا کیا پایا‘‘۔ اسے محض اتفاق کہا جائے یا لندن میں مسلم یکجہتی کی تصویر میرے سامنے اس کانفرنس کے شرکا میں آزادی سے قبل کے ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے ایک ساتھ موجود تھے۔جی ہاں ! ہندوستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشی، تینوں ممالک کے مسلمان اس وقت دارالعلماء کے اس خوبصورت ہا ل میں تشریف فرما تھے، جب میں ان کے درمیان گزشتہ 62 برس کے حالات پر اظہار خیال کر رہا تھا۔ظاہر ہے یہ درد تو سینے میں تھا ہی کہ کبھی ہم سب جو ایک ملک تھے، ایک قوم تھے ،آج سیاست کی چال بازیوں اور اقتدار کی تمنا نے ہمیں الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ہم ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دینے کے لئے وہ ملک اور وہ قوم سب سے زیادہ ذمہ دار ہے جس کی حکمت عملی ہی یہ ہے کہ پھوٹ ڈالو اور راج کرو۔ مجھے اس سے انکار نہیں تاہم ، یہ کہنا ہوگا کہ عجب اتفاق ہے یہ کہ جن کی حکمت عملی، جن کی پالیسی ہی یہ ہے کہ پھوٹ ڈالو اور راج کرو انھوں نے ہمارے ملک کو تو الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا، مگر اپنے ملک میں ہمیں متحد کر دیا۔یعنی لندن ہی نہیں اگر انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں مسلم کالونیوں کا ذکر کریں تو یہ فرق کرنا مشکل ہوگا کہ کہاں ہندوستانی ہیں، کہاں پاکستانی اور کہاں بنگلہ دیشی ۔ یہاں سب ساتھ ساتھ رہتے ہیں ۔لندن میں ایک جگہ کا نام ہے ’’وہائٹ چیپل‘‘تقریباً ایک لاکھ مسلمان یہاں رہتے ہیں، جن میں اکثریت بنگلہ دیشی اور پاکستانی مسلمانوں کی ہے لیکن ہندوستانی مسلمان بھی خاصی تعداد میں یہاں مقیم ہیں ۔اس علاقے سے گزرنے پر آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ انگلینڈ میں نہیں بلکہ کسی مسلم علاقے میں چہل قدمی کر رہے ہیں ۔ دکانوں پر سائن بورڈ انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی ۔بڑی تعداد میں اسلامی لباس یعنی داڑھی ٹوپی، کرتا، پائجامہ، شیروانی اور برقع پوش خواتین۔ اتنا تو ہمیں ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں بھی دیکھنے کو کم ہی ملتا ہے ۔اگر ہم پرانی دہلی اور جمنا پار کے کچھ علاقوں کی بات چھوڑ دیں تو ۔
میں نے اس سلسلے میں جس موضوع پر گفتگو کی آئندہ چند سطروں میں میں اس کا ذکرکروں گا، لیکن جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا یا جو بات سب سے زیادہ قابل توجہ تھی ،اس کا تذکرہ سب سے پہلے ۔
آج اسلام اور مسلمانوں کی تشہیر ساری دنیا میں دہشت گردی کے حوالے سے کی جا رہی ہے۔ 9/11 کے بعد تو میڈیا نے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی یہی شبیہ پیش کرنے کی کوشش کی ۔ انگلینڈ دہشت گردی کی وبا سے محفوظ ملک ہے، جبکہ انگلینڈ میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی مسلمان اچھی خاصی تعداد میں رہتے ہیں،جن کا ذکر میں نے اپنے مضمون کی ابتدائی سطروں میں کیا ہے۔ برٹش پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والوں میں بھی ان کے نام شامل ہیں۔ میں ایک الگ مضمون میں یہ تفصیل پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ آبادی کے تناسب سے برٹش پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کی شرح کیا ہے اور ہندوستان میں کیا ہے؟ فی الحال میں ذکر کر رہا تھا مسلمان اور دہشت گردی کے حوالے سے ۔ میں نے دیکھا جس طرح بے خوف زندگی اور اسلامی شناخت کے ساتھ یہاں کے مسلمان جی رہے ہیں ۔اتنا مجھے بھٹکل ، دیو بند ،اعظم گڑھ یا بٹلہ ہائوس جیسے علاقوں میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ ہندوستان کے شاپنگ مالس میں تو سبھی ہندوستانیوں کو سیکورٹی جانچ سے گزرنا ہوتا ہے، لیکن انگلینڈ میں وہائٹ چیپل علاقے کے ایک شاپنگ مال میں بھی جانے کا اتفاق ہوا اور لندن کے سب سے بڑے شاپنگ مال ویسٹ فیلڈ میں بھی ۔کہیں کوئی سیکورٹی چیک نہیں ۔کیا یہ تمام باتیں ہمیں کچھ سیکھنے کے لئے مجبور نہیں کرتیں؟ آخر کس طرح ایسے ممالک نے اپنے عوام کے لئے بے خوف زندگی اور آسانیاں فراہم کی ہیں ؟کیا ہم ان کی زبان اور لباس کی نقل کے ساتھ ساتھ ان کی انتظامی صلاحیت سے ان کے جمہوری طریقوں سے بھی کچھ سیکھ سکتے ہیں؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے ۔بے شک کہ ہماری جمہوریت پوری دنیا میں ایک الگ مقام رکھتی ہے ،مگر اس سچائی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب اور ذات کے تنازعات اکثر و بیشتر ہماری جمہوریت پر حاوی ہونے لگتے ہیں ۔
اب ذکر اجلاس کے موضوع کے تحت کی گئی تقریر کا ۔تو بے شک لندن کے سامعین کے سامنے میری یہ باتیں نئی ہو سکتی ہیں، مگر اپنے ملک میں گزشتہ چند برسوں میں کشمیر سے کنیا کماری تک ایک کروڑ سے کہیں زیادہ لوگوں کے درمیان خود پہنچ کر میں یہ بات کہتا رہا ہوں کہ ہندوستان کا بٹوارہ دو قومی نظریہ کے تحت نہیں تھا ۔یہ ایک جھوٹا پروپیگنڈہ ہے ، یہ ایک گہری سازش ہے اور آزادی کے بعد کے 62 برسوں میں ہمیں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی بنیاد اسی بٹوارے کی سیاست میں ہے۔ بات صرف اتنی بھی نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ اقتدار کے خواہشمند سیاست دانوں نے بٹوارے کی راہیں ہموار کیں ۔سچ یہ بھی ہے مگر اس سے بھی بڑا سچ ہے متعصب ذہنیت۔ وہی متعصب ذہنیت جس نے 1947 میں ہندوستان کے بٹوارے کی بنیاد رکھی ۔اس کے بعد بابری مسجد کی شہادت یعنی پورے ملک میں فرقہ پرستی کا عالم ، مذہبی فسادات ،بشمول گجرات اور پھر اسی ذہنیت نے استعمال کیا دہشت گردی کا حربہ ۔یعنی مسلمان دہشت گرد ہیں،ڈھول پیٹا جائے ۔میں نے لندن کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے اسی بات کو قابل توجہ اس لئے قرار دیا کہ اگر مسلمان خاص طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے دہشت گرد ہیں ،یا ان سے دہشت گردی کا خطرہ ہے تو انگلینڈ اپنے ملک میں انھیں اس تعداد میں رہنے کی اجازت کیوں دے رہا ہے ؟ اور اگر ان ممالک کے باشندے انگلینڈ میں رہ کر دہشت گرد نہیں ہیں، لیکن جب وہ پاکستان یاہندوستان میں ہوتے ہیں تو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث نظر آتے ہیں ۔تو ایسا کیوں ؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم نے حقائق کی تہہ تک جانے کی کوشش ہی نہیں کی،جو ایک پروپیگنڈہ شروع کیا گیا ہم نے اسی پر بھروسہ کر لیا ۔ خود غرض فرقہ پرستی کی ذہنیت کے سیاست داں انتظامیہ اور میڈیا نے یہی تاثر پیش کیا کہ مسلمان دہشت گرد ہےں اور یہ مسئلہ مسلمانوںکے لئے اتنا بڑا مسئلہ بن گیا کہ آج وہ ہر پل اسی دفاع میں ملوث نظر آتا ہے کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے،اسلام امن کا پیغام دیتا ہے ۔ آج تعلیم اور ملازمت کی فکر بھی کہیں پیچھے چھوٹ گئی۔ سب سے بڑا سوال یہ بن گیا ہے کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے …اور جو دہشت گرد ہیں ، کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمانو میں کوئی دہشت گرد نہیں ، ہر مذہب اور ہر قوم میں دہشت گرد ہو سکتے ہیں ،مگر اس وقت ہم بات ان لوگوں کی کر رہے ہیں ،جو دہشت گردی کے الزام میں پکڑے جا رہے ہیں، وہ ہندو ہیں اور جو دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے تھے لیکن آج بے گناہ ثابت ہو کر با عزت بری ہو رہے ہیں،وہ مسلمان ہیں۔
موجودہ مرکزی حکومت مسلمانون کے حقوق کے معاملے میں ابھی بھی پوری نہیں اتری ہے اور اس طرف گامزن بھی نظر نہیں آتی ۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جو حقائق سامنے آئے ہیں ،ان کی روشنی میں حکومت کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ،ابھی یہ صیغۂ راز میں ہے ۔بابری مسجد مقدمے کا فیصلہ کب آئے گااور وہ انصاف کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کر پائے گا، وہ بھی آنے والا وقت ہی بتائے گا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ بے شک اقلیتی ادارے ہیں،مگر حکومت کے لئے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کیوں ہے اس کا جواب بھی ہمارے ایچ آر ڈی منسٹر کپل سبل کے پاس ہی ہوگا۔ مسلمانوں کے ریزرویشن کے سوال پر بھی ابھی تک حکومت خاموش ہے،کیوں ؟ ایک روز اس سوال کا جواب بھی دینا ہی ہوگا۔
لندن جانے سے قبل اقلیتی امور کے وزیر محترم سلمان خورشید سے تفصیلی ملاقات ہوئی ۔گھنٹے بھر سے زیادہ چلی اس ملاقات میں انھوں نے ایسے تمام موضوعات پر مثبت رویے کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی ہر معاملے میں کچھ ہوگا۔ مردم شماری کے معاملے میں بھی انھوں نے سیکنڈ فیس میں مذہب اور زبان کا کالم ہونے کی یقین دہانی کرائی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کیا کیا کب کب ہوتا ہے ؟مگر ایک بات کے لئے ضرور موجودہ حکومت کو حق پسند قرار دیا جا سکتا ہے، وہ یہ کہ اس نے دہشت گردوں کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھنا شروع کیا ہے ۔ کوئی مذہبی یا تعصبی چشمہ اس کی آنکھوں پر نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ گجرات کے سابق وزیر داخلہ برائے مملکت امت شاہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آتے ہیں اور نریندر مودی کے چہرے سے بھی مسکراہٹ غائب ہو چکی ہے ۔بے شک وہ اپنی ریاست میں عوام کو مخاطب کرتے وقت دلیری کا مظاہرہ کریں مگر ان کی آواز اب کس قدر کمزور ہے اس کا اندازہ تو اب ان کے اپنے کانوں کو بھی ہوتا ہوگا۔ شہید ہیمنت کرکرے نے جو راہ دکھائی تھی ،اے ٹی ایس ایک حد تک اس پر گامزن نظر آنے لگی ہے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ،دیانند پانڈے اور پروہت جیسے لوگ جو چین کی سانس لینے لگے تھے ، اب پھر سے فکر مند نظر آنے لگے ہیں… اور بات بس اتنی ہی نہیں ہے بلکہ پورے ملک نے یہ دیکھ لیا ہے کہ فرقہ پرستی اور سیاست کا گٹھ جوڑ ملک کو کس سمت میں لے جا رہا ہے اور یہ ملک اور قوم کے لئے کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔
یہ تقریر خاصی طویل تھی ایک مختصر مضمون میں تمام نکات پر روشنی نہیں ڈالی جا سکتی ۔محترم مولانا عیسیٰ منصوری اور مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی صاحب کی عالمانہ تقاریر کی تفصیلات بھی اس وقت پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔انشا ء اللہ عالمی سہارا کے کسی خصوصی شمارے میں ہندوستان کے یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں لندن میں منعقد اس کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ اس وقت اس مضمون کو یہیں ختم کرنا ہوگا، اس لئے کہ کل سے رمضان المبارک کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ظاہر ہے کہ اس درمیان نہ تو ہمارے قارئین کے پاس اتنی مہلت ہوگی کہ اخبار بینی کے لئے زیادہ وقت نکال سکیں اور نہ ہی راقم الحروف کے لئے یہ موقع کہ وہ ہر روز ایک مکمل صفحہ کا مضمون قلم بند کر سکے ۔لہٰذا عید تک اس سلسلے کو ملتوی کرنا ہوگا۔ ہاں مگر اس درمیان اگر کچھ انتہائی اہم واقعات سامنے آتے ہیں تو مختصراً ان پر تبصرہ جاری رہے گا۔
لیکن مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے نکسلائٹس کے تئیں جو رویہ اپنایا اسے دیکھنے کے بعد بھی اگر مسلم سیاست داں یا مسلمانوں کے ووٹ پر سیاست کرنے والے لیڈران ،کشمیر کے حالات پر توجہ نہ دیں تو اسے انتہائی افسوس ناک کہا جائے گا۔ اب بات کرتے ہیں ، بہار کی۔تو قوی امکان ہے کہ نومبر کا مہینہ بہار میں ریاستی انتخابات کا مہینہ ہوگا۔ آدھا اگست اور آدھا ستمبر رمضان میں نکل جائے گا۔ لہٰذا اس دوران بہار کی سیاست پر گفتگو کرنے کا زیادہ موقع نہیں ہوگا۔تاہم ایک تجویز میں بہار میں اپنے قارئین اور سیاست دانوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔یہ تو طے ہے کہ ملک اور قوم کا بھلا اسی میں ہے کہ پارٹی کوئی بھی ہو بر سر اقتدار آنے کا موقع انھیں ملے جو پوری ایمانداری کے ساتھ سیکولر ہوں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں یقین رکھتے ہوں ۔اب اگر خالص سیاسی انداز میں بات کی جائے تو مسلمان، دلت اور یادو یہ تین ووٹ متحد ہو کر سوشل انجینئرنگ کے فارمولے کو عمل میں لائیں ۔یعنی سب کو ساتھ لے کر چلیں، بھلے ہی امیدوار کی شکل میں ، تو بر سر اقتدار آسکتے ہیں ۔بہار میں مسلمان ووٹ کس کو سامنے رکھ کر متحد کیا جاسکتا ہے ،اس پر غور کیا جائے ۔ یادوئوں میں کون اس اتحاد میں بہتر نمائندگی کر سکتا ہے ،یہ فیصلہ کر لیا جائے ۔دلتوں میں بہر حال رام ولاس پاسوان کا نام ہی سر فہرست نظر آتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا شرد یادو اور نتیش کمار پوری ایمانداری کے ساتھ پوری طرح بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق ختم کر سکتے ہیں ۔یا لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان سیٹوں کے بٹوارے کو خوش ا سلوبی سے نمٹا کر مسلمانوں کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں ۔ یا پھر نئے سرے سے مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش میں لگے ملائم سنگھ یادو رام ولاس پاسوان کے ساتھ مل کر بہار کے لئے ایک نیا فارمولہ سامنے رکھ سکتے ہیں ۔وہ بہار میں کسی بھی سیکولر اتحاد کے لئے کارگر ثابت ہو سکتا ہے ،جہاں تک کانگریس کا سوال ہے تو ان کے مسلم ریاستی صدر پارٹی کو اس پوزیشن میں لے آئیں گے کہ وہ حکومت بنا لے ،ابھی قیاس سے دور کی بات ہے ۔سرکار بنانے کا ارادہ رکھنے والوں کے لئے بہتر تو یہی ہے کہ اعلیٰ ذاتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ان کی امیدواری پر توجہ دی جائے، مسلمان، دلت اور یادو تین پرکشش ایماندار بھروسے مند چہرے ہوں ،تو بہار کو ایک پائیدار ،سیکولر اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی سرکار مل سکتی ہے ۔پہل مسلمان کریں ،نیتائوں کا انٹر ویو لینا شروع کریں ، انھیں بتائیں کہ جس طرح آپ امیدواروں کا انٹرویو لیتے ہیں ،چونکہ انھیں آپ اپنا نمائندہ چننے کا ارادہ رکھتے ہیں،اس لئے اب آپ کو بھی اس انٹر ویو کے دور سے گزرنا ہوگا،کیونکہ ہم آپ کو اپنا نمائندہ چننے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔دیکھیں ان کا ٹریک ریکارڈ ، طلب کریں، ان سے بر سر اقتدار آنے کے بعد آپ کے لحاظ سے ان کے منصوبے کیا ہیں ۔کون آپ کو کتنی نمائندگی دینے کے لئے تیار ہے ۔ اہم قلم دانوں میں سے کون کون سا آپ کے پاس رہے گا۔ کم از کم ایک با اثر ڈپٹی چیف منسٹر سے کم تو بات نہ ہو۔وزیر اعلیٰ کا عہدہ ابھی دور کی بات ہے مگر رام ولاس پاسوان اس پر بخوشی تیار ہو سکتے ہیں ۔اگر وہ بہار کے چیف منسٹر ہوں تو ایک مسلمان اور ایک یادو دو ڈپٹی چیف منسٹر ہوں ، لالو پرساد یادو تو اس پیشکش کو تسلیم نہیں کریں گے،مگر ملائم سنگھ یادو کے لئے ہاتھ آگے بڑھانا کچھ مشکل نہیں ہوگا۔ ہاں پھر سوا ل یہ پیدا ہوگا کہ مسلمانوں کو متحد کرنے کی ذمہ داری کون قبول کرے؟ آخر بہار میں قد آور مسلمانوں کی کیا کمی ہے ؟ طارق انور کا نام سب پر بھاری اور بہار کے عوام کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقتدار کی چاہ رکھنے والے سیاست دانوں کو بھی یہ فارمولہ سوٹ کرتا ہے یا نہیں۔
…………