<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593</id><updated>2011-11-23T08:32:55.063-08:00</updated><category term='http://www.blogger.com/img/blank.gif'/><title type='text'>Aziz Burney</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><link rel='next' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default?start-index=101&amp;max-results=100'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>537</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-4583785981161628047</id><published>2011-10-12T23:26:00.000-07:00</published><updated>2011-10-12T23:28:08.811-07:00</updated><title type='text'>ٹیم انا کے یک نکاتی پروگرام میںکشمیر ایک نیا موڑ…عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;انا ہزارے اور ان کی ٹیم کے کلیدی ممبران میں سے کوئی بھی سیاستداں نہیں ہی، مگر آج وہ ہندوستان کی سیاست پر حاوی ہیں، لہٰذا یہ تو سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ ان سب کو سیاست کی سمجھ نہیں ہے یا وہ نہیںجانتے کہ سیاست میں کس بات کا فائدہ اور کس کا نقصان ہوتا ہے اور اسی لحاظ سے طے ہوتا ہے کہ کن ایشوز کو اٹھانا ہے اور کن کو نہیں اٹھانا ہی۔ کن ایشوز کے اٹھانے سے کون متاثر ہوگا۔ ملک کے عوام میں کیا پیغام جائے گا، کون دوست بنے گا، کون دشمن بنے گا اور پہلا قدم اٹھانے سے بہت پہلے ہی یہ سب کچھ سوچ لیا گیا ہوگا۔ بہت غوروفکر کے بعد بھی کسی نتیجہ پر پہنچے ہوں گی۔ بدعنوانی کے ایشو کا انتخاب ایسا ہی ایک قطعاً غیرمتنازع ایشو ہی، جس پر کسی کو بھی لبیک کہنے کے سوا، کوئی دوسرا موقع نہیں ہی۔ آخر کون شخص ہوگا، جو یہ کہے کہ بدعنوانی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جانی چاہئی۔ اس لئے کہ جو بھی کہے گا، اپنے اس ایک جملہ سے وہ یا تو بدعنوان یا بدعنوانی کا حامی ثابت ہوجائے گا۔ جب سے ٹیم انا نے بدعنوانی کے خلاف مہم کی شروعات کی ہے اور بھی کئی اہم قومی مسائل ان کے سامنے رکھے گئی۔ بارہا یہ کہا گیا کہ فرقہ پرستی اور دہشت گردی ملک کو درپیش بدعنوانی سے بھی بڑے مسائل ہیں، آپ کو ان پر بھی توجہ دینی چاہئے اور کارگر مہم چلانی چاہئی، لیکن اناہزارے یا ان کی ٹیم کے کسی بھی رکن نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ رام لیلا میدان میں بدعنوانی کے خلاف تاریخ ساز احتجاج کے بعد محض ایک ہفتہ کے اندر ہی دہلی ہائی کورٹ کے سامنے بم دھماکہ ہوا۔ اس کے بعد ایک مہینہ کے اندر ہی متعدد مقامات پر فرقہ وارانہ فسادات یا کشیدگی کے معاملے منظرعام پر آئی۔ کہیں بھی اناہزارے یا ان کی ٹیم کا ممبر نظر نہیں آیا۔ ان کا یک نکاتی پروگرام تھا بدعنوانی کے خلاف مہم، جو ہریانہ میں حصار بائی الیکشن تک پہنچتے پہنچتے کانگریس مخالف مہم میں تبدیل ہوگئی۔ اب کانگریس میں اناہزارے کے خلاف یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ وہ سنگھ پریوار یا بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ان کے اشارے پر چل رہے ہیں۔ موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر تین انا کے لئے اور بھی پریشانی کھڑی کردی کہ اناہزارے کے ابھییان میں آر ایس ایس کے کاریہ کرتا شامل تھی۔ اناہزارے یا ان کی ٹیم آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے نزدیک بھی دکھائی دینا نہیں چاہتی اور کانگریس کی مخالفت بھی کرنا چاہتی ہی۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کانگریس کی مخالفت کا فائدہ کس کو ہوگا، مگر انہیں کانگریس کے خلاف لڑتے ہوئے دکھائی دینے کے ساتھ ساتھ خود کو سیکولر بھی دکھانا ہی۔ اگر اناہزارے اور ان کی ٹیم بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کے ایجنڈے میں فرقہ پرستی کی مخالفت کا ایشو بھی شامل کرلیتی تو پھر انہیں گجرات میں نریندرمودی کے خلاف بھی بولنا پڑتا۔ 6دسمبر992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف بھی بولنا پڑتا۔ لال کرشن اڈوانی کی پچھلی رتھ یاترا جس کے نتیجہ میں متعدد مقامات پرفرقہ وارانہ فسادات ہوئی، اس کے خلاف بھی بولنا پڑتا، جو سیدھے سیدھے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت میں ہوتا۔ شاید اناہزارے اور ان کی ٹیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے بچنا چاہتی تھی، کیونکہ یہ آنے والے کل میں ان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ بن سکتے تھی، لہٰذا ٹیم انا کوئی بھی جوکھم نہیں لینا چاہتی تھی۔اسی طرح دہشت گردی کے ایشو کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلینے کے بعد ہیمنت کرکرے کے انکشافات نے سنگھ پریوار کے جس چہرے کو سامنے رکھا، اس پر بولنا پڑتا۔ سوامی اسیمانند کے اعتراف جرم، جس میں مکہ مسجد بم بلاسٹ، درگاہ اجمیر بم بلاسٹ، سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاؤں بم بلاسٹ کو سنگھ پریوار کی منظم سازش قرار دیا، لہٰذا سنگھ کے خلاف بھی بولنا پڑتا۔ شاید اناہزارے اور ان کی ٹیم سنگھ پریوار کے خلاف نہیں بولنا چاہتی تھی، اس لئے کہ انہیں اپنی مہم چلانے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں سنگھ پریوار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے تعاون اور اس کی حمایت کی بھی ضرورت تھی۔&lt;br /&gt;اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹیم انا کے اس یک نکاتی پروگرام میں کشمیر کے ایشو پر بولنے کی گنجائش کہاں سے نکل آئی۔ اچانک ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ پرشانت بھوشن کو کشمیر ایشو پر بولنا پڑا۔ کشمیر کا ایشو کوئی تازہ مسئلہ تو ہے نہیں۔ حال ہی میں ایسا کوئی ڈیولپمنٹ بھی نہیں تھا کہ کشمیر ایشو پر بولنا ضروری ہوگیا تھا۔ ارون دھتی رائے کے بیان پر جب ہنگامہ چل رہا تھا، اسی وقت پرشانت بھوشن، ارون دھتی رائے کے بیان کی پرزور حمایت کردیتی، ان کا موقف سامنے آجاتا۔ کیا اب ٹیم انا بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ پریوار کے ناپسندیدہ موضوع پر بول کر یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ صرف کانگریس کے ہی نہیں، کچھ معاملات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے موقف کے بھی خلاف ہیں۔ پرشانت بھوشن پر حملہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہی۔ اس کی ہر لحاظ سے مذمت کی جانی چاہئی، مگر اس حملہ سے نقصان کسی کا نہیں ہوگا۔ پرشانت بھوشن کی امیج کو اور بھی طاقت ملے گی، انہیں کھلے ذہن کا شہری تصور کیا جائے گا۔ ان کی حفاظت کا معقول انتظام بھی اب حکومت کو کرنا ہوگا۔ حادثہ کے فوراً بعد اناہزارے کا یہ مطالبہ بھی سامنے آگیا، جسے حکومت کو تسلیم کرہی لینا چاہئی۔ حملہ کرنے والے اندرورما کو بھی کچھ خاص نقصان نہیں ہوگا۔ نیوزچینلوں پر جس طرح اس کے بیان کو دکھایا جارہا ہی، اس سے اس کی وطن سے محبت کرنے والے ایک جوشیلے نوجوان کی تصور ابھرتی ہی۔ پرکاش جاوڑیکر نے حادثہ کے فوراً بعد اپنے بیان میں گو ل مول لفظوں میں کہہ دیا کہ کانگریس جن حالات سے گزررہی ہی، ایسے میں کچھ بھی کرسکتی ہے اور کانگریس کے دگ وجے سنگھ کو ایک بار پھر سنگھ پریوار اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر حملہ کرنے کا موقع مل گیا ہی۔ مگر یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ اناہزارے اور ان کی ٹیم جو بدعنوانی کے علاوہ اور کسی بھی موضوع پر گفتگو کرہی نہیں رہی تھی، آخر اسے کشمیر کے ایشو پر بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ اب اناہزارے اور ان کی ٹیم دیگر موضوعات پر بھی آواز اٹھانے کا ذہن بناچکی ہے اور جلد ہی اب فرقہ پرستی اور دہشت گردی کے خلاف بھی وہ آواز اٹھائیں گے یا پھر پرشانت بھوشن کے ساتھ مارپیٹ کا یہ واقعہ ٹیم انا کی تحریک میں کوئی نیا موڑ لے کر آئے گا۔&lt;br /&gt;٭٭&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-4583785981161628047?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/4583785981161628047/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=4583785981161628047' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4583785981161628047'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4583785981161628047'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/10/blog-post.html' title='&lt;p align=right&gt;ٹیم انا کے یک نکاتی پروگرام میںکشمیر ایک نیا موڑ…&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5616890497757186451</id><published>2011-09-20T03:54:00.001-07:00</published><updated>2011-09-20T03:55:32.909-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Tahreek%20ke%20dar%20parda%20tahreek_ABArticle_1019.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="2821" width="435" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Tahreek%20ke%20dar%20parda%20tahreek_ABArticle_1019.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5616890497757186451?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5616890497757186451/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5616890497757186451'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5616890497757186451'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-3317460153262080182</id><published>2011-09-20T03:53:00.001-07:00</published><updated>2011-09-20T03:55:32.893-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Delhi%20Bum%20Dhamaka_ABArticle_1021.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="1380" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Delhi%20Bum%20Dhamaka_ABArticle_1021.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-3317460153262080182?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/3317460153262080182/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3317460153262080182'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3317460153262080182'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-3847453994430471152</id><published>2011-09-20T03:52:00.000-07:00</published><updated>2011-09-20T03:55:32.900-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Jan%20Lok%20pal%20Bill_ABArticle_1020.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="3983" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Jan%20Lok%20pal%20Bill_ABArticle_1020.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-3847453994430471152?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/3847453994430471152/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3847453994430471152'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3847453994430471152'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-6516443307540377461</id><published>2011-09-20T03:50:00.003-07:00</published><updated>2011-09-20T03:55:32.919-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat_03_ABArticle_1022.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="2315" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat_03_ABArticle_1022.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-6516443307540377461?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/6516443307540377461/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/6516443307540377461'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/6516443307540377461'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-8237521764859720350</id><published>2011-09-20T03:50:00.001-07:00</published><updated>2011-09-20T03:55:32.926-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat-05_ABArticle_1024.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="2165" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat-05_ABArticle_1024.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-8237521764859720350?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/8237521764859720350/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8237521764859720350'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8237521764859720350'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-2216179287662446184</id><published>2011-09-20T03:49:00.001-07:00</published><updated>2011-09-20T03:55:32.881-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat-4_ABArticle_1023.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="1959" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat-4_ABArticle_1023.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-2216179287662446184?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/2216179287662446184/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/2216179287662446184'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/2216179287662446184'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-8292146156719541034</id><published>2011-09-20T03:48:00.000-07:00</published><updated>2011-09-20T03:48:28.997-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat-6_ABArticle_1025.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="2343" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktoobat-6_ABArticle_1025.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-8292146156719541034?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/8292146156719541034/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=8292146156719541034' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8292146156719541034'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8292146156719541034'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/09/blog-post_2987.html' title=''/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-587561060071974997</id><published>2011-09-20T03:47:00.000-07:00</published><updated>2011-09-20T03:47:26.310-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Firqawarana%20hum%20Ahangi_ABArticle_1026.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="2030" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Firqawarana%20hum%20Ahangi_ABArticle_1026.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-587561060071974997?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/587561060071974997/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=587561060071974997' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/587561060071974997'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/587561060071974997'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/09/blog-post_20.html' title=''/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-2475649568292823494</id><published>2011-09-20T03:45:00.000-07:00</published><updated>2011-09-20T03:45:21.662-07:00</updated><title type='text'></title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktubat-07_ABArticle_1027.gif" imageanchor="1" style=""&gt;&lt;img border="0" height="2415" width="436" src="http://urdusahara.net/images/maindetail/Maktubat-07_ABArticle_1027.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-2475649568292823494?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/2475649568292823494/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=2475649568292823494' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/2475649568292823494'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/2475649568292823494'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/09/blog-post.html' title=''/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-4470166908106882053</id><published>2011-06-08T04:19:00.000-07:00</published><updated>2011-06-08T04:33:06.635-07:00</updated><title type='text'>बा - अदब - बा मुलाहिज़ा , होशियार ! हेडली साहब फरमा रहे हैं</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_247_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2520px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_247_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;Click to enlarge&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-4470166908106882053?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/4470166908106882053/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=4470166908106882053' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4470166908106882053'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4470166908106882053'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/06/blog-post_08.html' title='बा - अदब - बा मुलाहिज़ा , होशियार ! हेडली साहब फरमा रहे हैं'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-298756149811364943</id><published>2011-06-08T04:15:00.000-07:00</published><updated>2011-06-08T04:19:15.134-07:00</updated><title type='text'>'जिहाद' इस्लाम के लिए , पाकिस्तान या अमेरिका के लिए</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_246_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2525px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_246_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;Click To Enlarge Image&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-298756149811364943?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/298756149811364943/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=298756149811364943' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/298756149811364943'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/298756149811364943'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/06/blog-post.html' title='&apos;जिहाद&apos; इस्लाम के लिए , पाकिस्तान या अमेरिका के लिए'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5256030783908638516</id><published>2011-05-26T03:09:00.000-07:00</published><updated>2011-05-26T03:15:07.160-07:00</updated><title type='text'>"आतंकवाद के विरुद्ध जंग केवल हिंदुस्तान ने लड़ी है "</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_245_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 485px; height: 2523px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_245_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_245_b.html"&gt;http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_245_b.html&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5256030783908638516?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5256030783908638516/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=5256030783908638516' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5256030783908638516'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5256030783908638516'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_5285.html' title='&quot;आतंकवाद के विरुद्ध जंग केवल हिंदुस्तान ने लड़ी है &quot;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-4489741836043118237</id><published>2011-05-26T02:53:00.000-07:00</published><updated>2011-05-26T03:08:24.219-07:00</updated><title type='text'>येद्दियुरप्पा जी ये आपके चुनाव क्षेत्र का मामला है</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_244_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2519px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_244_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;a href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_244_b.html"&gt;http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_244_b.html&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-4489741836043118237?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/4489741836043118237/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=4489741836043118237' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4489741836043118237'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4489741836043118237'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_26.html' title='येद्दियुरप्पा जी ये आपके चुनाव क्षेत्र का मामला है'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-3335356293470961756</id><published>2011-05-25T02:02:00.000-07:00</published><updated>2011-05-25T02:08:05.319-07:00</updated><title type='text'>लो मान लिया तुम ही बरतर , " चलो अब तो जियो और जीने दो "</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_243_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2522px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_243_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;click to enlarge picture&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-3335356293470961756?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/3335356293470961756/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=3335356293470961756' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3335356293470961756'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3335356293470961756'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_9073.html' title='लो मान लिया तुम ही बरतर , &quot; चलो अब तो जियो और जीने दो &quot;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-6528424215094655351</id><published>2011-05-25T01:56:00.000-07:00</published><updated>2011-05-25T02:01:59.831-07:00</updated><title type='text'>मौलाना मसूद , हाफिज़ सईद कुछ स्वामी असीमानंद से सीख ले !</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_241_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2517px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_241_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;click to enlarge picture&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-6528424215094655351?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/6528424215094655351/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=6528424215094655351' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/6528424215094655351'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/6528424215094655351'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_25.html' title='मौलाना मसूद , हाफिज़ सईद कुछ स्वामी असीमानंद से सीख ले !'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-994722901955939912</id><published>2011-05-18T06:30:00.000-07:00</published><updated>2011-05-18T06:36:29.714-07:00</updated><title type='text'>खुला पैगाम है "ममता" की जीत और "करूणानिधि" की हार......</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_240_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2519px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_240_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-994722901955939912?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/994722901955939912/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=994722901955939912' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/994722901955939912'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/994722901955939912'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_18.html' title='खुला पैगाम है &quot;ममता&quot; की जीत और &quot;करूणानिधि&quot; की हार......'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-8861819548933694075</id><published>2011-05-11T23:41:00.000-07:00</published><updated>2011-05-13T13:29:22.491-07:00</updated><title type='text'>पाकिस्तान ने चुनी मौत मगर Slow Poison  से</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_239_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2523px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_239_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;Click To enlarge the image&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-8861819548933694075?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/8861819548933694075/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=8861819548933694075' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8861819548933694075'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8861819548933694075'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/slow-poison.html' title='पाकिस्तान ने चुनी मौत मगर Slow Poison  से'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5476937855408710833</id><published>2011-05-11T23:37:00.000-07:00</published><updated>2011-05-13T13:29:22.388-07:00</updated><title type='text'>बिन लादेन आतंकवादी था या अमेरिका का दुश्मन ?</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_238_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 480px; height: 2519px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_238_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;Click to enlarge the image&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5476937855408710833?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5476937855408710833/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=5476937855408710833' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5476937855408710833'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5476937855408710833'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_11.html' title='बिन लादेन आतंकवादी था या अमेरिका का दुश्मन ?'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-6412630531149387201</id><published>2011-05-10T03:26:00.000-07:00</published><updated>2011-05-10T03:31:46.134-07:00</updated><title type='text'>अमेरिका को इन सवालों का जवाब देना होगा</title><content type='html'>&lt;a href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_237_b.html"&gt;http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_237_b.html&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-6412630531149387201?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/6412630531149387201/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=6412630531149387201' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/6412630531149387201'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/6412630531149387201'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_8861.html' title='अमेरिका को इन सवालों का जवाब देना होगा'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5388093457814911977</id><published>2011-05-10T03:10:00.000-07:00</published><updated>2011-05-10T03:20:12.666-07:00</updated><title type='text'>कभी अमेरिका के दोस्त कभी दुश्मन - सद्दाम , बिन लादेन , पाकिस्तान</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_236_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 859px; height: 2525px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_236_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5388093457814911977?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5388093457814911977/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=5388093457814911977' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5388093457814911977'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5388093457814911977'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post_10.html' title='कभी अमेरिका के दोस्त कभी दुश्मन - सद्दाम , बिन लादेन , पाकिस्तान'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-3687195707141924049</id><published>2011-05-06T02:51:00.000-07:00</published><updated>2011-05-06T02:54:28.607-07:00</updated><title type='text'>लादेन की मौत- किसकी जरुरत</title><content type='html'>&lt;a onblur="try {parent.deselectBloggerImageGracefully();} catch(e) {}" href="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_235_b.jpg"&gt;&lt;img style="cursor:pointer; cursor:hand;width: 1794px; height: 2435px;" src="http://www.azizburney.com/articles/azad_hind_ka_itihas/part_235_b.jpg" alt="" border="0" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-3687195707141924049?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/3687195707141924049/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=3687195707141924049' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3687195707141924049'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3687195707141924049'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/05/blog-post.html' title='लादेन की मौत- किसकी जरुरत'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7386896192454160433</id><published>2011-04-06T22:06:00.000-07:00</published><updated>2011-04-06T22:07:30.063-07:00</updated><title type='text'>مالیگاؤں ملزمان کی رہائی ہوئی مشکل، بدل گیا اسیمانند کا بیانعزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;اسیمانند کے بیان کا بقیہ حصہ مجھے آج قارئین کی خدمت میں پیش کرنا ہی، حالانکہ یہ تسلسل میں چار روز قبل ہی قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جاناچاہئے تھا، مگر کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستان کی شاندار فتح اور چندناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ ممکن نہیں ہوسکا۔ بیان کا ابتدائی حصہ ہم 3اپریل011کی اشاعت میں قارئین کی خدمت میں پیش کرچکے ہیں۔ ابتدائی حصہ کے مقابلہ آج کا اختتامی حصہ کہیں زیادہ اہم ہی، جو ہم آج کی تحریر کے شروعاتی جملوں کے بعد آپ کی خدمت میں پیش کرنے جارہے ہیں۔ اسیمانند نے اپنے بیان کی شروعات میں اپنی ذاتی زندگی پر روشنی ڈالی تھی۔ کہاں، کس گھر خاندان میں پیدا ہوئی، بچپن کس طرح گزارا، مذہبی خیالات نے کب ان کے دل و دماغ میں جگہ بنائی، سوامی وویکانند کی شخصیت سے متاثر ہونا، آدی واسیوں کی خدمت کا جذبہ دل میں پیدا ہونا، بچپن ہی سے سنگھ پریوار سے وابستگی، پھر اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے باقاعدہ ان کی تحریک میں شامل ہونا۔ اقبالیہ بیان کا باقی حصہ پیش کرنے سے قبل ہم اس ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی۔ ابھی ہم اس نتیجہ پر نہیں پہنچنا چاہتے کہ اسیمانند نے 18دسمبر010 کو مجسٹریٹ  دیپک دباس کی عدالت میں جو بیان دیا، وہ بغیر کسی دباؤ کے تھا یا دباؤ کے تحت دیا گیا۔ جہاں تک ابتدائی زندگی کے حالات کا تعلق ہے تو اس میں پولیس کی کیا دلچسپی ہوسکتی ہے اور اگر یہ بیان دباؤ میں دلوایا گیا، کیا پولیس کو اس بات کی ضرورت تھی کہ اسیمانند کے بیان میں ان کی ابتدائی زندگی کے وہ پہلو سامنے رکھیں، جن کا بم دھماکوں کے کیس سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا، سوائے اس کے کہ سنگھ پریوار سے ان کے قریبی رشتے رہی۔ لیکن004سے پہلے کے قریبی رشتے اس نوعیت کے نہیں تھے کہ انہیں قابل اعتراض کہا جاسکے اور وہ تمام باتیں جو اقبالیہ بیان کے ابتدائی حصہ میں تھیں، پولیس کی اطلاعات سے کہیں زیادہ خود اسیمانند کی جانکاری پر ہی مبنی نظر آتی ہیں۔ اپنی زندگی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنی، آدی واسیوں کی خدمت میں کام کرنے کے سلسلہ میں وہ کہاں کہاں گئی، کتنے روز کہاں رکی، یہ سب پولیس کی دلچسپی کا موضوع نہیں ہوسکتا تھا، اس لئے کہ نہ تو اس دوران کسی مجرمانہ سرگرمی سے ان کا کوئی تعلق رہا اور نہ اس دوران کوئی ایسا شخص ان کی زندگی میں آیا، جس سے کہ پولیس نے ان پر نظر رکھنی شروع کی ہوتی۔ جنوری003کے بعد کے جو واقعات ملتے ہیں، جب ان کی سادھوی پرگیہ سنگھ سے ملاقات ہوئی اور یہ بات انہیں جینتی بھائی کیوٹ کے ذریعہ معلوم ہوئی کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ان سے ملنا چاہتی ہی۔ اس سے پہلے اکتوبر002تک آدی واسیوں کی خدمت کے لئے 9دن تک ضلع ڈانگ میں انہوں نے شبری کمبھ کے نام سے کیمپ چلایا، تب تک ایسی کسی بھی مشتبہ سرگرمی سے اسیمانند کی وابستگی ظاہر نہیں ہوتی۔ اکتوبر002 کے ’’شبری کمبھ آیوجن‘‘ کے دوران ہی آر ایس ایس کے ان کارکنان سے اسیمانند کی ملاقات نظر آتی ہی، جن سے آگے چل کر بم دھماکوں کا رشتہ جڑتا ہی، لیکن اکتوبر002سے پہلے تک پولیس کے ذریعہ اسیمانند پر نظر رکھے جانے کی کوئی وجہ نہیں ملتی۔ اس سے پہلی کی زندگی کے بارے میں انہوں نے جو بھی بتایا ہی، وہ سب کچھ اسیمانند کی خود کی جانکاری پر ہی منحصر نظر آتا ہی۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اب پیش ہے اسیمانند کے بیان کا بقیہ حصہ، اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ جاری رہے گا:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;’’اس کے دوتین مہینے بعد ایک فون آیا کہ سنیل آپ کو فون کرنے کی کوشش کررہا ہی، لیکن فون نہیں لگ رہا ہے اورایک دودن میں وہ آپ کے پاس آکر ملے گا۔دوتین دن بعد سنیل میرے پاس آیا اور اس کے ساتھ میں دو لڑکے تھے جن کے نام راج اور میہُل تھی۔راج اور میہُل شبری دھام میںسنیل کے ساتھ پہلے بھی تین چار بار آچکے تھی۔سنیل نے مجھے بتایاکہ اجمیر میںجو بم دھماکہ ہواہی، وہ ہمارے لوگوں نے ہی کیاہی۔سنیل نے یہ بھی بتایا کہ وہ بھی وہاںپر تھا۔میں نے سنیل سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ اور کون لوگ تھی۔سنیل نے مجھے بتایا کہ ہمارے ساتھ اور دومسلمان لڑکے تھی۔میں نے سنیل جوشی سے یہ پوچھا کہ مسلم لڑکے تمہیں کیسے ملے تو سنیل جوشی نے کہا کہ لڑکے اندریش جی نے دیے تھی۔میں نے سنیل جوشی کو بتایا کہ اندریش جی نے اگر آپ کو مسلم لڑکے دیے ہیں تو آپ جب پکڑے جائیں گے تو اندریش جی کا نام بھی آسکتاہی۔میں نے سنیل جوشی کو کہا کہ اس کو اندریش جی سے جان کا خطرہ ہی۔میں نے سنیل جوشی کویہ بھی کہا کہ تم نے مسلمان لڑکوں سے کام کروایا ہے توتمہیں مسلمانوں سے بھی اپنی جان کا خطرہ ہی۔میں نے سنیل جوشی کو کہا کہ تم کہیں مت جائو بلکہ یہیں پر رکو۔سنیل جوشی نے مجھے بتایا کہ اسے دیواس (مدھیہ پردیش) میں کچھ کام ہے اور وہ جلد جاکر جلد ہی واپس آجائے گا۔سنیل نے کہا کہ راج اور میہُل کو وہ وہیں پر چھوڑ کر جائے گا۔سنیل جوشی نے یہ بھی بتایا کہ راج او رمیہُل بڑودہ بیسٹ بیکری واقعہ میں بھی مطلوب ہیں۔میں نے سنیل کو کہا کہ بیسٹ بیکری واقعہ بھی گجرات کا ہے او رشبری دھام بھی گجرات میں ہی، اس لیے ان کو یہاں رکھنا ٹھیک نہیںہے ،اس لیے یہاں سے انہیں لے جائو۔سنیل جوشی ان دونوںکو لے کر دوسرے دن دیواس (مدھیہ پردیش) نکل گیا۔اس کے کچھ دن بعد بھرت بھائی کا فون آیا کہ خبر ملی ہے کہ سنیل جوشی کا قتل ہوگیاہی۔میں نے اسی دن کرنل پروہت کو فون کیا اور بتایا کہ سنیل جوشی کا قتل ہوگیا ہے جو اجمیر بم دھماکہ میں شامل تھا ۔میں نے کرنل پروہت کو کہا کہ تم تو انٹلی جنس میں ہو ، پتہ کرکے بتائو کہ سنیل جوشی کا قتل کس نے کیاہی۔کرنل پروہت نے مجھے بعد میں بتایاکہ سنیل جوشی نے پہلے بھی قتل کیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ اسی کا بدلہ اس سے لیا گیا ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;2005میں شبری دھام میں اندریش جی جو آرایس ایس کی ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں،ہمیں ملے تھی۔ان کے ساتھ آرایس ایس کے سبھی بڑے عہدیداران تھی۔آرایس ایس کے سو رت اجلاس کے بعد سبھی شبری دھام کے درشن کے لیے آئے تھی۔اس کے بعد پمپا سروور میں جہاں شبری کمبھ کا انعقاد ہورہا تھا، وہا ں ایک ٹینٹ میں اندریش جی ہم کو ملے تھی۔اس وقت سنیل جوشی بھی وہاں پر تھی۔اندریش جی نے ہمیں بتایاکہ آپ جو بم کا جواب بم سے دینے کی بات کرتے ہو، وہ آپ کا کام نہیں ہی۔آرایس ایس سے آپ کو حکم ملاہے کہ آدی واسیوں کے درمیان میں کام کرواور بس اتنا ہی کرو۔انہوں نے اوربتایا کہ آپ جو سوچ رہے ہیں ہم لوگ بھی اس موضوع پر سوچتے ہیں ۔سنیل کو اس کام کے لیے ذمہ داری دی گئی ہی۔اندریش جی نے کہا کہ سنیل کو جو مدد چاہیی، وہ ہم کریں گی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مجھے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ سنیل جوشی بھرت بھائی کے ساتھ ناگ پور میںاندریش جی سے ملے تھے اور اندریش جی نے بھرت بھائی کے سامنے سنیل کو 50,000روپے دیے تھی۔کرنل پروہت نے بھی ایک بارمجھے بتایاتھا کہ اندریش جی آئی ایس آئی  کے ایجنٹ ہیں او راس کے پورے کا غذی ثبوت ان کے پاس موجود ہیں،لیکن کرنل پروہت نے مجھے وہ کاغذات کبھی نہیں دکھائی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اپریل 2008میں بھوپال میں ابھینوبھارت کی ایک بڑی میٹنگ ہوئی تھی۔اس میٹنگ میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر،بھرت بھائی،کرنل پروہت، دیانندپانڈی،سدھاکرچترویدی،سمیرکلکرنی،ہمانی ساورکر، تپن گھوش، ڈاکٹر آرپی سنگھ،راجیشور سنگھ وغیرہ موجودتھی۔اس میٹنگ میں میں نے بم کا جواب بم سے دینے کی تجویز رکھی تھی۔وہاں ابھینو بھارت کی ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں پرشانت وغیرہ کا انتخاب ہوا ۔جنوری 2007میں بھی ابھینوبھارت کی ایک میٹنگ میں ،میں کرنل پروہت سے ملا تھا۔پونے میں بھی کرنل پروہت کے ساتھ میں ایک میٹنگ میں موجود تھا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اکتوبر008میں سندیپ ڈانگے کا فون میرے پاس آیا ، میں اس وقت شبری دھام میں ہی تھا ۔سندیپ نے مجھے بتایا کہ وہ ویاراواس جگہ پر ہے اور شبری دھام آنا چاہتاہے او ردوچار دن رکنا چاہتا ہی۔میں نے اسے بتایا کہ میں ابھی ناڈیاڈ جانے کی تیاری میں ہوں اور میرے نہ ہونے سے اس کا وہاں رہنا مناسب نہیں ہوگا۔سندیپ نے کہا کہ آپ اگر نانڈیاڈ جارہے ہیں تو ہمیں بھی لے کر چلیے ہم بڑودہ تک آپ کے ساتھ جائیں گی۔میں اپنی سینٹروکار میں شبری دھام سے ویارا بس اسٹینڈ پر آیا۔سندیپ کے ساتھ ایک اور آدمی تھا اور وہ دونوں بڑی جلدی اور ہڑبڑی میں میری گاڑی میں بیٹھ گئی،جن کے پاس دو تین وزنی سامان کے بیگ بھی تھی۔میں نے ان سے پوچھا کہ کہاں سے آرہے ہو، انہو ںنے کہا کہ مہاراشٹر سے آرہے ہیں۔وہ ٹھیک سے بات نہیں کرپارہے تھی۔میں ان کو لے کر راج پپلا ہوکر بڑودہ راج پپلا روڈ کے جنکشن تک لے کر آیا۔وہ لوگ جنکشن پر اتر گئی۔مجھے بعد میں احساس ہوا کہ وہ دونوں مالیگائوں بم دھماکہ کے اگلے دن ہی مجھے وہاں ملے تھی۔سندیپ کے ساتھ میں جو دوسرا آدمی تھا مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اس کا نام رام جی تھا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;بم دھماکہ کے ہرواقعہ سے قبل یا ایک دودن بعد سنیل مجھے بتاتاتھا کہ یہ ہمارے لوگوں نے کیا ہی، لیکن مالیگائوں کے 2008کے دھماکہ تک سنیل کا قتل ہوچکاتھااورمجھے بعدمیں پتہ چلا کہ مالیگائوں بم دھماکہ بھی ہمارے لوگوں نے ہی کیا تھا۔جب تک سنیل زندہ تھا سبھی بم دھماکے ہم لوگوں نے مل کر کیی، لیکن اب مجھے لگتاہے کہ ہم نے جو بھی کیا وہ غلط کیا۔مجھے اندر سے بہت اذیت ہورہی تھی، اس لیے میں نے یہ قبول کیا ہے ۔میںاورکچھ نہیں کہنا چاہتا۔ ‘‘&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مندرجہ بالا اقبالیہ بیان میں جو باتیں انتہائی اہم ہیں، وہ ہیں سنیل جوشی کی بم دھماکوں سے وابستگی۔ مالیگاؤں بم دھماکوں کی ملزم اور رام سنگھ سے ملاقات کا ذکر اور سنیل جوشی کے حوالہ سے آر ایس ایس کے سینئررکن اندریش کا ذکر۔ جب اندریش کا نام سامنے آیا تھا، تب سنگھ پریوار کے خیمہ میں زبردست ہلچل پیدا ہوئی تھی۔ یہ مالیگاؤں بم دھماکوں کی تفتیش کررہے شہید ہیمنت کرکرے کے ذریعہ ہی سامنے آگیا تھا، جس میں آئی ایس آئی سے ان کے رشتوں کا حوالہ بھی دیا گیا تھا۔ یہی بات اسیمانند کے اقبالیہ بیان میں سامنے آئی، لہٰذا اقبالیہ بیان کے اس حصہ میں اندریش کا ذکر ایک ایسا پہلو ہی، جس پر آگے بھی بحث کی ضرورت باقی ہی۔ دوسری اہم بات سنیل جوشی کا اجمیردرگاہ، مکہ مسجد بم بلاسٹ اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکوں میں ان کے اپنے لوگوں کا ہاتھ بتایا جانا، یعنی سنگھ پریوار سے ان کے تعلق کا اشارہ۔ سنیل جوشی کا قتل کیا جاچکا ہی، سنیل جوشی کے قتل کردئے جانے کا اندیشہ سوامی اسیمانند کو بھی تھا اور انہوں نے سنیل جوشی کو اس خطرے سے آگاہ بھی کیا تھا۔ اسیمانند نے سنیل جوشی کو اندریش سے اپنی جان کا خطرہ بتایا تھا اور ان مسلم لڑکوں سے بھی جو بم دھماکوں میں شامل تھے اور اندریش کے ذریعہ بھیجے گئے تھی۔ اب تین باتیں انتہائی اہم ہیں، جو اس بیان کے بدلنے کی وجہ بھی ہوسکتی ہیں۔ سنیل جوشی کا مندرجہ بالا بم دھماکوں میں ملوث ہونا، بعد میں اس کا قتل ہوجانا، بقول اسیمانند سنیل جوشی کی جان کو اندریش سے خطرہ ہونا۔ ظاہر ہے یہ تفتیش اس سمت میں آگے بڑھتی ہے اور جو باتیں اسیمانند نے کہی ہیں، وہ ثابت ہوتی ہیں تو شک کے دائرے میں اندریش کے آنے کو روکا نہیں جاسکتا۔ ظاہر ہے سنگھ پریوار کے لئے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہی۔ اب اگر یہ بیان سوامی اسیمانند نے پہلے کسی دباؤ کے بعد دیا تھا تو اس کی نوعیت ایک دم مختلف ہوجاتی ہے اور اسی طرح اگر بعد میں دیا گیا بیان دباؤ کی وجہ سے ہے تو بھی اس کیس پر گہرا اثر پڑتا ہی۔ مالیگاؤں بم دھماکوں کے سلسلہ میں رہائی کی آس لگائے مسلم نوجوانوں کے لئے دقت پیدا ہوسکتی ہی۔ یہ قانونی پہلو ہی، جس پر ہم مشہوروکیل مجیدمیمن سے گفتگو کررہے ہیں، ان سے بات چیت کے بعد ایک بار پھر اس موضوع پر اور اس اقبالیہ بیان کے مضمرات پر گفتگو کی جائے گی، لیکن آج کے مضمون میں بس اتنا ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;…………&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-7386896192454160433?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/7386896192454160433/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=7386896192454160433' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7386896192454160433'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7386896192454160433'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/04/blog-post_5453.html' title='&lt;p align=right&gt;مالیگاؤں ملزمان کی رہائی ہوئی مشکل، بدل گیا اسیمانند کا بیان&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7916173759714340654</id><published>2011-04-06T22:05:00.001-07:00</published><updated>2011-04-06T22:05:54.221-07:00</updated><title type='text'>मालेगांव आरोपियों की रिहाई हुई मुश्किल, बदल गया असीमानन्द का बयानअज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;असीमानन्द के बयान का शेष भाग मुझे आज पाठकों की सेवा में पेश करना है, हालांकि यह क्रमानुसार 4 दिन पूर्व ही पाठकों की सेवा में पेश कर दिया जाना चाहिए था, परन्तु क्रिकेट विश्व कप में भारत की शानदार जीत और कुछ अपरिहार्य कारणों से यह सम्भव नहीं हो सका। बयान का आरम्भिक भाग हम 3 अप्रैल 2011 के प्रकाशन में पाठकों की सेवा में पेश कर चुके हैं। आरम्भिक भाग के मुक़ाबले आज का अन्तिम भाग कहीं अधिक महत्वपूर्ण है, जो हम आज के लेख के आरम्भिक वाक्यों के बाद आपकी सेवा में पेश करने जा रहे हैं। असीमानन्द ने अपने बयान के आरम्भ में अपने निजी जीवन पर प्रकाश डाला था। कहाँ, किस घर-परिवार में पैदा हुए, बचपन किस तरह बिताया, धार्मिक विचारधारा ने कब उनके दिल व दिमाग़ में जगह बनाई, स्वामी विवेकानन्द के व्यक्तिव से प्रभावित होना, आदिवासियों की सेवा भावना का दिल में पैदा होना, बचपन ही से संघ परिवार से संलग्नता, फिर उच्च शिक्षा प्राप्त करके नियमित रुप से उनके आन्दोलन में शामिल होना। इक़बालिया बयान का शेष भाग पेश करने से पूर्व इस आरम्भिक जीवन के बारे में कुछ कहना चाहेंगे। अभी हम इस निष्कर्ष पर नहीं पहुंचना चाहते कि असीमानन्द ने 18 दिसम्बर 2010 को मैजिस्ट्रेट दीपक दबास की अदालत में जो बयान दिया, वह बिना किसी दबाव के था या दबाव के तहत दिया गया। जहां तक आरम्भिक जीवन के हालात का सम्बंध है तो उसमें पुलिस की क्या रुचि हो सकती है और अगर यह बयान दबाव में दिलवाया गया, क्या पुलिस को इस बात की आवश्यकता थी कि असीमानन्द के बयान में उनके जीवन के आरम्भ के वह पहलू सामने रखे जिनका उनके केस से कोई सम्बंध साबित नहीं होता, सिवाए इसके कि संघ परिवार से उनके नज़दीकी सम्बंध रहे। लेकिन 2004 से पूर्व के नज़दीकी सम्बंध इस प्रकार के नहीं थे कि उन्हें आपŸिाजनक कहा जा सके और वे तमाम बातें जो इक़बालिया बयान के आरम्भिक भाग में थीं, पुलिस की सूचनाओं से कहीं अधिक ख़ुद असीमानन्द की जानकारी पर ही आधारित नज़र आती हैं। अपने जीवन की आरम्भिक शिक्षा प्राप्त करने, आदिवासियों की सेवा में काम करने के सिलसिले में वह कहां कहां गए, कितने दिन कहां रुके, यह इस दौरान पुलिस की रुचि का विषय नहीं हो सकता था, इसलिए कि न तो इस दौरान किसी आपराधिक गतिविधि से उनका कोई सम्बंध रहा और न इस बीच कोई ऐसा व्यक्ति उनके जीवन में आया, जिससे कि पुलिस ने उन पर नज़र रखनी शुरु की होती। जनवरी 2003 के बाद की जो घटनाएं मिलती हैं, जब उनकी साध्वी प्रज्ञा सिंह से मुलाक़ात हुई और यह बात उन्हें ज्यंतीभाई केवट द्वारा मालूम हुई कि साध्वी प्रज्ञा सिंह उनसे मिलना चाहती है, इससे पूर्व अक्तूबर 2002 तक आदिवासियों की सेवा के लिए 9 दिन तक डांग ज़िला में उन्होंने शबरी कुंभ के नाम से कैम्प चलाया, तब तक ऐसी किसी भी संदिग्ध गतिविधि से असीमानन्द की संलग्नता ज़ाहिर नहीं होती। अक्तूबर 2002 के ”शबरी कुंभ आयोजन“ के बीच ही आर.एस.एस के उन सदस्यों से असीमानन्द की मुलाक़ात नज़र आती है, जिनसे आगे चल कर बम धमाकों का सम्बंध जुड़ता है, लेकिन अक्तूबर 2002 से पूर्व तक पुलिस द्वारा असीमानन्द पर नज़र रखे जाने का कोई कारण नहीं मिलता। इससे पूर्व के जीवन के बारे में उन्होंने जो भी बताया है यह सब कुछ असीमानन्द की स्वंय की जानकारी पर ही आधारित नज़र आता है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अब प्रस्तुत है असीमानन्द के बयान का शेष भाग, उसके बाद गुफ़्तगू का सिलसिला जारी रहेगाः&lt;/div&gt;&lt;div&gt;”उसके 2-3 महीने बाद सुनील का फिर फ़ोन आया कि दोबारा कहा, भरत भाई का फ़ोन आया है सुनील आपसे फ़ोन लगाने का प्रयास कर रहा है लेकिन फोन नहीं लग रहा और एक दो दिन में वो आपके पास आकर मिलेगा। दो तीन दिन बाद सुनील मेरे पास आया और उसके साथ में दो लड़के थे जिसके नाम राज और मेहुल थे। राज और मेहुल शबरी धाम में सुनील के साथ पहले भी तीन चार बार आ चुके थे। सुनील ने मुझे बताया कि अजमेर में जो बम कांड हुआ है वो हमारे लोगों ने ही किया है। सुनील ने यह भी बताया कि वो भी वहां पर था। मैंने सुनील से पूछा कि आपके साथ और कौन-कौन थे। सुनील ने मुझे बताया कि हमारे साथ और दो मुस्लिम लड़के थे। मैंने सुनील जोशी से यह पूछा कि मुस्लिम लड़के तुम्हें कैसे मिले तो सुनील जोशी ने कहा कि लड़के इंद्रेश जी ने दिये थे। मैंने सुनील जोशी को बताया कि इंदे्रश जी ने अगर आपको मुस्लिम लड़के दिये हैं तो आप जब पकड़े जायेंगे तो इंद्रेश जी का नाम भी आ सकता है। मैंने सुनील जोशी को कहा कि उसको इंदे्रश जी से जान का ख़तरा है। मैंने सुनील जोशी को यह भी कहा कि तुमने मुस्लिम से काम करवाया है तो तुम्हें मुस्लिम से भी अपनी जान का ख़तरा है। मैंने सुनील जोशी को कहा कि तुम कहीं मत जाओ यहीं पर रुको। सुनील जोशी ने मुझे बताया कि उसे देवास, मध्य मप्र में कुछ काम है और वो जल्दी जाकर जल्दी वापस आ जायेगा। सुनील ने कहा कि राज और मेहुल को वो वहीं पर छोड़ कर जायेगा। सुनील जोशी ने यह भी बताया कि राज और मेहुल बड़ौदा बैस्ट बैकरी केस में भी वांटेड हैं। मैंने सुनील को कहा कि बैस्ट बैकरी केस भी गुजरात का है और शबरी धाम भी गुजरात में है इसलिए इनको यहां रखना ठीक नहीं है। इसलिए यहां से इन्हें ले जाओ। सुनील जोशी उन दोनों को लेकर दूसरे दिन देवास मप्र निकल गया। इसके कुछ दिन बाद भरत भाई का फ़ोन आया कि ख़बर मिली है कि सुनील जोशी का मर्डर हो गया है। मैंने उसी दिन कर्नल पुरोहित को फोन किया और बताया कि सुनील जोशी नाम के हमारे लड़के का मर्डर हो गया है जो अजमेर बम ब्लास्ट में शािमल थे। मैंने कर्नल पुरोहित को कहा कि तुम तो इंटेलिजेंस में हो तो पता करके बताओ कि सुनील जोशी का मर्डर किसने किया है। कर्नल पुरोहित ने मुझे बताया बाद में कि सुनील जोशी ने पहले भी मर्डर किया था और ऐसा लगता है कि उसी का बदला उससे लिया गया है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;2005 में शबरीधाम में इंद्रेश जी जो आरएसएस की कार्यकारिणी समिति के सदस्य हैं हमें मिले थे। उनके साथ में आरएसएस के सभी बड़े पदाधिकारी थे। आरएसएस की सूरत की बैठक के बाद सभी शबरीधाम के दर्शन के लिए आये थे। उसके बाद पंपा सरोवर में जहां शबरी कुंभ का आयोजन हो रहा था। वहां एक टैंट में इंदे्रश जी हमको मिले थे। उस समय सुनील जोशी भी वहां पर थे। इंदे्रेश जी ने हमको बताया कि आप जो बम का जवाब बम की बात करते हो वह आपका काम नहीं है। आरएसएस से आपको आदेश मिला है कि आदिवासियांें के बीच में काम करो बस उतना ही करो। उन्होंने और बताया कि आप जो सोच रहे हैं हम लोग भी इस विषय पर सोचते हैं। सुनील को इस काम के लिए जिम्मेदारी दी गई है। इंद्रेश जी ने कहा कि सुनील को जो मदद चाहिए वो हम करेंगे।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;मुझे यह भी पता चला था कि सुनील जोशी भरत भाई के साथ नागपुर में इंद्रेश जी से मिले थे और इंदे्रश जी ने भरत भाई के सामने सुनील को 50 हज़ार रुपये दिये थे। कर्नल पुरोहित ने भी एक बार मुझे बताया था कि इंदे्रश जी आई.एस.आई के एजेंट हैं और इसके पूरे डाकुमैंट्स उनके पास हैं। लेकिन कर्नल पुरोहित ने मुझे वह डाॅकुमैंट्स कभी नहीं दिखाए।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अप्रैल 2008 में भोपाल में अभिनव भारत की एक बड़ी मीटिंग हुई थी। उस मीटिंग में मैं, प्रज्ञा सिंह, भरत भाई, कर्नल पुरोहित, दयानंद पांडे, सुधाकर चतुर्वेदी, समीर कुलकर्णी, हिमानी सावरकर, तपन घोष, डा॰ आर.पी सिंह, राजेशवर सिंह आदि लोग मौजूद थे। उस मीटिंग में मैंने बम का जवाब बम से देने का प्रस्ताव रखा था। वहां अभिनव भारत की एक बाॅडी बनाई जिसमें प्रेज़िडेंट आदि का चुनाव हुआ। जनवरी 2007 में भी अभिनव भारत की एक मीटिंग में, मैं कर्नल पुरोहित से मिला था। पुणे में भी कर्नल पुरोहित के साथ मैं एक मीटिंग में उपस्थित था।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अक्तूबर 2008 में संदीप डांगे का फोन मेरे पास आया मैं उस समय शबरी धाम में ही था। संदीप ने मुझे बताया कि वह वियारा वास स्थान पर है और मैं शबरी धाम में आना चाहता हूं और दो चार दिन रुकना चाहता हूं। मैंने उसे बताया कि मैं अभी नाडियाड जाने की तैयारी में हूं और मेरे न होने से उसका वहां रहना उचित नहीं होगा। संदीप ने कहा कि आप अगर नाडियाड जा रहे हैं तो हमें भी लेकर चलिए हम बड़ौदा तक आपके साथ जायेंगे। मैं अपनी सैंट्रो कार में शबरी धाम से वियारा बस स्टैंड पर आया। संदीप के साथ एक और आदमी था और वो दोनोें बड़ी जल्दी और हड़बड़ी में मेरी गाड़ी में बैठ गये। उनके पास दो-तीन वज़न वाले सामान के बैग थे। मैंने उनसे पूछा कि कहां से आ रहे हो। उन्होंने कहा कि महाराष्ट्र से आ रहे हैं। वो ठीक से बात नहीं कर पा रहे थे। मैं उनको लेकर राजपीपला हो कर बड़ौदा राजपीपला रोड के जंक्शन तक लेकर आया। वो लोग जंक्शन पर उतर गये। मुझे बाद में एहसास हुआ कि वो दोनों मालेगांव बम ब्लास्ट के अगले दिन ही मुझे वहां मिले थे। संदीप के साथ में जो दूसरा आदमी था मुझे बाद में मालूम हुआ कि उसका नाम रामजी था।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;बम ब्लास्ट की हर घटना से पहले या एक दो दिन बाद सुनील मुझे बताता था कि यह हमारे लोगों ने किया है लेकिन मालेगांव, 2008 के बम ब्लास्ट तक सुनील का मर्डर हो चुका था और मुझे बाद में पता चला कि मालेगांव 2008 का बम ब्लास्ट भी हमारे लोगों ने ही किया होगा। जब तक सुनील जिंदा था सब बम कांड हम लोगों ने मिलकर किये लेकिन अब मुझे लगता है कि हमने जो भी किया वो ग़लत किया। मुझे अन्दर से बहुत पीड़ा हो रही थी। इसलिए मैंने यह क़बूल किया है। मैं और कुछ नहीं कहना चाहता।“&lt;/div&gt;&lt;div&gt;उपरोक्त इक़बालिया बयान में जो बातें अत्यंत महत्वपूर्ण हैं, वह हैं सुनील जोशी की बम धमाकों से संलग्नता। मालेगांव बम धमाकों की अभियुक्त और राम सिंह से मुलाक़ात का उल्लेख और सुनील जोशी के हवाले से आर.एस.एस के वरिष्ठ सदस्य इंद्रेश की चर्चा। जब इंद्रेश का नाम सामने आया था, तब संघ परिवार के ख़ेमें में ज़बरदस्त हलचल पैदा हो गई थी। यह मालेगांव बम धमाकों की जांच कर रहे शहीद हेमन्त करकरे के द्वारा ही सामने आ गया था, जिसमें आई.एस.आई से उनके सम्बंधों का हवाला भी दिया गया था। यही बात असीमानन्द के इक़बालिया बयान में सामने आई, इसलिए इक़बालिया बयान के इस भाग में इन्द्रेश की चर्चा एक ऐसा पहलू है जिस पर आगे भी बहस की ज़रुरत बाक़ी है। दूसरी महत्वपूर्ण बात सुनील जोशी का अजमेर दरगाह, मक्का मस्जिद बम ब्लास्ट और समझौता एक्सप्रेस धमााकों में उनके अपने लोगों का हाथ बताया जाना, अर्थात संघ परिवार से उनके सम्बंध का इशारा। सुनील जोशी की हत्या की जा चुकी है, सुनील जोशी की हत्या किए जाने की आशंका स्वामी असीमानन्द को भी थी और उन्होंने सुनील जोशी को इस ख़तरे से आगाह भी किया था। असीमानन्द ने सुनील जोशी को इन्दे्रश से अपनी जान का ख़तरा बताया था और उन मुस्लिम लड़कों से भी जो बम धमाकों में शामिल थे और इन्द्रेश के द्वारा भेजे गए थे। अब तीन बातें अत्यंत महत्वपूर्ण हैं, जो इस बयान के बदलने का कारण भी हो सकती हैं। सुनील जोशी का उपरोक्त बम धमाकों में लिप्त होना, बाद में उसकी हत्या हो जाना, असीमानन्द के अनुसार सुनील जोशी की जान को इन्द्रेश से ख़तरा होना। ज़ाहिर है जांच इसी दिशा में आगे बढ़ती है और जो बातें असीमानन्द ने कही हैं वे साबित होती हैं तो संदेह के दायरे में इन्दे्रश को आने से रोका नहीं जा सकता। ज़ाहिर है संघ परिवार के लिए यह कोई साधारण बात नहीं है। अब अगर यह बयान स्वामी असीमानन्द ने पहले किसी दबाव के बाद दिया था तो उसकी स्थिति एक दम भिन्न हो जाती है और इसी तरह अगर बाद में दिया गया बयान दबाव के कारण से है तो भी इस केस पर गम्भीर प्रभाव पड़ता है। मालेगांव बम धमाकों के सिलसिले में रिहाई की आस लगाए मुस्लिम युवकों के लिए दिक्कत पैदा हो सकती है। यह क़ानूनी पहलू है, जिस पर हम सुप्रसिद्व अधिवक्ता मजीद मेनन से गुफ़्तगू कर रहे हैं, उनसे बातचीत के बाद एक बार फिर इस विषय पर और इस इक़बालिया बयान से सम्बद्ध पहलुओं पर गुफ्तगू की जाएगी, लेकिन आज के लेख में केवल इतना ही।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;...................................&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-7916173759714340654?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/7916173759714340654/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=7916173759714340654' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7916173759714340654'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7916173759714340654'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/04/blog-post_06.html' title='मालेगांव आरोपियों की रिहाई हुई मुश्किल, बदल गया असीमानन्द का बयान&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-8414839467643802686</id><published>2011-04-03T22:53:00.000-07:00</published><updated>2011-04-03T22:54:39.792-07:00</updated><title type='text'>اس ٹیم کے فاتحانہ جذبہ کو سلام!عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;ایک دن کے لئے اس سلسلہ کو روکنا ہوگا، جو جاری تھا۔ میری مراد ’اسیمانند کے اقبالیہ بیان‘ سے ہے اور اس کی وجہ کوئی معمولی نہیں، جس کے لئے میں آج کے مضمون کی ابتدا اسیمانند کے بیان سے نہیں کرنا چاہتا۔ دراصل ہندوستانی کرکٹ ٹیم کا ورلڈ کپ جیتنا اپنے آپ میں بہت بڑی بات تھی۔ یہ بہت بڑی بات کئی معنوں میں ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میرے وہ قارئین جو میرے مضامین کا ریکارڈ رکھتے ہیں، انہیں اس ورلڈ کپ کی کامیابی پر میرے تاثرات پڑھنے اور یکجا کرنے کا موقع نہ ملی۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;میں نے پہلی بار یہ دیکھا کہ ایک ہی میچ کے لئے ایک ہی وقت میں ٹاس دو بار کیا گیا۔ شاید کرکٹ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب میچ شروع ہونے سے قبل دونوں کپتانوں کے ذریعہ کئے گئے ٹاس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ موسم اور ماحول کا اثر اکثر میچ پر تو ہوتا رہا ہی، لیکن ٹاس پر یہ پہلی بار دیکھنے کو ملا کہ شور کی وجہ سے ریفری یہ سن نہیں پائے کہ سری لنکا کے کپتان نے کیا کہا ہی، مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ کیا خودسری لنکائی کپتان کمارسنگاکارا اور ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندرسنگھ دھونی نے بھی نہیں سنا کہ دھونی کے سکے کی اچھال پر کمارسنگاکارا کی کال کیا تھی۔ اسٹیڈیم میں موجود سامعین کا شور اتنا تھا کہ کچھ بھی سنائی نہیں دے سکا۔ دونوں کپتان، میچ ریفری اور سکے کے اچھال کے وقت وہاں موجود روی شاستری، یہ سبھی اتنے ایکسائٹڈ تھے کہ ورلڈ کپ فائنل کی شروعات کے سب سے اہم مرحلہ میں ہی چوک ہوگئی۔ بہرحال ٹاس دوبارہ کیا گیا۔ ٹاس کا جیتنا ایک اہم بات تھی، دونوں کپتانوں میں سے کوئی بھی اس بات پر بضد کیوں نہیں ہوا کہ ایک بار ٹاس ہوچکا ہے اور وہ جیت چکا ہے تو دوسری بار کیوں۔ مہندرسنگھ دھونی کی باڈی لینگویج بتارہی تھی کہ پہلی بار سکے کے اچھال میں وہ جیت چکے تھی، میں اس وقت لائیو ٹیلی کاسٹ کے ساتھ ساتھ ’’اسٹارنیوز‘‘ بھی دیکھ رہا تھا۔ جہاں باربار اس منظرکو دکھایا گیا اور دیر تک اس موضوع پر بحث جاری رہی۔ مہندر سنگھ دھونی کا رویہ بہت مثبت تھا اور دوسری مرتبہ میں ٹاس ہار جانے کے بعد بھی ان کے چہرے پر کوئی ملال نظر نہیں آیا۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم فائدے میں نظر آرہی تھی، باوجود اس کے کہ مسٹر کول ’کول‘ ہی رہے اور اپنی ٹیم کے ساتھ میدان کی طرف کوچ کرگئی۔ ظہیر خان نے اپنے پہلے تینوں اوور لگاتار ’میڈن‘ رکھ کر اس بات کا اشارہ دیا کہ ورلڈ کپ جیتنے کے لئے یہ ٹیم جان لڑا دینے کا ارادہ رکھتی ہی۔ حالیہ کرکٹ ورلڈ کپ میں سری لنکا کے سلامی بلے باز اس پورے ٹورنامنٹ کے دوران سب سے بہتر جوڑی ثابت ہوئے اور انہیں پہلے دس اوور تک بہت خاموش رہنے اور احتیاط سے رن بنانے کے لئے مجبور کردینا ایک بہت بڑی بات ہی۔ اس درمیان ظہیر خان نے سری لنکائی سلامی بلے بازاُپل تھرنگا کو وکٹ کے پیچھے اپنے کپتان دھونی کے ہاتھوں کیچ کراکر سری لنکا کے بلے بازوں کو یہ احساس دلایا کہ ہندوستان کے خلاف کامیابی کے خواب کو شرمندئہ تعبیر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہی، تاہم آہستہ آہستہ سری لنکا مضبوطی کی طرف بڑھتا گیا۔ مہیلا جے وردھنے نے اپنی بہترین بلے بازی کے ذریعہ جیتنے لائق اسکور کھڑا کرلیا۔ آخری پانچ اوور میں سری لنکا کے بلے بازوں نے کمال کردیا۔ صرف0گیندوں میں 67رن بہت بڑی بات ہی۔ جب سری لنکا کی اننگ ختم ہوئی تو ان کا اسکور پانچ وکٹ پر 274رن تھا، یعنی ہندوستان کو جیت کے لئے 275رن درکار تھی۔ اسکور بڑا تھا اور اسے پار کرنا آسان کام نہیں تھا، لیکن ہندوستان کے پاس دنیا کے بہترین بلے باز ہیں، اس لئے یہ ہدف مشکل تو لگتا تھا، مگر ناممکن نہیں۔ ہمیں بہت بھروسہ تھا اپنی سلامی جوڑی پر۔ ویریندر سہواگ ایک مضبوط اور تیز شروعات دیں گی، اس کی امید کی جارہی تھی۔ سچن تندولکر اس پورے ٹورنامنٹ میں لگاتار اچھی بلے بازی کررہے تھی۔ آخری مقابلہ شروع ہونے سے قبل دو سنچری سمیت 464رن  بنا چکے تھی۔ بلے بازی کے اس مقابلہ میں ان سے آگے صرف ایک سری لنکائی بلے باز تلک رتنے دلشان تھے اور ان کے بھی محض 3رن زیادہ تھی، یعنی قوی امکان تھا کہ سچن تندولکر نہ صرف ان سے آگے نکل جائیں گی، بلکہ ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز قرار دئے جائیں گی،  ساتھ ہی جس شدت کے ساتھ ان کی 100ویں سنچری کا انتظار تھا، اس کے لئے بھی امید کی جارہی تھی کہ ان کے گھریلو میدان پر اس عظیم بلے باز سے ہمیں یہ کارنامہ بھی  دیکھنے کو ملے گا، مگر افسوس یہ امیدیں پوری نہ ہوسکیں۔ ویریندر سہواگ صرف دو گیندیں کھیل کر ملنگا کی بال پر ایل بی ڈبلیو قرار دئے گئی۔ اس طرح ہندوستان کا جب پہلا وکٹ گرا،اسکور صفر تھا۔ آؤٹ دئے جانے کا فیصلہ بہت صاف شفاف نہیں تھا۔ پوری طرح شک و شبہات سے بھرا تھا۔ آخری فیصلہ کے لئے تھرڈ امپائر کی مدد لی گئی۔ بار بار ایکشن ری پلے میں دکھایا گیا، گیند نے بلے کو چھوا تھا یا نہیں، یہ اتنا واضح نہیں ہورہا تھا کہ پورے یقین کے ساتھ کہا جاسکے اور شک کا فائدہ بلے باز کو ملنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا ویریندر سہواگ آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ آئی۔ ہندوستانی ٹیم اور شائقین کے لئے پہلا مگر بہت بڑا جھٹکا تھا۔ تیزی سے رن بنائے جانے کی امیدیں دم توڑنے لگی تھیں، تاہم سچن تندولکر کی موجودگی قابل اطمینان تھی، لیکن یہ کیا محض 14 گیند پر صرف 18 رن بناکر آؤٹ، کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ واپس لوٹ رہا تھا۔ 100ویں سنچری کی بات تو دور، آج ان کے نام کے ساتھ اتنے رن بھی نہیں تھے کہ ہندوستان جیت کے لئے ایک امید بھری شروعات کرپاتا۔ اب میدان پر گوتم گمبھیر اور وراٹ کوہلی کی جوڑی تھی۔ دونوں ہی اچھے بلے باز تھی، ان کے بعد آنے والے بلے بازوں سے بھی امیدیں کی جاسکتی تھیں، مگر جس طرح ویریندرسہواگ اور سچن تندولکر آؤٹ ہوئی، ایسا لگا کہ ہندوستان اس میچ سے باہر ہوچکا ہی، اب وہ جیت کی لڑائی نہیں لڑپائے گا، بس میدان پر خانہ پری ہوگی اور سری لنکا فائنل جیت جائے گا۔ جلد ہی وراٹ کوہلی بھی آؤٹ ہوکر پویلین لوٹ گئی، اب میدان پر یووراج سنگھ کو آنا تھا اور ان کے بعد سریش رینا کو، تب جاکر بیٹنگ آرڈر کے حساب سے کپتان مہندرسنگھ دھونی آتی، لیکن یہ کیا جب اسکور صرف 3 وکٹ پر14رن بنا تھا اور جیت کے لئے 161رن درکار تھی، بہت مشکل نظر آرہا تھا، کپتان  مہندرسنگھ دھونی خود میدان پر آکر کھڑے ہوگئی۔ اس پورے ٹورنامنٹ میں یعنی ورلڈ کپ کے تمام میچوں کے دوران ایک بلے باز کی حیثیت سے دھونی کی کارکردگی بہت اچھی نہیں رہی تھی اور اس موقع پر شائقین کا ان سے امیدیں وابستہ کرلینابہت مشکل نظر آرہا تھا، لیکن کمال کی خوداعتمادی کا مظاہرہ کیا ہندوستانی کپتان مہندرسنگھ دھونی نی۔ وہ جیسے یہ فیصلہ کرکے آئے تھے کہ اب میں میدان پر جارہا ہوں تو ٹیم کو فتح سے ہمکنار کرکے ہی واپس لوٹوں گا اور ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے گوتم گمبھیر کے ساتھ مل کر ہار کے خطرے سے گزررہی ٹیم کو فتح کی طرف گامزن کیا اور جب یہ لگنے لگا تھا کہ ہندوستان کی یہی جوڑی جیت کے لئے ضروری رن بنانے میں کامیاب ہوجائے گی، تب ہی ایک زوردار شاٹ لگانے کی کوشش میں گوتم گمبھیر آؤٹ ہوگئی۔ اس وقت تک گوتم گمبھیر 97رن بناچکے تھے اور اگر آؤٹ نہ ہوتے تو یہ شاٹ ان کی سنچری کو مکمل کرسکتا تھا۔ اب میدان پر یووراج سنگھ اپنے کپتان کا ساتھ دینے کے لئے آئی۔ یووراج سنگھ نے اس پورے ٹورنامنٹ میں گیند اور بلے سے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا تھا، لیکن کرکٹ کے کھیل میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ ہم نے اسی ٹورنامنٹ کے دوران اپنی ٹیم کو ایک وکٹ پر66 رن بناتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور پھر محض 29رن کے دوران 9وکٹوں کو بھی گرتے دیکھا ہی۔ گیند جب ملنگا جیسے خطرناک بالر کے ہاتھ میں ہواور سہواگ اور تندولکر جیسے بلے بازوں کے وکٹ گرچکے ہوں تو بہت اعتماد کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ گمبھیر کے آؤٹ ہونے کے بعد باقی بچے 51 رن بھی بہت آسانی سے بن جائیں گی، لیکن یووراج سنگھ بھی جیسے فیصلہ کرکے آئے تھے کہ بس اب اور نہیں، جتنے وکٹ گرنے تھے گرچکی۔ جیت کی منزل تک ہمیں ہی پہنچنا ہی۔ شاید یہ بھی ان کے ذہن میں تھا کہ ’مین آف دی ٹورنامنٹ‘ کا خطاب ان سے بہت دور نہیں ہی۔ چار بار ’مین آف دی میچ‘ کا خطاب اسی ٹورنامنٹ میں وہ پہلے ہی جیت چکے تھی، لہٰذا بہت اعتماد اور سنجیدگی کے ساتھ انہوں نے اپنے کپتان کا ساتھ نبھایا۔ اب ہمارے پاس وکٹ بھی تھی، گیندیں بھی تھیں اور رن بھی بہت زیادہ نہیں تھی۔ آہستہ آہستہ چل کر بھی منزل تک پہنچ سکتے تھی، لیکن خوداعتمادی سے بھرے کپتان مہندرسنگھ دھونی کو جیسے ثابت کرنا تھا کہ آج کے ہندوستانی کرکٹ ٹیم ایک ایسی مضبوط اور مکمل ٹیم ہی، جس کا ہرہر کھلاڑی ٹیم کو فتح دلانے کی حیثیت رکھتا ہی۔ ایک دو تین مایہ ناز بلے بازوں کا جلد آؤٹ ہوجانا مخالف ٹیم کے لئے فتح کی امیدیں نہیں جگاسکتا اور ان کے بعد بھی یہ ٹیم شاہانہ انداز میں فتح حاصل کرسکتی ہی، لہٰذا آخری مرحلہ میں انہوں نے جس طرح جارحانہ بلے بازی کی، اسے کرکٹ شائقین ایک لمبے عرصہ تک یاد رکھیں گی۔ اس مکمل مضمون میں اگر دھونی کے وننگ شاٹ کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہے گی، جس طرح نوان کلشیکھرا کی بال پر مہندرسنگھ دھونی کے ایک زوردار شاٹ نے گیند کو میدان کے باہر بھیجا، سارا ہندوستان تالیوں سے گونج اٹھا۔ اب یہ میچ صرف ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم تک محدود نہیں تھا، مہندرسنگھ دھونی کے اس وننگ شاٹ کی دھوم ہر گھر میں سنائی دے رہی تھی۔ یہاں تک کہ یوپی اے کی چیئرپرسن سونیاگاندھی بھی فتح کے اس جشن میں شامل ہونے کے لئے اپنے گھر سے باہر نکل آئی تھیں۔ ہم کیسے کم کرکے آنک سکتے ہیں اس شاندار جیت کو۔ دنیا کے عظیم بلے باز سچن تندولکر کے لئے ورلڈ کپ جیتنے کا یہ تحفہ، ایک ایسا یادگار تحفہ ہے جس کے وہ واقعی مستحق تھے اور ہمیں یہ دیکھ کر اس وقت اور بھی زیادہ خوشی ہوئی کہ کپتان مہندرسنگھ دھونی ظہیرخان کی بانہوں میں بانہیں ڈالے نظر آئے اور کرکٹ کا شہنشاہ سچن تندولکر یوسف پٹھان کے کاندھوں پر تھا۔ سلام اس بھارتیہ کرکٹ ٹیم کو، جس نے ہندوستان کو عظمتوں سے ہمکنار کیا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;امید ہے میرے قارئین کو یہ گراں نہیں گزرا ہوگا کہ میں نے آج کے مضمون میں اسیمانندکے ادھورے بیان کو مکمل نہیں کیا۔ دراصل میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی فتح پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے انتظار نہیں کرنا چاہتا تھا۔ رہا سوال اسیمانند کے بیان کو مکمل کرنے اور اس پر تبصرہ کا تو یہ انشاء اللہ جاری رہے گا۔ بیان کے بقیہ اہم اقتباسات بھی اور میرا تبصرہ بھی۔ ویسے بھی یہ بیان چونکہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور تقریباً تمام ہندوستان اس سے واقف ہی، یہاں ہم اس بیان کے اس پہلو کو واضح کرنے کے لئے ہی ایک بار پھر دے رہے ہیں کہ اگر تمام ملزمین کے اقبالیہ بیانات اسی طرح ان کے بدلے ہوئے بیانات کی وجہ سے مشکوک قرار دئے جاتے رہی، یعنی پہلا بیان صحیح تھا یا بعد کا، یہ ایک پیچیدہ سوال بن گیا ہی، تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم کسی بھی دہشت گردانہ حملہ کے اصل مجرموں تک کیسے پہنچیں گی، سچائی کاپتہ کیسے لگائیں گے اور کوئی بھی سزا کا مستحق کس طرح ثابت ہوپائے گا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس وقت جب میں آج کے مضمون کو آخری شکل دے رہا ہوں، اترولا(گونڈا، یوپی) سے منتظمین کے ذریعہ فون پر رابطہ قائم کرنے کی برابر کوشش کی جارہی ہی۔ اس وقت بات کرنا بھی مشکل ہے اور کل یعنی 4اپریل011کو منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت بھی نہیں کرپاؤں گا، دراصل اس وقت صحت اور مصروفیت کا تقاضا سفر کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے  کہ مجھے 27مارچ011کو حکومت ہند کی جانب سے بیرون ممالک دوحہ، دارالسلام، عدیس ابابا اور خرطوم کے دورہ پر جانے والے میڈیا ڈیلی گیشن میں جانا تھا۔ تمام تیاریاں مکمل ہونی، ٹکٹ تک آجانے کے باوجود یہ ممکن نہ ہوسکا، اس لئے کہ ڈاکٹر کی اجازت نہیں تھی۔ یہی صورتحال آج بھی ہی، اس لئے میں تمام منتظمین اور سامعین سے معذرت خواہ ہوں کہ چاہ کر بھی ان کے درمیان حاضر نہیں ہوپارہا ہوں۔انشاء اللہ پھر کبھی……&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;…………&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-8414839467643802686?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/8414839467643802686/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=8414839467643802686' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8414839467643802686'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8414839467643802686'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/04/blog-post_6578.html' title='&lt;p align=right&gt;اس ٹیم کے فاتحانہ جذبہ کو سلام!&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-9136734067246572471</id><published>2011-04-03T22:52:00.000-07:00</published><updated>2011-04-03T22:53:41.386-07:00</updated><title type='text'>इस टीम के फ़ातहाना जज़्बे को सलाम!अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;एक दिन के लिए उस सिलसिले को रोकना होगा जो जारी था। मेरा आशय असीमानंद के इक़बालिया बयान से है और इसका कारण कोई मामूली नहीं जिसके लिए मैं आजके लेख की शुरूआत असीमानंद के बयान से नहीं करना चाहता। वास्तव में भारतीय क्रिकेट टीम का विश्व कप जीतना अपने आप में बहुत बड़ी बात है। यह बहुत बड़ी बात कई अर्थों में है और मैं नहीं चाहता कि मेरे वो पाठक जो मेरे लेखों का रिकाॅर्ड रखते हैं उन्हंे इस विश्व कप की सफलता पर मेरे विचार पढ़ने और जमा करने का अवसर न मिले।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;मैंने पहली बार यह देखा कि एक ही मैच के लिए एक ही समय में टाॅस दोबारा किया गया। क्रिकेट वल्र्ड कप के इतिहास में शायद यह पहला अवसर है कि मैच शुरू होने से पूर्व दोनों कप्तानों के द्वारा किए गए टाॅस का कोई परिणाम नहीं निकला। मौसम और माहौल का असर अक्सर मैच पर तो होता रहा है लेकिन टाॅस पर यह पहली बार देखने को मिला कि शोर के कारण रेफ़री यह सुन नहीं पाए कि श्रीलंका के कप्तान ने क्या कहा है, मगर हैरानी की बात यह है कि क्या स्वयं श्रीलंकाई कप्तान कुमार संगाकारा और भारतीय क्रिकेट टीम के कप्तान महेंद्र सिंह धोनी ने भी नहीं सुना कि धोनी के सिक्के की उछाल पर कुमार संगाकारा की ‘काल’ क्या थी। स्टेडियम में मौजूद दर्शकों का शोर इतना था कि कुछ भी सुनाई नहीं देता था। दोनों कप्तान, मैच रेफ्ऱी और सिक्के की उछाल के समय वहां मौजूद रवि शास्त्री यह सभी इतने एक्साइटिड थे कि वल्र्ड कप फ़ाइनल की शुरूआत के सबसे महत्वपूर्ण चरण में ही चूक हो गई। बहरहाल टाॅस दोबारा किया गया। टाॅस का जीतना महत्वपूर्ण बात थी, दोनों कप्तानों में से कोई भी इस बात पर अडिग क्यों नहीं हुआ कि एक बार टाॅस हो चुका है और वह जीत चुका है तो दूसरी बार क्यों। महेंद्र सिंह धोनी की बाॅडी लैंग्वेज बता रही थी कि पहली बार सिक्के की उछाल में वह जीत चुके थे, मैं उस समय लाइव टेलीकास्ट के साथ-साथ स्टार न्यूज़ भी देख रहा था। जहां बार-बार इस दृश्य को दिखाया गया और देर तक इस विषय पर बहस जारी रही। महेंद्र सिंह धोनी का रवैया बहुत सकारात्मक था और दूसरी बार में टाॅस हार जाने के बाद भी उनके चेहरे पर कोई मलाल नज़र नहीं आया। टाॅस जीत कर पहले बेटिंग करने वाली टीम लाभ में नज़र आ रही थी, इसके बावजूद ‘मिस्टर कूल’ कूल ही रहे और अपनी टीम के साथ मैदान की तरफ़ कूच कर गए। ज़हीर ख़ान ने अपने पहले तीनों ओवर लगातार मेडन रख कर इस बात का संकेत दिया कि वल्र्ड कप जीतने के लिए यह टीम जान लड़ा देने का इरादा रखती है। हालिया क्रिकेट वल्र्ड कप में श्रीलंका के सलामी बल्ले बाज़ इस पूरे टूर्नामेंट के दौरान सबसे बेहतर जोड़ी साबित हुए और उन्हें पहले दस ओवर तक बहुत ख़ामोश रहने और सावधानी से रन बनाने के लिए मजबूर कर देना एक बहुत बड़ी बात थी। इस बीच ज़हीर ख़ान ने श्रलंकाई सलामी बल्ले बाज़ उपुल थरंगा को विकिट के पीछे अपने कप्तान धोनी के हाथों कैच कराकर श्रीलंका के बल्ले बाजा़ें को यह एहसास दिलया कि भारत के विरुद्ध सफलता के ख़्वाब को सच साबित करना कोई आसान काम नहीं है, फिर भी आहिस्ता-आहिस्ता श्रीलंका मज़बूती की तरफ़ बढ़ता गया। माहिला जय वर्धने ने अपनी बेहतरीन बल्ले बाज़ी के द्वारा जीतने योग्य स्कोर खड़ा कर लिया। अंतिम पांच ओवरों में श्रीलंका के बल्ले बाज़ों ने कमाल कर दिया। सिर्फ़ तीस गेंदों में 67 रन बहुत बड़ी बात है। जब श्रीलंका की पारी समाप्त हुई तो उनका स्कोर पांच विकिट पर 274 रन था, यानी भारत को जीत के लिए 275 रन दरकार थे। स्कोर बड़ा था और इसे पार करना आसान काम नहीं था लेकिन भारत के पास दुनिया के बेहतरीन बल्लेबाज़ हैं इसलिए यह निशाना मुश्किल तो लगता था लेकिन असंभव नहीं। हमें बहुत भरोसा था अपनी सलामी जोड़ी पर। वीरेंद्र सहवाग एक मज़बूत और तेज़ शुरूआत कर देंगे इसकी उम्मीद की जा रही थी। सचिन तेंदुलकर इस पूरे टूर्नामेंट में अच्छी बल्ले बाज़ी कर रहे थे। अंतिम मुक़ाबला शुरू होने से पूर्व दो शतकों समैत 464 रन बना चुके थे। बल्ले बाज़ी के इस मुक़ाबले में उनसे आगे सिर्फ़ एक श्रीलंकाई बल्ले बाज़ तिलक रतने दिलशान थे और उनके भी केवल 3 रन अधिक थे, अर्थात इस बात की अच्छी संभावना थी कि सचिन तेंदुलकर न केवल उनसे आगे निकल जाएंगे, बल्कि टूर्नामेंट में सबसे अधिक रन बनाने वाले बल्ले बाज़ ठहराए जाएंगे, साथ ही जिस शिद्दत के साथ उनके 100वें शतक का इंतिज़ार था उसके लिए भी उम्मीद की जा रही थी कि उनके घरेलू मैदान पर इस महान बल्लेबाज़ से हमें यह कारनामा भी देखने को मिलेगा। मगर अफ़सोस यह उम्मीदें पूरी न हो सकीं। वीरेंद्र सहवाग केवल दो गेंदें खेल कर मलिंगा की बाल पर एल.बी.डब्लयू आउट क़रार दे दिए गए। इस तरह भारत का यह पहला विकिट गिरा। आउट दिए जाने का फ़ैसला बहुत साफ़-सुथरा नहीं था। पूरी तरह शक व संशय से भरा था। अंतिम निर्णय लेने के लिए थर्ड अम्पायर की मदद ली गई। बार-बार एक्शन रिप्ले में दिखाया गया कि, गेंद ने बल्ले को छुआ था या नहीं यह इतना स्पष्ट नहीं हो पा रहा था कि पूरे विश्वास के साथ कहा जा सके और संदेह का लाभ बल्लेबाज़ को मिलना चाहिए था, लेकिन ऐसा नहीं हुआ और वीरेंद्र सहवाग आउट होकर पवैलियन वापस लौट गए। भारतीय टीम और दर्शकों के लिए पहला लेकिन बहुत बड़ा झटका था। तेज़ी से रन बनाए जाने की उम्मीदें दम तोड़ चुकी थीं, फिर भी सचिन तेंदुलकर की उपस्थिति काबिले इत्मीनान थी, लेकिन यह क्या केवल 14 गेंदों पर सिर्फ 18 रन बना कर आउट होकर क्रिकेट की दुनिया का बेताज बादशाह वापस लौट रहा था। 100वें शतक की बात तो दूर आज उनके नाम के साथ इतने रन भी नहीं थे कि भारत जीत के लिए एक उम्मीद भरी शुरूआत कर पाता। अब मैदान पर गौतम गंभीर और विराट कोहली की जोडी़ थी। उनके बाद आने वाले बल्ले बाज़ों से भी उम्मीदें की जा सकती थीं मगर जिस तरह वीरेंद्र सहवाग और सचिन तेंदुलकर आउट हुए ऐसा लगा कि भारत इस मैच से बाहर हो चुका है, अब वह जीत की लड़ाई नहीं लड़ पाएगा, बस मैदान पर ख़ानापुरी होगी और श्रीलंका फ़ाइनल जीत जाएगा। जल्दी ही विराट कोहली  भी आउट होकर पवैलियन लौट गए। अब मैदान पर युवराज सिंह को आना था और उनके बाद सुरेश रेना को तब जाकर बेटिंग आर्डर के हिसाब से कप्तान महेंद्र सिंह धोनी आते, लेकिन यह क्या जब स्कोर केवल तीन विकिट पर 114 था और जीत के लिए 161 रन चाहिए थे, जो बहुत मुश्किल नज़र आरहा था, कप्तान महेंद्र सिंह स्वयं मैदान पर आ कर खड़े हो गए। इस पूरे टूर्नामेंट में अर्थात विश्व कप के तमाम मैचों के दौरान बल्ले से धोनी का प्रदर्शन बहुत अच्छा नहीं रहा था और इस अवसर पर खेल प्रमियों का उनसे आशाएं कर लेना बहुत मुश्किल नज़र आ रहा था लेकिन कमाल के आत्मविश्वास का प्रदर्शन किया भारतीय कप्तान महेंद्र सिंह धोनी ने। वह जैसे कि यह फ़ैसला करके आए थो कि मैं अब मैदान में जा रहा हूं तो टीम को जीत दिलाकर ही वापस लौटूंगा और ऐसा ही हुआ। उन्होंने गौतम गंभीर के साथ मिलकर हार के ख़तरे से गुज़र रही टीम को जीत की तरफ़ बढ़ाया और जब यह लगने लगा था कि भारत की यही जोड़ी जीत के लिए आवश्यक रन बनाने में सफल हो जाएगी तभी एक ज़ोरदार शाॅट लगाने के प्रयास में गौतम गंभीर आउट हो गए। उस समय तक गौतम गंभीर 97 रन बना चुके थे और अगर आउट न होते तो यह शाॅट उनके शतक को पूरा कर सकता था। अब मैदान पर युवराज सिंह अपने कप्तान का साथ देने के लिए आए। युवराज सिंह ने इस पूरे टूर्नामेंट में गेंद और बल्ले से बेहतरीन खेल का प्रदर्शन किया था, लेकिन क्रिकेट के खेल में कुछ भी नहीं कहा जा सकता। हमने इसी टूर्नामेंट के दौरान अपनी टीम को एक विकिट पर 266 रन बनाते हुए भी देखा है और फिर केवल 29 रन के बीच 9 विकटों को भी गिरते देखा है। गेंद जब मलिंगा जैसे ख़तरनाक बाॅलर के हाथ में हो और सहवाग और सचिन जैसे बल्ले बाज़ों के विकिट गिर चुके हों तो बहुत विश्वास के साथ नहीं कहा जा सकता कि गंभीर के आऊट होने के बाद बाक़ी बचे 51 रन भी बहुत आसानी से बन जाएंगे लेकिन युवराज भी जैसे फ़ैसला करके आए थे कि बस अब और नहीं, जितने विकिट गिरने थे गिर चुके, जीत की मंज़िल तक हमें ही पहुंचना है, शायद यह भी उनके मन में था कि ‘मैन आॅफ़ दि टूर्नामेंट’ का एवार्ड उनसे बहुत दूर नहीं है। चार बार मैन आॅफ़ दि मैच का एवार्ड वह इसी टूर्नामेंट में पहले ही जीत चुके थे, अतः बहुत विश्वास और गंभीरता के साथ उन्होंने अपने कप्तान का साथ निभाया। अब हमारे पास विकिट भी थे, गेंदें भी थीं और रन भी बहुत अधिक नहीं थे। आहिस्ता-आहिस्ता चल कर भी मंज़िल की ओर पहुंच सकते थे, लेकिन आत्मविश्वास से भरे कप्तान महेंद्र सिंह धोनी को जैसे साबित करना था कि आज की भारतीय क्रिकेट टीम एक ऐसी मज़बूत और मुकम्मल टीम है जिसका हर-हर खिलाड़ी टीम को जीत दिलाने की हैसियत रखता है। एक, दो या तीन बड़े बल्ले बाज़ो का जल्दी आउट हो जाना विरोधी टीम के लिए जीत की उम्मीदें नहीं जगा सकता और उनके बाद भी यह टीम शाही अंदाज़ में जीत प्राप्त कर सकती है, अतः अंतिम चरण में उन्होंने जिस तरह आक्रामक बल्ले बाज़ी की उसे क्रिकेट प्रेमी एक लम्बे समय तक याद रखेंगे। इस पूरे लेख में अगर धोनी के विनिंग शाॅट का उल्लेख न किया जाए तो बात अधूरी रहेगी, जिस तरह नोवान कुलशेखरा की गेंद पर महेंद्र सिंह धोनी के एक ज़ोरदार शाॅट ने गेंद को मैदान के बाहर भेजा सारा भारत तालियों से गूंज उठा। अब यह मैच केवल मुंबई के वानखेड़े स्टेडियम तक सीमित नहीं था। महेंद्र सिंह धोनी के इस विनिंग शाॅट की धूम हर घर में सुनाई दे रही थी। यहां तक कि यूपीए की चेयरपर्सन सोनिया गांधी भी जीत के इस जश्न में शामिल होने के लिए अपने घर से बाहर निकल आई थीं। हम कैसे कम करके आंक सकते हैं इस शांदार जीत को। दुनिया के महान बल्ले बाज़ सचिन तेंदुलकर के लिए विश्व कप जीतने का यह तोहफ़ा एक ऐसा यादगार तोहफ़ा है जिसके वह वास्तव में अधिकारी थे और हमें यह देख कर उस समय और भी ज़्यादा ख़ुशी हुई कि कपतान महेंद्र सिंह धोनी ज़हीर ख़ान की बाहों में बाहें डाले नज़र आए और क्रिकेट का शहनशाह सचिन तेंदुलकर यूसुफ़ पठान के कंधों पर था। सलाम उस भारतीय क्रिकेट टीम को जिसने भारत को यह महानताएं दीं। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;उम्मीद है मेरे पाठकों को यह बुरा नहीं लगेगा कि मैंने आजके लेख में असीमानंद के अधूरे बयान को पूरा नहीं किया। वास्तव में मैं भारतीय क्रिकेट टीम की जीत पर अपनी भावनाओं का प्रदर्शन करने के लिए प्रतीक्षा नहीं करना चाहता था। रहा प्रश्न असीमानंद के बयान को पूरा करने और टिप्पणी करने का तो यह इनशाअल्लाह जारी रहेगा। बयान के शेष महत्वपूर्ण अंश भी और मेरी टिप्पणी भी। वैसे भी यह बयान क्योंकि ऐतिहासिक अहमियत है और लगभग पूरा भारत इससे वाक़िफ़ है, यहां हम इस बयान के इस पहलू को स्पष्ट करने के लिए ही एक बार फिर दे रहे हैं कि अगर तमाम आरोपियों के इक़बालिया बयान इसी तरह उनके बदले हुए बयानों के कारण संदिग्ध क़रार दिए जाते रहे, यानी पहला बयान सही था या बाद का, यह एक पैचीदा सवाल बन गया। तो अनुमान लगाया जा सकता है कि हम किसी भी आतंकवादी हमले के असल अपराधियों तक कैसे पहुंचेंगे, सच्चाई का पता कैसे लगाएंगे और कोई भी सज़ा का पात्र किस तरह साबित हो पाएगा।&lt;/div&gt;&lt;div&gt; इस समय जब मैं आज के लेख को अंतिम रूप देरहा हूं उतरौला (गोण्डा, यू.पी) से प्रबंध्कों के द्वारा फोन पर सम्पर्क करने का निरंतर प्रयत्न किया जारहा है। इस समय बात करना भी कठिन है और कल यानी 4 अप्रैल को आयोजित होने वाले इस प्रोग्राम में सम्मिलित भी नहीं हो पाऊंगा। वास्तव में इस वक्त स्वास्थ और व्यस्तता सफ़र की इजाज़त नहीं देते। यही कारण है कि मुझे 27 मार्च को भारत सरकार की ओर से देश से बाहर दोहा, दारेस्सलाम, अदीस अबाबा और खुरतूम के दौरे पर जाने वाले मीडिया डेलिगेशन में जाना था। तमाम तैयारियाँ सम्पन्न होने, टिकिट तक आजाने के बावजूद यह संभव न होसका इसलिए कि डाॅक्टर की अनुमति नहीं थी। यही स्थिती आज भी है। इसलिए मैं तमाम प्रबंध्कों और समारोह में हिस्सा लेने वालों से क्षमा का प्रार्थी हूॅं कि चाहते हुए भी उनके बीच उपस्थित नहीं हो पारहा हूॅं। इन्शाअल्लाह फिर कभी....&lt;/div&gt;&lt;div&gt;...................................&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-9136734067246572471?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/9136734067246572471/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=9136734067246572471' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/9136734067246572471'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/9136734067246572471'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/04/blog-post_03.html' title='इस टीम के फ़ातहाना जज़्बे को सलाम!&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-405512581159528330</id><published>2011-04-01T23:05:00.000-07:00</published><updated>2011-04-01T23:08:22.793-07:00</updated><title type='text'>‘‘खेल को खेल ही रहने दो कोई और नाम न दो’’अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>‘‘खेल को खेल ही रहने दो कोई और नाम न दो’’&lt;br /&gt;अज़ीज़ बर्नी&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;30 मार्च 2011 को जिस समय मैं अपने मुसलसल लेख की 224वीं कि़स्त ‘मेरी आंखों में तुम्हारे ख़्वाब हैं’ लिख रहा था, उस समय मोहाली में भारत और पाक के बीच क्रिकेट मैच चल रहा था। एक ऐसा क्रिकेट मैच जिसकी कल्पना इससे पहले कभी भी नहीं थी। मुझे विद्यार्थी जीवन से ही क्रिकेट में रुचि रही है। यूनिवर्सिटी स्तर तक क्रिकेट खेलता भी रहा हूं और आज भी भारत की क्रिकेट टीम का मुक़ाबला चाहे किसी भी देश की क्रिकेट टीम से हो मैं वह मैच अवश्य देखना चाहता हूं और उस मैच में भारत की जीत भी अवश्य चाहता हूं, लेकिन 30 मार्च 2011 को विश्व कप सेमीफ़ाइनल में भारत और पाकिस्तान के बीच होने वाला क्रिकेट मैच केवल एक क्रिकेट मैच नहीं लग रहा था। जिस तरह की पब्लिसिटी और प्रबंध इस क्रिकेट मैच के लिए किए जा रहे थे उन्हें देख कर यह बिल्कुल अंदाज़ा नहीं हो रहा था कि यह कोई खेल का मुक़ाबला है। हमारे देश के नेताओं प्रधानमंत्री डा॰ मनमोहन सिंह, यूपीए की चेयरपर्सन श्रीमति सोनिया गांधी, सत्ताधारी कांग्र्रेस के महासचिव और नौजवान लीडर राहुल गांधी, पाकिस्तान के प्रधानमंत्री यूसुफ़ रज़ा गीलानी सहित भारत की फि़ल्मी दुनिया और कार्पोरेट जगत के प्रमुख व्यक्ति इस मैच का आनंद ले रहे थे। क्रिकेट इन सबका पसंदीदा खेल है या यह अपनी-अपनी टीमों के उत्साहवर्धन के लिए तमाम व्यस्तताओं के बावजूद वहां मौजूद थे, यह तो वही जानें, हां, अगर दोनों देशों के बीच रिश्तों को बेहतर बनाने की नियत से और बातचीत के नए अध्याय की शुरूआत के लिए क्रिकेट मैदान का ख़ुश्गवार माहौल इनके द्वारा चुना गया तो इसे भविष्य के लिए अच्छा संदेश समझा जा सकता है। हमें ख़ुशी है कि भारत ने इस मैच में जीत हासिल की, लेकिन हमें अफ़सोस है कि पाकिस्तान की हार के बाद बहुत से पाकिस्तानी नागरिकों को यह सदमा सहन नहीं हुआ, आत्महत्या से लेकर दिल की धड़कन बंद हो जाने अर्थात हार्ट अटैक की घटनाएं सामने आईं। क्या हमें खेल को इस हद तक भावनात्मक अंदाज़ में लेना चाहिए। क्या भारत और पाकिस्तान के बीच खेल खेल न रह कर आबरू का सवाल बन गया है। आत्मसम्मान की लड़ाई बन गया है। खेल की इस हार-जीत को क्या हमने दो देशों की हार-जीत मान लिया है, अगर ऐसा है तो यह उचित नहीं है। पाकिस्तान की क्रिकेट टीम ने इस विश्व कप में जितने अच्छे खेल का प्रदर्शन किया उसके लिए तमाम पाकिस्तानी क्रिकेट खिलाड़ी और कप्तान शाहिद आफ़रीदी मुबारकबाद के अधिकारी हैं। पाकिस्तानी टीम ने जिस तरह वैस्ट इंडीज़ को 10 विकेट से हराया, आॅस्ट्रेलिया जैसी मज़बूत टीम को शिकस्त दी और फ़ाइनल तक पहुंचने वाली श्रीलंगा की टीम को भी हराने में सफलता प्राप्त की, क्या यह कोई मामूली बात थी, रहा सवाल भारत से हार जाने का तो दो अच्छी टीमों के बीच जब मुक़ाबला होता है तो उनमें से कोई एक तो जीतती ही है और दूसरी हारती है। इसे हमें एक खेल की तरह लेना और समझना चाहिए, अगर पाकिस्तान के कप्तान को भारत से हार के बाद अपराध बोध हो और अपने देश की जनता से माफ़ी मांगनी पड़े तो क्या इसे खेल के स्वास्थ्य के लिए एक सार्थक क़दम क़रार दिया जा सकता है। इंग्लैण्ड जिसने क्रिकेट के खेल को जन्म दिया वह टीम सेमी फ़ाइनल तक भी नहीं पहुंच पाई। इस विश्व कप में उसे बंग्लादेश, आयरलैंड  जैसी टीमों से हार का सामना करना पड़ा। क्या इस टीम के कप्तान ने विश्वकप में इस हार के लिए अपने देश के नागरिकों से माफ़ी मांगी। दक्षिणी अफ्ऱीक़ा और आस्ट्रेलिया क्रिकेट की दुनिया की सबसे मज़बूत टीमें मानी जाती रही हैं। दोनों ही सेमी फ़ाइनल तक नहीं पहुंच सकीं। क्या उन्होंने अपने-अपने देश के नागरिकों से माफ़ी मांगने की आवश्यकता महसूस की। क्रिकेट एक खेल है, खेल में कोई भी टीम हार सकती है और उस दिन खेल के हर क्षेत्र में अच्छा प्रदर्शन करने वाली टीम जीत सकती है। इस खेल को विशेषतः जब यह भारत और पाकिस्तान के बीच हो तब भी हार-जीत को इस तरह भावनाओं के साथ नहीं जोड़ लेना चाहिए कि इसके नकारात्मक प्रभाव देखने को मिलें।&lt;br /&gt;ऐसे समय में जब भारत की तमाम सड़कों का रुख़ चण्डीगढ़ की ओर मुड़ गया था लगभग हर भारतीय यह मैच देखने के लिए मोहाली पहुंचना चाहता था। पाकिस्तान से वाघा सीमा के रास्ते बड़ी संख्या में खेल प्रेमी मोहाली पहुंच रहे थे और जो नहीं पहुंच सके वह टीवी स्क्रीन के सामने बैठ कर इस खेल का आनंद ले रहे थे।  उस समय मैं अपना लेख ‘‘मेरी आंखों में तुम्हारे ख़्वाब हैं’’ लिख रहा था। जैसा कि मैंने अजऱ् किया कि क्रिकेट एक ज़माने से मेरा पसंदीदा खेल रहा है और आज भी है। अतः यह बड़ा मुश्किल था कि मैं ख़ुद को उस दिन खेल से दूर रख पाता। पूरी तरह रख भी नहीं पाया, लेकिन मुझे इस बात का भी एहसास था कि मैं अपने लेख के सिलसिले को टूटने भी नहीं देना चाहता था, इसलिए कि खेल बहरहाल खेल है। कर्तव्य और जि़म्मेदारी का एहसास इससे अलग है। अगर दोनों चीज़ें साथ साथ चल सकती हैं तो बहुत बेहतर हैं और अगर ऐसा न हो सकता हो तो हम अपनी जि़म्मेदारियों से मुंह नहीं मोड़ सकते। आज यह सब लिखने की आवश्यकता इसलिए महसूस हुई कि शायद आने वाले समय में हम क्रिकेट को एक खेल तक सीमित नहीं रहने देना चाहते, विशेषरूप से भारत और पाकिस्तान के बीच अगर यह क्रिकेट का खेल हो रहा हो तो यह आमिर ख़ान की फि़ल्म ‘‘लगान’’ की कहानी बन जाता है। इस फि़ल्म का विषय यही था, मगर उस समय खेल में जीत का उद्देश्य कुछ और था। आज भारत और पाकिस्तान के बीच होने वाला क्रिकेट मैच इंगलैंड और आॅस्ट्रेलिया के बीच होने वाले क्रिकेट मैचों की तरह तो देखा जा सकता है लेकिन किसी जंग की तरह नहीं। इन दोनों में से किसी भी देश के नागरिक हार और जीत से इस हद तक प्रभावित होने लगें कि उनकी जान पर बन आए तो फिर हमें सोचना होगा कि आखि़र हमने अब खेल को क्या बना दिया है। यह नवाबों का दौर नहीं है कि दो बटेरों की लड़ाई आत्मसम्मान की लड़ाई बन जाए। यह खेल है और हमें इसको खेल की भावना से लेना है, अगर किसी भी देश का खिलाड़ी अच्छे खेल का प्रदर्शन कर रहा है, मगर उसकी टीम जीत प्राप्त नहीं कर सकी है तब भी वह खिलाड़ी क़ाबिले तारीफ़ समझा जाना चाहिए। हो सकता है मेरी यह राय रद्द किए जाने योग्य हो, ऐतराज़ के क़ाबिल हो, मगर कोई भी खेल या किसी भी खेल का मुक़ाबला उस खेल के प्रेमियों की जान के लिए ख़तरा बन जाए तो मुझे लगता है कि उस पर गंभीरता से ग़्ाौर करने की आवश्यकता है। कल हमें वल्र्ड कप के मुक़ाबले में श्रीलंका के विरुद्ध मैदान में उतरना है। जिस समय आप मेरा यह लेख पढ़ रहे होंगे लगभग तमाम टीवी चैनल मुंबई के वानखेड़े स्टेडियम में चलने वाली सरगर्मियों के समाचार दिखा रहे होंगे। मुंबई शहर के हर गली-कूचे में किस तरह इस खेल की चर्चा हो रही है यह आपके सामने पेश किया जा रहा होगा। महाराष्ट्र में पहले ही सरकारी छुट्टी की घोषणा कर दी गई है। मुझे यह आशा है कि हमारी टीम यह अंतिम मुक़ाबला भी अवश्य जीत लेगी और मेरी इच्छा भी यही है। लेकिन भगवान न करे अगर नतीजा हमारी आशाओं या इच्छाओं के उलट हो तो भी हम अपने देश के एक भी नागरिक को जान गंवाते हुए देखना पसंद नहीं करेंगे। आज हमने इस खेल में बरतरी को सारी दुनिया पर साबित कर दिया कि भारत की क्रिकेट टीम आज विश्व की बेहतरीन क्रिकेट टीम है। सचिन तेंदुलकर जैसा बल्लेबाज़ आज सारी दुनिया में नहीं है। बरसों बाद क्रिकेट के मैदान पर हमें यह देखने को मिल रहा है कि हमारी टीम एक टीम की तरह खेल रही है। टीम का हर खिलाड़ी किसी न किसी रूप में जीत का हिस्सा बनता दिखाई दे रहा है, जो खिलाड़ी मैदान के बाहर बैठे हैं वह भी इतने योग्य हैं कि उनमें से अगर किसी को भी अपने देश के लिए खेलने का अवसर मिलता है तो वह अपना महत्व साबित करने का भरपूर प्रयास करता नज़र आता है। हमारी क्रिकेट टीम के कप्तान महेंद्र सिंह धोनी केवल अपनी कप्तानी के लिए भी इस जि़म्मेदारी के लिए खेल प्रेमियों की पहली पसंद बन गये है। न टीम टुकड़ों में बटी है न खिलाडि़यों के चुनाव में किसी राजनीति का दख़ल नज़र आ रहा है और न ही यह कि कोच का फ़ैसला कप्तान को अपनी पसंद के खिलाड़ी चुनने की राह में रुकावट बन रहा है। इन तमाम ख़ूबियों के बावजूद अगर हम किसी एक मैच में उस दिन सफलता प्राप्त नहीं कर पाते तो उसको इस हद तक दिल पर बिल्कुल नहीं लिया जाना चाहिए कि हमारे खिलाडि़यों की भावनाओं को ठेस पहुंचे, वह स्वंय को शर्मिंदा महसूस करें या उन्हें अपराध बोध होने लगे। वह हमारे देश के लिए खेल रहे हैं, उन्हें हमारे प्यार और दुआओं की आवश्यकता है और हमारे नैतिक समर्थन की भी, लेकिन हमारी इच्छाओं और आकांक्षाओं का बोझ इस तरह उनके सिर पर न हो कि वह अपने खेल के साथ न्याय न कर पाएं। शायद यही खेल के हित में है।&lt;br /&gt;एक और महत्वपूर्ण विषय जिस पर मैं कल भी लिखना चाहता हूं और आज भी उसे नज़रअंदाज़ नहीं किया जा सकता, हालांकि लिखने के लिए गुंजाइश बहुत कम रह गई है, अतः क्रिकेट की बात को यहीं समाप्त करते हुए मैं असीमानंद के ताज़ा रुख़ पर कुछ वाक्य अवश्य लिखना चाहता हूं। असीमानंद ने अपने ताज़ा बयान में कहा है कि यह इक़बालिया बयान उनकी इच्छा के अनुसार नहीं था और उन पर दबाव डाला गया था, इसलिए बेहद विवशता में उन्हें इस तरह का बयान देना पड़ा। हो सकता है सच वही हो, जो वह अब कह रहे हैं और हो सकता है कि सच वही हो कि उन्होंने उस समय जो बयान दिया वह बिना किसी दबाव के था और दबाव उन पर अब डाला गया है। आज वह जो कुछ कह रहे हैं, वह बेहद विवशता में और दबाव डाले जाने के कारण कह रहे हैं। दोनों बयानों के बीच के अन्तराल पर भी हमें निगाह डालनी होगी। असीमानंद ने जब यह बयान मजिस्ट्रेट दीपक दबास के सामने दर्ज कराया, वह तारीख़ 18 दिसम्बर 2010 थी। हम उस बयान के शुरूआती चरण अपने पाठकों के सामने अवश्य पेश कर देना चाहते हैं ताकि अंदाज़ा किया जा सके कि उस समय जब असीमानंद मजिस्ट्रेट के सामने यह बयान दर्ज करा रहे थे तो किस सीमा तक मानसिक दबाव में थे या सीबीआई का दबाव उन पर था। संभव है कि आजके बाद कल का लेख फिर इसी विषय पर हो लेकिन आज और कुछ भी लिखने से पूर्व हम चाहेंगे कि असीमानंद ने कब किन परिस्थितियों में अपना यह बयान स्वयं अपने क़लम से दर्ज किया, पहले एक नज़र इस पर डाल लें, फिर इस पहलू पर ग़्ाौर करें कि तब से अब तक यानी दूसरा बयान जारी होने तक क्या वास्तव में असीमानंद को इतना अवसर नहीं मिला कि जो बात वह आज कह रहे हैं उनके इस क़ुबूलनामे के बाद कुछ दिनों में नहीं कही जा सकती थी। बहरहाल इस विषय पर बातचीत का सिलसिला जारी रहेगा, लेकिन पहले असीमानंद का वह क़ुबूलनामा दर्ज कराए जाने के समय के हालात पाठकों के सामने रख देना आवश्यक है। मुलाहिज़ा फ़रमाएं:&lt;br /&gt;&lt;!--[if gte mso 9]&gt;&lt;xml&gt;  &lt;w:worddocument&gt;   &lt;w:view&gt;Normal&lt;/w:View&gt;   &lt;w:zoom&gt;0&lt;/w:Zoom&gt;   &lt;w:punctuationkerning/&gt;   &lt;w:validateagainstschemas/&gt;   &lt;w:saveifxmlinvalid&gt;false&lt;/w:SaveIfXMLInvalid&gt;   &lt;w:ignoremixedcontent&gt;false&lt;/w:IgnoreMixedContent&gt;   &lt;w:alwaysshowplaceholdertext&gt;false&lt;/w:AlwaysShowPlaceholderText&gt;   &lt;w:compatibility&gt;    &lt;w:breakwrappedtables/&gt;    &lt;w:snaptogridincell/&gt;    &lt;w:wraptextwithpunct/&gt;    &lt;w:useasianbreakrules/&gt;    &lt;w:dontgrowautofit/&gt;   &lt;/w:Compatibility&gt;   &lt;w:browserlevel&gt;MicrosoftInternetExplorer4&lt;/w:BrowserLevel&gt;  &lt;/w:WordDocument&gt; &lt;/xml&gt;&lt;![endif]--&gt;&lt;!--[if gte mso 9]&gt;&lt;xml&gt;  &lt;w:latentstyles deflockedstate="false" latentstylecount="156"&gt;  &lt;/w:LatentStyles&gt; &lt;/xml&gt;&lt;![endif]--&gt;&lt;!--[if gte mso 10]&gt; &lt;style&gt;  /* Style Definitions */  table.MsoNormalTable  {mso-style-name:"Table Normal";  mso-tstyle-rowband-size:0;  mso-tstyle-colband-size:0;  mso-style-noshow:yes;  mso-style-parent:"";  mso-padding-alt:0cm 5.4pt 0cm 5.4pt;  mso-para-margin:0cm;  mso-para-margin-bottom:.0001pt;  mso-pagination:widow-orphan;  font-size:10.0pt;  font-family:"Times New Roman";  mso-ansi-language:#0400;  mso-fareast-language:#0400;  mso-bidi-language:#0400;} &lt;/style&gt; &lt;![endif]--&gt;  &lt;p class="MsoNormal"&gt;"At this stage, I have told the accused that I am a Magistrate and he (accused) is no longer in CBI/police custody and CBI officers cannot enter the chamber without my permission and whatever is happening inside the chamber is not audible or visible to the people outside the chamber.&lt;/p&gt;  &lt;p class="MsoNormal"&gt;I have asked the accused whether he wants to make a confessional statement before me or not. To this, the accused has answered in the affirmative.&lt;/p&gt;  &lt;p class="MsoNormal"&gt;I have asked the accused whether he is making the confession voluntarily or under some fear, force, coercion or inducement. Accused has submitted that he is making confession voluntarily without any fear, force, coercion or inducement.&lt;/p&gt;  &lt;p class="MsoNormal"&gt;I have told the accused that he is not bound to make the confession or any statement at all and if he makes any such statement or confession then, It may be used against him in evidence during the trial of present case and he may be convicted on the basis of his confessional statement. To this, accused has submitted that he fully understands the consequences of making a confessional statement. Accused has further submitted that he is giving his confessional statement voluntarily."&lt;/p&gt;  इस अवसर मैंने अभियुक्त को बताया कि मैं एक मजिस्ट्रेट हूं और वह (अभियुक्त) अब सीबीआई/पुलिस हिरासत में नहीं है और मेरी इजाज़त के बिना चैम्बर में सीबीआई अधिकारी दाखि़ल नहीं हो सकते और जो कुछ भी इस चैम्बर में हो रहा है उसे इस चैम्बर के बाहर लोग न सुन सकते हैं ओर न देख सकते हैं।&lt;br /&gt;फिर मैंने अभियुक्त से पूछा कि वह मेरे सामने इक़बालिया बयान देना चाहते हैं या नहीं, इस पर अभियुक्त ने हां में जवाब दिया।&lt;br /&gt;मैंने अभियुक्त से पूछा कि क्या वह अपना इक़बालिया बयान अपनी इच्छा से दे रहे हैं या किसी ख़ौफ़, दबाव, मजबूरी या उकसाने पर दे रहे हैं। अभियुक्त ने दर्ज कराया कि वह इक़बालिया बयान बिना किसी डर, दबाव या मजबूरी के अपनी इच्छा से दे रहा है।&lt;br /&gt;मैंने अभियुक्त को बता दिया है कि वह इक़बालिया या कोई और बयान देने का बिल्कुल भी पाबंद नहीं है और अगर वह कोई इक़बालिया बयान देता है तो वह बयान उसके विरुद्ध वह वर्तमान सुनवाई के बीच सुबूत के रूप में इस्तेमाल किया जा सकता है और उकसे इक़बालिया बयान के आधार पर मुजरिम ठहराया जा सकता है। इस पर भी अभियुक्त ने कहा कि वह इक़बालिया बयान देने के परिणामों को पूरी तरह समझता है। अभियुक्त ने फिर कहा कि वह इक़बालिया बयान स्वयं अपनी इच्छा से दे रहा है।&lt;br /&gt;..........................................&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-405512581159528330?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/405512581159528330/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=405512581159528330' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/405512581159528330'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/405512581159528330'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/04/blog-post_01.html' title='‘‘खेल को खेल ही रहने दो कोई और नाम न दो’’&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-8417012369614045223</id><published>2011-04-01T22:59:00.001-07:00</published><updated>2011-04-01T23:02:53.874-07:00</updated><title type='text'>’’کھیل کو کھیل ہی رہنے دو کوئی اور نام نہ دو‘‘عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;30&lt;br /&gt;مارچ011کو جس وقت میں اپنے مسلسل مضمون کی 224ویں قسط بعنوان ’’میری آنکھوں میں تمہارے خواب ہیں‘‘لکھ رہا تھا،اس وقت موہالی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ چل رہا تھا۔ ایک ایسا کرکٹ میچ جس کا تصور اس سے پہلے کبھی بھی نہیں تھا۔ مجھے طالب علمی کے زمانے سے ہی کرکٹ کا شوق رہا ہی۔ یونیورسٹی لیول تک کرکٹ کھیلتا بھی رہا ہوںاور آج بھی ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کا مقابلہ چاہے کسی بھی ملک کی کرکٹ ٹیم سے ہو، میں وہ میچ ضرور دیکھنا چاہتا ہوں اور اس میچ میں ہندوستان کی فتح بھی ضرور چاہتا ہوں، لیکن 30مارچ011کو ورلڈ کپ سیمی فائنل میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والا کرکٹ میچ محض ایک کرکٹ میچ نہیں لگ رہا تھا۔ جس طرح کی تشہیر اور انتظامات اس کرکٹ میچ کے لئے کئے جارہے تھی، انہیں دیکھ کر یہ قطعاً اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ یہ کوئی کھیل کا مقابلہ ہی۔ ہمارے ملک کے سربراہان وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، یوپی اے کی چیئرپرسن محترمہ سونیا گاندھی، حکمراں جماعت کانگریس کے جنرل سکریٹری اور نوجوان لیڈر راہل گاندھی، پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت ہندوستان کے فلم ورلڈ اور کارپوریٹ ورلڈ کی مایہ ناز شخصیتیں اس میچ کا لطف لے رہی تھیں۔ کرکٹ ان سب کا پسندیدہ کھیل ہے یا یہ اپنی ٹیموں کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنی تمامتر مصروفیات کے باوجود وہاں موجود تھی۔ یہ تو وہی جانیں، ہاں اگر دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو بہتر بنانے کی نیت سے اور گفتگو کے نئے باب کی شروعات کے لئے کرکٹ میدان کا خوشگوار ماحول ان کے ذریعہ منتخب کیا گیا تو اسے خوش آئند پیغام سمجھا جاسکتا ہی۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان نے اس میچ میں جیت حاصل کی، لیکن ہمیں افسوس ہے کہ پاکستان کی ہار کے بعد بہت سے پاکستانی شہریوں کو یہ صدمہ برداشت نہیں ہوا، خودکشی سے لے کر دل کی دھڑکن بند ہوجانے یعنی ہارٹ اٹیک تک کے واقعات سامنے آئی۔ کیا ہمیں کھیل کو اس درجہ جذباتی انداز میں لینا چاہئی۔ کیاہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیل کھیل نہ رہ کر آبرو کا سوال بن گیا ہی۔ وقار کی جنگ بن گیا ہی۔ کھیل کی اس ہار جیت کو کیا ہم نے دو ملکوں کی ہار جیت تسلیم کرلیا ہی۔ اگر ایسا ہے تو یہ مناسب نہیں ہی۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اس ورلڈکپ میں جس قدر بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا، اس کے لئے تمام پاکستانی کرکٹ کھلاڑی اور کپتان شاہد آفریدی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پاکستانی ٹیم نے جس طرح ویسٹ انڈیز کو دس وکٹ سے ہرایا، آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دی اور فائنل تک پہنچنے والی سری لنکا کی ٹیم کو بھی ہرانے میں کامیابی حاصل کی، کیا یہ کوئی معمولی بات تھی۔ رہا سوال ہندوستان سے ہار جانے کا تو دو اچھی ٹیموں کے درمیان جب مقابلہ ہوتا ہے تو ان میں سے کوئی ایک تو جیتتی ہی ہے اور دوسری ہارتی ہی۔ اسے ہمیں ایک کھیل کی طرح لینا اور سمجھنا چاہئی۔ اگر پاکستان کے کپتان کو ہندوستان سے شکست کے بعد احساس جرم ہو اور اپنے ملک کے عوام سے معافی مانگنی پڑے تو کیا اسے کھیل کی صحت کے لئے ایک مثبت قدم قرار دیا جاسکتا ہی۔ انگلینڈ جس نے کرکٹ کے کھیل کو جنم دیا، وہ ٹیم سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ پائی۔ اس ورلڈ کپ میں اسے بنگلہ دیش، آئرلینڈجیسی ٹیموں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا اس ٹیم کے کپتان نے ورلڈ کپ میں اس ہار کے لئے اپنے ملک کے شہریوں سے معافی مانگی۔ ساؤتھ افریقہ اور آسٹریلیا کرکٹ کی دنیا کی سب سے مضبوط ٹیمیں مانی جاتی رہی ہیں۔ دونوں ہی سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکیں۔ کیا انہوں نے اپنے اپنے ملک کے شہریوں سے معافی مانگنے کی ضرورت محسوس کی۔ کرکٹ ایک کھیل ہی۔ کھیل میں کوئی بھی ٹیم ہار سکتی ہے اور اس روز کھیل کے ہر شعبہ میں بہترین مظاہرہ کرنے والی ٹیم جیت سکتی ہی۔ اس کھیل کو بالخصوص جب یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہو تب بھی ہارجیت کو اس طرح جذبات کے ساتھ نہیں جوڑ لینا چاہئے کہ اس کے منفی اثرات دیکھنے کوملیں۔&lt;br /&gt;ایسے وقت میں جب ہندوستان کی تمام سڑکوں کا رُخ چنڈی گڑھ کی طرف مڑگیا تھا، تقریباً ہر ہندوستانی یہ میچ دیکھنے کے لئے موہالی پہنچنا چاہتا تھا۔ پاکستان سے واگھہ بارڈر کے راستہ بڑی تعداد میں کھیل کے شائقین موہالی پہنچ رہے تھے اور جو نہیں پہنچ سکے وہ ٹیلی ویژن اسکرین کے سامنے بیٹھ کر اس کھیل کا لطف لے رہے تھی۔ اس وقت میں اپنا مضمون ’’میری آنکھوں میں تمہارے خواب ہیں‘‘ لکھ رہا تھا۔جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ کرکٹ ایک زمانہ سے میرا پسندیدہ کھیل رہا ہے اور آج بھی ہی، لہٰذا یہ بڑا مشکل تھا کہ میں خود کو اس روز اس کھیل سے دور رکھ پاتا۔ پوری طرح رکھ بھی نہیں پایا، لیکن مجھے اس بات کا بھی احساس تھا کہ میں اپنے مضمون کے تسلسل کو ٹوٹنے بھی نہیں دینا چاہتا تھا، اس لئے کہ بہرحال کھیل ایک کھیل ہی۔ فرض اور ذمہ داری کا احساس اس سے الگ ہی۔ اگر دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چل سکتی ہیں تو بہت بہتر ہے اور اگر ایسا نہ ہوسکتا ہو تو ہم اپنی ذمہ داریوں سے منھ نہیں موڑ سکتی۔ آج یہ سب لکھنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ شاید آنے والے کل میں ہم کرکٹ کو ایک کھیل تک محدود نہیں رہنے دینا چاہتی، بالخصوص ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اگر یہ کرکٹ کا کھیل ہورہا ہو تویہ عامرخان کی فلم ’’لگان‘‘ کی کہانی بن جاتا ہی۔ اس فلم کا موضوع یہی تھا، مگر اس وقت اس کھیل میں جیت کا مقصد کچھ اور تھا۔ آج ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والا کرکٹ میچ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والے کرکٹ میچوں کی طرح تو دیکھا جاسکتاہی، لیکن کسی جنگ کی طرح نہیں۔ ان دونوں میں سے کسی بھی ملک کے شہری ہار اور جیت سے اس درجہ متاثر ہونے لگیں کہ ان کی جان پر بن آئے تو پھر ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم نے اب کھیل کو کیا بنا دیا ہی۔ یہ نوابوں کا دور نہیں ہے کہ دو بٹیروں کی لڑائی وقار کی لڑائی بن جائی۔ یہ ایک کھیل ہے اور ہمیں اس کو کھیل کے جذبہ سے لینا ہی۔ اگر کسی بھی ملک کا کھلاڑی اچھے کھیل کا مظاہرہ کررہا ہی، مگر اس کی ٹیم جیت حاصل نہیں کرسکی تب بھی وہ کھلاڑی قابل تعریف سمجھا جانا چاہئی۔ ہوسکتا ہے میری یہ رائے قابل رد ہو، قابل اعتراض ہو، مگر کوئی بھی کھیل یا کسی بھی کھیل کا مقابلہ اس کھیل کے شائقین کی جان کے لئے خطرہ بن جائے تو مجھے لگتا ہے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہی۔&lt;br /&gt;کل ہمیں ورلڈ کپ کے آخری مقابلہ میں سری لنکا کے خلاف میدان میں اترنا ہی۔ جس وقت آپ میرا یہ مضمون پڑھ رہے ہوں گی، تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلز ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں چلنے والی سرگرمیوں کی خبریں دکھا رہے ہوں گی۔ ممبئی شہر کے ہر گلی کوچے میں کس طرح اس کھیل کا تذکرہ ہورہا ہی، یہ آپ کے سامنے پیش کیا جارہا ہوگا۔ مہاراشٹر میں پہلے ہی سرکاری تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہی۔ مجھے یہ امید ہے کہ ہماری ٹیم یہ آخری مقابلہ بھی ضرور جیت لے گی اور میری خواہش بھی یہی ہی۔ لیکن خدانخواستہ اگر نتیجہ ہماری امیدوں یا خواہشات کے برعکس ہو تو بھی ہم اپنے ملک کے ایک بھی شہری کو جان گنواتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کریں گی۔ آج ہم نے اس کھیل میں برتری ساری دنیا پر ثابت کر دی ہے کہ ہندوستان کی کرکٹ ٹیم آج دنیا کی بہترین کرکٹ ٹیم ہی۔ سچن تندولکر جیسا بلے باز آج ساری دنیا میں نہیں ہی۔ برسوں بعد کرکٹ کے میدان پر ہمیں یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ہماری ٹیم ایک ٹیم کی طرح کھیل رہی ہی۔ ٹیم کا ہر کھلاڑی کسی نہ کسی شکل میں جیت کا حصہ بنتا نظر آرہا ہی، جو کھلاڑی میدان کے باہر بیٹھے ہیں، وہ بھی اتنے باصلاحیت ہیں کہ ان میں سے اگر کسی کو بھی اپنے ملک کے لئے کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنی اہمیت ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کرتا نظر آتا ہی۔ ہماری کرکٹ ٹیم کے کپتان مہندرسنگھ دھونی صرف اپنی کپتانی کے لئے بھی اس ذمہ داری کے لئے شائقین کی پہلی پسند بن گئے ہیں۔ نہ ٹیم ٹکڑوں میں بٹی ہی، نہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں کسی سیاست کا دخل نظر آرہا ہے اور نہ ہی یہ کہ کوچ کا فیصلہ کپتان کو اپنی پسند کے کھلاڑی چننے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہی۔ ان تمامتر خوبیوں کے باوجوداگر ہم کسی ایک میچ  میں اس دن کامیابی حاصل نہیں کرپاتے تو اس کو اس درجہ دل پر قطعاً نہیں لیا جانا چاہئے کہ ہمارے کھلاڑیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، وہ خود کو شرمندہ محسوس کریں یا انہیں اسے احساس جرم ہونے لگی۔ وہ ہمارے ملک کے لئے کھیل رہے ہیں، انہیں ہمارا پیار اور دعائیں درکار ہیں اور ہماری اخلاقی حمایت بھی، لیکن ہماری خواہشات اور آرزوؤں کا بوجھ اس طرح ان کے سر پر نہ ہو کہ وہ اپنے کھیل کے ساتھ انصاف نہ کرپائیں، شاید یہی کھیل کے حق میں ہی۔&lt;br /&gt;aایک اور اہم موضوع جس پر میں کل بھی لکھنا چاہتا ہوں اور آج بھی اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، حالانکہ لکھنے کے لئے اب گنجائش بہت کم رہ گئی ہی، لہٰذا کرکٹ کے تذکرہ کو یہی ختم کرتے ہوئے میں اسیمانند کے تازہ رُخ پر چند جملے ضرور لکھنا چاہتا ہوں۔ اسیمانند نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ یہ اقبالیہ بیان ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھا، ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا، اس لئے انتہائی مجبوری میں انہیں اس طرح کا بیان دینا پڑا۔ ہوسکتا ہے سچ وہی ہو، جو وہ اب کہہ رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ سچ یہ ہو کہ انہوں نے اس وقت جو بیان دیا وہ بغیر کسی دباؤ کے تھا اور دباؤ ان پر اب ڈالا گیا ہی۔ آج وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ انتہائی مجبوری میں اور دباؤ ڈالے جانے کی وجہ سے کہہ رہے ہیں۔ دونوں بیانات کے درمیان کے وقفہ پر بھی ہمیں نظر ڈالنی ہوگی۔ اسیمانند نے یہ بیان جب مجسٹریٹ دیپک دباس کے سامنے درج کرایا، وہ تاریخ 18دسمبر010 تھی۔ ہم اس بیان کے ابتدائی مراحل اپنے قارئین کے گوش گزار ضرور کردینا چاہتے ہیں، تاکہ اندازہ کیا جاسکے کہ اس وقت جب اسیمانند مجسٹریٹ کے سامنے یہ بیان درج کرا رہے تھے تو کس حد تک ذہنی دباؤ میں تھے یا سی بی آئی کا دباؤ ان پر تھا۔ ممکن ہے کہ آج کے بعد کل کا مضمون پھر اسی موضوع پر ہو، لیکن آج مزید کچھ بھی لکھنے سے قبل ہم چاہیں گے کہ اسیمانند نے کب کن حالات میں اپنا یہ بیان خود اپنے قلم سے درج کیا، پہلے ایک نظر اس پر ڈالیں پھر اس پہلو پر غورکریں کہ تب سے اب تک یعنی دوسرا بیان جاری ہونے تک کیا واقعی اسیمانند کو اتنا موقع نہیں ملا کہ جو بات وہ آج کہہ رہے ہیں، ان کے اس قبول نامہ کے بعد کے چند روز میں نہیں کہی جاسکتی تھی۔بہرحال اس موضوع پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن پہلے اسیمانند کا وہ قبول نامہ درج کرائے جانے کے وقت کے حالات قارئین کے سامنے رکھ دینا ضروری ہی۔ ملاحظہ فرمائیں:&lt;br /&gt;"At this stage, I have told the accused that I am a Magistrate and he (accused) is no longer in CBI/police custody and CBI officers cannot enter the chamber without my permission and whatever is happening inside the chamber is not audible or visible to the people outside the chamber.&lt;br /&gt;I have asked the accused whether he wants to make a confessional statement before me or not. To this, the accused has answered in the affirmative.&lt;br /&gt;I have asked the accused whether he is making the confession voluntarily or under some fear, force, coercion or inducement. Accused has submitted that he is making confession voluntarily without any fear, force, coercion or inducement.&lt;br /&gt;I have told the accused that he is not bound to make the confession or any statement at all and if he makes any such statement or confession then, It may be used against him in evidence during the trial of present case and he may be convicted on the basis of his confessional statement. To this, accused has submitted that he fully understands the consequences of making a confessional statement. Accused has further submitted that he is giving his confessional statement voluntarily."&lt;br /&gt;اس موقع پر میں نے ملزم کو بتایا کہ میں ایک مجسٹریٹ ہوں اور وہ (ملزم) اب سی بی آئی/پولیس حراست میں نہیں ہے اور میری اجازت کے بغیر چیمبر میں سی بی آئی افسر داخل نہیں ہوسکتے اور جو کچھ بھی اس چیمبر میں ہورہا ہی، اسے چیمبر کے باہر موجود لوگ نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔&lt;br /&gt;پھر میں نے ملزم سے پوچھا کہ وہ میرے سامنے اقبالیہ بیان دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اس پر ملزم نے ہاں میں جواب دیا۔&lt;br /&gt;میں نے ملزم سے پوچھا ہے کہ کیا وہ اپنا اقبالیہ بیان اپنی مرضی سے دے رہے ہیں یا کسی خوف، دباؤ، مجبوری یا اکسانے پر دے رہے ہیں۔ ملزم نے درج کرایا کہ وہ اقبالیہ بیان بغیر کسی خوف، دباؤ یا مجبوری کے اپنی مرضی سے دے رہا ہی۔&lt;br /&gt;میں نے ملزم کو بتادیا ہے کہ وہ اقبالیہ یا کوئی اور بیان دینے کا بالکل بھی پابند نہیں ہی۔ اور اگر وہ کوئی اقبالیہ بیان دیتا ہے تو وہ بیان اس کے خلاف حالیہ سماعت کے دوران ثبوت کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس کے اقبالیہ بیان کی بنیاد پر مجرم قرار دیا جاسکتا ہی۔ اس پر بھی ملزم نے کہا کہ وہ اقبالیہ بیان دینے کے نتائج مکمل طور پر سمجھتا ہی۔ ملزم نے پھر کہا کہ وہ اقبالیہ بیان خود اپنی مرضی سے دے رہا ہی۔&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-8417012369614045223?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/8417012369614045223/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=8417012369614045223' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8417012369614045223'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8417012369614045223'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/04/blog-post.html' title='&lt;p align=right&gt;’’کھیل کو کھیل ہی رہنے دو کوئی اور نام نہ دو‘‘&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5440072925679256560</id><published>2011-03-31T00:25:00.000-07:00</published><updated>2011-03-31T00:26:27.564-07:00</updated><title type='text'>’میری آنکھوں میں تمہارے خواب ہیں‘عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;جب ہمارے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور لگتا ہے کہ اب زندگی کی شام ہونے لگی ہی… تو دل میں حسرتیں جنم لینے لگتی ہیں۔ کبھی ہم تصور میں تو کبھی خوابوں میںان حسرتوں کو حقیقت میں ڈھلتا ہوا دیکھنے لگتے ہیں۔ پھر اگر یہ خواب دیکھنے والا شخص اگر ادیب، شاعر یا افسانہ نگار بھی ہے تو اپنی  تخلیق میں ان ادھوری خواہشات کو کچھ اس طرح پیش کرتا ہے کہ یہ اس کے اپنے دل کے لئے بھی تسکین کا باعث بن جاتی ہیں اور وہ اپنے اس فن کی معرفت آنے والی نسلوں کو کوئی پیغام بھی دے جاتا ہی۔ ایک صحافی اور مدیر کی حیثیت سے شناخت ہے میری، مگر نہ جانے کیوں مجھے یہ لگتا ہے کہ آنے والی نسلیں مجھے میرے افسانوں اور ناول نگاری کے لئے یاد رکھیں گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافت کے اپنے دائرے ہیں۔ مدیر کی کچھ اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ ایک مضمون نگار کو قلم اٹھانے سے قبل بہت سے نشیب و فراز کا خیال رکھنا ہوتاہی، لیکن ادب کا دائرہ بہت وسیع ہی۔ اس فن میں بڑی گنجائش ہی، آپ جو کہنا چاہتے ہیں، وہ بڑی خوبصورتی سے کہہ سکتے ہیں، اس لئے کہ آپ اپنی ادبی تخلیق کے ہر ہر لفظ پر سچ ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کرتی۔ یہ فیصلہ قارئین کی صوابدید پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اسے کس حد تک حقیقت پر مبنی مانیں اور کس حد تک ادیب یا شاعر کا تخیل۔ میں نے چند افسانے اور ناول لکھے ہیں۔ ان میں سے کچھ تخلیقات ایسی بھی ہیں، جن میں میرے ادھورے خوابوں کا اشارہ ہی۔ میری دبی چھپی حسرتوں کا اظہار ہی۔ ’’شاہکار‘‘ میرا ایک ایسا ہی افسانہ تھا۔ اب سے چند برس قبل جب میں نے یہ افسانہ  لکھا تھا تو یہ سب کچھ محض ایک تصور تھا، جو بعد میں بہت حد تک حقیقت میں بدلتا نظر آیا۔ دل چاہتا ہے کہ میں اس افسانہ کے چند تراشے اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرکے آج کا مضمون شروع کروں۔ پھر یہ وضاحت بھی کہ آخر اس وقت جب میں یہ افسانہ لکھ رہا تھا تو اس کی معرفت کیا کہنا چا ہتا تھا اور آج جب اسے اپنے مضمون کا ایک حصہ بنا رہا ہوں تو اس وقت کیا کہنا چاہتا ہوں، لہٰذا پہلے ملاحظہ فرمائیں یہ تراشے اور اس کے بعد آج کے مضمون کا تسلسل۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;’’آخر وہ پروجیکٹ کیا ہے جس پر میں کام کررہا تھا اور کیوں وہ پروجیکٹ تاریخ کا حصہ بننے والا تھا۔ تفصیل میں بعد میں بتائوں گا۔ اس وقت بس اتنا حوالہ دیتا چلوں کہ میری قوم کے لوگ بڑے قدآور ہوا کرتے تھی، اس ملک پر ہی نہیں آدھی سے زیادہ دنیا پر ان کی حکومت ہوا کرتی تھی، اس ملک کو سونے کی چڑیا اور انہیں مغل شہنشاہوں کے خطاب سے نوازا جاتا تھا پھر وقت نے کروٹ بدلی وہ فرنگیوں کے جال میں پھنس گئی۔ ہوا یہ کہ میرا ملک ان کی گرفت میں آتا گیا میری قوم تباہ ہوتی گئی پھر وہ حکمراں ہوگئی۔ بڑا شاطر دماغ تھا ان کا، وہ جانتے تھے وقت پھر کروٹ بدلے گا اور نئی نسل جب جوان ہوگی تو پھر ہم سے یہ تخت وتاج چھین لیا جائے گا لہٰذا انہوں نے سازش رچی۔ میری قوم کے خلاف اس زمین میں ایسے جراثیم پیوست کردیے کہ میری قوم کے لوگ بونے ہونے لگی، زبان کی تاثیر چلی گئی، لوگ گونگے ہوگئی۔ انہوں نے اپنے حق کی آواز بلند کرنا چھوڑدیا، ان کے حوصلے پست ہوتے چلے گئی، ہمتیں ٹوٹ گئیں، وہ خود کو حقیر اور مجرم گرداننے لگی۔ پھر سیکڑوں سال بعد فرنگی تو چلے گئے مگر ان کے جانشینوں میں بھی ان کی روحیں پیوست ہوگئیں۔ ہمارے تعلق سے ان کا نظریہ بھی ویسا ہی ہوگیا، ہمیں دبایا جاتا رہا، ہماری نسل کشی کی جاتی رہی اور حد تو تب ہوئی جب گجرات میں ہزاروں بے گناہوں کا قتل کردیا گیا، جلیاں والا باغ سے بھی زیادہ دل دہلانے والا منظر تھا جو میری نگاہوں کے سامنے سے گزرا جس کا میں ’’چشم دیدگواہ‘‘ تھا۔ میرے اندر ایک جنون پیدا ہوا، اپنی نسل کے تحفظ کا جنون آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے کا جنون، ان کے قد کو بلند کرنے کا جنون، ان میں پھر وہی حوصلہ بھر دینے کا جنون، ان کا گونگا پن دور کردینے کا جنون، انہیں ان کی زبان واپس دلانے کا جنون تاکہ وہ بآوازِ بلند کہہ سکیں کہ ہم کسی سے کم نہیں ہیں، یہ ملک ہمارا ہی، ہم مجاہد ہند ہیں، ہم مجرم نہیں ہیں لہٰذا میں جٹ گیا ایک ایسا کیمیا بنانے میں جس کے استعمال سے میری قوم کے لوگوں کا قد بڑھنے لگی، مجھے کامیابی ملی۔ سچ مچ ایسا ہونے لگا۔ ان کے منہ میں زبان آنے لگی، ان کے حو صلے بلند ہونے لگی، میں جس ریاست میں جاتا حالات بدل جاتی، یہ میرے کامیاب دور کی شروعات تھی۔ جس زمین پر قدم رکھ کر فرنگیوں نے اس ملک کو اپنا غلام بنایا تھا میں نے اسی زمین پر فرنگیوں کے ملک سے اپنی قوم کے ایک شخص کو بلا کر اپنی مہم آگے بڑھانے  کا فیصلہ کیا۔ دراصل میں یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ بہت جلد اب میرے قدم ان کے ملک تک بھی پہنچنے والے ہیں، اگر میری قوم کا قد بلند ہونے کی یہ رفتار جاری رہی تو میں اور میری قوم بہت جلد پہلے سے  بھی بڑے دائرے میں جاکر حکومت کرنے والے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;پھر میں سنتا رہا، اپنی قوم کے دامن پر لگے داغوں کے ہٹنے کے بارے میں پڑھتا اخباروں میں، دیکھتا رہا ٹی وی پر۔ میری دنیا بھی بدل گئی تھی، میری قوم کی تصویر بھی بدل گئی تھی، اس کا قد بلند ہوگیا تھا، اس کے منہ میں زبان آگئی تھی، حکومتیں اس کی محتاج ہوگئی تھیں، میری قوم نے بہت سراہا تھا مجھی، چوراہوں پر میرے بت لگ گئے تھی، پھر آہستہ آہستہ میں ایک گزری ہوئی داستان بن گیا تھا۔ اب میں تاریخ کے اوراق میں تو زندہ تھا مگر جیتے جی مرگیا تھا، لوگ میرے بتوں کو تو پہچانتے تھے پر میرا چہرہ بھول گئے تھی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہ چند سطریں مقصد تھیں، اس افسانہ کے لکھے جانے کی اور اس کے علاوہ جو کچھ تھا وہ قارئین کی دلچسپی پیدا کرنے کے لئی۔ میں نے جس ’کیمیا‘ کا ذکر کیا، دراصل وہ میرا اخبار تھا اور میں جہاں جاتا سے میری مراد یہ تھی کہ جس شہر سے بھی میرا اخبار نکالا جاتا، لوگوں کے منھ میں زبان آجاتی، ان کا قد بڑا ہونے لگتا۔ جس وقت میں نے یہ افسانہ لکھا تھا، اگر میں اسی وقت اپنے اس جذبہ کا اظہار کرتا تو یہ انتہائی مضحکہ خیز نظر آتا۔ مگر آج جب کہ روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو صحافت کی تاریخ میں اپنا ایک مقام حاصل کرچکا ہے اور جن بدلتے حالات کی طرف میں اشارہ کررہا ہوں وہ سب کے سامنے آچکے ہیں، یعنی ہم احساس کمتری کے دائرہ سے باہر نکلتے جارہے ہیں۔ اب ہم اپنے مسائل پر گفتگو کرنے میں  جھجھک محسوس نہیں کرتی۔ اب ہم سرجھکا کر ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کے لئے مجبور نہیں ہیں۔ اب پہلے کی طرح ہمیں تقسیم وطن کا ذمہ دار، فرقہ پرست یا دہشت گرد قرار دے کر اپنے ہی ملک میں پرائے پن کے احساس نہیں دلایا جاتا، مگر یہ کام ابھی ادھورا ہی۔ اسے پورا کرنے کے لئے بہت منظم انداز میں آگے کا راستہ طے کرنا ہوگا۔ میں نے مضامین لکھتے لکھتے اپنے ایک افسانہ کا تذکرہ اس لئے کیا کہ ہمارے ادیب و شعراء اپنی تخلیقات کی معرفت معاشرے کو بیدار کرنے میں انتہائی اہم کردار نبھا سکتے ہیں۔ ہمارے مذہبی رہنماؤں کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے لاکھوں فرزندان توحید کبھی بھی کسی بھی مقام پر یکجا ہوجاتے ہیں۔ یہ ہم نے بارہا دیکھا ہی، لیکن ہمارے پاس ایک ایسے تھنک ٹینک (مفکروں کی جماعت)کی کمی ہی، جو آنے والے سو سال کا منصوبہ ذہن میں رکھتی ہو۔ کسی قوم کی حیثیت کو ختم کردینے یا اس کے باوقار مقام حاصل کرنے کے لئے سو برس بہت بڑی مدت نہیں ہوتی۔ 100برس کی غلامی کے بعد ہم نے 90برس تک یعنی 1857سے 1947تک انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی، تب جاکر ہمارا ملک آزاد ہوا اور انگریزوں نے بھی قدم رکھتے ہی اس ملک پر حکمرانی حاصل نہیں کرلی تھی۔ اسی طرح آج جو ہم بین الاقوامی صورتحال دیکھ رہے ہیں، خواہ  عراق کا معاملہ ہو یا مصر اور لیبیا کا، ایسا نہیں ہے کہ اچانک کوئی آواز اٹھی اور اس نے طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ دیکھنے سننے میں ضرور ایسا لگتا ہوگا، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہی۔ یہ سب کچھ منصوبہ بند ہی۔ یہ بھی منصوبہ بند تھا کہ اردو کو ہندوستان کی قومی زبان نہ بننے دیا جائی۔ یہ بھی منصوبہ بند تھا کہ ہندی ملک کی قومی زبان قرار دئے جانے کے باوجود بھی پورے ہندوستان کی زبان نہ بن سکی۔ یہ بھی منصوبہ بند تھا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی انگریزی زبان کی حکمرانی ہم پر قائم رہی۔ میں نے اپنے کل کے مضمون میں عرب ممالک کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کہی تھی۔ عرب ممالک کے پاس پیٹرول کی دولت ہی۔ اس دولت کا بہت بڑا حصہ آج ان کے پاس پہنچ رہا ہی، جنہوں نے اپنی عیاری، مکاری اور طاقت کی بنا پر ان ممالک کے حکمرانوں کو اپنے شکنجے میں کس لیا ہے اور اپنے اشاروں پر چلنے کے لئے مجبور کردیا ہی۔ اس دولت کا کچھ حصہ ضرور ان حکمرانوں کے پاس رہتا ہی، لیکن انہیں ایسے راستہ پر چلانے کے لئے ان کی ذہن سازی کر دی جاتی ہے کہ آہستہ آہستہ وہ اپنے عوام سے دور ہوجائیں۔ اپنے محلوں میں اپنی جنت قائم کرلیں۔ اپنے عوام سے ان کا رابطہ ٹوٹ جائی، پھر وہ اپنے ہی لوگوں کی نفرتوں کا شکار بننے لگیں اور ان بدلتے حالات میں پل پل کی خبر ان سازش رچنے والوں کو ملتی رہی۔ وہ عوام کے درمیان ایسے لوگوں کی تلاش شروع کردیں، جنہیں بغاوت کے لئے اکسایاجاسکی۔ حکمرانوں کے نزدیک رہنے والے ایسے لوگوں کی تلاش شروع کردیں، جو بغاوت کا الم بلند کرکے باقی سب کو بغاوت پر آمادہ کرسکیں، نتیجہ ہمارے سامنے ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ان ممالک کی دولت کا بہت چھوٹا  سا حصہ ہم تک بھی پہنچتا ہی۔ ہمارے ان بھائیوں کے ذریعہ جو اپنے اہل خانہ کی محبت میں اپنا گھربار اور ملک چھوڑ کر ذریعۂ معاش کی تلاش میں ان ملکوں تک پہنچتے ہیں۔ یہ بہت تھوڑی سی دولت جو ان کی محنت کی کمائی کی شکل میں ہمارے ملک تک پہنچی ہی، اس سے بھی لاکھوں خاندان فیضیاب ہوتے ہیں اور ان کا طرز زندگی بدلنے لگتا ہی۔ قیاس کریں کہ ان عرب ممالک کے حکمراں اپنے فریبی تحفظ کی جو قیمت ان ملکوں کو ادا کرتے ہیں، جو آہستہ آہستہ ان پر قبضہ کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، ان کی جگہ اگر ہندوستان لے لے اور اپنے ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے انہیں وہ تحفظ فراہم کردے تو جو دولت آج امریکہ کی معیشت کو مضبوط بنائے ہوئے ہے اور جس کی بنا پر یہ ملک دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا دم بھرتا ہی، یہ حیثیت ہندوستان کو حاصل ہوسکتی ہی۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین رشتہ بدل سکتے ہیں، عرب ممالک کی دولت اگر ہندوستان کی ترقی اور خوشحالی کے کام آنے لگی، ہم ان ملکوں سے کاروباری رشتہ قائم کرسکیں، انہیں امریکی تسلط سے نجات دلاسکیں، ایک دوست ملک کی طرح ان کی مدد کرسکیں تو یہ دونوں کے مفاد میں ہوگا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آج کے مضمون میں اب زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں بچی ہی، لہٰذا اختتام تک پہنچنے سے قبل اس موضوع پر واپس لوٹنا ضروری ہی، جس کے لئے اپنے ایک افسانہ کا حوالہ دیا تھا۔ دراصل میں روزنامہ راشٹریہ سہاراکے ان صفحات کو ایک ایسیکیمیا کی شکل میں ہندوستان کے گوشہ گوشہ تک پہنچا دینا چاہتا ہوں، اس لئے کہ سیکڑوں برسوں تک چلنے والی جس سازش نے ہم سے ہماری زبان چھین لی، ہمارے بلند قد کو پستہ قد میں بدل دیا، ہمارے حوصلوں کو توڑ دیا، ہمیں سر جھکا کر جینے کے لئے مجبور کردیا، ہم اس کیمیا کی معرفت پھر وہ مقام حاصل کرسکیں، جو کبھی ہمارا تھا اور جس کے کہ ہم مستحق ہیں۔ اس لئے کہ شہیدان وطن کی فہرست میں آج بھی وہ نام سنہری حرفوں میں درج ہیں، جو ہمیں یہ کہنے اور لکھنے کا حق فراہم کرتے ہیں۔ ایک آخری بات ’تھنک ٹینک‘ کے حوالہ سی۔ اس موضوع پر تفصیل سے لکھے جانے کی ضرورت ہے اور قوم کے ذریعہ غور کئے جانے کی بھی، اس لئے کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب الگ الگ شعبوں سے تعلق رکھنے والے تمام باصلاحیت افراد  کو یکجا کرکے ایک ایسی حکمت عملی بنائی جائی، جو جسٹس راجندر سچر کی رپورٹ کے مطابق آج ملک کی سب سے پسماندہ قوم کی تقدیر بدل سکی۔ کیا آپ ارادہ رکھتے ہیں اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کا؟&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;………&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5440072925679256560?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5440072925679256560/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=5440072925679256560' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5440072925679256560'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5440072925679256560'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_3960.html' title='&lt;p align=right&gt;’میری آنکھوں میں تمہارے خواب ہیں‘&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-4198406718336607801</id><published>2011-03-31T00:19:00.001-07:00</published><updated>2011-03-31T00:24:24.102-07:00</updated><title type='text'>‘मेरी आंखों में तुम्हारे ख़्वाब हैं’अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;जब हमारे ख़्वाब अधूरे रह जाते हैं और लगता है कि अब ज़िंदगी की शाम होने लगी है..... तो दिल में इच्छाएं जन्म लेने लगती हैं। कभी हम कल्पना में तो कभी सपनों में उन इच्छाओं को वास्तविकता में ढलता हुआ देखने लगते हैं। फिर अगर यह सपना देखने वाला व्यक्ति अगर साहित्यकार, शायर या अफ़सानानिगार भी है तो अपनी रचना में उन अधूरी इच्छाओं को इस तरह प्रस्तुत करता है कि यह उसके अपने दिल के लिए भी संतुष्टि का कारण बन जाती हैं और वह अपनी इस कला के माध्यम से आने वाली पीढ़ियों को कोई संदेश भी दे जाता है। एक पत्रकार तथा सम्पादक के रूप में पहचान है मेरी, परंतु न जाने क्यों मुझे लगता है कि आने वाली पीढ़ी मुझे मेरी कहानियों और उपन्यासों के लिए याद रखेगी। इसका कारण यह है कि पत्रकारिता के अपने दायरे हैं, सम्पादक की कुछ अपनी ज़िम्मेदारियां हैं। एक लेखक को क़लम उठाने से पूर्व बहुत सी पाबंदियों का ध्यान रखना होता है, लेकिन साहित्य का दायरा बहुत विस्तृत है इस कला में बड़ी सम्भावनाएं हैं आप जो कहना चाहते हैं, वह बड़ी सुंदरता से कह सकते हैं, इसलिए कि आप अपनी साहित्यक रचना के एक-एक शब्द पर सच होने का दावा कभी नहीं करते। यह निर्णय पाठकों के विवेक पर छोड़ देते हैं कि वह उसे किस हद तक हक़ीक़त पर आधारित मानंे और किस हद तक साहित्यकार अथवा शायर की कल्पना। मैंने कुछ अफ़साने और नाविल लिखे हैं। उनमें से कुछ रचनाएं ऐसी भी हैं, जिनमें मेरे अधूरे सपनों का संकेत है, मेरी दबी छुपी इच्छाओं का इज़हार है। ‘‘शाहकार’’ मेरा एक ऐसा ही अफ़साना था। अब से कुछ वर्ष पूर्व जब मैंने यह अफ़साना लिखा था तो यह सब कुछ मात्र एक कल्पना थी, जो बाद में बहुत हद तक हक़ीक़त में बदलती नज़र आई। दिल चाहता है कि मैं उस अफ़साने के कुछ अंश अपने पाठकों की सेवा में प्रस्तुत करके आज का लेख आरंभ करूं। फिर यह वज़ाहत भी कि आख़िर उस समय जब मैं यह अफ़साना लिख रहा था तो इस के माध्यम से क्या कहना चाहता था और आज जब इसे अपने लेख का हिस्सा बना रहा हूं तो इस समय क्या कहना चाहता हूं। लिहाज़ा पहले मुलाहिज़ा फरमाएं यह अंश और उसके बाद आज के लेख का तसलसुल।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;‘‘आख़िर वह क्या प्रोजेक्ट था जिस पर मैं काम कर रहा था और क्यों वह प्रोजेक्ट इतिहास का अंश बनने वाला था। विवरण मैं बाद में बताऊंगा। इस समय बस इतना उल्लेख करता चलूं कि मेरी क़ौम के लोग बड़े क़द्दावर हुआ करते थे, इस देश पर ही नहीं आधी से अधिक दुनिया पर उनका शासन हुआ करता था, इस देश को सोने की चिड़िया और उन्हें मुग़ल शहनशाहों की उपाधि से नवाज़ा जाता था। फिर समय ने करवट बदली वह फ़िरंगियों के जाल में फंस गए। हुआ यह कि मेरा देश उनकी गिरफ़्त में आता गया मेरी क़ौम तबाह होती गई, फिर वह शासक हो गए। बड़ा शातिर दिमाग़ था उनका वह जानते थे समय फिर करवट बदलेगा और नई पीढ़ी जब जवान होगी तो फिर हम से यह तख़्त-व-ताज छीन लिया जाएगा। इसलिए उन्होंने साज़िश रची। मेरी क़ौम के विरुद्ध इस धरती में ऐसे कीटाणु शामिल कर दिए कि मेरी क़ौम के लोग बौने होने लगे, ज़ुबान की तासीर चली गई, लोग गूंगे हो गए। उन्होनंे अपने हक़ की आवाज़ बुलंद करना छोड़ दिया। उनके हौसले पस्त होते चले गए, हिम्मतें टूट गईं, वह स्वयं छोटा और अपराधी समझने लगे। फिर सैकड़ों वर्ष बाद फ़िरंगी तो चले गए परंतु उनके उत्तराधिकारियों में भी उनकी आत्माएं विलीन हो गईं। हमारे बारे में उनका दृष्टिकोण भी वैसा ही हो गया, हमें दबाया जाता रहा। हमारी नस्लकुशी की जाती रही और हद तो तब हुई जब गुजरात में हज़ारों बेगुनाहों की हत्या कर दी गई, जलयांवाला बाग़ से भी अधिक दिल दहला देने वाला दृश्य था जो मेरी निगाहों के सामने से गुज़रा जिसका मैं ‘‘चश्मदीद गवाह’’ था। मेरे अंदर एक जुनून पैदा हुआ अपनी क़ौम की सुरक्षा का जुनून, आने वाली नस्लों के भविष्य को संवारने का जुनून, उनके क़द को ऊंचा करने का जुनून, उनमें फिर वही उत्साह भर देने का जुनून, उनका गूंगापन दूर करने का जुनून, उन्हें उनकी ज़ुबान वापस दिलाने का जुनून ताकि वह ऊंची आवाज़ में कह सकें कि हम किसी से कम नहीं हैं, यह देश हमारा है, हम भारत के सेनानी हैं, हम अपराधी नहीं हैं। लिहाज़ा मैं जुट गया एक ऐसी कीमिया बनाने में जिसके प्रयोग से मेरी क़ौम के लोगों के क़द बढ़ने लगे,  मुझे सफलता मिली। सचमुच ऐसा होने लगा उनके मुंह में ज़ुबान आने लगी, उनके हौसले बुलंद होने लगे, मैं जिस राज्य में जाता हालात बदल जाते, यह मेरे सफल दौर की शुरूआत थी। जिस धरती पर क़दम रख कर फ़िरंगियों ने इस देश को अपना ग़्ाुलाम बनाया था, मैंने इसी धरती पर फ़िरंगियों के देश से अपनी क़ौम के एक व्यक्ति को बुलाकर अपना अभियान  आगे बढ़ाने का फ़ैसला किया। दरअसल मैं यह संदेश देना चाहता था कि अतिशीघ्र अब मेरे क़दम उनके देश तक भी पहुंचने वाले हैं, अगर मेरी क़ौम का क़द बुलंद होने की यह रफ़्तार जारी रही तो मैं और मेरी क़ौम बहुत जल्द पहले से भी बड़े दायरे में जाकर शासन करने वाली है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;फिर मैं सुनता रहा, अपनी क़ौम के दामन पर लगे दाग़ों के हटने के बारे में पढ़ता रहा, अख़्बारों में देखता रहा, टीवी पर। मेरी दुनिया भी बदल गई थी, मेरी क़ौम की तस्वीर भी बदल गई थी, उसका क़द बुलंद हो गया था, उसके मुंह में ज़्ाुबान आ गई थी, सरकारें उसकी मोहताज हो गई थीं, मेरी क़ौम ने बहुत सराहा था मुझे, चैराहों पर मेरे बुत लग गए थे, फिर धीरे-धीरे मैं एक बीती हुई दास्तान बन गया था अब मैं इतिहास के पन्नों में तो जीवित था परंतु जीते जी मर गया था, लोग मेरे बुतों को तो पहचानते थे पर मेरा चेहरा भूल गए थे।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;यह कुछ पंक्तियां उद्देश्य थीं, इस अफ़साने के लिखे जाने का और उसके अलावा जो कुछ था वह पाठकों की रुचि पैदा करने के लिए। मैंने जिस कीमिया की चर्चा की, दरअसल वह मेरा अख़बार था और मैं जहां जाता से मेरा तातपर्य यह था कि जिस शहर से भी मेरा अख़्बार निकाला जाता, लोगों के मुंह में ज़्ाुबान आ जाती, उनका क़द बड़ा होने लगता। जिस समय मैंने यह अफ़साना लिखा था अगर मैं उसी समय अपनी इस भावना को व्यक्त करता तो यह अत्यंत हास्यहासपद नज़र आता। परंतु आज जबकि रोज़नामा राष्ट्रीय सहारा उर्दू पत्रकारिता के इतिहास में अपना एक स्थान प्राप्त कर चुका है और जिन बदलती परिस्थितियों की ओर मैं इशारा कर रहा हूं वह सबके सामने आ चुकी हैं अर्थात हम हीनभावना के दायरे से बाहर निकलते जा रहे हैं। अब हम अपनी समस्याओं पर गुफ़्तुगू करने में झिझक महसूस नहीं करते। अब हम सिर झुकाकर नाकरदा गुनाहों की सज़ा पाने के लिए मजबूर नहीं हैं। अब पहले की तरह हमें देश के विभाजन का ज़िम्मेदार, साम्प्रदायिक या आतंकवादी ठहराकर अपने ही देश में पराएपन का एहसास नहीं दिलाया जाता परंतु यह काम अभी अधूरा है। इसे पूरा करने के लिए बहुत ही संगठितरूप में आगे का रास्ता तय करना होगा। मैंने लेख लिखते-लिखते अपने एक अफ़साने की चर्चा इसलिए की कि हमारे साहित्यकार और शायर अपनी रचनाओं  द्वारा समाज को जागरुक करने में अत्यंत महत्वपूर्ण भूमिका निभा सकते हैं। हमारे धार्मिक नेताओं की एक आवाज़ पर लब्बैक कहते हुए लाखों लोग कभी भी किसी भी स्थान पर एकत्र हो जाते हैं, यह हमने बार-बार देखा है। लेकिन हमारे पास एक ऐसे थिंक टैंक (चिंतकांे का समूह) की कमी है, जो आने वाले सौ वर्षों की योजना ज़हन में रखता हो, किसी क़ौम की हैसियत को समाप्त कर देने या उसके गौरवपूर्ण स्थान को प्राप्त करने के लिए सौ वर्ष बहुत बड़ी अवधि नहीं होती। सौ वर्ष की ग़्ाुलामी के बाद हमने 90 वर्ष तक अर्थात 1857 से 1947 तक अंग्रेज़ों के विरुद्ध जंग लड़ी, तब जाकर हमारा देश आज़ाद हुआ और अंग्रेज़ों ने भी पाँव रखते ही इस देश पर सत्ता प्राप्त नहीं कर ली थी इसी तरह आज जो हम अंतर्राष्ट्रीय परिस्थितियां पर देख रहे हैं, वह इराक़ का मामला हो या मिस्र और लीबिया का, ऐसा नहीं है कि अचानक कोई आवाज़ उठी और उसने तूफ़ान का रूप धारण कर लिया। देखने-सुनने में ज़रूर ऐसा लगता होगा परंतु वास्तव में ऐसा नहीं है। यह सब कुछ योजनाबद्ध है। यह भी योजनाबद्ध था कि उर्दू को भारत की राष्ट्रीय भाषा न बनने दिया जाए। यह भी योजनाबद्ध था कि हिंदी देश की राष्ट्र भाषा घोषित किए जाने के बावजूद भी पूरे भारत की भाषा न बन सके। यह भी योजनाबद्ध था कि अंग्रेज़ों के चले जाने के बाद भी अंग्रेज़ी भाषा का शासन हम पर क़ायम रहे। मैंने अपने कल के लेख मे अरब देशों को सुरक्षा उपलब्ध करान की बात कही थी। अरब देशों के पास पैट्रोल की दौलत है। इस दौलत का बहुत बड़ा हिस्सा उनके पास पहुंच रहा है, जिन्होंने अपने छल तथा मक्कारी और ताक़त के आधार पर उन देशों के शासकों को अपने शिकंजे में कस लिया है और अपने इशारों पर चलने के लिए मजबूर कर दिया है। इस दौलत का कुछ हिस्सा ज़रूर उन शासकों के पास रहता है लेकिन उन्हें ऐसे रास्ते पर चलाने के लिए उनका ज़हन तैयार कर दिया जाता है कि धीरे-धीरे वह अपनी जनता से दूर हो जाएं। अपने महलों में अपनी जन्नत क़ायम कर लें। अपनी जनता से उनका सम्पर्क टूट जाए, फिर वह अपने ही लोगों की घृणा का शिकार बनने लगें और इन बदलती परिस्थितियों में पल-पल की ख़बर उन षड़यंत्र रचने वालों को मिलती रहे। वह जनता के बीच ऐसे लोगों की तलाश शुरू कर दें, जिन्हें विद्रोह के लिए उकसाया जा सके। शासकों के नज़दीक रहने वाले ऐसे लोगों की तलाश शुरू कर दें जो विद्रोह का झंडा उठाकर बाक़ी सबको उकसा सकें। परिणाम हमारे सामने है। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;उन देशों की दौलत का बहुत छोटा हिस्सा हम तक भी पहुंचता है। हमारे उन भाइयों द्वारा जो अपने परिवार की मुहब्बत में अपना घर बार और देश छोड़ कर रोटी-रोज़ी की तलाश में इन देशों तक पहुंचते हैं। यह बहुत थोड़ी सी दौलत जो उनकी मेहनत की कमाई के रूप में हमारे देश तक पहुंचती है, उससे भी लाखों परिवार लाभान्वित होते हैं और उनकी जीवनशैली बदलने लगती है। कल्पना करें कि उन अरब देशों के शासक अपनी दिखावे की सुरक्षा की जो क़ीमत उन देशों को अदा करते हैं, जो धीरे-धीरे उन पर क़ब्ज़ा करने की दिशा में आगे बढ़ रहे हैं, उनका स्थान अगर भारत ले ले और अपने देश की दूसरी सबसे बड़ी बहुसंख्यक आबादी की भावनाओं का ध्यान रखते हुए उन्हें सुरक्षा प्रदान कर दे तो जो दौलत आज अमेरिकी अर्थव्यवस्था को शक्तिशाली बनाए हुए है और जिसके आधार पर यह देश दुनिया की सबसे बड़ी शक्ति होने का दम भरता है, यह हैसियत भारत को प्राप्त हो सकती है। हिंदुओं और मुसलमानों के बीच रिश्ते बदल सकते हैं, अरब देशों की दौलत अगर भारत के विकास और उन्नति के काम आने लगे, हम उन देशों से व्यापारिक संबंध स्थापित कर सकें, उन्हें अमेरिकी क़ब्ज़े से छुटकारा दिला सकें, एक मित्र देश की तरह उनकी मदद कर सकें तो यह दोनों के हित में होगा। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;आजके लेख में अब अधिक लिखने की गुंजाइश नहीं बची है, इसलिए समाप्ति तक पहुंचने से पूर्व उस विषय पर वापस लौटना ज़रूरी है, जिसके लिए अपने एक अफ़साने का हवाला दिया था। दरअसल मैं रोज़नामा राष्ट्रीय सहारा के इन पृष्ठों को एक ऐसी कीमिया के रूप में भारत के कोने-कोने तक पहुंचा देना चाहता हूं, इसलिए कि सैकड़ों वर्षों तक चलने वाले जिस षड़यंत्र ने हमसे हमारी ज़्ाुबान छीन ली, हमारे ऊंचे क़द को बौने क़द में बदल दिया, हमारे उत्साह को तोड़ दिया, हमें सिर झुकार जीने के लिए मजबूर कर दिया, हम इस कीमिया के माध्यम से फिर वह स्थान प्राप्त कर सकें, जो कभी हमारा था और जिसके हम हक़दार हैं। इसलिए कि वतन के शहीदों की सूचि में आज भी वह नाम सुनहरे अक्षरों में दर्ज हैं जो हमें यह कहने और लिखने का अधिकार उपलब्ध कराते हैं। एक आख़री बात ‘थिंक टैंक’ के हवाले से। इस विषय पर विस्तार से लिखे जाने की आवश्यकता है और क़ौम द्वारा विचार किए जाने के भी, इसलिए कि अब समय आ गया है कि जब अलग-अलग क्षेत्रों से संबंध रखने वाले सभी योग्य व्यक्तियों को एकत्रित करके एक ऐसी रणनीति बना ली जाए, जो जस्टिस राजेंद्र सच्चर की रिपोर्ट के अनुसार आज देश की सबसे पिछड़ी क़ौम की तक़दीर बदल सके, क्या आप इरादा रखते हैं इस कल्पना को वास्तविकता में बदलने का?&lt;/div&gt;&lt;div&gt;..................................&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-4198406718336607801?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/4198406718336607801/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=4198406718336607801' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4198406718336607801'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/4198406718336607801'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_3359.html' title='‘मेरी आंखों में तुम्हारे ख़्वाब हैं’&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5888987307676850163</id><published>2011-03-31T00:17:00.002-07:00</published><updated>2011-03-31T00:19:02.612-07:00</updated><title type='text'>متحد ہوجاؤ!قبل اس کے کہ یہ آگ اپنے دامن تک پہنچیعزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرزمین ہند پر امام حرم کی آمد یقینا ایک مبارک قدم ہی۔ ان کے اس تین روزہ دورہ میں جو ہیجانی کیفیت اور جذبۂ ایمانی دیکھنے کو ملا، اس نے مکہ مدینہ کی یاد تازہ کردی۔ گوکہ وہ ہمارے درمیان سے واپس تشریف لے جاچکے ہیں، مگر آج بھی فضاؤں میں ان کی آمد کی خوشبو محسوس کی جاسکتی ہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ؐ کی آمد نے سرزمین عرب پر جو رحمتوں کی بارش کی تھی، کیا ہندوستان میں اس مقدس سرزمین سے تشریف لانے والے امام حرم قبلہ محترم فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کی آمد کوئی ایسا اثر چھوڑے گی، جو اس زمین پر رہنے والوں کی تقدیر بدل دی۔ اگر یہاں بالخصوص مسلمانوں کا تذکرہ کیا جائے تو بے محل نہیں ہوگا، اس لئے کہ ان کی جو عقیدت اس دوران دیکھنے کو ملی، وہ یقینا یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ امام حرم کے اس دورہ سے ضرور فیضیاب ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اگر یہ صفیں اتحاد کی شکل میں دیکھنے کو مل جائیں تو کیا کہنی، اس لئے کہ  ہماری صفوں میں اتحاد کی کمی آج ہماری کامیابی کے راستہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہی۔ اگر ان مبارک قدموں کی برکت ہمیں اتحاد کی راہ پر لے چلے تو بہت سے مسائل کا حل دیکھنے کو مل سکتا ہی۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس قیادت کی کمی ہی۔ مذہب کی بات ہو یا سیاست کی، ہمارے پاس قائدین کی کمی نہیں ہی، مگر ان میں سے کون قومی سطح پر ہم سب کی رہنمائی کرسکے یہ سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہی۔سیاسی قیادت کے بغیر بہت سے مسائل کا حل مشکل نظر آتا ہی۔ مذہبی بیداری کی ضرورت ہر قدم پر ہی، مگر قومی و بین الاقوامی سطح پر ہمیں جن مسائل کا سامنا ہی، اس کی راہ بھی نکالنا ہوگی۔ میں نے کل کے مضمون میں لیبیا کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے مسلم ممالک کو درپیش مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی تھی کہ کس طرح یکے بعد دیگرے یہ ملک صہیونی طاقتوں کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں، یہ جاننے کے لئے ہمیں اب تاریخ کے دامن میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہی۔ اگر چند برسوں کے کربناک حالات پر بھی ہم نظر ڈالیں تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتنی تیزی سے اسلامی ممالک صلیبی طاقتوں کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے مجبور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ امام حرم نے ہندوستان آمد کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرزمین عرب کے بعد یہ پہلا موقع ہی، جب مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد کو خطاب کرنے کا موقع پارہا ہوں، لہٰذا ہمیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ بیشک ہندوستان اسلامی ملک نہ ہو، مگر ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کی آواز آج پوری دنیا میں سنی جاتی ہے اور ان کی اجتماعی طاقت اگر کوئی فیصلہ لے لے تو یہ آواز تاریخ بدل سکتی ہی۔ آج لیبیا کو بچانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگر صہیونی طاقتوں کے قدموں کو اسی وقت  نہ روک دیا گیا تو جس تیزی سے یہ اسلامی ممالک اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے چلے جارہے ہیں، شاید دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں بچے گا، جہاں مسلمانوں پر ان کا عتاب نازل نہ ہو۔ ہمیں کیوں یہ انتظار رہتا ہے کہ جب کوئی مخالف طاقت ہم پر حملہ آور ہوگی، ہمیں جنگ کا سامنا ہوگا، تبھی ہم بیدار ہوں گی، متحد ہوں گی۔ کیا آج بھی ہمیں یہ سمجھ لینے میں کوئی قباحت ہے کہ یہ اسلام دشمن طاقتیں ہر ملک کے مسلمانوں کی تباہی کے لئے ایک الگ حکمت عملی رکھتی ہیں۔ مسلم ممالک کے عوام کو کبھی تاناشاہی کا خوف دکھا کر اور کبھی دہشت گردی میں ملوث بتاکر ان پر براہِ راست حملہ کیا جاتا ہے تو ہندوستان اور پاکستان جیسے ملکوں کے لئے الگ حکمت عملی پائی جاتی ہی۔ ہندوستان میں دہشت گردی بہت جلد مذہبی رنگ لے لیتی ہی، لہٰذا ہمارے ملک میں جب جب دہشت گردانہ حملہ ہوتے ہیں، انہیں مذہبی چشمہ سے دیکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ہوتی۔ ہم تمام دہشت گردوں میں کبھی سادھوی پرگیہ سنگھ تو دوسرے مفتی ابوالبشر کا چہرہ دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ہم نے اس دہشت گردی کو ایک دوسرے کے خلاف سازش کے معاملوں میں دیکھنا شروع کردیا ہی۔ نتیجہ اصل مجرم ہماری گرفت میں آتے آتے رہ جاتے ہیں۔ کبھی وہ ہمیں فریب دے کر بھاگ جاتے ہیں اور کبھی ہمیں ان کے فریب کا اندازہ ان کے چلے جانے کے بہت بعد میں ہوتا ہی۔ امریکی شہری کین ہے ووڈ کی حرکتوں کا اندازہ ہمیں اسی وقت ہوگیا تھا، جب ہندوستان کے مختلف شہروں میں بم دھماکے ہورہے تھے اور وہ ہمارے ملک میں تھا، لیکن ہم اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کے ذریعہ پھیلائی گئی تباہی کی داستان اس سے کہیں زیادہ طویل ہی۔ وہ امریکی پاسپورٹ پر ایک بدلے ہوئے نام اور شہریت کے ساتھ مسلسل ہندوستان اور پاکستان کا سفر کرتا رہا۔ تباہی کے جال بچھاتا رہا، ہم انجان رہے اور جب یہ راز سامنے آیا، تب ہم اس حد تک بے بس اور لاچار تھے کہ بار بار کی کوششوں کے باوجود بھی ہم اپنے مجرم کو اپنے ملک کی سرحدوں میں لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ان دہشت گردانہ حملوں نے صرف ہمارے ملک میں پے درپے تباہی کا عالم ہی پیدا نہیں کیا، بلکہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ایک بڑی خلیج بھی پیدا کی۔ بیشک مبارکباد کے مستحق ہیں ہندوستان کے ہندو اور مسلمان، جنہوں نے اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ بیشک ہم پوری طرح بم دھماکوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی، لیکن انہیں اس حد تک مذہبی رنگ بھی نہیں دیا جاسکا کہ ملک میں خانہ جنگی کا ماحول پیدا ہوتا۔ ادھر دو ڈھائی برس کے عرصہ میں ہمیں بہت حد تک اس دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی ملی ہی، مگر ابھی بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ ہمیں تمام واقعات کی تہہ تک پہنچ کر ان اصل چہروں کو بے نقاب کرنا ہوگا، یہ دہشت گردی جن کے دماغوں کی اُپج ہی، ان کی ہندمخالف سرگرمیوں کی حکمت عملی کیا ہی۔ اس پر غور کرنا ہوگا،صرف ان ناموں اور چہروں کو دیکھنا ہی کافی نہیں ہوگا، جو ان میں ملوث ہیں یا ملوث نظر آتے ہیں۔ پس پردہ کیا ہے یہ جاننا بھی ضروری ہی۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;پاکستان میں دہشت گردی کو مذہبی رنگ نہیں دیا جاسکتا۔ باوجود اس کے کہ طالبان اور لشکرطیبہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی تباہی کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہیں۔ اس کے پیچھے کیا ’ریمنڈڈیوس‘ جیسے امریکی سفارتکاروں کا بھی کوئی رول ہے یا صرف یہ پاکستان کے پروردہ وہ دہشت گرد ہیں، جنہیں ماضی میں ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کی نیت سے پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا گیا اور اب وہ آستین کا سانپ بن بیٹھے ہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;9میں نے آج کے مضمون کی شروعات کی تھی امام حرم کی ہندوستان تشریف آوری سے اور میں آج کے اپنے مضمون کا موضوع بس یہی رکھنا چاہتا ہوں۔ مذکورہ بالا سطروں میں دیگر ممالک کاتذکرہ اس لئے کیا کہ اگر ہم متحد ہوجائیں تو نہ صرف ہندوستان میں اپنے حالات کو بہتر بناسکتے ہیں، بلکہ عرب ممالک جو یکے بعد دیگرے صہیونی طاقتوں کی گرفت میں آتے چلے جارہے ہیں، اس سے بھی انہیں نجات دلا سکتے ہیں، اس لئے کہ گنتی کے اعتبار سے مسلم ممالک کی تعداد بہت زیادہ سہی، مگر مسلم آبادی کے اعتبار سے ہندوستان کا مسلمان درجنوں مسلم ممالک کی مجموعی آبادی سے کہیں زیادہ ہے اور اس کا جمہوری نظام اسے ان مسلم ممالک کے باشندوں سے کہیں زیادہ حقوق فراہم کرتا ہی۔ اسلام مخالف طاقتوں کے خلاف آواز بلند کرنے کی اجازت دیتا ہی۔  مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ چاہ کر بھی عرب ممالک کے عوام مصر، لیبیا اور بحرین کے حق میں آواز بلند نہیں کرسکتی۔ انہیں اپنے ملک کے حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اپنے حکمراں کی منشا کے خلاف ایک قدم بھی آگے بڑھ سکیں اور ان کے حکمراں کس حد تک امریکی مفادات کا خیال رکھتے ہیں، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہی۔ ہوسکتا ہے ان کی اپنی یہ مجبوریاں بھی ہوں کہ وہ اپنی اور اپنے ملک کی عافیت اسی میں محسوس کرتے ہوں کہ انتہائی خاموشی کے ساتھ بڑی طاقتوں کی رضا میں اپنی رضا سمجھ لی جائی۔ اس لئے کہ کون دنیا کی سب سے بڑی طاقت کے ساتھ ٹکرانے کی ہمت کری، وہ بھی تب جب کہ انہوں نے حال ہی میں صدام حسین اور حسنی مبارک کا حشر دیکھ لیا ہو اور لیبیا کے صدر کرنل قذافی کا حشر دیکھ رہے ہوں، لیکن ہم ہندوستان کے مسلمان ان معنوں میں ان سب سے زیادہ خوش نصیب ہیں اور ایک حد تک یہ بھی اطمینان کی بات کہی جاسکتی ہے کہ ہمارے بعض حکمراں بھلے ہی امریکہ کے تئیں دل میں نرم گوشہ رکھتے ہوں، مگر وہ عرب ممالک کے حکمرانوں کی طرح ان کی مرضی کے غلام نہیں ہیں۔ اس درمیان مختلف سیاسی حلقوں سے لیبیا کی حمایت میں آوازوں کا اٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عرب ممالک میں امریکی مداخلت کو لے کر خوش نہیں ہیں اور اس بیجا مداخلت کو ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں جب ہندوستان کا مسلمان تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو محبوب ہے اور وہ اس کے جذبات کا خیال رکھنا چاہتے ہیں، میں داخلی مسائل کی بات نہیں کررہا ہوں، میں ان بین الاقوامی مسائل پر بات کررہا ہوں، جن کو سامنے رکھ کر یہ چند سطریں لکھی جارہی ہیں۔ ایسے میں اگر ہم متحد ہوکر لیبیا کے حق میں آواز بلند کریں تو ہمیں پوری امید ہے کہ تقریباً تمام سیکولر سیاسی جماعتوں کی ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہوگی اور وہ جنہیں ہم سیکولر نہیں مانتی، لہٰذا اس زمرے میں انہیں شامل نہیں کیا گیا۔ کم از کم ان سے بھی یہ امید تو قطعاً نہیں ہے کہ وہ امریکہ کی حمایت میں آواز بلند کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں سے وہ تمام مذہبی اور سماجی تنظیمیں جن کی زبان پر لبیک کہتے ہوئے لاکھوں مسلمان اکٹھا ہوجاتے ہیں، کیا ایسے مسائل میں بھی دلچسپی لیں گی، کوئی تحریک چلائیں گی۔ میں پھر یہ عرض کردینا چاہوں گا کہ آج اگر وہ لیبیا کے حق میں کوئی تحریک چلانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے صرف لیبیا کے حق میں نہ سمجھا جائی، بلکہ اسے اپنے حق میں بھی سمجھا جائی۔ اس لئے کہ اسلام مخالف طاقتوں کا نشانہ تمام عالم اسلام اور تمام مسلمان ہیں، جس میں آپ، ہم، سب شامل ہیں۔ بات صدام حسین کی ہو یا کرنل قذافی کی، امریکی میڈیا ایسے موقعوں پر ان کی بیشمار دولت اور ان کے ذریعہ کئے جانے والے مظالم کو بڑھا چڑھا کر بتانا اور دکھانا شروع کردیتا ہی، تاکہ ساری دنیا کی ذہن سازی کی جاسکے کہ جن ملکوں میں بھی ان کے سربراہان کے خلاف آواز بلند کی جارہی ہی، اس کی وجہ ان کی تاناشاہی اور بیشمار دولت کا جمع کرلینا ہی۔ میں یہاں کسی کا نام نہیں لکھنا چاہتا، اس لئے کہ بدعنوانیوں میں ملوث تمام افراد کی فہرست کو شامل کرنا اس وقت میرے لئے ممکن نہیں ہی، تاہم یہ اشارہ کیا کم ہے کہ کرنل قذافی جو1برس تک ایک ایسے ملک کا حکمراں رہا، جو پیٹرول کی دولت سے مالامال ہی۔ اس کے پاس اس طویل حکمرانی کی مدت میں جتنی دولت ملی، اتنی تو ہم تازہ تازہ کچھ گمنام سے چہروں کے منظرعام پر آنے کے بعد بھی دیکھتے ہیں۔ میں کسی کو الزام سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش نہیں کررہا ہوں، عرض صرف اتنا کردینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی نے اپنے ملک کے عوام کے ساتھ انصاف نہیں کیا تو اسے اقتدار سے ہٹانے کا یا سزا دینے کا کام اس ملک کے عوام کا ہی۔ اگر کوئی حکمراں بدعنوانی میں ملوث ہے تو اس کو سزا دینے کی ذمہ داری اس ملک کی عدالت کی ہی۔ اگر ہم نے اپنے اوپر غیرملکی طاقتوں کو اس درجہ حاوی کرلیا کہ وہ جب چاہیں جس کے آنگن میں کود کر اس کی گردن پکڑنے کا حق حاصل کرلیں تو پھر ان کی گرفت سے کس کی گردن بچے گی؟ قبل اس کے کہ یہ آگ ہمارے دامن تک پہنچی، ہمیں دامن پھیلا کر اتحاد کی بھیک مانگنی ہوگی، تمام اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا ہوگا، آج لیبیا کے حق میں اور کل اپنے مسائل کے حل کی جدوجہد میں، ورنہ آج لیبیا نہیں بچے گا اور کل ہم نہیں بچیں گے&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5888987307676850163?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5888987307676850163/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=5888987307676850163' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5888987307676850163'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5888987307676850163'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_2916.html' title='&lt;p align=right&gt;متحد ہوجاؤ!قبل اس کے کہ یہ آگ اپنے دامن تک پہنچی&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-5959552632133565534</id><published>2011-03-31T00:17:00.001-07:00</published><updated>2011-03-31T00:17:36.296-07:00</updated><title type='text'>एकजुट हो जाओ! इससे पूर्व कि यह आग अपने दामन तक पहुंचे!अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;भारत की धरती पर इमाम-ए-हरम का आगमन निश्चितरूप से एक मुबारक क़दम है। उनकी तीन दिवसीय यात्रा में जो भावनात्मक व धार्मिक उत्साह देखने को मिला, उसने मक्का-मदीना की याद ताज़ा कर दी। गोकि वह हमारे बीच से वापस जा चुके हैं, परंतु आज भी वातावरण में उनके आगमन की ख़ुशबू महसूस की जा सकती है। अब देखना यह है कि रसूल-ए-अकरम हज़रत मुहम्मद मुस्तफ़ा सल्ल॰ अ॰व॰ के आगमन ने अरब की धरती पर जो रहमतों की बारिश की थी, क्या भारत में उस पवित्र धरती से आने वाले इमाम-ए-हरम क़िबला मोहतरम फ़ज़ीलतुश्शैख़ डा॰ अब्दुर्रहमान अस्सुदैस का आगमन कोई ऐसा प्रभाव छोड़ेगा, जो इस धरती पर रहने वालों की तक़दीर बदल दे। अगर यहां विशेषरूप से मुसलमानों की चर्चा की जाए तो अनुचित नहीं होगा, इसलिए कि उनकी जो आस्था इस बीच देखने को मिली, वह निश्चितरूप से यह एहसास दिलाती है कि वह इमाम-ए-हरम की इस यात्रा से अवश्य फ़ैज़याब होने का इरादा रखते हैं और अगर यह फ़ैज़ एकजुटता के रूप में देखने को मिल जाए तो क्या कहने इसलिए कि हमारी पंक्तियों में एकजुटता की कमी आज हमारी सफलता की राह में सबसे बड़ी रुकावट है। अगर इन मुबारक क़दमों की बरकत हमें एकजुटता की राह पर ले चले तो बहुत सी समस्याओं का हल देखने को मिल सकता है। ऐसा नहीं है कि हमारे पास नेतृत्व की कमी है। धर्म की बात हो या राजनीति की, हमारे पास नेताओं की कमी नहीं है, परंतु उनमें से कौन राष्ट्रीय स्तर पर हम सबका मार्गदर्शन कर सके, यह प्रश्न आज भी अपनी जगह बना हुआ है। राजनीतिक नेतृत्व के बिना बहुत सी समस्याओं का हल कठिन नज़र आता हैं। धार्मिक जागरुकता की आवश्यकता हर क़दम पर है, परंतु राष्ट्रीय तथा अन्तरराष्ट्रीय स्तर पर हमें जिन समस्याओं का सामना है उसका रास्ता भी हमें निकालना होगा। मैंने कल के लेख में लीबिया की परिस्थितियों का उल्लेख करते हुए मुस्लिम देशों को दरपेश समस्याओं की समीक्षा करने का प्रयास किया था कि किस प्रकार एक के बाद दूसरा देश सैहूनी ताक़तों का शिकार होता चला जा रहा है, यह जानने के लिए हमें अब इतिहास के दामन में झांक कर देखने की आवश्यकता नहीं है। अगर कुछ वर्षों के पीड़ादायक हालात पर भी हम नज़र डालें तो अंदाज़ा किया जा सकता है कि कितनी तेज़ी से इस्लामी देश सलीबी ताक़तों के सामने सर झुकाने के लिए मजबूर होते चले जा रहे हैं। इमाम-ए-हरम ने भारत आगमन के बाद अपने विचार व्यक्त करते हुए कहा कि अरब की धरती के बाद यह पहला अवसर है, जब मुसलमानों की इतनी बड़ी संख्या को सम्बोधित करने का अवसर पा रहा हूं। इसलिए हमें इस बात को अच्छी तरह समझ लेना चाहिए कि निःसंदेह भारत इस्लामी देश न हो, परंतु भारत में रहने वाले मुसलमानों की आवाज़ पूरी दुनिया में सुनी जाती है और उनकी सामूहिक शक्ति अगर कोई फ़ैसला ले ले तो यह आवाज़ इतिहास बदल सकती है। आज लीबिया को बचाना इसलिए भी आवश्यक है कि अगर सैहूनी ताक़तों के क़दमों को इसी वक़्त न रोक दिया गया तो जिस तेज़ी से यह इस्लामी देशों तथा मुसलमानों को निशाना बनाते चले जा रहे हैं, शायद दुनिया का कोई देश ऐसा नहीं बचेगा, जहां मुसलमानों पर उनका क़हर न टूटे। हमें क्यों यह प्रतीक्षा रहती है कि जब कोई विरोधी शक्ति हम पर आक्रमण करेगी, हमें युद्ध का सामना होगा, तभी हम जागरुक होंगे, एकजुट होंगे। क्या आज भी हमें यह समझ लेने में कोई संशय है कि यह इस्लाम विरोधी ताक़तें हर देश के मुसलमानों की तबाही के लिए एक अलग रणनीति रखती है। मुस्लिम देशों की जनता को कभी तानाशाही का भय दिखाकर और कभी आतंकवाद में लिप्त बताकर उन पर सीधा हमला किया जाता है तो भारत और पाकिस्तान जैसे देशों के लिए अलग रणनीति बनाई जाती है। भारत में आतंकवाद बहुत जल्द धार्मिक रंग ले लेता है, इसलिए हमारे देश में जब-जब आतंकवादी हमले होते हैं, उन्हें धार्मिक चश्मे से देखने वालों की भी कमी नहीं होती। हम सभी आतंकियों में कभी साध्वी प्रज्ञा सिंह तो कभी मुफ़्ती अबुल बशर का चेहरा देखने के आदी हो गए हैं। हमने इस आतंकवाद को एक-दूसरे के विरुद्ध षड़यंत्र के रूप में देखना शुरू कर दिया है। परिणामस्वरूप असल अपराधी हमारी पकड़ में आते-आते रह जाते हैं, कभी वह हमें धोखा देकर भाग जाते हैं और कभी उनके धोखे का अंदाज़ा उनके चले जाने के बहुत बाद में होता है। अमेरिकी नागरिक कैन हे वुड की गतिविधियों का अंदाज़ा हमें उसी समय हो गया था जब भारत के विभिन्न शहरों में बम धमाके हो रहे थे और वह हमारे देश में था, लेकिन हम उसे जेल की सलाख़ों के पीछे पहुंचाने में सफल नहीं हुए। डेविड कोलमैन हेडली द्वारा फैलाई गई तबाही की दास्तान इससे कहीं अधिक लम्बी है। वह अमेरिकी पासपोर्ट पर एक बदले हुए नाम तथा नागरिकता के साथ लगातार भारत और पाकिस्तान की यात्रा करता रहा, तबाही का जाल बिछाता रहा, हम अनजान रहे और जब यह रहस्य सामने आया तब हम इस हद तक बेबस और लाचार थे कि बार-बार के प्रयासों के बावजूद भी हम अपने अपराधी को अपने देश की सीमा के अंदर लाने में सफल नहीं हो सके। इन आतंकवादी हमलों ने केवल हमारे देश में निरंतर तबाही की अवस्था ही पैदा नहीं की, बल्कि हिंदू और मुसलमानों के बीच एक बड़ी खाई भी पैदा की। निःसंदेह बधाई के पात्र हैं भारत के हिंदू और मुसलमान, जिन्होंने इस षड़यंत्र को सफल नहीं होने दिया। निःसंदेह हम पूरी तरह बम धमाकों को रोकने में सफल नहीं हुए, लेकिन उन्हें इस हद तक धार्मिक रंग भी नहीं दिया जा सका कि देश में गृह युद्ध का वातावरण पैदा होता। इधर दो-ढाई वर्ष की अवधि में हमें बहुत हद तक इस आतंकवाद पर नियंत्रण पाने में सफलता मिली है, परंतु अभी भी पूरी तरह संतुष्ट नहीं हुआ जा सकता। हमें सभी घटनाओं की गहराई तक पहुंच कर उन असल चेहरों को बेनक़ाब करना होगा, यह आतंकवाद जिनके दिमाग़ों की उपज है, उनकी भारत विरोधी गतिविधियों की रणनीति क्या है। इस पर विचार करना होगा। केवल उन नामों और चेहरों को देखना ही काफ़ी नहीं होगा, जो उनमें लिप्त हैं या लिप्त दिखाई देते हैं, पर्दे के पीछे क्या है यह भी जानना आवश्यक है। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;पाकिस्तान में आतंकवाद को धार्मिक रंग नहीं दिया जा सकता, बावजूद इसके कि तालिबान और लश्कर-ए-तय्यबा जैसे आतंकी संगठन पाकिस्तान की तबाही का एक बड़ा कारण बन गए हैं। इसके पीछे क्या ‘रेमंड डेविस’ जैसे अमेरिकी कूटनितिज्ञों की भी कोई भूमिका है या केवल यह पाकिस्तान के पोषित आतंकवादी हैं, जिन्हें अतीत में भारत के विरुद्ध प्रयोग करने के इरादे से फलने-फूलने का अवसर प्रदान किया गया और अब वह आस्तीन का सांप बन बैठे हैं। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;मैंने आजके लेख की शुरुआत की थी इमाम-ए-हरम के भारत आगमन से और मैं आजके अपने लेख का विषय बस यही रखना चाहता हूं। उपरोक्त पंक्तियों में अन्य देशों की चर्चा इसलिए की कि हम एकजुट हो जाएं तो न केवल भारत में अपने हालात को बेहतर बना सकते हैं, बल्कि अरब देश जो एक के बाद दूसरे सैहूनी ताक़तों के शिकंजे में आते चले जा रहे हैं, उससे भी उन्हें छुटकारा दिला सकते हैं, इसलिए कि गिनती के हिसाब से मुस्लिम देशों की संख्या बहुत अधिक सही परंतु मुस्लिम आबादी के हिसाब से भारत का मुसलमान दरजनों मुस्लिम देशों की कुल आबादी से कहीं अधिक है और इसकी लोकतांत्रिक व्यवस्था उसे उन मुस्लिम देशों के नागरिकों से कहीं अधिक अधिकार प्रदान करती है, इस्लाम विरोधी शक्तियों के विरुद्ध आवाज़ बुलंद करने की छूट देती है। मुझे अच्छी तरह अंदाज़ा है कि चाहते हुए भी अरब देशों की जनता मिस्र, लीबिया और बहरीन के पक्ष में आवाज़ नहीं उठा सकती। उन्हें अपने देश की परिस्थितियां इस बात की अनुमति नहीं देतीं कि वह अपने बड़ी ताक़तों की इच्छा के विरुद्ध एक क़दम भी आगे बढ़ सकें और उनके शासक किस हद तक अमेरिकी हितों का ध्यान रखते हैं, यह किसी से छुपा हुआ नहीं है। हो सकता है कि उनकी अपनी यह मजबूरियां भी हों कि वह अपनी और अपने देश की भलाई इसी में महसूस करते हों कि अत्यंत ख़ामोशी के साथ शासकों की इच्छा को अपनी इच्छा समझ लिया जाए। इसलिए कि कौन दुनिया की सबसे बड़ी शक्ति के साथ टकराने का साहस करे, वह भी तब जब उन्होंने हाल ही में सद्दाम हुसैन और हुसनी मुबारक का हाल देख लिया हो और लीबिया के राष्ट्रपति कर्नल क़ज़्ज़्ाफ़ी का हाल देख रहे हो। लेकिन हम भारत के मुसलमान इन अर्थों में इन सबसे अधिक भाग्यशाली हैं और एक हद तक यह भी संतोष की बात कही जा सकती है कि हमारे कुछ शासक भले ही अमेरिका के प्रति दिल में सहानुभूति रखते हों, परंतु वह अरब देशों के शासकों की तरह उनकी इच्छा के ग़्ाुलाम नहीं हैं। इस बीच विभिन्न राजनीतिक क्षेत्रों से लीबिया के समर्थन में आवाज़ों का उठना इस बात का प्रतीक है कि वह अरब देशों में अमेरिकी हस्तक्षेप को लेकर ख़ुश नहीं हैं और इस हस्तक्षेप को नापसंदीदा निगाहों से देखते हैं। ऐसे मंें जब भारत के मुसलमान लगभग सभी राजनीतिक दलों को प्रिय हैं और वह उनकी भावनाओं का ध्यान रखना चाहते हैं, मैं आंतरिक समस्यओं की बात नहीं कर रहा हूं, मैं उन अन्तर्राष्ट्रीय समस्याओं पर बात कर रहा हूं जिनको सामने रख कर यह कुछ पंक्तियां लिखी जा रही हैं। ऐसे में अगर हम एकजुट होकर लीबिया के पक्ष में आवाज़ उठाएं तो हमें पूरी आशा है कि लगभग सभी धर्मनिरपेक्ष राजनीतिक दलों का हमें भरपूर समर्थन प्राप्त होगा और वह जिन्हें हम धर्मनिरपेक्ष नहीं मानते, इसलिए इस श्रेणी में उन्हें शामिल नहीं किया गया। कम से कम उनसे भी यह आशा तो बिल्कुल नहीं है कि वह अमेरिका के समर्थन में आवाज़ उठाएंगे। अब देखना यह है कि हम में से वह सभी धार्मिक और सामाजिक संगठन जिनकी ज़ुबान पर लब्बैक कहते हुए लाखों मुसलमान इकट्ठा हो जाते हैं, क्या ऐसी समस्याओं में भी रुचि लेंगे, कोई आंदोलन चलाएंगे। मैं फिर यह निवेदन कर देना चाहूंगा कि आज अगर वह लीबिया के पक्ष में कोई आन्दोलन चलाने का फैसला करते हैं तो उसे लीबिया के पक्ष में न समझा जाए बल्कि उसे अपने पक्ष में भी समझा जाए। इसलिए कि इस्लाम विरोधी ताक़तों का निशाना इस्लामी जगत और सारे मुसलमान हैं, जिसमें आप, हम सब शामिल हैं। बात सद्दाम हुसैन की हो या कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी की, अमेरिकी मीडिया ऐसे अवसरों पर उनके अपार धन और उनके द्वारा किए जाने वाले अत्याचार को बढ़ा चढ़ाकर बताना और दिखाना आरंभ कर देता है, ताकि सारी दुनिया का ज़हन बनाया जा सके कि जिन देशों में भी उनके शासनाध्यक्षों के विरुद्ध आवाज़ उठाई जा रही है, उसका कारण उनकी तानाशाही और अपार धन का जमा कर लेना है। मैं यहां किसी का नाम नहीं लिखना चाहता, इसलिए कि भ्रष्टाचार में लिप्त सभी लोगों की सूचि को शामिल करना इस समय मेरे लिए संभव नहीं है, फिर भी यह इशारा क्या कम है कि कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी जो 41 वर्ष तक एक ऐसे देश का शासक रहा, जो पैट्रोल की दौलत से मालामाल है, उसके पास इस लम्बी शासन अवधि में जितना धन मिला, उतना तो हम ताज़ा ताज़ा कुछ गुमनाम से चेहरों के सामने आने के बाद भी देखते हैं। मैं किसी को आरोपमुक्त ठहराने का प्रयास नहीं कर रहा हूं, निवेदन केवल इतना कर देना चाहता हूं कि अगर किसी ने अपने देश की जनता के साथ न्याय नहीं किया तो उसे सत्ता से हटाने का या सज़ा देने का काम उस देश की जनता का है। अगर कोई शासक भ्रष्टाचार में लिप्त है तो उसको सज़ा देने की ज़िम्मेदारी उस देश की अदालत की है। अगर हमने अपने ऊपर विदेशी ताक़तों को इतना हावी कर लिया कि वह जब चाहें जिसके आंगन में कूद कर उसकी गर्दन पकड़ने का अधिकार प्राप्त कर लें तो फिर उनकी पकड़ से किसकी गर्दन बचेगी? पूर्व इसके कि यह आग हमारे दामन तक पहुंचे, हमें दामन फैलाकर एकजुटता की भीख मांगनी होगी, सभी मतभेदों को भुलाकर एक प्लेटफ़ार्म पर खड़ा होना होगा, आज लीबिया के पक्ष में और कल अपनी समस्याओं के समाधान के संघर्ष में, वरना आज लीबिया नहीं बचेगा और कल हम नहीं बचेंगे।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-5959552632133565534?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/5959552632133565534/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=5959552632133565534' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5959552632133565534'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/5959552632133565534'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_31.html' title='एकजुट हो जाओ! इससे पूर्व कि यह आग अपने दामन तक पहुंचे!&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7998649371992006971</id><published>2011-03-28T22:58:00.000-07:00</published><updated>2011-03-28T22:59:27.563-07:00</updated><title type='text'>لیبیاـ صلیبی جنگ کے نرغہ میںعزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;یادگار لمحہ، امام حرم کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی سعادت، وقت عشاء، مقام 28، اکبر روڈ، رہائش جناب کے رحمن، ڈپٹی چیئرمین راجیہ سبھا، تاریخ 27مارچ011مطابق 22ربیع الثانی 1432۔ یہ ذکر اس لئے کہ یہ لمحہ تاریخی تھا،لہٰذا دل چاہتا ہے کہ اسے تاریخ کے اوراق میں درج کردیا جائے کہ گزشتہ تین روز میں متعدد مرتبہ فرزندان توحید کو سرزمین ہند پر امام حرم کی امامت میں نماز پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی اور ان میں راقم الحروف بھی شامل تھا۔ نماز سے فراغت حاصل کرنے کے بعد جب سامنا ہوا جسٹس فخرالدین احمد اور دہلی اسمبلی میں جامع مسجد علاقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی حاجی محمد شعیب اقبال سے تو ذکر ہوا روزنامہ راشٹریہ سہارا میں شائع ہونے والے میرے مسلسل مضامین کا، دلوں پر اس کے اثر کا اور پھر شکوہ یہ بھی کہ آخر یہ سلسلہ رُک کیوں گیا ہی۔ جب ان کے اس سوال کو میں نے خود اپنے آپ سے کیا تو ضروری لگا کہ جو جواب مجھے میرے دل و دماغ نے دیا، وہ پوری ایمانداری کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دوں۔ اس دوران میں خود اپنے لکھے کو پڑھتا رہا ہوں۔ بدلتے منظرنامہ پر ان تحریروں کا اثر دیکھتا رہا ہوں، بہت حوصلہ افزا ہی، مگر کہیں کچھ احساس تشنگی بھی ہی۔ کبھی کبھی تو کچھ ایسا لگتا ہی، جیسے اندھیری راتوں میں ایک پہریدار اپنے ایک ہاتھ میں مدھم سی روشنی کی لالٹین اور دوسرے ہاتھ میں ایک موٹا سا ڈنڈا لئے آواز لگاتا جاتا ہے ’’جاگتے رہو‘‘ اوربستی کے لوگ گہری نیند میں سوجاتے ہیں۔ اس کے قدموں کی آہٹ کانوں کو مانوس اس کے ڈنڈے کے زمین سے ٹکرانے کی آواز اور بس اس کے اپنے وجود کے دائرے میں سمٹ کر رہ جانے والی اس کی لالٹین کی روشنی نہ جانے کیوں خوفناک اندھیری راتوں میں بھی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اب کوئی خطرہ نہیں ہی۔ ہم گہری نیند میں سوسکتے ہیں، جبکہ وہ بیچارہ غریب تو ہر لمحہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے ’’جاگتے رہو‘‘۔ پھر ہم سو کیوں جاتے ہیں۔ کہیں میرا قلم اس ڈنڈے کی مانند کانوں کو مانوس ایک آواز بھر بن کر رہ گیا ہی، کہیں میرا پیغام اس مدھم سی روشنی والے لالٹین کی شکل تو نہیں اختیار کرگیا ہی، جس کی روشنی بس اس کے وجود تک سمٹ کر رہ گئی ہی، جس کے وہ ہاتھ میں ہی۔ اس کی آواز جگانے کی علامت کی بجائی، گہری نیند میں سو جانے کا پیغام تو نہیں بن گئی ہی۔ اگر ایسا ہے تو چند روز کے لئے اس پہریدار کے قدموں کی آہٹ روک دیتے ہیں۔ شاید اب بستی کے لوگ خود جاگنے کی ضرورت محسوس کرنے لگیں۔ اس بستی کے پہریدار کے قدموں کی آہٹ کیوں رک گئی،اس پر غور کرنے لگیں اور پھر یہ لمحہ انہیں سرجوڑ کر بیٹھنے کے لئے آمادہ کردی۔ جسٹس فخرالدین احمد اور حاجی محمد شعیب اقبال کی گفتگو مجھے سرجوڑ کر بیٹھنے کی ایک کوشش نظر آئی۔ شاید اب ہم اپنے اور آس پاس کے حالات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں۔ مانا کہ وہ بستی ذرا دور ہی، جو اس وقت خطرے میں ہی، مگر یہ خطرہ کل ہماری چوکھٹ تک نہیں پہنچے گا، اس کی کیا گارنٹی ہی۔ اگر ہم آج اس کی مدد کے لئے آگے نہیں آئیں گی، جسے ہماری مدد کی ضرورت ہے تو پھر کل ہماری مدد کے لئے کون آئے گا۔ عراق اور افغانستان کی تباہی نے ہمیں بیدار کیوں نہیں کیا، مصر، لیبیا اور بحرین کے حالات ہمیں سوچنے کے لئے مجبور کیوں نہیں کرتی۔ ایک ایک کر مسلم ملک تباہ ہوتے جائیں گے اورہم سب صرف تماشہ دیکھتے رہ جائیں گی، پھر یہ آگ ہمارے دامن تک پہنچے گی اور ہم اسے بجھا نہیں پائیں گی۔ اسلام پر کہیں تاناشاہی کے حوالہ سے حملی، کہیں دہشت گردی کے حوالہ سے تو کہیں قدامت پسندی کو بہانہ بناکر اور ہم… اور ہم بس اپنے حصار میں گم ہیں۔ پہریدار کا کام ہے وہ آواز لگائے جاگتے رہو اور ہمارا کام ہے ………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;Cمیں نے ایک مرتبہ پھر ورق گردانی کی ان مضامین کی، جہاں سے یہ سلسلہ ترک ہوا تھا۔ اگر دیگر موضوعات پر لکھے گئے مضامین کا ذکر اس وقت نہ کروں تو لیبیا، مصر اور بحرین کے حالات پر لکھے گئے دو مضامین ’’مصر، لیبیا، بحرین، جمہوری عمل یا امریکی دخل‘‘ 25فروری 2011، قسط نمبرـ15، اور’’کیا کرنل قذافی کا انجام بھی صدام حسین کی طرح…‘‘ 26فروری 2011، قسط نمبرـ16کا حوالہ دینا ضروری لگتا ہی، کیونکہ یہ سوچنے پر مجبور کرتے تھی، ایک تحریک چلانے پر آمادہ کرتے تھی، مگر کیا ایسا ہوا…؟ لکھا اس کے بعد بھی، مگر وہ ایسے موضوع ہیں، جن پر ہم بعد میں غور کرسکتے ہیں لیکن لیبیا!&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; تقریباً ایک ماہ کا عرصہ گزر گیا لیبیا اور بحرین کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ مجھے ضروری لگتا ہے کہ اس ضمن میں لکھے اپنے دونوں مضامین کے تراشے ایک بار پھر قارئین کی خدمت میں پیش کروں اور ان سے یہ درخواست کروں کہ اس درمیان رونما ہونے والے حالات پر ایک نظر ڈالیں۔ کیا جن اندیشوں کا اظہار ہم نے اپنی تحریر میں کیا تھا، وہ درست ثابت نہیں ہوئی۔ پھر ایک سوال اپنے آپ سے کریں کہ اگر ہم نے وقت رہتے توجہ دی ہوتی، ان اندیشوں کو ذہن میں رکھ کر تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہوتا تو شاید ’لیبیا‘ آج ’عراق‘ جیسے حالات سے نہ گزر رہا ہوتا۔ یہی کہا تھا میں نے جناب محمد شعیب اقبال سے اور صرف ان سے ہی نہیں، بلکہ اپنے ان مضامین کی معرفت اپنے تمام قارئین سے بھی کہ کیا کافی ہے ایسے نازک حالات میں صرف ایک لکھ دینا اور آپ کا پڑھ لینا۔ کیا ضروری نہیں ہے کہ ہم ایک ایسی تحریک چلائیں، جس سے کہ اسلام مخالف طاقتیں اپنے ہر اس قدم کے بارے میں سوبار سوچنے پر مجبور ہوں،جو مسلم ممالک کی تباہی کی سمت میں اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یقینا یہ خوش آئند پیغام ہی۔ ہندوستان کی تاریخ گزشتہ تین روز کے واقعات کی گواہ رہے گی کہ ’’سرزمین ہند پر امام حرم کی آمد نے جو ہیجانی کیفیت پیدا کی، وہ گزشتہ سیکڑوں برسوں میں اس زمین پر قدم رکھنے والے کسی بھی سربراہان مملکت کی آمد پر نہیں ہوئی۔‘‘ یہ واضح اشارہ ہے ہمارے جذبۂ ایمانی کا۔ بس اسی حوالہ سے یہ چند سطریں لکھنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ہم اپنے اس جذبہ کو قائم رکھیں، ایسے تمام موقع کے لئے بھی اور پوری دنیا میں کہیں بھی اگر انسانیت پر ظلم ہورہا ہو یا اسلام مخالف طاقتیں مسلم ممالک پر حملہ آور ہوں تو ہم اسی جوش و جذبہ کا مظاہرہ کریں۔ ابھی بھی وقت ہی، اگر ہم تحریر کو تحریر تک محدود نہ رہنے دیں، بلکہ اسے تحریک کی شکل دے دیں تو آج لیبیا و بحرین کو بچایا جاسکتا ہے اور آنے والے کل میں اس فہرست میں شامل ہوسکنے والے دیگر ممالک کو بھی بچایا جاسکتا ہی۔ دراصل افغانستان اور عراق کی تباہی کے بعد ہی ہمیں یہ سبق حاصل کر لینا چاہئے تھا اور جب مصر میں بغاوت کے حالات پیدا ہوئے تو سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اس بغاوت کی وجہ وہی ہے جو نظر آرہی ہے یا پس پردہ سازش کچھ اور بھی ہی۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ مسلم ممالک میں جمہوریت مضبوط نہ ہو، ضرور ہو، مگر یہ امریکی دخل کے بغیر ہو۔ ہم اس سمت میں گہرائی سے نہ سوچ کر ایک بہت بڑے خطرے کو دعوت دے رہے ہیں۔ میں مایوس تو نہیں ہوں، ہاں مگر یہ احساس ضرور ہے کہ باوجود قدم قدم پر پذیرائی کے ابھی بھی ان تحریروں میں وہ بات پیدا نہیں کرپایا ہوں کہ یہ تحریک کی شکل حاصل کرلیں۔ میرے سامنے ہیں گزشتہ ایک ماہ میں لیبیا کے حالات اور میرے وہ دو مضامین بھی، جن کا حوالہ میں نے اپنی اس تحریر کی ابتدا میں دیا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین کے سامنے مختصراً آج کے  حالات بھی رکھ دوں اور اس ضمن میں لکھے گئے اپنے مضامین کے چند تراشے بھی، تاکہ یہ باور کراسکوں کہ جو کچھ آج ہم دیکھ رہے ہیں، اس کا اندازہ بہت پہلے ہی کرلیا گیا تھا اور آپ کے سامنے رکھ بھی دیا گیا تھا۔ کاش اسی وقت ہم نے لیبیا کو امریکی شکنجہ سے بچانے کا فیصلہ کرلیا ہوتا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مصر، لیبیا، بحرین، جمہوری عمل یا امریکی دخل&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; 25فروری 2011، قسط نمبرـ15&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;صدام حسینـحسنی مبارکـکرنل قذافیـاپنے اپنے ملک کی شناخت سمجھے جاتے رہے ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ سبھی بہت طاقتور حکمراں رہے ہیں۔ صدام حسین نے 24برس عراق پر حکومت کی، حسنی مبارک نے 30برس اور کرنل قذافی نے 41برس۔ صدام حسین کا قتل،حسنی مبارک کی اقتدار سے بے دخلی اور کرنل قذافی کے خلاف بغاوت۔ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز پر امریکی کنٹرول، کویت کی اقتصادیات پر امریکی قبضہ، عراق  اور افغانستان میںامریکی کٹھ پتلی حکمراں، ایران میں محموداحمدی نژاد حکومت کو مسلسل دھمکیاں اور اردن جیسے ملک امریکی کالونی کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ بحرین کی حالت غیر اب کسی سے چھپی نہیں ہی۔ فلسطین کی تباہی ہماری نگاہوں کے سامنے ہی۔ خون آلودہ پاکستان اب اس درجہ لاچار اور بے بس ہوچکا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے قاتل ریمنڈڈیوس کو کسی بھی طرح کی سزا دینا تو دور اس امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایجنٹ کے خلاف زبان کھولنے کے جرم میں اپنے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو ان کے عہدہ سے ہٹانے کے لئے مجبور ہوچکا ہی۔ بنگلہ دیش جو کبھی پاکستان کا حصہ تھا، آج ایک بے حیثیت ملک بن کر رہ گیا ہے اور ان سب کے پیچھے ہے صرف اور صرف ایک طاقت امریکہ۔ ہم سب جانتے ہیں، مگر خاموش ہیں، لاچاروبے بس ہیں۔ اگر کسی کو اس جانب متوجہ کیا جائے تو ایک ہی جواب ملتا ہی، آخر ہم کرہی کیا سکتے ہیں؟…… &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;…………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;عرب ممالک کی سب سے بڑی طاقت ہے پیٹرول، جو پروردگارعالم کا ایک عطیہ ہی۔ بہت تیزی سے اب اس دولت پر امریکہ کا قبضہ ہوتا جارہا ہی، مگر سب چپ ہیں، کوئی امریکہ کے خلاف بولنے کی جرأت کرتا ہی نہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;…………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;امریکہ اپنے سفاتکاروں کی آڑ میں سی آئی اے کا ایک مضبوط جال بچھا رہاہی۔ اس طرف اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو بہت جلد امریکی حکمرانی کا دائرہ اس قدر بڑھ جائے گا کہ جنہیں آج آپ مسلم ممالک کی شکل میں دیکھ رہے ہیں، وہ سب آنے والے کل میں امریکہ اور برطانیہ کی چھوٹی چھوٹی کالونیاں ہوں گی۔ کل عرب کے پیٹرول پر ان بڑی طاقتوں کا قبضہ ہوگا۔ پاکستان جیسے ملک اپنا وجود کھو دیں گے اور ہندوستان جسے دہشت گردی کے ذریعہ خانہ جنگی کا شکار بنایا جارہا ہی، کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا۔ اگر ہم ریمنڈ ڈیوس(پاکستان میں)، ڈیوڈ کولمین ہیڈلی(ہندوستان میں)، جیسے سی آئی ای/ایف بی آئی کے ایجنٹوں کی کارکردگی کو سرسری طور پر لینا بند کردیں، طالبان اور لشکرطیبہ سے ان کے رشتوں کی تہہ تک جانے کی کوشش کریں، سی آئی اے کا طالبان اور ایف بی آئی کا لشکرطیبہ سے کتنا گہرا رشتہ ہی، یہ کتنی الگ الگ تنظیمیں ہیں اور اندرونی طور پر ان میں کتنا گہرا رشتہ ہی۔ اگر اس سچ کو جان لیں تو شاید ہم عرب ممالک پر بڑھتے امریکی تسلط کو بھی روک سکیں گی، پاکستان کو مزید تباہی سے بچا سکیں گے اور ان سب کے بعد ہندوستان کو لاحق خطرہ سے بھی نجات پاسکیں گی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;…………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;برطانیہ کے ایک اخبار کے مطابق ریمنڈڈیوس امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ایجنٹ ہی۔ ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق وہ نہ صرف سی آئی اے کا ایجنٹ تھا، بلکہ طالبان کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں اور وہ پاکستان میں سبوتاژمشن یعنی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے ارادے سے بھیجا گیاتھا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;……………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کیا کرنل قذافی کا انجام بھی صدام حسین کی طرح…&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt; 26فروری 2011، قسط نمبرـ16&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;امریکہ میں اب ایک نیا ڈرامہ شروع ہوچکا ہی، جیسا کہ عراق کے تعلق سے ہوا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا، پہلے عراق پر اقتصادی پابندیاں لگائی گئیں، جس سے وہاں کے عوام کا جینا محال ہوگیا، پھر صدام حسین کو تاناشاہ ڈکلیئر کیا گیا، مہلک ہتھیاروں کے ذخیرہ کا الزام لگایا گیا، جس کے برآمد نہ ہونے پر بعد میں امریکہ کے سابق صدر جارج واکر بش کے ذریعہ معافی مانگ لی گئی، لیکن اس درمیان عراق کے ہزاروں بے گناہ قتل کئے جاچکے تھی، لاکھوں بے گھر ہوچکے تھے اور صدام حسین صدرعراق کو پھانسی دی جاچکی تھی۔ اس سب کے جواب میں سابق امریکی صدر جارج واکر بش کی معافی اور بس۔ اب پھر امریکہ میں یہ ماحول پیدا کیا جارہا ہی، گویا امریکی حکومت دباؤ میں ہی، اسے امریکی قدروں کا دھیان رکھنا ہی۔ اسے لیبیا میں عوام کے اوپر ہونے والی زیادتی کو نظرانداز نہیں کرنا ہی، لہٰذا لیبیا پر اقتصادی پابندی عائد کئے جانے کی ضرورت ہی۔ یعنی وہی جو عراق کے ساتھ ہوا تھا، اب لیبیا کے ساتھ کئے جانے کا ماحول تیار کیا جارہا ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;……………&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کس کو کس طرح کا رول پلے کرنا ہی، کسے ماحول سازی کرنی ہی، کسے دباؤ بنانا ہی، پھر کسے کارروائی کو انجام دینا ہی، تاکہ افغانستان اور عراق کی طرح کٹھ پتلی سرکاریں قائم کی جاسکیں اور یہ سب کچھ پہلے سے طے ہی۔ ہوسکتا ہے پھر کرنل قذافی پر بھی صدام حسین کی طرح امریکی ایما پر قائم کی گئی ایک عدالت میں مقدمہ چلے اور انہیں بھی پھانسی کی سزا سنا دی جائی۔ عالمی برادری کیا اسی طرح امریکہ کو کھلی چھوٹ دینے کی حامی ہے کہ اسے کسی بھی ملک میں اپنی مرضی سے اپنے انداز میں مداخلت کاحق حاصل ہی۔ کیا یہ حیران کن نہیں کہ ہزاروں بے گناہ عراقیوں اور افغانیوں کے قتل کے جرم میں جارج واکر بش پر مقدمہ چلائے جانے کی بات کسی نے نہیں کہی۔ کیا اپنی غلطی کو تسلیم کرلینا اور معافی مانگ لینا ہی کافی ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اس درمیان لیبیا پر اتحادی فوجوں کا حملہ ہوچکا ہی۔ بڑی تعداد میں لیبیا کے شہری ہلاک اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ کرنل قذافی کے ایک بیٹے کی موت ہوچکی ہی۔ مختصراً ہم لیبیا میں عراق کی کہانی دہرائی جاتے دیکھ رہے ہیں اور چپ ہیں۔ آخر ہماری زبانوں پر یہ تالے کس نے لگادئے ہیں، کیا یہ سوال کریں گے ہم اپنے آپ سی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;………&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-7998649371992006971?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/7998649371992006971/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=7998649371992006971' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7998649371992006971'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7998649371992006971'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_9750.html' title='&lt;p align=right&gt;لیبیاـ صلیبی جنگ کے نرغہ میں&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7145580110748022392</id><published>2011-03-28T22:56:00.000-07:00</published><updated>2011-03-28T22:58:27.066-07:00</updated><title type='text'>लीबिया-सलीबी जंग के नर्ग़े मेंअज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;यादगार लम्हा, इमाम-ए-हरम की इक़्ितदा में नमाज़ पढ़ने का सौभाग्य, नमाज़े इशा, स्थान 28 अकबर रोड, मक़ाम रिहाइश जनाब के॰ रहमान, डिप्टी चेयरमैन राज्य सभा, तारीख़ 27 मार्च 2011 तदानुसार 22 रबीउस्सानी 1432 हिजरी। यह उल्लेख इसलिए कि यह ऐतिहासिक क्षण था, लिहाज़ा दिल चाहता है कि इसे इतिहास के पन्नों में दर्ज कर दिया जाए कि गत तीन दिनों में कई बार फ़रज़ंदान-ए-तौहीद को भारत की धरती पर इमाम-ए-हरम की इमामत में नमाज़ पढ़ने का सौभाग्य प्राप्त हुआ और उनमें लेखक भी शामिल था। नमाज़ से फ़ारिग़ होने के बाद जब सामना हुआ जस्टिस फ़ख़रुद्दीन अहमद और दिल्ली विधानसभा में जामा मस्जिद क्षेत्र का प्रतिनिधित्व करने वाले विधायक हाजी मुहम्मद शुऐब इक़बाल से तो चर्चा हुई रोज़नामा राष्ट्रीय सहारा में प्रकाशित होने वाले मेरे सिलसिलेवार लेखों की, दिलों पर इसके प्रभाव की और फिर शिकवा यह भी कि आख़िर यह सिलसिला रुक क्यों गया है। जब उनके इस प्रश्न को मैंने स्वयं अपने आप से किया तो आवश्यक लगा कि जो उत्तर मुझे मेरे दिल व दिमाग़ ने दिया, वह पूरी ईमानदारी के साथ आपके सामने रख दूं, इस बीच मैं स्वयं अपने लेख को पढ़ता रहा हूं। बदलते परिदृश्य पर उन लेखों का प्रभाव देखता रहा हूं। बहुत उत्साहवर्धक है परंतु कहीं कुछ प्यास का एहसास भी है। कभी-कभी तो कुछ ऐसा लगता है जैसे अंधेरी रातों में एक पहरेदार अपने एक हाथ में मद्धिम सी रोशनी की लालटेन और दूसरे हाथ में एक मोटा सा डंडा लिए आवाज़ लगाता जाता है ‘‘जागते रहो’’ और बस्ती के लोग गहरी नींद में सो जाते हैं। उसके क़दमों की आहट, कानों को जानी पहचानी उसके डंडे के ज़मीन के टकराने की आवाज़ और बस उसके अपने अस्तित्व के दायरे में सिमट कर रह जाने  वाली उसकी लालटेन की रोशनी न जाने क्यों भयानक अंधेरी रातों में भी हमें यह एहसास दिलाती है कि अब कोई ख़तरा नहीं है, हम गहरी नींद में सो सकते हैं। जबकि वह बेचारा ग़रीब तो हर क्षण चीख़-चीख़ कर कह रहा होता है ‘‘जागते रहो’’। फिर हम सो क्यों जाते हैं। कहीं मेरा क़लम उस डंडे की भांति कानों को परिचित एक आवाज़ मात्र बन कर रह गया है, कहीं मेरा संदेश उस मद्धिम सी रोशनी वाली लालटेन का रूप तो धारण नहीं कर गया है। जिसकी रोशनी बस उसके अस्तित्व तक सिमट कर रह गई है जिसके वह हाथ में है उसकी आवाज़ जगाने के प्रतीक के बजाए गहरी नींद में सोे जाने का संदेश तो नहीं बन गई है। अगर ऐसा है तो कुछ दिन के लिए इस पहरेदार के क़दमों की आहट रोक देते हैं शायद अब बस्ती के लोग ख़ुद जागने की ज़रूरत महसूस करने लगें, उस बस्ती के पहरेदार के क़दमों की आहट क्यों रुक गई इस पर विचार करने लगें और यह क्षण उन्हें सर जोड़ कर बैठने के लिए आमादा कर दे। जस्टिस फ़ख़रुद्दीन अहमद और हाजी शुऐब इक़बाल की गुफ़्तुगू मुझे सिर जोड़ कर बैठने का एक प्रयास नज़र आया। शायद अब हम अपने और आसपास के हालात पर विचार करने की आवश्यकता महसूस करने लगे हैं। माना कि वह बस्ती ज़रा दूर है जो इस समय ख़तरे में है, परंतु यह ख़तरा कल हमारी चैखट तक नहीं पहुंचेगा इसकी क्या गारंटी है। अगर हम आज उसकी मदद के लिए आगे नहीं आएंगे जिसे हमारी मदद की आवश्यकता है तो फिर कल हमारी मदद के लिए कौन आयगा। इराक़ और अफ़ग़ानिस्तान की तबाही ने हमें जागरुक क्यों नहीं किया। मिस्र, लीबिया और बहरीन के हालात हमें सोचने के लिए मजबूर क्यों नहीं करते, एक-एक करके मुस्लिम देश तबाह होते जाएंगे और हम सब केवल तमाशा देखते रह जाएंगे, फिर यह आग हमारे दामन तक पहुंचेगी और हम उसे बुझा नहीं पाएंगे। इस्लाम पर कहीं तानाशाही के हवाले से हमलें, कहीं आतंकवाद के हवाले से है तो कहीं कट्टरपंथ को बहाना बनाकर है और हम ह्न और हम बस अपने दायरे में गुम हैं। पहरेदार का काम है वह आवाज़ लगाए ‘‘जागते रहो’’ और हमारा काम है  &lt;/div&gt;&lt;div&gt;मैंने एक बार फिर पन्ने पलटे उन लेखों के, जहां से यह सिलसिला टूटा था। अगर अन्य विषयों पर लिखे गए लेखों की चर्चा इस समय न करूं तो लीबिया, मिस्र तथा बहरीन के हालात पर लिखे गए दो लेख ‘‘मिस्र, लीबिया, बहरीन, जमहूरी अमल या अमेरिकी दख़ल’’ (25 फ़रवरी 2011 क़िस्त न॰ 215) और ‘‘क्या कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी का अंजाम भी सद्दाम हुसैन की तरह ह्न’’ (26 फ़रवरी 2011, क़िस्त न॰216) का उल्लेख करना आवश्यक लगात है। क्योंकि यह कुछ सोचने पर मजबूर करते थे एक आन्दोलन चलाने पर आमादा करते थे परंतु क्या ऐसा हुआ ह्न? लिखा इसके बाद भी परंतु वह ऐसे विषय हैं जिन पर हम बाद में भी विचार कर सकते हैं लेकिन लीबिया!&lt;/div&gt;&lt;div&gt;लगभग एक महीने की अवधि बीत गई लीबिया तथा बहरीन के हालात हमाने सामने हैं। मुझे आवश्यक लगता है कि इस सिलसिले में लिखे अपने दोनों लेखों की कुछ पंक्तियां एक बार फिर पाठकों की सेवा में प्रस्तुत करूं और उनसे यह निवेदन करूं कि इस बीच प्रकट होने वाली परिस्थितियों पर एक नज़र डालें। क्या जो आशंकाएं हमने अपने लेख में व्यक्त की थीं, वह दुरुस्त साबित नहीं हुईं। फिर एक प्रश्न अपने आप से करें कि अगर हमने समय रहते ध्यान दिया होता, इन आशंकाओं को ध्यान में रख कर आंदोलन चलाने का फ़ैसला कर लिया होता तो शायद ‘लीबिया’ आज ‘इराक’़ जैसे हालात से न गुज़र रहा होता। यही कहा था मैंने जनाब मुहम्मद शुऐब इक़बाल से और केवल उनसे ही नहीं, बल्कि अपने लेखों द्वारा अपने सभी पाठकों से भी कि क्या पर्याप्त है ऐसे नाज़्ाुक हालात में केवल मेरा लिख देना और आपका पढ़ लेना। क्या ज़रूरी नहीं है कि हम एक ऐसा आन्दोलन चलाएं, जिससे कि इस्लाम विरोधी ताक़तें अपने हर उस क़दम के बारे में सौ बार सोचने पर मजबूर हों कि जो मुस्लिम देशों की तबाही की दिशा में उठाने का इरादा रखते हों। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;निश्चय ही यह एक सुखद संदेश है। भारत के इतिहास में पिछले तीन दिनों की घटनाएं गवाह रहेंगी कि भारत की धरती पर इमाम-ए-हरम के आगमन ने जो भावनात्मक स्थिति पैदा की वह पिछले सैकड़ों बरसों में इस धरती पर क़दम रखने वाले किसी भी राष्ट्राध्यक्ष के आगमन पर नहीं हुई। यह स्पष्ट इशारा है हमारी धार्मिक भावनाओं का। बस इसी हवाले से यह कुछ पंक्तियां लिखने का साहस कर रहा हूं कि हम अपनी इस भावना को क़ायम रखें। ऐसे सभी अवसरों के लिए भी और पूरी दुनिया में कहीं भी अगर मानवता पर अत्याचार हो रहा हो या इस्लाम विरोधी ताक़तें मुस्लिम देशों पर आक्रमण कर रही हों तो हम इसी भावना और उत्साह का प्रदर्शन करें। अभी भी समय है, अगर हम लेख को लेख तक सीमित न रहने दें, बल्कि उसे आंदोलन का रूप दे दें तो आज लीबिया और बहरीन को बचाया जा सकता है और आने वाले कल में इस सूचि में शामिल हो सकने वाले अन्य देशों को भी बचाया जा सकता है। दरअसल अफ़ग़ानिस्तान और इराक़ की तबाही के बाद ही हमें यह सबक़ सीख लेना चाहिए था और जब मिस्र में बग़ावत के हालात पैदा हुए तो समझ लेना चाहिए था कि इस बग़ावत का कारण क्या वही है जो नज़र आ रहा है या परदे के पीछे षड़यंत्र कुछ और भी है। हम यह नहीं चाहते कि मुस्लिम देशों में लोकतंत्र मज़बूत न हो, अवश्य हो, परंतु यह अमेरिकी हस्तक्षेप के बिना हो। हम इस दिशा में गहराई से न सोच कर एक बहुत बड़े ख़तरे को दावत दे रहे हैं। मैं निराश तो नहीं हूं, हां परंतु यह एहसास अवश्य है कि बावजूद क़दम-क़दम पर सराहे जाने के अभी भी इन लेखों में वह बात पैदा नहीं कर पाया हूं कि यह आन्दोलन का रूप धारण कर सकें। मेरे सामने है पिछले एक माह में लीबिया के हालात और मेरे वह दो लेख भी, जिनका उल्लेख मैंने अपने इस लेख के आरंभ में किया था। मैं चाहता हूँ कि अपने पाठकों के सामने संक्षिप्तरूप से आज के हालात भी रख दूं और इस सिलसिले में लिखे गए अपने लेखों के कुछ अंश भी, ताकि यह यक़ीन दिला सकूं कि जो कुछ आज हम देख रहे हैं इसका अंदाज़ा बहुत पहले ही कर लिया गया था और आपके सामने रख भी दिया गया था। काश उसी समय हमने लीबिया को अमेरिकी शिकंजे से बचाने का फै़सला कर लिया होता।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;मिस्र, लीबिया, बहरीन, जम्हूरी अमल या अमेरिकी दख़ल&lt;/div&gt;&lt;div&gt;25 फरवरी 2011, क़िस्त 215&lt;/div&gt;&lt;div&gt;सद्दाम हुसैन-हुसनी मुबारक - कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी अपने-अपने देश की पहचान माने जाते रहे हैं और इसमें भी कोई संदेह नहीं कि यह सभी अत्यंत शक्तिशाली शासक रहे हैं। सद्दाम हुसैन ने 24 वर्ष इराक़ पर शासन किया, हुसनी मुबारक ने 30 वर्ष और कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी ने 41 वर्ष। सद्दाम हुसैन की हत्या, हुसनी मुबारक की सत्ता से बेदख़ली और कर्नल क़ज़्ज़्ााफ़ी के विरूद्ध बग़ावत। शाह अब्दुल्ला बिन अब्दुल अज़ीज़ पर अमेरिकी नियंत्रण, कुवैत की अर्थ व्यवस्था पर अमेरिकी क़ब्ज़ा, इराक़ और अफ़ग़ानिस्तान में अमेरिकी कठपुतली शासक, ईरान में महमूद अहमदी नज़ाद सरकार को निरंतर धमकियां और जाॅर्डन जैसे देश अमेरिकी काॅलोनी का रूप धारण कर चुके हैं। बहरीन के हालात अब किसी से छुपे नहीं हैं। फ़लस्तीन की तबाही हमारी निगाहों के सामने है। रक्त रंजित पाकिस्तान अब इतना निर्बल तथा विवश हो चुका है कि अपने नागरिकों के हत्यारे रेमंड डेविस को किसी भी तरह की सज़ा देना तो दूर इस अमेरिकी ख़ुफ़िया एजेंसी सीआईए के एजेंट के विरुद्ध ज़ुबान खोलने के जुर्म में अपने विदेश मंत्री शाह मुहमूद क़ुरैशी को उनके पद से हटाने के लिए मजबूर हो चुका है। बंग्लादेश जो कभी भारत का हिस्सा था, आज एक बेहैसियत देश बन कर रह गया है और इन सबके पीछे है केवल और केवल एक ताक़त अमेरिका। हम सब जानते हैं, परंतु ख़ामोश हैं, लाचार तथा बेबस हैं। अगर किसी का ध्यान इस ओर आकर्षित किया जाए तो एक ही उत्तर मिलता है आख़िर हम कर ही क्या सकते हैं? &lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अरब देशों की सबसे बड़ी ताक़त है पैट्रोल जो परवरदिगारे आलम का एक वरदान है। बहुत तेज़ी से अब इस दौलत पर अमेरिका का क़ब्ज़ा होता जा रहा है परंतु सब चुप हैं कोई अमेरिका के विरुद्ध बोलने का साहस करता ही नहीं। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अमेरिका अपने राजनयिकों की आड़ में सीआईए का एक सशक्त जाल बिछा रहा है। इस ओर अगर समय रहते ध्यान न दिया गया तो अतिशीघ्र अमेरिकी शासन का दायरा इतना बढ़ जाएगा कि जिन्हें आज आप मुस्लिम देशों के रूप में देख रहे हैं, वह सब आने वाले कल में अमेरिका और ब्रिटेन की छोटी-छोटी कालोनियां होंगी। कल अरब के पैट्रोल पर इन बड़ी ताक़तों का क़ब्ज़ा होगा। पाकिस्तान जैसे देश अपना अस्तित्व खो देंगे और भारत जिसे आतंकवाद द्वारा गृहयुद्ध का शिकार बनाया जा रहा है, कमज़ोर से कमज़ोर होता चला जाएगा। अगर हम रेमंड डेविस (पाकिस्तान में), डेविड कोलमैन हैडली (हिन्दुस्तान में) जैसे सीआईए/एफ़बीआई के एजेंटों की गतिविधियों को सरसरीतौर पर लेना बंद कर दें, तालिबान और लशकर-ए-तैय्यबा से उनके संबंधों की तह तक जाने का प्रयास करें, सीआईए का तालिबान और एफ़बीआई का लशकर-ए-तैय्यबा से कितना घनिष्ट संबंध है, या कितने अलग-अलग संगठन हैं और आंतरिकरूप से इनमें कितना घन्ष्टि संबंध है, अगर इस सच को जान लें तो शायद हम अरब देशों पर बढ़ते अमेरिकी क़ब्ज़े को भी रोक सकेंगे पाकिस्तान को और अधिक तबाही से बचा सकेंगे और इस सबके बाद भारत को संभावित ख़तरे से भी छुटकारा पा सकेंगे।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;ब्रिटेन के एक अख़बार के अनुसार डेविड रेमंड अमेरिकी ख़ुफ़िया एजेंसी सी.आई.ए का एजेंट है। ईरान के प्रेस टीवी के अनुसार वह न केवल सी.आई.ए का एजेंट था बल्कि उसके तालिबान से भी संबंध हैं और वह पाकिस्तान में तोड़-फोड़ मिशन याने सरकार को अस्थिर करने के इरादे से भेजा गया था।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;क्या कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी का अंजाम भी सद्दाम हुसैन की तरह......&lt;/div&gt;&lt;div&gt;26 फरवरी 2011, 216&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अमेरिका में अब एक नया ड्रामा शुरू हो चुका है जैसा कि इराक़ के संदर्भ में हुआ था। आपको याद होगा, पहले इराक़ पर आर्थिक प्रतिबंध लगाए गए जिससे वहां की जनता का जीना दूभर हो गया, फिर सद्दाम हुसैन को तानाशाह डिक्लेयर किया गया, विनाशकारी हथियारों के ज़ख़ीरे का आरोप लगाया गया, जो कि बरामद न होने पर बाद में अमेरिका के पूर्व राष्ट्रपति जाॅर्ज वाकर बुश के द्वारा माफ़ी मांगी गई, लेकिन इस बीच इराक़ के हज़ारों बेगुनाह क़त्ल किए जा चुके थे, लाखों बेघर हो चुके थे और इराक़ के राष्ट्रपति सद्दाम हुसैन को फांसी दी जा चुकी थी। इस सबके जवाब में अमेरिकी राष्ट्रपति जार्ज बुश की माफ़ी और बस। अब फिर अमेरिका में यह माहौल पैदा किया जा रहा है जैसे अमेरिकी सरकार दबाव में है, उसे अमेरिकी मूल्यों का ध्यान रखना है। उसे लीबिया में जनता के ऊपर होने वाली ज़्यादतियों को नज़रअंदाज़ नहीं करना है, अतः लीबिया पर आर्थिक प्रतिबंध लगाए जाने की ज़रूरत है। अर्थात वही जो इराक़ के साथ हुआ था अब लीबिया के साथ किए जाने का माहौल तैयार किया जा रहा है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;किसको किस तरह का रोल अदा करना है। किसे माहौल साज़ी करनी है, किसे दबाव बनाना है, फिर किसे कार्रवाई को अंजाम देना है ताकि अफ़ग़ानिस्तान और इराक़ की तरह कठपुतली सरकारें बिठाई जा सकें और यह सब कुछ पहले से तय है। हो सकता है फिर कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी पर भी सद्दाम हुसैन की तरह अमेरिकी इशारे पर क़ायम की गई एक अदालत में मुक़दमा चले और उन्हें भी फांसी की सज़ा सुना दी जाए। विश्व बिरादरी क्या इसी तरह अमेेरिका को खुली छूट देने की हामी है कि उसे किसी भी देश में अपनी मर्ज़ी से, अपने अंदाज़ में हस्तक्षेप का अधिकार है। क्या यह आश्चर्यजनक नहीं है कि हज़ारों बेगुनाह इराक़ियों और अफ़ग़ानियों के क़त्ल के जुर्म में जार्ज वाकर बुश पर मुक़दमा चलाए जाने की बात किसी ने नहीं की। क्या अपनी ग़लती को मान लेना और माफ़ी मांग लेना ही काफ़ी है।     &lt;/div&gt;&lt;div&gt;इस बीच लीबिया पर गठबंधन सेनाओं का हमला हो चुका है। बड़ी संख्या में लीबियाई नागरिक हताहत और बेघर हो चुके हैं। कर्नल क़ज़्ज़ाफ़ी के एक बेटे की मृत्यु हो चुकी है। संक्षिप्त में हम लीबिया में इराक़ की कहानी दोहराई जाते देख रहे हैं और चुप हैं। आख़िर हमारी ज़्ाुबानों पर यह ताले किसने लगा दिए हैं। क्या यह प्रश्न करेंगे हम अपने आप से। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-7145580110748022392?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/7145580110748022392/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=7145580110748022392' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7145580110748022392'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7145580110748022392'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_28.html' title='लीबिया-सलीबी जंग के नर्ग़े में&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-300060633637496053</id><published>2011-03-07T21:45:00.000-08:00</published><updated>2011-03-07T21:48:56.075-08:00</updated><title type='text'>!یوم خواتین‘ جذبۂ عشق درکار ہے قوم کے لئے'عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;یوم خواتین کے موقع پر پرخلوص مبارکباد۔ بات اگر صرف روایتی انداز میں مبارکباد دینے کی ہوتی تو یہ ایک جملہ بھی کافی تھا، لیکن ایسا نہیں ہی۔ وقت اور حالات کا تقاضا کچھ اور ہی، جذباتی رشتوں کا تقاضا کچھ اور ہی، قوم و ملت کے تئیں فرائض کا تقاضا کچھ اور ہی، اس لئے بات ذرا تفصیل سے کرنی ہوگی اور مبارکباد بھی دل کی گہرائیوں سے دینی ہوگی۔ اسلام نے خواتین کو جو عزت بخشی ہی، جو مقام و مرتبہ دیا ہی، شاید وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہی۔ کہا کیا جاتا ہے اور ہوتا کیا ہی، یہ میری رائے سے الگ بھی ہوسکتا ہی۔ اس وقت میں اس پر زیادہ بحث کرنے کی بجائے توجہ اس طرف دلانا چاہوں گا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق سیرت رسول ؐ کی روشنی میں اسلامی تاریخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم خواتین کے کردار پر بات کریں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جب جب اسلام کے فروغ یا تحفظ کے لئے خواتین کے تعاون کی ضرورت درکار ہوئی ہے تو قوم کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہی۔ اگر ہم اسلام کے ابتدائی دور کی بات کریں تو رسول اللہ حضرت محمد مصطفیؐ جب اپنے عمل سے اپنے اخلاق سی، اپنے کردار سے اسلام کی تبلیغ کررہے تھی، اس وقت ان کا پہلا انتخاب ایک خاتون کی شکل میں حضرت خدیجہ الکبریٰ تھیں۔ آپ اس وقت عرب کی ایک مشہور تاجر تھیں اور بیوہ تھیں، ازواج مطہراتمیں آپ کا درجہ سب سے بلند ہی، آپ حضرت محمد مصطفی ؐ کے نکاح میں آئیں اور آل رسول میں جن کا شمار ہوتا ہی، ان کا سلسلہ آپ کی کوکھ سے پیدا ہونے والی  حضرت فاطمہ زہرا سے ہوا۔ کیونکہ سیرت رسول کے حوالہ سے خواتین کے مرتبہ کا ذکر کرنا ہی، اس لئے معاشرہ میں پھیلی برائیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک ایک بات کو وضاحت کے ساتھ کہنا ہوگا۔ آج بھی یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم خواتین کو معاشرہ میں برابر کا مقام حاصل نہیں ہی۔ انہیں گھر کی چہاردیواری میں قید رکھا جاتا ہی۔ ان کے پاس ترقی کے مواقع دیگر خواتین سے کم ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت خدیجہ الکبریٰ ایک خاتون ہوکر اپنے کاروبار کو کس طرح سنبھال رہی ہوتیں، یعنی اس وقت بھی اسلام میں خواتین کو یہ مقام و مرتبہ حاصل تھا کہ کاروبار کرسکیں، اس میں ترقی حاصل کرسکیں، اپنی شناخت قائم کرسکیں۔ دوسری بات جس پر توجہ دلانا ضروری لگتا ہی، وہ یہ کہ ایک بیوہ عورت کو معاشرہ میں وہ مقام حاصل نہیں ہوتا تھا اور کچھ حد تک یہ اثر آج بھی دیکھا جاتا ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے والی عورت کو جو مقام حاصل ہوتا ہی، وہ ایک بیوہ عورت کو نہیں ہوتا۔ اس کی دوسری شادی کو احترام کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ رسول اکرمؐ نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ ایسا سوچنا غلط ہی۔ رسول اکرمؐ کا پہلا نکاح  حضرت خدیجہ الکبریٰ کی شکل میںتھا، جو بیوہ تھیں، یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام میں خواتین کو کیا مقام حاصل ہی۔ حضرت خدیجہ الکبریٰ کی عمر رسول اللہ حضرت محمد مصطفی ؐ سے پندرہ برس زیادہ تھی، یعنی اللہ کے رسولؐ نے اپنے سے زیادہ عمر کی ایک بیوہ خاتون سے نکاح کرکے معاشرہ کو یہ پیغام دیا کہ صرف اس بنا پر کسی عورت کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی کہ وہ بیوہ ہے یا اس کی عمر زیادہ ہی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شکل میں ایک بار پھر حضور اکرم محمد مصطفیؐنے عمر کے فاصلہ کو بے معنی قرار دیا، یعنی ذہنی اعتبار سے اگر اتنی سمجھ ہے کہ وہ شریک زندگی بن سکے تو عمر کا یہ فاصلہ بہت زیادہ معنی نہیں رکھتا۔ میں سیرت رسولؐ کے اس پہلو پر مزید روشنی ڈالتا، مگر اس وقت بات جس پیرائے میں کرنی ہے اور میں اس وقت ہندوستانی خواتین بالخصوص مسلم خواتین کو جس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں، اس کے لئے کم لفظوں میں اس تمہید کو ختم کرکے اصل موضوع پر آنا ہوگا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;میرے نزدیک اپنی بات کو شروع کرنے کے لئے اس وقت کربلا کی مثال ہی۔ کربلا کے میدان میںشہادتوں کے بعد، جو کردار نبھایا حضرت ثانی زہرانی، اسے دورحاضر کی خواتین کے لئے ایک مثالی کردار کی شکل میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کربلا کی یہ جنگ حق و باطل کے درمیان تھی۔ اس جنگ کا نتیجہ سب کے سامنے تھا، مگر اہل ’شام‘ مکمل حقیقت سے واقف نہیں تھے کہ دراصل کربلا کے میدان میں کیا ہوااور کیوں ہوا۔ اس تذبذب کو دور کیاحضرت زینبؓ کی اس تاریخی اور معرکۃ الآرا تقریر نے جو یزید کے دربار میں کی گئی۔ اس تقریر سے آپ نے واضح کیا کہ نواسۂ رسول حضرت امامؓ نے اپنے اہل خانہ اور محبت کرنے والوں کی جانیں کیوں قربان کیں۔ یہ قربانی اللہ کے محبوب ترین دین ’اسلام‘ کے لئے پیش کی گئی۔ آپ کی تقریر نے حقائق کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ یزید کو بھی اس بات کا احساس ہوا کہ آخر یہ کیا ہوگیا؟ اس واقعہ کو بس اتنا ہی بیان کرکے میں اس دور کی خواتین کو دعوت دینا چاہتا ہوں کہ پھر تحفظ اسلام کے لئے آپ کے ایسے ہی کردار کی ضرورت ہی۔ صرف ہندوستان ہی نہیں، بین الاقوامی سطح پر تعلیمات قرآن اور سیرت رسولؐ کا پیغام آج آپ کے ذریعہ بھی پہنچائے جانے کی اشد ضرورت ہی، اس لئے کہ ماں کی آغوش میں آنے کے بعد بچہ جو پہلی آواز سنتا ہی، وہ آپ کی آواز ہوتی ہی، جو پہلی تربیت اسے ملتی ہی، وہ آپ کی گود سے ملتی ہی، وہ جس زبان میں گفتگو کرتا ہی، وہ آپ کی زبان ہوتی ہی۔ اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز آپ کے ذریعہ ہوتا ہی، پھر معاشرہ میں وہ جو بھی مقام حاصل کری، اس کی ابتدا تو آپ ہی کے ذریعہ ہوتی ہی۔ یہی وجہ ہے کہ ماں کے درجات بہت بلند بتائے گئے ہیں۔ جنت کو اس کے قدموں تلے قرار دیا گیا ہی۔ آج پوری دنیا میں اسلام کے خلاف ماحول سازی کی جارہی ہی۔ اسے دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہی۔ اس کا معقول جواب اپنے عمل کی شکل میں دینے کی ضرورت ہی۔ ہم اپنی تقاریر کی معرفت، ہم اپنی تحریر کی معرفت جلسہ و جلوس اور اجتماع کی معرفت وہ بات نہیں کہہ سکتی، جو آپ کی سادگی کے ذریعہ کہی اور سمجھائی جاسکتی ہی۔ حیدرآباد کے نوجوان کلیم کی مثال ہمارے سامنے ہی۔ اس کی شناخت کسی عالم دین یا دانشور کی  نہیں تھی۔ اس کے پاس دین اسلام کی تعلیمات جو بھی جتنی بھی تھیں، وہ اسے اس کی ماں کی آغوش اور اپنے خاندان کی تربیت سے ہی ملی تھیں۔ ہم آپ سے یہی توقع کرتے ہیں کہ آج معاشرے میں مخالف حالات کا سامنا کرنے کے لئے ایسی ہی تعلیم وتربیت دئے جانے کی ضرورت ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;وقت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ بڑی تعداد میں سیاست میں دلچسپی لیں اور صحافت کو بھی اس حد تک ضرور سمجھیں کہ آپ کو اپنی بات کہنے کا سلیقہ آجائی۔ وہ اطلاعات جن کی آپ کو ضرورت ہی، وہ بروقت آپ کو موصول ہوتی رہیں اور انہیں آگے کس طرح پہنچایا جاسکتا ہی، یہ ہنر آپ سیکھ لیں۔ مجھے یاد ہے یوم خواتین کے موقع پر حیدرآباد کے ایک خصوصی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے میں نے جو چند باتیں کہیں تھیں، انہیں آج کی اس تحریر میں ضرور شامل کرلینا چاہتا ہوں۔ میں نے حضرت امام خمینی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب وہ رضا شاہ پہلوی کے دربار میں تقریر فرما رہے تھے اور ان سے رضا شاہ پہلوی نے کہا کہ ’خمینی میں اس ملک کا بادشاہ ہوں، یہاں میرا حکم چلتا ہی، تمہاری بات کون سنے گا، تمہاری بات پر کون عمل کرے گا‘ تو اس وقت امام خمینی نے ان خواتین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جن کی گودوں میں معصوم بچے تھی، کہا کہ ’پہلوی، جب یہ نسل جوان ہوگی تو اس ملک پر تمہاری نہیں، اسلام کی حکومت ہوگی۔‘ تاریخ شاہد ہے اس کے بعد آئے انقلاب نے رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور تب  سے آج تک ایران میں اسلامی حکومت قائم ہی۔ میں اپنی تحریر کی معرفت اس مثال کے ذریعہ یہی پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ آپ کی آغوش میں پلنے والی ہماری نئی نسل ہمارے ملک کو اسی عظیم الشان دور میں واپس لے جاسکتی ہی، جب یہاں ہر طرف قومی یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی تھی۔ اس ملک کی تہذیب کو گنگا جمنی تہذیب قرار دیا جاتا تھا، لیکن آج مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے ہمارے ملک کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور اسے آپ کے ذریعہ ہی روکا جاسکتا ہی، اس لئے کہ ہندوستان میں ہونے والے لاتعداد فرقہ وارانہ فسادات کا ریکارڈ میرے سامنے ہی، ان میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ فساد ہندو اور مسلمان فرقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے درمیان ہوا۔ ہاں یہ بیچاری فسادات کا شکار ضرور بنتی ہیں، اس سے متاثر ضرور ہوتی ہیں، مگر فساد ان کے ذریعہ برپا کیا گیا ہو، شروعات ان کے ذریعہ کی گئی ہو، ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ جبکہ خواتین ہندو ہوں یا مسلمان، وہ اپنے اپنے مذہب پر عمل زیادہ کرتی ہیں، عبادت گزار وہ زیادہ ہوتی ہیں، مندروں میں وہ زیادہ جاتی ہیں، روزہ نماز کی وہ زیادہ پابند ہوتی ہیں، مگر مذہب کے نام پر پھیلائی جارہی نفرت ان کے دلوں میں نہیں ہوتی۔ اس موضوع پر متعدد مضامین لکھے جانے کی ضرورت ہی، لیکن میں صرف دو باتیں کہہ کر آج کی تحریر کو ختم کرنا چاہوں گا۔ میری آج کی تحریر ذرا بے ربط لگ سکتی ہی، اس میں تسلسل کی کمی ہی، میں لفظوں سے زیادہ مفہوم پر توجہ دلا رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں اس وقت کم سے کم لفظوں میں مجھے کیا کہنا ہی۔ پردہ پر اگر بات نہ کروں تو شاید معاشرے میں پھیلی غلط فہمی کو دور نہیں کرپاؤں گا، اس لئے چند جملے پردے کے حوالے سے بھی کہنا چاہوں گا کہ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ کہیں بھی نہیں رہا ہی۔ میں نے اپنی بات کی شروعات حضرت خدیجہ الکبریؓ سے کی تھی۔ یہ تو اسلامی دور کی بات تھی، اگر ہندوستان کی آزادی کے بعد کے حالات پر نظر ڈالیں تو بھی ہندوستان میں مختلف علاقوں میں ترقی کرنے والی خواتین چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلمان ہندوستانی تہذیب و تمدن کی نمائندگی کرتی نظر آئی نہ کہ مغربی تہذیب کا لباس آپ کے سامنے ہی، بیشک انہیں پردہ میں نہیں کہا جاسکتا، مگر یہ اس درجہ بے پردہ بھی نہیں ہیں، جس کی وکالت آج کے ترقی پسند کرتے نظر آتے ہیں یا جو غلط فہمی ہماری نوجوان لڑکیوں کے دل و دماغ میں پیدا کی گئی ہی۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو، بنگلہ دیش میں بیگم خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ واجد اپنے اپنے ملک میں بلندترین مقامات تک پہنچیں۔ ان کا مسلمان ہونا، کہیں بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا۔ جہاں تک پردہ کا یا لباس کا تعلق ہے تو ہمیں دنیا کی ابتدا سے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے تک کے بدلتے منظرنامہ پر نظر ڈالنی ہوگی۔ جب مرد اور عورت کو اس بات کا احساس ہوا کہ تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی شرمگاہوں کو، جسم کے نازک حصوں کو چھپا کر رکھیں تو پیڑوں کی چھال سے ان حصوں کو ڈھکنے کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد جیسے جیسے ترقی کا سفر آگے بڑھا، پیڑوں کی چھال کی جگہ جانوروں کی کھال استعمال کی جانے لگی۔ وقت بدلا، ہم کچھ اور آگے بڑھی، کپڑے کا استعمال شروع ہوا۔ پھر جسم کو کپڑے سے ڈھکا جانے لگا۔ آہستہ آہستہ معاشرہ اور مہذب ہوا، یہ کپڑا لباس کی شکل اختیار کرتا چلا گیا۔ اب جس کے جسم پر جتنا بہتر لباس تھا، اسے معاشرے میں اتنی ہی بہتر نگاہوں سے دیکھا جانے لگا۔ آج جو ترقی پسند ممالک ہیں، ان کی مہارانیوں کے لباس دیکھیں، ساری دنیا میں خود کو تہذیب کا علمبردار قرار دینے والا عیسائی مذہب اپنی ’ننس‘ کو جس لباس میں پیش کرتا ہی، وہ آپ کے نقاب کے بیحد نزدیک ہی۔ ہندو مذہب کی تبلیغ کرنے والی خواتین کا لباس بھی مکمل تن ڈھکنے والا ہی، لہٰذا مسلم خواتین کا لباس اگر پوری طرح جسم کے ڈھکے ہونے کی حمایت کرتا ہے تو یہ ان کے ترقی یافتہ ہونے کی دلیل ہی، ان کے پسماندہ ہونے کی نہیں۔ سیاست میں داخل ہونے والی خواتین، چاہے وہ ہندوستان میں رہی ہوں یا پاکستان میں، کسی نے بھی مغربی لباس  کا سہارا نہیں لیا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ایک آخری بات، پروردگارِعالم نے خواتین میں وہ صفت بخشی ہے کہ اگر وہ کسی کو اپنی طرف راغب کرنا چاہیں تو ایسا کرسکتی ہیں۔ اب یہ عشق کسی ایک فرد سے بھی ہوسکتا ہی، خدا سے بھی ہوسکتا ہی، معاشرہ سے بھی ہوسکتا ہی، اپنی مادری زبان سے بھی ہوسکتا ہی، آج آپ کو دیکھنا یہ ہے کہ یہ جذبۂ عشق صرف اپنی ذات تک محدودرہی،صرف کوئی ایک شخص آپ کی محبت کا حقدار بنے یا مکمل معاشرہ، جو آج آپ کی اس توجہ کا طالب ہی۔ بیشک معاشرہ سے محبت آپ کو خدا سے محبت کی طرف لے جائے گی۔ ہاں، اس میں وہ شخص بھی شامل ہوسکتا ہی، جو آپ کا منظورنظر ہو اور وہ اس کام میں آپ کے ساتھ مل کر قوم کو اس مقام تک لے جاسکتا ہی، جس کی طرف میں اشارہ کررہا ہوں۔ اگر ایک بار ہماری خواتین نے یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ ملک و قوم کی تصویر بدلنے کا ارادہ رکھتی ہیں تو مجھے یقین کامل ہے کہ نہ صرف یہی حقیقت ہوگی، بلکہ بہت جلدہوگی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;………&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-300060633637496053?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/300060633637496053/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=300060633637496053' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/300060633637496053'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/300060633637496053'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_7147.html' title='&lt;p align=right&gt;!یوم خواتین‘ جذبۂ عشق درکار ہے قوم کے لئے&apos;&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-3760393595512047207</id><published>2011-03-07T21:44:00.000-08:00</published><updated>2011-03-07T21:45:39.026-08:00</updated><title type='text'>‘महिला दिवस’ जज़्बा-ए-इश्क़ दरकार है क़ौम के लिए!अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;महिला दिवस के अवसर पर हार्दिक शुभकामनाएं। बात अगर केवल रिवायती अंदाज़ में मुबारकबाद देने की होती तो यह एक वाक्य भी काफ़ी था, लेकिन ऐसा नहीं है। वक़्त और हालात का तक़ाज़ा कुछ और है, भावनात्मक रिश्तों का तक़ाज़ा कुछ और है। क़ौम व मिल्लत के लिए कर्तव्यों का तक़ाज़ा कुछ और है, इसलिए बात ज़रा विस्तार से करनी होगी और मुबारकबाद भी दिल की गहराईयों से देनी होगी। इस्लाम ने महिलाओं को जो सम्मान दिया है, जो स्थान और दर्जा दिया है शायद वह किसी और धर्म में नहीं है। कहा क्या जाता है और होता क्या है यह मेरी राय से अलग भी हो सकता है। इस वक़्त इस पर अधिक बहस करने के बजाए मैं इस तरफ़ ध्यान दिलाना चाहूंगा कि इस्लामी शिक्षाओं के अनुसार सीरत-ए-रसूल सल्ल॰ की रोशनी में इस्लामी इतिहास को ज़हन में रखते हुए अगर हम महिलाओं की भूमिका पर बात करें तो यह कहना ग़लत नहीं होगा कि जब-जब इस्लाम की प्रगति अथवा रक्षा के लिए महिलाओं की आवश्यकता हुई है, तो क़ौम को मायूसी का सामना नहीं करना पड़ा है। अगर हम इस्लाम के शुरुआती दौर की बात करें तो रसूलल्लाह हज़रत मुहम्मद मुस्तफ़ा सल्ल॰ जब अपने अमल से अपने अख़लाक़ से अपने किरदार से इस्लाम का महत्व समझा रहे थे उस समय उनका पहला चुनाव एक महिला के रूप में हज़रत ख़दीजतुल कुबरा थीं। आप उस समय अरब की एक मशहूर व्यापारी थीं और विधवा थीं, पवित्र पत्नियों में आपका दर्जा सबसे ऊपर है, आप हज़रत मुहम्मद मुस्तफ़ा सल्ल॰ के निकाह में आईं और आले रसूल सल्ल॰ में जिनका शुमार होता है उनका सिलसिला आपकी कोख से पैदा होने वाली हज़रते फ़ातिमा ज़हरा रज़ि॰ से हुआ। क्योंकि सीरत-ए-रसूल सल्ल॰ के हवाले से महिलाओं का उल्लेख करना है, इसलिए समाज में फैली हुई बुराइयों को ज़हन में रखते हुए एक-एक बात को स्पष्ट रूप से कहना होगा। आज भी यह समझा जाता है कि मुस्लिम महिलाओं को समाज में बराबर का दरजा प्राप्त नहीं है। उन्हें घर की चहार दीवारी में क़ैद रखा जाता है, उनके पास प्रगति के अवसर अन्य महिलाओं से कम हैं। अगर ऐसा होता तो हज़रत-ए-ख़दीजतुल कुबरा एक महिला होते हुए अपने कारोबार को किस तरह संभाल रही होतीं, अर्थात उस समय भी महिलाओं को यह स्थान और दरजा प्राप्त था कि कारोबार कर सकें, उसमें प्रगति कर सकें, अपनी पहचान बना सकें दूसरी बात जिस पर ध्यान दिलाना आवश्यक लगता है, वह यह कि एक विधवा औरत को समाज में वह स्थान प्राप्त नहीं होता था और कुछ हद तक यह असर आज भी देखा जाता है कि अपने पति के साथ जीवन बिताने वाली महिला को जो स्थान प्राप्त होता है वह एक विधवा महिला को नहीं होता। उसकी दूसरी शादी को सम्मान की निगाह से नहीं देखा जाता। रसूल-ए-अकरम सल्ल॰ ने अपने अमल से साबित किया कि ऐसा सोचना ग़लत है। रसूले अकरम सल्ल॰ का सबसे पहला निकाह हज़रत ख़दीजा रज़ि॰ से हुआ था, जो विधवा थीं, यह इस बात की ओर संकेत करता है कि इस्लाम में महिलाओं को क्या स्थान प्राप्त है। हज़रते ख़दीजतुल कुबरा रज़ि॰ की आयु हज़रत मुहम्मद मुस्तफ़ा सल्ल॰ से 15 वर्ष अधिक थी। अर्थात अल्लाह के रसूल सल्ल॰ ने अपने से अधिक आयु की एक विधवा से निकाह करके समाज को यह संदेश भी दिया कि केवल इस आधार पर किसी महिला का महत्व कम नहीं हो जाता कि वह बेवा है या उसकी आयु अधिक है। हज़रते आयशा सिद्दीक़ा रज़ि॰ की शक्ल में एक बार फिर हज़रत मुहम्मद मुस्तफ़ा सल्ल॰ ने आयु के अंतर को निरर्थक ठहराया। अर्थात मानसिक रूप से अगर इतनी समझ है कि वह जीवन साथी बन सके तो आयु का यह अंतर बहुत महत्व नहीं रखता। मैं सीरत-ए-रसूल सल्ल॰ के इस पहलू पर और रोशनी डालता मगर इस समय जिस संदर्भ में बात करनी है और मैं इस समय भारतीय महिलाओं विशेषकर मुस्लिम महिलाओं का जिस तरफ़ ध्यान आकर्षित करना चाहता हूं उसके लिए कम शब्दों में इस भूमिका को ख़त्म करके मूल विषय पर आना होगा। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;मेरे नज़दीक अपनी बात को शुरू करने के लिए इस समय करबला की मिसाल है। करबला के मैदान पर  शहादतों के बाद जो किरदार निभाया हज़रते सानि-ए-ज़हरा ने दौरे हाज़िर की महिलाओं के लिए उसे एक मिसाली किरदार के रूप में पेश करना चाहता हूं। करबला की यह जंग हक़ व बातिल के बीच थी इस जंग का नतीजा सबके सामने था लेकिन ‘शाम’ के रहने वाले पूरी सच्चाई नहीं जानते थे कि असल में करबला के मैदान पर क्या हुआ और क्यों हुआ। इस कशमकश को दूर किया हज़रत-ए-ज़्ौनब की उस ऐतिहासिक तक़रीर ने जो यज़ीद के दरबार में की गयी उस तक़रीर से आपने स्पष्ट किया कि नवास-ए-रसूल सल्ल॰ हज़रत इमाम हुसैन ने अपने परिवार वालों और मुहब्बत करने वालों की जानें क्यों नियौछावर कीं। यह कुरबानी अल्लाह के सबसे पसंदीदा दीन इस्लाम के लिए पेश की गईं। आपकी तक़रीर ने इन वास्तविकताओं को इस तरह बयान किया कि यज़ीद को भी इस बात का एहसास हुआ कि आख़िर यह क्या हो गया? इस घटना को बस इतना ही बयान करके मैं इस दौर की महिलाओं को दावत देना चाहता हूं कि फिर इस्लाम की रक्षा के लिए आपके ऐसे ही किरदार की आवश्यकता है। केवल भारत ही नहीं अन्र्तराष्ट्रीय स्तर पर क़ुरआन की शिक्षाओं और सीरत-ए-रसूल सल्ल॰ का संदेश भी आपके द्वारा भी पहुंचाए जाने की बहुत आवश्यकता है इसलिए कि मां की गोद में आने के बाद बच्चा जो पहली आवाज़ सुनता है वह आपकी होती है, जो पहली तरबियत उसे मिलती है वह आपकी गोद से मिलती है, वह जिस भाषा में बात करता वह आपकी भाषा होती है, उसकी शिक्षा व तरबियत की शुरूआत आपके द्वारा होती है, फिर समाज में वह जो भी स्थान प्राप्त करे उसका आरंभ तो आपके ही द्वारा होता है। यही कारण है कि मां के दर्जात बहुत बुलंद बताए गए हैं। स्वर्ग को उसके क़दमों के तले बताया गया है। आज पूरी दुनिया में इस्लाम के विरूद्ध माहौल तैयार किया जा रहा है। उसे आतंकवाद से जोड़ने का प्रयास किया जा रहा है। इसका उचित उत्तर अपने अमल के रूप में देने की आवश्यकता है। हम अपने भाषणों के माध्यम से, अपने लेखों के माध्यम से, जलसा व जुलूस और इजतिमा के माध्यम से वह बात नहीं कह सकते जो वह आपकी सादगी के द्वारा कही और समझाई जा सकती है, हैदराबाद के कलीम की मिसाल हमारे सामने है। उसकी पहचान किसी आलिम-ए-दीन या बुद्धिजीवी के रूप में नहीं थी। उसके पास इस्लाम धर्म की शिक्षाएं जो भी जितनी भी थीं वह उसे उसकी मां की आग़ोश और अपने ख़ानदान की तरबियत से ही मिला थीं। हम आपसे यही आशा करते हैं कि आज समाज में मुख़ालिफ़ हालात का सामना करने के लिए ऐसी ही तालीम व तर्बियत दिए जाने की आवश्यकता है। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;समय का तक़ाज़ा यह भी है कि आप बड़ी संख्या में राजनीति में दिलचस्पी लें और पत्रकारिता को भी इस हद तक समझें कि आपको अपनी बात कहने का सलीक़ा आ जाए। वह सूचनाएं जिनकी आपको आवश्यकता है वह सही समय पर आपको मिलती रहें और उन्हें आगे किस तरह पहुंचाया जा सकता है यह हुनर आप सीख लें। मुझे याद है महिला दिवस के अवसर पर हैदराबाद के एक विशेष जलसे में मैंने तक़रीर करते हुए जो बातें कही थीं, उन्हें आज के इस लेख में अवश्य शामिल कर लेना चाहता हूं। मैंने हज़रत इमाम ख़ुमैनी का ज़िक्र करते हुए कहा था कि जब वह रज़ा शाह पहलवी के दरबार में तक़रीर कर रहे थे और रज़ा शाह पहलवी ने उनसे कहा था कि ‘ख़ुमैनी मैं इस देश का बादशाह हूं, यहां मेरा आदेश चलता है, तुम्हारी बात कौन सुनेगा, तुम्हारी बात पर कौन अमल करेगा’ तो उस समय इमाम ख़मैनी ने उन महिलाओं की तरफ़ इशारा करते हुए जिनकी गोद में मासूम बच्चे थे, कहा ‘पहलवी जब यह पीढ़ी जवान होगी तो इस देश पर तुम्हारी नहीं इस्लाम की हुकूमत होगी’। इतिहास गवाह है इसके बाद आए इन्क़लाब ने रज़ा शाह पहलवी की हुकूमत का तख़्ता पलट दिया और तब से आज तक ईरान में इस्लामी हुकूमत है। मैं अपने लेख के द्वारा और इस मिसाल के द्वारा यही संदेश पहुंचाना चाहता हूं कि आपकी गोद में पलने वाली हमारी नई पीढ़ी हमारे देश को उसी महान युग में वापस ले जा सकती है जब यहां हर तरफ़ राष्ट्रीय एकता और साम्प्रदायिक सौहार्द था। इस देश की इस संस्कृति को गंगा जमनी संस्कृति कहा जाता था लेकिन आज धार्मिक नफ़रत और साम्प्रदायिक तनाव ने हमारे देश को बहुत नुक़्सान पहुंचाया है और इसे आपके द्वारा ही रोका जा सकता है। इसलिए कि भारत में होने वाले असंख्य साम्प्रदायिक दंगों का रिकार्ड मेरे सामने है, उनमें कहीं भी यह दर्ज नहीं है कि फ़साद हिंदू और मुसलमान फ़िरक़ों से संबंध रखने वाली महिलाओं के बीच हुआ। हां यह बेचारी इन दंगों का शिकार ज़रूर बनती हैं, इससे प्रभावित अवश्य होती हैं, लेकिन दंगा इनके द्वारा किया गया हो, शुरूआत इनके द्वारा की गई हो ऐसा देखने को नहीं मिलता। जबकि महिलाएं हिंदू हों या मुसलमान वह अपने-अपने धर्मों पर अमल ज़्यादा करती हैं, इबादतगुज़ार वह ज़्यादा होती हैं, मंदिरों में वह अधिक जाती हैं, रोज़ा-नमाज़ की वह अधिक पाबंद होती हैं, मगर धर्म के नाम पर फैलाई जा रही नफ़रत उनके दिलों में नहीं होती। इस विषय पर कई लेख लिखे जाने की आवश्यकता है, लेकिन इस समय मैं केवल दो बातें कह कर आज के लेख को समाप्त करना चाहूंगा, मेरा आज का लेख बेरब्त लग सकता है इसमें तसुलसुल की कमी है मैं शब्दों से अधिक भावार्थ पर ध्यान दिला रहा हूं। मैं जानता हूं इस समय कम से कम शब्दों में मुझे क्या कहना है। परदे पर अगर बात न करूं तो शायद समाज में फैली ग़लतफ़हमी को दूर नहीं कर पाऊँगा, इसलिये कुछ वाक्य परदे के हवाले से भी कहना चाहूंगा कि परदा प्रगति की राह में रुकावट कहीं भी नहीं रहा है। मैंने अपनी बात की शुरूआत हज़रत ख़दीजतुल कुबरा  रज़ि॰ से की थी। यह तो इस्लामी दौर की बात थी, अगर भारत की आज़ादी के बाद के हालात पर निगाह डालें तो भी भारत में विभिन्न क्षेत्रों में प्रगति करने वाली महिलाऐं चाहे वे हिन्दू हों या मुसलमान, भारतीय सभ्यता व संस्कृति का प्रतिनिधित्व करतीन नज़र आई न कि पश्चिम सभ्यता का उनका लिबास आपके सामने है। निःसंदेह उन्हें परदे में नहीं कहा जा सकता मगर यह इस हद तक बेपरदा भी नहीं हैं जिसकी वकालत आज के प्रगतिशील करते नज़र आते हैं या जो ग़लत फ़हमी हमारे नौजवान लड़कियों के दिलो दिमाग़ में पैदा की गई है। पाकिस्तान में बेनज़ीर भुट्टो, बंग्ला देश में बेगम ख़ालिदा ज़िया और शेख़ हसीना वाजिद अपने अपने देशों में ऊंचे मक़ाम तक पहुंची उनका मुसलमान होना उनकी राह में कहीं भी रुकावट नहीं बना। जहां तक परदे का संबंध है तो हमें दुनिया के आरंभ से प्रगति की राह पर चलने तक के बदलते हुए परिदृश्य पर निगाह डालनी होगी। जब मर्द और औरत को इस बात का एहसास हुआ कि सभ्यता का तक़ाज़ा यह है कि हम अपनी शर्मगाहों को, जिस्म के नाज़्ाुक हिस्सों को छुपा कर रखें तो पेड़ों की छाल से उन हिस्सों को ढकने की शुरूआत हुई। उसके बाद जैसे-जैसे विकास का सफ़र आगे बढ़ा, पेड़ों की छाल की जगह जानवरों की खाल इस्तेमाल की जाने लगी, समय बदला हम कुछ और आगे बढ़े, कपड़े का इस्तेमाल शुरू हुआ फिर शरीर को कपड़े से ढका जाने लगा। आहिस्ता आहिस्ता समाज और सभ्य हुआ, यह कपड़ा लिबास का रूप लेता गया। अब जिसके शरीर पर जितना अच्छा लिबास था उसे समाज में उतनी ही अच्छी निगाहों से देखा जाने लगा। आज जो प्रगतिशील देश हैं उनकी महारानियों के लिबास देखिए, सारी दुनिया में स्वयं को सभ्यता का अलम्बरदार कहने वाला ईसाई धर्म अपनी ‘नन्स’ को जिस लिबास में पेश करता है वह आपके नक़ाब के बहुत क़रीब है। हिंदू धर्म की तब्लीग़ करने वाली महिलाओं का लिबास भी पूरी तरह तन ढकने वाला है, अतः मुस्लिम महिलाओं का लिबास जिस्म के ढके हुए होने की हिमायत करता है तो यह उनके प्रगतिशील होने की दलील है उनके पिछड़े हुए होने की नहीं। राजनीति में आने वाली महिलाएं, चाहे वह भारत में रही हों या पाकिस्तान में किसी ने भी पश्चिमी पहनावे का सहारा नहीं लिया। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;एक अंतिम बात, परवरदिगार-ए-आलम ने महिलाओं में वह गुण दिया है कि अगर वह किसी को अपनी तरफ़ आकर्षित करना चाहें तो कर सकती हैं। अब यह इश्क़ किसी एक व्यक्ति से भी हो सकता है, ख़ुदा से भी हो सकता है, समाज से भी हो सकता है, अपनी मातृ भाषा से भी हो सकता है। आज आपको देखना यह है कि इश्क़ की यह भावना अपने आप तक सीमित रहे। केवल कोई एक व्यक्ति आपके प्रेम का अधिकारी बने या पूरा समाज, जो आज आपकी इस तवज्जो का तालिब है। निःसंदेह समाज से मुहब्बत आपको ख़ुदा की तरफ़ ले जाएगी। हां इसमें वह व्यक्ति भी शामिल हो सकता है जो आपको पसंदीदा हो और वह इस काम में आपके साथ मिल कर राष्ट्र को उस स्थान की तरफ़ ले जा सकता है जिसकी तरफ़ मैं इशारा कर रहा हूं। अगर एक बार हमारी महिलाओं ने यह निर्णय ले लिया कि वह देश और समाज की तस्वीर बदलने का इरादा रखती हैं तो मुझे पूरा विश्वास है कि न केवल यही हक़ीक़त होगी बल्कि बहुत जल्द होगी।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;..........................&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-3760393595512047207?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/3760393595512047207/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=3760393595512047207' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3760393595512047207'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/3760393595512047207'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_07.html' title='‘महिला दिवस’ जज़्बा-ए-इश्क़ दरकार है क़ौम के लिए!&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-886271003190487672</id><published>2011-03-06T23:15:00.000-08:00</published><updated>2011-03-06T23:17:00.397-08:00</updated><title type='text'>’کانگریس‘تمل ناڈو ریاستی انتخابات کے تناظر میں…عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;8&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مارچ یعنی ’یوم خواتین‘، لہٰذامیرا کل کا مضمون اسی موضوع پر ہوگا، چونکہ  میں اس وقت اردو زبان کے حوالہ سے گفتگو کررہا ہوں اور ملک کے مختلف حصوں میں مردم شماری کا کام جاری ہی۔ ہم اپنی مادری زبان کے خانہ میں اردو درج کررہے ہیں، مگر اتنا ہی کافی نہیں ہی، اب اس خانہ پری سے آگے بڑھ کر کچھ سوچنا اور کرنا ہوگا اور یہ تاریخ ساز کارنامہ  خواتین کے ذریعہ ہی ممکن ہی۔ ایسا نہیں ہے کہ مردوں کی خدمات کو کم کرکے دیکھا جارہا ہی، ہاں بس یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ماں کی آغوش میں ملنے والی زبان ہی بچہ کی پہلی زبان ہوتی ہی، اسی لئے ہم اسے مادری زبان کہتے ہیں۔ میں اپنے کل کے مضمون کے لئے خواتین کی خاص توجہ چاہتا ہوں، اس لئے کہ میں اس اردو تحریک کو کامیاب بنانے میں ان کا بے مثال کردار دیکھ رہا ہوں، لیکن میں ایک صحافی ہوں اور مجھے تازہ سیاسی صورتحال پر بھی نظر رکھنا ہی۔ تمل ناڈو کا ریاستی انتخاب، کانگریس اور ڈی ایم کے کے بدلتے رشتے اس وقت میرے سامنے ہیں، لہٰذا میرا آج کا مضمون اسی موضوع پر اور کل کی تحریر یوم خواتین کی نذر۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کانگریس شاید ڈی ایم کے کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی، ورنہ جو صورتحال آج پیدا ہوئی ہی، یہ اسی وقت پیدا ہوسکتی تھی جب 2ـجی اسپیکٹرم معاملہ میں ڈی ایم کے کے اے راجا کو لے کر ہنگامہ شروع ہوا تھا۔ مسلسل پارلیمنٹ کی کارروائی ٹھپ ہوتی چلی جارہی تھی۔ جے پی سی (جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی)قائم کرنے کا دباؤ بڑھتا چلا جارہا تھا، حتیٰ کہ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ جی کی شخصیت کو متاثر کرنے کی بھی مسلسل کوشش کی جارہی تھی، مگر کانگریس نے ایسا کوئی بھی تاثر دینے کی کوشش نہیں کی کہ وہ ڈی ایم کے کا دامن جھٹک دینا چاہتی ہی۔ حالانکہ انا ڈی ایم کی سربراہ جے للتا نے اسی وقت واضح طور پر یہ اشارہ دے دیا تھا کہ ڈی ایم کے سے الگ ہوجانے کی صورت میں سرکار کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ان کی پارٹی کی غیرمشروط حمایت یوپی اے سرکار کو حاصل ہوگی۔ تاہم کانگریس ڈی ایم کے کے ساتھ دوستی نبھاتی رہی، لیکن اب سیٹوں کے بٹوارے کے سوال پر یہ کشیدگی منظرعام پر آگئی۔ اگر اسی وقت کانگریس نے یہ فیصلہ کرلیا ہوتا کہ وہ ڈی ایم کے سے ذرا فاصلہ پر رہنا چاہتی ہی، اس لئے کہ ڈی ایم کے کی وجہ سے یوپی اے گورنمنٹ کو مسلسل بدعنوانی کے الزامات کو برداشت کرنا پڑرہا ہے اور صفائی دینا مشکل ہوتا چلا جارہا ہی، تب شاید کانگریس سیاسی اعتبار سے زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوتی۔ یہ تو اس وقت بھی صاف دکھائی دے رہا  تھا کہ تمل ناڈو میں جے للتا کا گراف بڑھ رہا ہے اور کروناندھی کا گھٹ رہا ہی۔ بیشک کانگریس اپنے دم پر ریاست میں کوئی بڑی پوزیشن حاصل کرنے کے امکان نہیں دیکھ رہی تھی، مگر اس کا دو طرفہ فائدہ اسے ضرور ہوتا۔ ایک تو جے للتا کے ساتھ رشتے آج سے زیادہ بہتر ہوتی، دوسرے ڈی ایم کے سے عوام کی ناراضگی کا حصہ دار کانگریس کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ سیاسی پیچیدگیاں کچھ ایسی ہیں کہ ریاستی انتخابات کے بعد کانگریس کے پاس یہ موقع تب بھی رہتا کہ جس کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کا موقع ملی، حاصل کرلیا جائی۔ حالانکہ یہ موقع آج بھی اس کے پاس ہی۔ اگر اے آئی ڈی ایم کے کو واضح اکثریت نہیں ملتی ہے اور ڈی ایم کے کسی حالت میں بھی سرکار بنانے کی پوزیشن میں نہیں آتی ہے تو کانگریس ریاست میں جے للتا کو حمایت دینے کا فیصلہ کرسکتی ہے اور ڈی ایم کے سے علیحدگی کی صورت میں مرکزی حکومت کو جے للتا کی حمایت حاصل ہوسکتی ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جس طرح ملک کی مختلف ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں مضبوط ہوتی جارہی ہیں اور کانگریس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کا انحصار ان پر بڑھتا چلا جارہا ہی، اس کے دوررس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی تو کانگریس کے مقابلہ بہت نئی پارٹی ہے اور اسے آگے بڑھنے کا موقع کانگریس کے بکھراؤ اور ریاستی پارٹیوں کے ذریعہ ہی ملا ہی، لیکن کانگریس کے بارے میں ایسا نہیں کہا جاسکتا۔ نہ جانے کیوں وہ الگ الگ ریاستوںمیں اپنی قدآور لیڈرشپ پیدا نہیں کرپارہی ہے یا اگر ہے تو اسے ان ریاستوں کے اعتبار سے بڑھاوا نہیں دے پارہی ہی۔ کانگریس کے پاس الگ الگ ریاستوں سے بڑے قد کے لیڈران کی کمی نہیں ہی، مگر وہ اپنی ریاست کی سیاست میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر نہیں آتی، وہ مرکزی حکومت کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں۔ ایسا کانگریس پارٹی کی ایما پر ہوتا ہے یا ان کی دلچسپی اپنی ریاست کے مقابلہ مرکز میں زیادہ ہوتی ہی، اب یہ تو زیادہ بہتر وہ خود یا ان کی پارٹی ہی جانتی ہوگی، لیکن آج کانگریس کو یہ سوچنے کی ضرورت ہونی چاہئے کہ جے للتا اور کروناندھی کے قد کا کوئی ریاستی لیڈر ان کے پاس کیوں نہیں ہی۔  صوبائی انتخابات کے لئے کس کا چہرہ دیکھ کر علاقائی عوام کانگریس کو ووٹ دینے کا فیصلہ کریں۔ جب اسے صاف نظر آرہا ہے کہ کانگریس کے پاس ایسا کوئی چہرہ ہی نہیں ہی، جو ریاست کا وزیراعلیٰ بن سکی۔ اگر اسے جے للتا اور کروناندھی کے درمیان ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان میں سے کس کے ہاتھوں میں ریاست کی باگ ڈور دی جائے تو پھر کانگریس کی تو کسی نہ کسی کے پیچھے چلنا مجبوری ہی ہوگی، جبکہ عوام کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ووٹ اقتدار حاصل کرنے والے کو ملی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;کانگریس کے پاس مرکزی وزیرداخلہ پی چدمبرم، تمل ناڈو کے ایک قدآور لیڈر کی شکل میں کل بھی تھے اور آج بھی ہیں۔ اگر 2006کے ریاستی انتخابات سے پہلے کانگریس نے پی چدمبرم کا چہرہ اور نام ریاستی انتخابات کے لئے استعمال کیا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ اسے اس وقت ریاستی انتخابات میں اور بعد کے پارلیمانی انتخابات میں زیادہ کامیابی حاصل ہوتی۔ آج ڈی ایم کے سے ناراض اور تبدیلی کی چاہ رکھنے والا ووٹر جو جے للتا کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہی، وہ کانگریس کی طرف بھی آسکتا تھا۔ قد کے اعتبار سے پی چدمبرم جے للتا اور کروناندھی کے مقابلہ کمزور نظر نہیں آتی۔ مسلسل مرکزی حکومت کا حصہ رہنے والے اس کانگریسی لیڈر کو اپنا وزیراعلیٰ دیکھنے میں ریاستی عوام زیادہ خوش اور مطمئن ہوسکتے تھی۔ اس صورت میں انہیں اپنی ریاست کی ترقی کے زیادہ امکانات نظر آتی۔ اس لئے کہ مرکزی وزیرخزانہ کے عہدہ پر کامیاب رہنے والا شخص اپنی ریاست کے لئے مرکز سے اچھا پیکیج لے سکتا ہی۔ اس وقت یہ امیدیں اور بڑھ جاتی ہیں، جب سرکار اسی پارٹی کی ہو۔ ایسا کانگریس نے نہیں چاہا یا چدمبرم اسے پسند نہیں کرتے تھی، یہ تو وہی بہتر جانتے ہوں گی، مگر کانگریس اپنے فیصلہ لینے میں اتنی کمزور نہیں ہوتی کہ اپنی پارٹی کے کسی بھی قدآورلیڈر کے ساتھ اسے سمجھوتہ کرنا پڑا۔ نرائن دت تیواری اترپردیش کے وزیراعلیٰ تھی، جب اتراکھنڈ بھی اترپردیش میں شامل تھا، مگر بعد میں وہ صرف اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ بنی۔ ارجن سنگھ کی طرح ان کی خواہش بھی مرکز میں کسی بڑی ذمہ داری کے لئے ہوسکتی تھی، لیکن کانگریس نے وہی کیا جو پارٹی کے لحاظ سے ٹھیک لگا۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;E کیرالہ میں اے کے انٹونی بڑے قد کے لیڈر ہیں، مگر وہ مرکزی حکومت میں وزیردفاع ہیں، جبکہ ریاست میں کمیونسٹوں کا جادو ٹوٹ رہا ہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی وہاں ہے نہیں، کانگریس امید کرے تو کس سی، کس کا چہرہ سامنے رکھ کر الیکشن لڑی۔ یہی بات مغربی بنگال میں ہی، یہاں4برسوں بعد کمیونسٹ اگر عوام کی تبدیلی کی چاہ کے سبب کمزور نظر آرہے ہیں تو ممتابنرجی کے علاوہ کوئی اور نعم البدل ان کے پاس ہے ہی نہیں، جبکہ یہ صاف نظر آرہا ہے کہ وہاں کمیونسٹوں کی لمبی حکومت میں بدلاؤ کی چاہت مغربی بنگال کے عوام کی پہلی خواہش ہی۔ پرنب مکھرجی جو مغربی بنگال میں سب سے مقبول اور اچھی امیج کے باصلاحیت لیڈر ہیں، اگر کانگریس نے انہیں سامنے رکھا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ ممتابنرجی سے بھی کہیں زیادہ عوام ان کے پیچھے نظر آتی۔ بہرحال اب تو بہت دیر ہوچکی ہی۔ اترپردیش میں بھی کانگریس کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوسکتا ہی۔ ملائم سنگھ یادو اور اب مایاوتی کے بڑے قد کے سامنے ریاست کا کوئی چہرہ ایسا تو ہو، جسے کانگریس سامنے رکھ کر نعم البدل کی بات مضبوطی سے کہہ سکی۔ جہاں تک ہماری نظر ہی، علاقائی سطح پر علاقائی لیڈران کا بڑھتا ہوا قد آنے والے کل میں ایسے نتائج دے سکتا ہی، جس پر آج ہی بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہی۔ بیشک یہ تمام بڑے لیڈران جنہوں نے اپنی اپنی ریاستوں میں اپنی اپنی شناخت اپنے بل بوتے پر حاصل کی ہی، ان کی طاقت کو کم کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، مگر انہیں ریاست کے ساتھ ساتھ اپنے مرکزی کردار کے بارے میں بھی سوچنا چاہئی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے کل میں مرکزی حکومت کے لئے قومی سطح کی پارٹیاں ہوں اور ریاستی حکومتیں علاقائی لیڈران کے پاس۔ ایسے میں اتحاد کے ساتھ چلنے والی مرکزی حکومت کتنی خودمختار ہوگی، سمجھا جاسکتا ہی۔  یہ ایک الگ موضوع ہی، جس پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے اور لکھنے کی ضرورت ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;بہرحال ہم اس وقت بات کررہے تھی، تمل ناڈو کے ریاستی انتخابات کی، کانگریس اور ڈی ایم کے کے درمیان پیدا ہوئے فاصلہ کی۔ تو کانگریس کے لئے جہاں یہ فکرمندی کی بات ہے کہ اس کا ایک ساتھی اس سے الگ ہوسکتا ہی، جس کا آنے والے کل میں مرکزی حکومت کی مضبوطی پر اثر پڑسکتا ہے تو اطمینان کی بات یہ بھی ہونی چاہئے کہ سماجوادی پارٹی اس متوقع خسارے کو پورا کرنے کے لئے آگے آسکتی ہی۔ ہاں، مگر ملائم سنگھ کا ساتھ حاصل کرنے کے لئے اسے ایک بار پھر اترپردیش کے اسمبلی انتخابات پر غور کرنا ہوگا۔ ظاہر ہے کانگریس جہاں اپنے لئے ایک بار پھر زمین تلاش کرنے میں مصروف ہی، کیا کانگریس  ملائم سنگھ سے ان کی شرطوں پر سمجھوتہ کرسکے گی؟ اور اگر سمجھوتہ کرنا اس کی مجبوری ہی ہے تو یہ سمجھوتہ تمل ناڈو میں کروناندھی کے ساتھ ہی کیوں نہیں؟ بہرحال یہ تمام پیچیدگیاں کانگریس کے ساتھ ہیں، تاہم اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر صرف خواہشوں اور ارادوں سے کام چل جاتا تو بہار کے ریاستی انتخابات میں اتنے خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ کچھ زمینی حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہی، جہاں زمین تلاش کی جاتی ہی، وہاں اس زمین پر رہنے والوں کے دلوں میں جھانک کر بھی دیکھنا ہوتا ہی۔ دہلی کی دوربین سے ہر ریاست کا گاؤں نظر نہیں آتا۔ نتیجہ اس گاؤںکے نزدیک رہنے والے کے حق میں چلا جاتا ہے اور کانگریس دیکھتی رہ جاتی ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آج کا مضمون چونکہ تمل ناڈو کی سیاسی صورتحال اور کانگریس و ڈی ایم کے کے بدلتے رشتوں پر ہی، اسی لئے ہم کسی دوسری ریاست کے حوالہ سے زیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتی۔ کانگریس نے اپنے سپہ سالاروں میں ذرا تبدیلی کی ہی۔ تمل ناڈو کی ذمہ داری غلام نبی آزاد کے سپرد کی گئی ہی۔ تمل ناڈو ایک ایسی ریاست ہی، جہاں مسلمانوں کی آبادی صرف 5.6 فیصد ہی، جبکہ اس کی بغل کی ریاست کیرالہ میں مسلمان تقریباً5فیصد ہیں۔ ظاہر ہے سیاسی نظر انہی کی گہری ہوسکتی ہی، جو سیاست میں ہیں، مگر سیاست سے ذرا دور رہنے والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں مذہب اور ذات کا آج بھی بڑا دخل ہی۔ زبان کے اعتبار سے تو تمل ناڈو اور کیرالہ باہر والوں کے لئے ایک جیسا ہی ہی۔ مذہب عوام کو جوڑنے یا متاثر کرنے کی اگر کوئی وجہ بن سکتا تھا یا بن سکتا ہے تو غلام نبی آزاد کا اثر تمل ناڈو سے زیادہ کیرالہ میں ہونا چاہئی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تمل ناڈو کی کل 234 اسمبلی سیٹوں میں سے کانگریس نے پچھلی مرتبہ 34سیٹیں حاصل کیں، جبکہ صرف8سیٹوں پر انتخاب لڑا، اسی طرح 2001میں 14سیٹوں پر الیکشن لڑ کر 7سیٹیں حاصل کیں، یہ پہلے کی سیٹوں کے مقابلہ کافی بہتر پوزیشن تھی۔ اس بار اور بہتری کی امید کی جاسکتی ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;{ان اعدادوشمار کی روشنی میں ہمیں لگتا ہے کہ کانگریس کو یہ مشکل فیصلہ کرہی لینا چاہئے کہ وہ تمل ناڈو اسمبلی الیکشن تنہا لڑے اور پوری طاقت کے ساتھ لڑی۔ کم سے کم عوام کے سامنے تین ایسی پارٹیاں تو ہوں، جہاں ان کے لئے ان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا موقع ہو۔ ہوسکتا ہے کہ کانگریس میں یہ بحث چل پڑے کہ ایسی صورت میں زیادہ سیٹوں پر لڑا تو جاسکتا ہی، مگر منتخب ہونے والے ممبران کی تعداد کچھ کم ہوسکتی ہی۔ اگر یہ الیکشن وہ بغیر کسی سہارے کے لڑے تو، ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو، اگر ہو جائے تو بھی یہ کوئی نقصان کی بات نہیں ہی، اس لئے کہ کانگریس بیلنسنگ پاور ہوگی۔ اگر اقتدار کی دہلیز پر پہنچنے کے لئے دونوں میں سے کوئی بھی پارٹی کچھ قدم پیچھے رہ جاتی ہے تو منزل پر قدم رکھنے کے لئے کانگریس کی مدد درکار ہوگی۔ سیاست میں رشتوں کی کٹھاس یا مٹھاس دیرپا نہیں ہوتی۔ امید کم ہی، پھر بھی اگر ڈی ایم کی(کروناندھی) اقتدار سے کچھ دور رہ جاتی ہے تو کانگریس کا ساتھ پانے میں نہ اسے کوئی گریز ہوگا اور نہ ہی کانگریس کو اس میں کوئی پریشانی ہوگی۔ جے للتا کو ضرورت پڑی تو یہ رشتہ ان کے ساتھ قائم ہوسکتا ہی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تو بھی تمل ناڈو میں پارٹی کو کھڑی کرنے کا ایک موقع تو ملے گا، ورنہ34میں سے صرف 60-62سیٹوں پر تو امیدوار کھڑے کردئے جائیں گی۔ باقی سیٹوں پر جہاں کانگریس کے امیدوار نہیں ہوںگی، وہاں پارٹی کا وجود کیا رہ جائے گا۔ ظاہر ہے وہ ڈی ایم کے اور اے آئی ڈی ایم کے کے بیچ تقسیم ہوجائیں گی۔ کانگریس کو اب چاہئے کہ وہ ریاستوں میں اپنی طاقت میں اضافہ کری، پارٹی کو مضبوط کری، اپنا کیڈر کھڑا کری، یہ تبھی ممکن ہی، جب وہ پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ تنہا الیکشن میں اترنے کا فیصلہ کری۔ یوں بھی تمل ناڈو کے ریاستی انتخابات کے نتیجہ کا مرکزی حکومت پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑنے والا، بس رشتوں میں اعتدال قائم رکھنے کی ضرورت ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;………&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-886271003190487672?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/886271003190487672/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=886271003190487672' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/886271003190487672'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/886271003190487672'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_4663.html' title='&lt;p align=right&gt;’کانگریس‘تمل ناڈو ریاستی انتخابات کے تناظر میں…&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-8351239282093286412</id><published>2011-03-06T23:14:00.000-08:00</published><updated>2011-03-06T23:15:17.239-08:00</updated><title type='text'>‘कांग्रेस’ तमिलनाडु विधानसभा चुनावों के परिपेक्ष में.....अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;8 मार्च अर्थात महिला दिवस, इसलिए मेरा कल का लेख इसी विषय पर होगा। चूंकि मैं इस समय उर्दू ज़बान के संदर्भ में गुफ़्तगू कर रहा हूं और देश के विभिन्न भागों में जन-गणना का कार्य जारी है। हम अपनी मातृभाषा के ख़ाने में उर्दू दर्ज कर रहे हैं, परंतु इतना ही काफ़ी नहीं है अब इस ख़ानापुरी से आगे बढ़कर कुछ सोचना और करना होगा और यह ऐतिहासिक कारनामा अंजाम देना महिलाओं के द्वारा ही संभव है। ऐसा नहीं है कि पुरुषों की सेवाओं को कम करके देखा जा रहा है। हां, बस यह इस वास्तविकता की स्वीकारोक्ति है कि मां की गोद से मिलने वाली भाषा ही बच्चे की पहली भाषा होती है, इसीलिए हम उसे मातृभाषा कहते हैं। मैं अपने कल के लेख के लिए महिलाओं का विशेष ध्यान चाहता हूं, इसलिए कि मैं इस उर्दू तहरीक को सफल बनाने में उनकी अभूतपूर्व भूमिका देख रहा हूं, लेकिन मैं एक पत्रकार हूं और मुझे ताज़ा राजनीतिक स्थिति पर भी नज़र रखनी है। तमिलनाडु का प्रादेशिक चुनाव कांग्रेस तथा डीएमके के बदलते संबंध इस समय मेरे सामने हैं, इसलिए मेरा आजका लेख इसी विषय पर और कल का लेख महिला दिवस को समर्पित:&lt;/div&gt;&lt;div&gt;कांग्रेस शायद डीएमके को नाराज़ करना नहीं चाहती थी, वरना जो स्थिति आज उत्पन्न हुई है, यह उसी समय पैदा हो सकती थी जब 2-जी स्पेक्ट्रम मामले में डीएमके के ए-राजा को लेकर हंगामा आरंभ हुआ था। लगातार संसद की कार्यवाही ठप होती चली जा रही थी। जेपीसी (संयुक्त सस्दीय समिति) गठित करने का दबाव बढ़ता चला जा रहा था, यहां तक कि प्रधानमंत्री  डा॰ मनमोहन सिंह जी के व्यक्तित्व को प्रभावित करने का भी निरंतर प्रयास किया जा रहा था, परंतु कांगेे्रस ने ऐसा कोई संकेत देने का प्रयास नहीं किया कि वह डीएमके का दामन झटक देना चाहती है। हालांकि अन्ना डीएमके प्रमुख जय ललिता ने उसी समय स्पष्ट रूप से यह संकेत दे दिया था कि डीएमके सेे अलग हो जाने की स्थिति में सरकार को किसी प्रकार की कठिनाई का सामना नहीं करना पड़ेगा। उनकी पार्टी का बिना शर्त समर्थन यूपीए सरकार को प्राप्त होगा। फिर भी कांगे्रस डीएमके के साथ दोस्ती निभाती रही, लेकिन सीटों के बटवारे के प्रश्न पर यह तनाव सामने आ गया। अगर उस समय कांग्रेस ने यह फ़ैसला कर लिया होता कि वह डीएमके से थोड़ी दूरी पर रहना चाहती है, इसलिए कि डीएमके के कारण यूपीए सरकार को लगातार भ्रष्टाचार के आरोपों को सहन करना पड़ रहा है और सफ़ाई देना कठिन होता चला जा रहा है, तब शायद कांगे्रस राजनीतिक दृष्टि से अधिक बेहतर स्थिति में होती। यह तो उस समय भी साफ़ दिखाई दे रहा था कि तमिलनाडु में जय ललिता का ग्राफ़ बढ़ रहा है और करुणानिधि का घट रहा है। बेशक कांगे्रस अपने दम पर राज्य में कोई बड़ी पोज़िशन प्राप्त करने की संभावना नहीं देख रही थी, परंतु इसका दोतरफ़ा लाभ उसे ज़रूर होता। एक तो जय ललिता के साथ संबंध आज से अधिक बेहतर होते दूसरे डीएमके से जनता की नाराज़गी का ज़िम्मेदार कांग्रेस को नहीं ठहराया जा सकता। राजनीतिक पेचीदगियां कुछ ऐसी हैं कि प्रादेशिक चुनावों के बाद कांग्रेस के पास यह अवसर तब भी रहता कि जिसके साथ मिलकर सरकार बनाने का अवसर मिले या प्राप्त कर लिया जाए, हालांकि यह अवसर आज भी उसके पास है अगर एआईडीएमके को स्पष्ट बहुमत नहीं मिलता है और डीएमके किसी हालत में भी सरकार बनाने की स्थिति में नहीं आती है तो कांग्रेस राज्य में जय ललिता को समर्थन देने का फ़ैसला कर सकती है और डीएमके से अलग होने की स्थिति में कंेद्रीय सरकार को जय ललिता का समर्थन प्राप्त हो सकता है। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;जिस तरह देश के विभिन्न राज्यों में प्रादेेशिक पार्टियां मज़बूत होती जा रही हैं और कांग्रेस या भारतीय जनता पार्टी की निर्भरता उन पर बढ़ती चली जा रही है, उसके दूरगामी परिणाम सामने आ सकते हैं। भारतीय जनता पार्टी तो कांग्रेस के मुक़ाबले बहुत नई पार्टी है और उसे आगे बढ़ने का अवसर कांग्रेस के बिखराव तथा प्रादेशिक पार्टियों द्वारा ही मिला है, लेकिन कांग्रेस के बारे में ऐसा नहीं कहा जा सकता। न जाने क्यों वह अलग-अलग राज्यों में अपना मज़बूत नेतृत्व पैदा नहीं कर पा रही है या अगर है तो उसे उन राज्यों की दृष्टि से बढ़ावा नहीं दे पा रही है। कांगे्रस के पास अलग-अलग राज्यों से बड़े क़द के नेताओं की कमी नहीं है, परंतु वह अपने राज्य की राजनीति में अधिक रुचि लेते नज़र नहीं आते, वह केंद्रीय सरकार का हिस्सा बने रहना चाहते हैं। ऐसा कांग्रेस पार्टी के इशारे पर होता है या उनकी रुचि अपने राज्य की अपेक्षा केंद्र में अधिक होती है, अब यह तो अधिक बेहतर वह स्वयं या उनकी पार्टी ही जानती होगी। लेकिन आज कांग्रेस को यह सोचने की आवश्यकता होनी चाहिए कि जय ललिता और करुणानिधि के क़द का कोई प्रादेशिक नेता उनके पास क्यों नहीं है, प्रादेशिक चुनाव के लिए किसका चेहरा देख कर क्षेत्रीय जनता कांग्रेस को वोट देने का फ़ैसला करे। जब उसे साफ़ नज़र आ रहा है कि कांग्रेस के पास ऐसा कोई चेहरा ही नहीं है जो राज्य का मुख्यमंत्री बन सके अगर उसे जय ललिता और करुणानिधि के बीच ही यह फ़ैसला करना है कि उनमें से किसके हाथों में राज्य की लगाम दी जाए, तो फिर कांग्रेस की तो किसी न किसी के पीछे चलना मजबूरी ही होगी। जबकि जनता की इच्छा होती है कि उसका वोट सत्ता प्राप्त करने वाले को मिले। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;कांग्रेस के पास केंद्रीय गृह मंत्री पी॰चिदम्बरम, तमिलनाडु के एक दिग्गज नेता के रूप में कल भी थे और आज भी हैं। अगर 2006 के राज्य चुनाव से पूर्व कांग्रेस ने पी॰चिदम्बरम का चेहरा और नाम प्रादेशिक चुनावों के लिए प्रयोग किया होता तो अतिसंभव है कि उसे उस समय प्रादेशिक चुनाव में और बाद के संसदीय चुनावों में अधिक सफलता प्राप्त होती। आज डीएमके से नाराज़ और परिवर्तन की इच्छा रखने वाला वोटर जो जय ललिता की ओर जाने का इरादा रखता है वह कांगे्रस की ओर भी आ सकता था। क़द की दृष्टि से पी॰चिदम्बरम, जय ललिता तथा करुणानिधि के मुक़ाबले कमज़ोर नज़र नहीं आते। निरंतर केंद्रीय सरकार का हिस्सा रहने वाले इस कांग्रेसी नेता को अपना मुख्यमंत्री देखने में प्रादेशिक जनता अधिक प्रसन्न तथा संतुष्ट हो सकती थी। इस स्थिति में उन्हें अपने राज्य के विकास की अधिक संभावनाएं नज़र आतीं। इसलिए कि केंद्रीय वित्त मंत्री के पद पर सफल रहने वाला व्यक्ति अपने राज्य के लिए केंद्र से अच्छा पैकेज ले सकता है। उस समय यह आशाएं और बढ़ जाती हैं, जब सरकार उसी पार्टी की हो। ऐसा कांग्रेस ने नहीं चाहा। चिदम्बरम उसे पसंद नहीं करते थे, यह तो वही बेहतर जानते होंगे, परंतु कांगे्रस अपने फ़ैसले लेने में इतनी कमज़ोर नहीं होती कि अपने दल के किसी भी दिग्गज नेता के साथ उसे समझौता करना पड़ता। नारायण दत्त तिवारी उत्तर प्रदेश के मुख्य मंत्री थे, जब उत्तराखन्ड भी उत्तर प्रदेश में शामिल था, परंतु बाद में वह केवल उत्तराखन्ड के मुख्यमंत्री बने। अर्जुन सिंह की तरह उनकी इच्छा भी केंद्र में किसी बड़ी ज़िम्मेदारी के लिए हो सकती थी। लेकिन कांग्रेस ने वही किया जो पार्टी के दृष्टि से ठीक लगा। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;केरल में एके एन्टनी बड़े क़द के नेता हैं परंतु वह केंद्रीय सरकार में रक्षा मंत्री हैं जबकि राज्य में कम्युनिस्टों का जादू टूट रहा है। भारतीय जनता पार्टी वहां है नहीं, कांगे्रस उम्मीद करे तो किससे, किसका चेहरा सामने रख कर चुनाव लड़े। यही बात पश्चिम बंगाल में है, यहां 34 वर्षों बाद कम्युनिस्ट अगर जनता में परिवर्तन की चाह के चलते घाटे में नज़र आ रहे हैं तो ममता बैनर्जी के अलावा कोई और विकल्प उनके पास है ही नहीं। जबकि यह साफ़ नज़र आ रहा है कि वहां कम्युनिस्टों के लम्बे शासन में बदलाव की चाहत पश्चिम बंगाल की जनता की पहली इच्छा है। प्रणव मुखीर्जी जो पश्चिम बंगाल में सबसे लोकप्रिय और साफ़ छवि के योग्य नेता हैं, अगर कांगे्रस ने उन्हें सामने रखा होता तो अतिसंभव है कि ममता बैनर्जी से भी कहीं अधिक जनता उनके पीछे नज़र आती। बहरहाल अब तो बहुत देर हो चुकी है। उत्तर प्रदेश में भी कांगेे्रस के सामने यह प्रश्न खड़ा हो सकता है। मुलायम सिंह यादव और अब मायावती के बड़े क़द के सामने राज्य का कोई चेहरा ऐसा तो हो, जिसे कांगे्रस सामने रख कर विकल्प की बात मज़बूती से कह सके। जहां तक हमारी नज़र है, क्षेत्रीय स्तर पर, क्षेत्रीय नेताओं का बढ़ता हुआ क़द आने वाले समय में ऐसे परिणाम दे सकता है, जिस पर आज ही बहुत अधिक ध्यान देने की आवश्यकता है। निःसंदेह यह सभी बड़े नेतागण जिन्होंने अपने अपने राज्यों में अपनी-अपनी पहचान अपने बल-बूते पर प्राप्त की है, उनकी शक्ति को कम करके नहीं देखा जा सकता, परंतु उन्हें राज्य के साथ-साथ अपनी केंद्रीय भूमिका के बारे में भी सोचना चाहिए। कहीं ऐसा न हो कि आने वाले समय में केंद्रीय सरकार के लिए राष्ट्रीय स्तर की पार्टियां हों और प्रादेशिक सरकारें क्षेत्रीय नेताओं के पास। ऐसे में गठबंधन के साथ चलने वाली केंद्रीय सरकार कितनी आज़ाद होगी, समझा जा सकता है। यह एक अलग विषय है, जिस पर काफ़ी गंभीरता से विचार करने और लिखने की आवश्यकता है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;बहरहाल हम इस समय बात कर रहे थे तमिलनाडु के प्रादेशिक चुनावों की, कांगे्रस और डीएमके के बीच उत्पन्न हुई दूरी की, तो कांग्रेस के लिए जहां यह चिंता की बात है कि उसका एक साथी उससे अलग हो सकता है, जिसका आने वाले समय में केंद्रीय सरकार की मज़बूती पर प्रभाव पड़ सकता है तो संतोष की बात यह भी होनी चाहिए कि समाजवादी पार्टी इस संभावित घाटे को पूरा करने के लिए आगे आ सकती है। हां, परंतु मुलायम सिंह का साथ प्राप्त करने के लिए उसे एक बार फिर उत्तर-प्रदेश के विधानसभा चुनावों पर विचार करना होगा। ज़ाहिर है कि  कांगे्रस जहां अपने लिए एक बार फिर ज़मीन तलाशने में लगी है, क्या कांग्रेस मुलायम सिंह से उनकी शर्तों पर समझौता कर सकेगी? और अगर समझौता करना उसकी मजबूरी ही है तो यह समझौता तमिलनाडु में करुणानिधि के साथ ही क्यों नहीं? बहरहाल यह तमाम उलझनें कांगे्रस के साथ हैं, फिर भी उसे यह भी देखना होगा कि अगर केवल इच्छाओं और इरादों से काम चल जाता तो बिहार के प्रादेशिक चुनाव में इतने घाटे का सामना नहीं करना पड़ता। कुछ ज़मीनी सच्चाई को समझना भी आवश्यक है। जहां ज़मीन तलाश की जाती है, वहां उस ज़मीन पर रहने वालों के दिलों में झांक कर भी देखना होता है। दिल्ली की दूरबीन से हर राज्य का गांव नज़र नहीं आता। परिणाम उस गांव के निकट रहने वाले के पक्ष में चला जाता है और कांगे्रस देखती रह जाती है। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;आजका लेख चूंकि तमिलनाडु की राजनीतिक स्थिति तथा कांग्रेस एवं डीएमके के बदलते संबंधों पर है, इसीलिए हम किसी अन्य राज्य के संदर्भ में गुफ़्तगू नहीं करना चाहते। कांग्रेस ने अपने सिपह-सालारों में थोड़ा परिवर्तन किया है। तमिलनाडु की ज़िम्मेदारी ग़्ाुलाम नबी आज़ाद के सुपुर्द की गई है। तमिलनाडु एक ऐसा राज्य है जहां मुसलमानों की आबादी केवल 5.6 प्रतिशत है। जबकि उसके बग़ल के राज्य केरल में मुसलमान लगभग 25 प्रतिशत हैं। ज़ाहिर है राजनीतिक दृष्टि उन्हीं की गहरी हो सकती है, जो राजनीति में हैं, परंतु राजनीति से ज़रा दूर रहने वाले भी यह समझते हैं कि चुनाव में धर्म तथा जाति का आज भी बड़ा दख़ल है। भाषा की दृष्टि से तो तमिलनाडु और केरल बाहर वालों के लिए एक जैसा ही है। धर्म जनता को जोड़ने या प्रभावित करने का अगर कोई कारण बन सकता था या बन सकता है तो ग़्ाुलाम नबी आज़ाद का प्रभाव तमिलनाडु से अधिक केरल में होना चाहिए। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;तमिलनाडु की कुल 234 विधानसभा सीटों में से कांग्रेस ने पिछली बार 34 सीटें प्राप्त कीं, जबकि केवल 48 सीटों पर चुनाव लड़ा, इसी प्रकार 2001 में 14 सीटों पर चुनाव लड़ कर 7 सीटें प्राप्त की, यह पहले की सीटों के मुक़ाबले काफ़ी अच्छी स्थिति थी इस बार और बेहतरी की उम्मीद की जा सकती है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;इन आंकड़ों की रौशनी में हमें लगता है कि कांग्रेस को यह कठिन फ़ैसला कर ही लेना चाहिए कि वह तमिलनाडु विधानसभा का इलैक्शन अकेले लड़े और पूरी ताक़त के साथ लड़े। कम से कम जनता के सामने तीन ऐसी पार्टियां तो हों, जहां उसके लिए उनमें से किसी एक के चुनाव का मौक़ा हो। हो सकता है कि कांगे्रस में यह बहस चल पड़े कि ऐसी स्थिति में अधिक सीटों पर लड़ा तो जा सकता है परंतु निर्वाचित होने वाले सदस्यों की संख्या कुछ कम हो सकती है, अगर यह चुनाव वह बिना किसी सहारे के लड़े तो, ज़रूरी नहीं कि एसा ही हो अगर हो जाय तो भी यह कोई नुक़्सान की बात नहीं है, इसलिए कि कांग्रेस बैलेंसिंग पावर होगी। अगर सत्ता की चैखट पर पहुंचने के लिए दोनों में से कोई भी पार्टी कुछ क़दम पीछे रह जाती है तो मंज़िल पर क़दम रखने के लिए कांग्रेस की सहायता दरकार होगी। राजनीति में संबंधों की खटास या मिठास स्थाई नहीं होती। उम्मीद कम है, फिर भी अगर डीएमके (करुणानिधि) सत्ता से कुछ दूर रह जाती है तो कांग्रेस का साथ पाने में न उसे कोई परहेज़ होगा और न कांग्र्रेस को इसमें कोई कठिनाई होगी। जय ललिता को अगर ज़रूरत पड़ी तो यह संबंध उनके साथ भी स्थापित हो सकता है। ऐसा कुछ भी नहीं हुआ तो भी तमिलनाडु में पार्टी को खड़ा करने का एक अवसर तो मिलेगा। वरना 234 में से केवल 60-62 सीटों पर तो उम्मीदवार खड़े कर दिए जाएंगे। शेष सीटों पर जहां कांग्र्रेस के उम्मीदवार नहीं होंगे वहां पार्टी का अस्तित्व क्या रह जाएगा। ज़ाहिर है कि वह डीएमके और एआईडीएमके के बीच विभाजित हो जाएंगे। कांग्र्रेस को चाहिए कि वह राज्यों में अपनी ताक़त में वृद्धि करे पार्टी को मज़बूत करे, अपना कैडर खड़ा करे, यह तभी संभव है, जब वह पूरे साहस और शक्ति के साथ अकेली इलैक्शन में उतरने का फ़ैसला करे। यूं भी तमिलनाडु के प्रादेशिक चुनावों के परिणाम का केंद्रीय सरकार पर बहुत अधिक प्रभाव नहीं पड़ने वाला, बस संबंधों में सामंजस्य रखने की आवश्यकता है। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;...............................&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-8351239282093286412?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/8351239282093286412/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=8351239282093286412' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8351239282093286412'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/8351239282093286412'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_6485.html' title='‘कांग्रेस’ तमिलनाडु विधानसभा चुनावों के परिपेक्ष में.....&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-1447314949907976700</id><published>2011-03-06T23:13:00.000-08:00</published><updated>2011-03-06T23:14:17.325-08:00</updated><title type='text'>چلو مان لیا آجـ اُردو ہماری زبان ہیعزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;گفتگو جاری تھی، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور آسام میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے حوالہ سی، اردو زبان کے تناظر میں، لیکن اس درمیان دیوریا اور گورکھپور کے دورہ پر جانا پڑا۔ لکھنا بہت متاثر ہوتا ہے اس سفر سی، لہٰذا اب اسے ذرا کم کرنا ہوگا۔ بہرحال پھر شروع کرتے ہیں وہیں سے جہاں بات چھوڑی تھی۔ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ ان چاروں ریاستوں میں اردو زبان سوائے کچھ مقامات کے  علاقائی عوام کی زبان نہیں ہی، حالانکہ اردو زبان سے واقفیت کچھ حد تک چاروں ریاستوں کے باشندوں کو ہی، لیکن مغربی بنگال میں بنگلہ، تمل ناڈو میں تمل، کیرالہ میں ملیالم اور آسام میں اسمی زبان علاقائی لوگوں کی پہلی پسند ہیں اس کے بعد انگریزی ہی، ہاں کچھ مخصوص مقامات پر دینی مدارس کی مہربانی سے اردو کا وجود ابھی باقی ہی۔ زبان کا تعلق قوم و معاشرے سے کیا ہوتا ہی، اسے بہت سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہی۔ میں آج اس انتہائی نازک موضوع پر گفتگو کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آزادی سے قبل اردو ہندوستان کی قومی زبان تصور کی جاتی تھی، حالانکہ اس وقت انگریز حکمراں تھے اور انگریزی کا دبدبہ اس وقت بھی تھا، لیکن ہندوستان کی اکثریت اردو کو اپنی زبان تسلیم کرتی تھی، اسی لئے ہم نے اردو زبان کو اس وقت کی قومی زبان کہا، کیونکہ  حکومت کی زبان یہی تھی، عدالتوں کی زبان یہی تھی، ہر خاص و عام کی زبان یہی تھی۔ انگریزوں کے خلاف ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دینے والی زبان یہی تھی۔ جدوجہد آزادی کی زبان یہی تھی۔ 1857سے لے کر947تک یعنی پہلی جنگ آزادی سے حصول آزادی تک اردو زبان نے ہی آزادی کی جنگ لڑی۔ ’اردوئے معلی‘(مولانا حسرت موہانی)،’ہمدرد‘(مولانا محمد علی جوہر)، ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ (مولانا ابوالکلام آزاد)، ’زمیندار‘(مولانا ظفر علی خاں) وہ نمائندہ اخبار تھی، جن کا تعلق اردو زبان سے تھا اور آزادی کی جدوجہد میں پیش پیش تھی۔ اردو ادب یا شاعری کا ذکر کریں تو یہ سرمایہ ہماری آزادی کی تاریخ کا حصہ ہی۔ پنڈت رام پرساد بسمل سے منسوب:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اے شہیدِ ملک و ملت میں ترے اوپر نثار&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اب تری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسماں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جیسے اشعار اردو زبان سے تعلق رکھنے والے مجاہدین آزادی نے دئی۔ یہ بلاتفریق مذہب و ملت ان کا جذبہ تھا۔ اگر پنڈت رام پرساد بسمل اردو زبان کی معرفت آزادی کا بگل بجا رہے تھے تو ظفر علی خاں، محمد حسین آزاد اور علامہ اقبال بھی اردو زبان میں کہے جانے والے اپنے نغموں کے ذریعہ آزادی کی جنگ لڑرہے تھی، جیسی:&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تہذیب ہند کا نہیں چشمہ اگر ازل&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہ موجِ رنگ رنگ پھر آتی کہاں سے ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;ذرّے میں گر تڑپ ہے تو اس خاک پاک سی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;سورج میں روشنی ہے تو اس آسماں سے ہی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;(ظفر علی خاں)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اے آفتاب صبح وطن تو کدھر ہے آج&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تو ہے کدھر کہ کچھ نہیں آتا نظر ہے آج&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;بن تیرے ملک ہند کے گھر بے چراغ ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;جلتے عوض چراغ کے سینے میں داغ ہیں&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;(محمد حسین آزاد)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اگر ممکن ہو تو بھی آج رنگیں جام کے بدلی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;لہو کے رنگ میں ڈوبا ہوا پرچم اٹھا ساقی&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;(علامہ اقبال)&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہ ہے وہ اردو زبان جسے ہندوستان کی تاریخ کبھی بھلا نہیں پائے گی، لیکن 1947میں حصول آزادی کے بعد ملک بٹا، زمین بٹی، زبان بٹی اور ہماری ہندوستانی تہذیب بھی ٹکڑوں میں بٹ گئی، جس کا خمیازہ ہمیں آج تک بھگتنا پڑرہا ہی۔ اردو زبان صرف ایک ووٹ سے پیچھے رہ کر قومی زبان کا درجہ حاصل نہیں کرسکی، ہندی زبان کو یہ حق حاصل ہوا۔ کاش کہ عملی طور پر ہندی ہی ہماری قومی زبان تسلیم کرلی گئی ہوتی۔ تکنیکی اعتبار سے ضرور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندی کو ہمارے ملک کی قومی زبان ہونے کا مرتبہ حاصل ہی، لیکن حقیقت یہ نہیں ہی۔ اگر ایسا ہوتا تو مہاراشٹر اسمبلی میں ہندی زبان میں حلف لینے پر ابوعاصم اعظمی کو ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ہمیں اپنی گنگا جمنی تہذیب پر فخر ہی، مگر اب یہ تہذیب ماضی کی داستانوں میں ہی زیادہ نظر آتی ہی۔ حال کا حال تو بہت برا ہے اور مستقبل کا خدا جانی۔ اردو اب ملک کی قومی زبان نہیں ہے اور ہندی قومی زبان ہو کر بھی کل ہندوستان کی زبان نہیں ہی۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، بیشک یہ ہماری وسیع القلبی اور معاشرے کی ہمہ جہتی کی طرف اشارہ کرتی ہی، لیکن علاقائی زبانوں کے فائدوں کے ساتھ ساتھ ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ہماری قومی زبان ہندی کو ملک کی تمام ریاستوں میں وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہوسکا ہے کہ اسے قومی سطح پر رابطہ کی زبان تسلیم کیا جاسکی۔ اترپردیش، مدھیہ پردیش، بہار اور راجستھان کے رہنے والے کثرت سے ہندی زبان کو عام بول چال میں استعمال کرتے ہیں، مگر جب ہم جنوب کی طرف رُخ کرتے ہیں تو آندھراپردیش کی ریاستی زبان تیلگو ہی، کرناٹک کی کنڑ، تمل ناڈو کی تمل اور کیرالہ میں ملیالم۔ دیگر ہندوستان کی بات کریں تو پنجاب میں پنجابی، گجرات میں گجراتی، مہاراشٹر میں مراٹھی زیادہ مقبول ہیں اور ان زبانوں کے بعد اگر کوئی رابطہ کی زبان ہے تو وہ انگریزی ہی، یعنی اردو اور ہندی کو جو دونوں ہی آزادی کے بعد ملک کی قومی زبان بننے کی دعویدار تھیں، لیکن اب قومی سطح پر اس حیثیت میں نظر نہیں آتیں۔ کچھ علاقوں میں ہندی سمجھی جاتی ہے اور بول لی جاتی ہی، اسی طرح اردو زبان بھی… &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span class="Apple-tab-span" style="white-space:pre"&gt; &lt;/span&gt;آزادی کے بعد سے متواتر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اردو ہندوستان کی زبان ہی۔ کسی مذہب یا فرقہ کی زبان نہیں ہی۔ ہم نے خود اپنی تحریر اور تقاریر کی معرفت بارہا کہا اور لکھا کہ جب پروفیسر گوپی چند نارنگ اور چندربھان خیال جیسے ناموں والے لوگ اردو زبان میں گفتگو کرتے ہیں، اردو ادب کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں تو یہ ملک کے 100کروڑ لوگوں کی زبان نظر آتی ہی، مگر جب پروفیسر ملک زادہ منظور احمد اور خلیق انجم جیسے اردوداں اردو زبان میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں تو یہ محض 20فیصد لوگوں کی زبان نظر آتی ہی۔ تمام کوششوں اور جدوجہد کے باوجود اس حقیقت سے اعتراف کرنا مجبوری بھی ہے اور ضروری بھی کہ آزادی کے دور کی یا اس کے فوراً بعد جوان ہونے والی نسل کی بات نہ کریں تو آج کی نسل میں اردو زبان سے تعلق ایک مخصوص فرقہ کا ہی ہوکر رہ گیا ہی۔ بہت حد تک اب یہ ملک کی اقلیت یعنی مسلمانوں کی زبان ہی بن کر رہ گئی ہی۔ بڑی تعداد میں وہی اردو کے زیادہ قریب نظر آتے ہیں، لہٰذا اگر اس سچائی کو آج تسلیم کرلیا جائے اور مجبوری میں نہیں، بلکہ بخوشی یہ اعلان کردیا جائے کہ ہم تو اردو کو ہندوستان کی زبان کی شکل میں ہی دیکھتے رہے اور ہمیشہ دیکھنا چاہتے تھی، ہم اسے نہ تو ریاستوں کی سرحدوں میں محدود رکھنا چاہتے تھی، نہ کسی مخصوص فرقہ یا طبقہ کی میراث، لیکن اگر آپ نے اب اسے ہماری زبان قرار دے ہی دیا ہے تو ہمیں بہ خندہ پیشانی آپ کا یہ تحفہ قبول ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;اردو ہماری زبان ہی، ہمیں یہ تحفہ خوش دلی سے قبول ہی۔ ہم اس وقت بھی بہت خوش تھی، جب اردو کل ہند کی زبان تھی، ہم اس وقت اور بھی خوش ہوتی، جب آج بھی اردو کل ہندوستان کی زبان ہوتی۔ ہم اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اردو کے ہماری زبان ہونے کے کیا معنی ہیں۔ زبان کا معاشرہ پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے اور زبان کا رشتہ کئی معنوں میں مذہب کے رشتہ سے بھی زیادہ مضبوط ثابت ہوتا ہی۔ عین ممکن ہے کہ میری یہ بات سب کے لئے قابل قبول نہ ہو، مگر میری تحریر کے اگلے چند جملے یہ واضح کردیں گے کہ میں ایسا کیوں لکھ رہا ہوں۔ میں نے تاریخ کے دامن میں جھانک کر دیکھا ہی، میں نے تقسیم وطن کے واقعات کو پڑھا ہی، میں نے مغربی اور مشرقی پاکستان کو جغرافیائی اعتبار سی، مذہبی اعتبار سے اور زبان کے اعتبار سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے رہنے والوں کا مذہب تو ایک ہی تھا، تقسیم ہند کے وقت ہندوستان سے الگ ہونے کی وجہ بھی ایک ہی تھی، اگر یہ وجہ مذہب تھی تو پھر مشرقی اور مغربی پاکستان ایک ساتھ کیوں نہیں رہ سکی۔ آخر کس بات نے دونوں کوجدا کردیا۔ میں اس وقت سیاسی وجوہات پر بات نہیں کررہا ہوں۔ میرا یہ مضمون زبان کی اہمیت کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ہی، لہٰذا اور جو بھی وجوہات رہی ہوں، زبان ایک بہت بڑی وجہ تھی مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اختلافات پیدا ہونے اور تعلق ختم ہوجانے کی۔اس لئے کہ مشرقی پاکستان کی زبان بنگلہ تھی، وہ مغربی بنگال کے نزدیک تھا، اس کی تہذیب، اس کی زبان مغربی پاکستان سے الگ تھی، لہٰذا دونوں قومیں ایک مذہب ہوتے ہوئے بھی زبان اور علاقہ کے اعتبار سے جدا تھیں، اس لئے ایک پاکستان رہ گیا اور دوسرے کا وجود بنگلہ دیش کی شکل میں عمل میں آیا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آج میں اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے زبان کے اس رشتہ کی اہمیت پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ تقسیم ہند 65برس پرانی داستان ہی۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کی کہانی بھی اتنی ہی پرانی ہی۔ میں بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کی تاریخ کا حوالہ دینے کی یہاں ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میں صرف آج سے پچاس سال بعد کی صورتحال کو ذہن میں رکھ کر گفتگو کررہا ہوں۔ تمل ناڈو میں رہنے والوں کی زبان تمل ہی، وہ ہندو ہوں یا مسلمان۔ کیرالہ میں رہنے والوں کی زبان ملیالم ہی، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، حالانکہ عرب سے آنے والے قافلہ نے سب سے پہلے اسی زمین پر قدم رکھا اور آج بھی کیرالہ کے مسلمانوں کی زندگی میں عربی طرز زندگی کی جھلک ملتی ہی۔ بہت سے لوگ عربی لباس میں آپ کو اس ریاست میں نظر آئیں گی، تاہم ان کی زبان ملیالم ہی۔ آسام اور مغربی بنگال کی صورتحال بھی کم و بیش یہی ہی۔ ان کی اپنی علاقائی زبانیں ہیں۔ بیشک اردو زبان کا مغربی بنگال سے گہرا رشتہ رہا ہی۔ اردو کا پہلااخبار ’’جام جہاں نما‘‘ اسی زمین سے شائع ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ جیسے جریدے اسی پردیش(کولکاتہ) سے نکالی۔ اردو آج بھی یہاں زندہ ہی، مگر بنگلہ زبان بنگال کے ہر رہنے والے کی زبان ہی۔ ہمیں ان تمام زبانوں سے محبت ہی، ان کے اپنائے جانے میں کوئی برائی نہیں، مگر اردو وہ زبان ہے جو قومی سطح پر رابطہ کا ذریعہ بن سکتی ہے اور حالیہ ریاستی انتخابات وہ موقع ہیں، جب اردو کو رابطہ کی زبان بنایا جاسکتا ہی۔ ہمارے دینی مدارس اور شعروادب کی محفلیں بخوبی یہ کارنامہ انجام دے سکتی ہیں۔ کام ذرا مشکل ہی، مگر ناممکن نہیں۔ جنہیں ووٹ کی اہمیت کو سمجھنا اور سمجھانا ہی، وہ سیاسی اعتبار سے ان ریاستی انتخابات کو خوش آمدید کہیں اور جنہیں زبان کی اہمیت کو سمجھنا اور سمجھانا ہی، وہ انتخابات کو اردوزبان کے لحاظ سے خوش آمدید کہیں۔ ظاہر ہے اگر آپ نے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کرلیا تو ان چار ریاستوں کے انتخابات صرف متعلقہ ریاستوں میں رہنے والوں کے لئے ہی نہیں ہوں گی، بلکہ اردو زبان سے محبت کرنے والے ہر ہندوستانی کے لئے انتہائی اہم ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے پچھلے مضمون میں یہ درخواست کی تھی کہ میری اس تحریر کا ترجمہ مقامی زبان میں شائع  کرکے یا پھر رابطہ کے لئے جو طریقہ بھی آپ کو مناسب لگے اپنائیں، مگر اس پیغام کو ہر گھر تک ضرور پہنچائیں۔ آج پھر میں یہی درخواست کررہا ہوں کہ جس طرح بھی ممکن ہو، اس پیغام کوان تک پہنچانے کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ شاید زبان کے فروغ اور تہذیب کی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام معاملات میں بھی یہ کوشش نتیجہ خیز ثابت ہو۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-1447314949907976700?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/1447314949907976700/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=1447314949907976700' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/1447314949907976700'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/1447314949907976700'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_8432.html' title='&lt;p align=right&gt;چلو مان لیا آجـ اُردو ہماری زبان ہی&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7159767459537848597</id><published>2011-03-06T23:09:00.000-08:00</published><updated>2011-03-06T23:11:29.493-08:00</updated><title type='text'>चलो मान लिया आज-उर्दू हमारी ज़बान हैअज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;चर्चा जारी थी, पश्चिम बंगाल, तमिलनाडु, केरल और असम में होने वाले राज्य विधानसभा चुनावों के हवाले से, उर्दू भाषा के परिपेक्ष में, लेकिन इस बीच देवरिया और गोरखपुर के दौरे पर जाना पड़ा। लिखना बहुत प्रभावित होता है इस यात्रा से इसलिए अब इसे थोड़ा कम करना होगा। बहरहाल फिर शुरू करते हैं वहीं से जहां बात छोड़ी थी। हमें पूरी तरह अंदाज़ा है कि इन चारों प्रदेशों में उर्दू भाषा सिवाए कुछ इलाक़ों के क्षेत्रीय जनता की भाषा नहीं है, हालांकि उर्दू भाषा की जानकारी कुछ हद तक चारों राज्यों के निवासियों को है, लेकिन पश्चिम बंगाल में बंग्ला, तमिलनाडु में तमिल, केरल में मलियालम और असम में असमया भाषा क्षेत्रीय लोगों की पहली पसन्द है उसके बाद अंग्रेज़ी, हां कुछ मुख्य स्थानों पर दीनी मदरसों की कृपा से उर्दू का वजूद अभी बाक़ी है। भाषा का सम्बंध राष्ट्र के विकास में क्या होता है इसे बहुत ही गम्भीरता से समझने की आवश्यकता है। मैं आज इस बेहद नाज़ुक विषय पर बातचीत का इरादा रखता हूँ। आज़ादी से पूर्व उर्दू भारत की राष्ट्रीय भाषा समझी जाती थी, हालांकि उस समय अंग्रेज़ शासक थे और अंग्रेज़ी का दबदबा उस समय भी था लेकिन भारत की अधिकांश जनता उर्दू को अपनी भाषा मानती थी इसीलिए हमने उर्दू भाषा को उस समय की राष्ट्रीय भाषा कहा, क्योंकि सरकार की भाषा यही थी, अदालतों की भाषा यही थी, हर ख़ास व आम की भाषा यही थी। अंग्रेज़ों के विरूद्ध ‘इंक़लाब ज़िन्दाबाद’ का नारा देने वाली भाषा यही थी। आज़ादी के लिए संघर्ष की भाषा यही थी। 1857 से लेकर 1947 तक अर्थात पहली आज़ादी की जंग से आज़ादी की प्राप्ति तक उर्दू भाषा ने ही आज़ादी की जंग लड़ी ‘उर्दू-ए-मोअल्ला’ (मौलाना हसरत मोहानी), ‘हमदर्द’ (मौलाना मुहम्मद अली जौहर), ‘अलहिलाल’, ‘अलबलाग़’ (मौलाना अबुलकलाम आज़ाद), ‘ज़मींदार’ (मौलाना ज़फ़र अली खां) वह नुमाइंदा अख़बार थे जिनका सम्बंध उर्दू भाषा से था और आज़ादी की जंग में अग्रणी थे। उर्दू साहित्य अथवा शायरी की चर्चा करें तो यह धरोहर हमारी आज़ादी के इतिहास का हिस्सा है। पंडित राम प्रसाद बिस्मिल के नाम से प्रसिद्धः&lt;/div&gt;&lt;div&gt;सरफ़रोशी की तमन्ना अब हमारे दिल में है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;देखना है ज़ोर कितना बाज़ु-ए-क़ातिल में है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;ऐ शहीदे मुल्को-मिल्लत मैं तेरे ऊपर निसार&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अब तेरी हिम्मत का चर्चा ग़ैर की महफ़िल में है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;वक़्त आने दे बता देंगे तुझे ऐ असमाँ&lt;/div&gt;&lt;div&gt;हम अभी से क्या बताएं क्या हमारे दिल में है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;जैसे शेर उर्दू भाषा से ताल्लुक रखने वाले स्वतंत्रता सैनानियों ने दिए। यह बिना धर्म व सम्प्रदाय के भेदभाव के उनकी भावनाएं थीं। अगर पंडित राम प्रसाद बिस्मिल उर्दू भाषा के माध्यम से आज़ादी का बिगुल बजा रहे थे तो ज़फ़र अली खां, मौहम्मद हुसैन आज़ाद और अल्लामा इक़बाल भी उर्दू भाषा में कहे जाने वाले अपने नग़मों के द्वारा आज़ादी की जंग लड़ रहे थे। जैसेः&lt;/div&gt;&lt;div&gt;नाक़ूस से ग़रज़ है न मतलब अज़ां से है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;मुझको अगर है इश्क़ तो हिंदोस्तां से है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;तहज़्ाीब-ए-हिंद का कहें चश्मा अगर अज़ल&lt;/div&gt;&lt;div&gt;यह मौजे रंग-रंग फिर आई कहां से है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;ज़र्रे में गर तड़प है तो इस ख़ाकै पाक से &lt;/div&gt;&lt;div&gt;सूरज में रोशनी है तो इस आसमां से है&lt;/div&gt;&lt;div&gt;(ज़फ़रअली ख़ां)&lt;/div&gt;&lt;div&gt;ऐ आफ़ताबे सुब्ह-ए-वतन तू किधर है आज&lt;/div&gt;&lt;div&gt;तू है किधर कि कुछ नहीं आता नज़र है आज&lt;/div&gt;&lt;div&gt;बिन तेरे मुल्के हिन्द के घर बे चिराग़ हैं&lt;/div&gt;&lt;div&gt;जलते एवज़ चिराग़ के सीने में दाग़ हैं&lt;/div&gt;&lt;div&gt;(मुहम्मद हुसैन आज़ाद)&lt;/div&gt;&lt;div&gt;अगर मुमकिन हो तू भी आज रंगीं जाम के बदले&lt;/div&gt;&lt;div&gt;लहू के रंग में डूबा हुआ परचम उठा साक़ी&lt;/div&gt;&lt;div&gt;(अल्लामा इक़बाल)&lt;/div&gt;&lt;div&gt;यह है उर्दू भाषा जिसे भारत का इतिहास कभी भुला नहीं पाएगा, लेकिन 1947 में आज़ादी की प्राप्ति के बाद देश का विभाजन हुआ, ज़मीन का विभाजन हुआ और हमारी हिन्दुस्तानी सभ्यता भी टुकड़ों में बट गई, भाषा का विभाजन हुआ जिसका खमियाज़ा हमें आज तक भुगतना पड़ रहा है। उर्दू भाषा केवल एक वोट से पीछे रह कर राष्ट्र भाषा का दर्जा प्राप्त नहीं कर सकी, हिन्दी भाषा को यह अधिकार प्राप्त हुआ। काश कि अमली तौर पर हिन्दी ही हमारी राष्ट्र भाषा स्वीकार कर ली गई होती। तकनीकी रुप से अवश्य यह कहा जा सकता है कि हिन्दी को हमारे देश की राष्ट्र भाषा होने का दर्जा प्राप्त है लेकिन यह वास्तविकता नहीं है। अगर ऐसा होता तो महाराष्ट्र विधानसभा में हिन्दी में शपथ लेने पर अबु आसिम आज़मी को ज़िल्लत का सामना नहीं करना पड़ता। हमें अपनी गंगा जमनी सभ्यता पर गर्व है। मगर अब यह सभ्यता भूतकाल की दास्तानों में ही अधिक नज़र आती है। वर्तमान का हाल तो बहुत बुरा है और भविष्य का ख़ुदा जाने। उर्दू अब देश की क़ौमी भाषा नहीं है और हिन्दी क़ौमी भाषा हो कर भी पूरे हिन्दुस्तान की भाषा नहीं है। भारत के विभिन्न राज्यों में विभिन्न भाषाएं बोली जाती हैं, निःसंदेह यह हमारी विशाल हृदयता और हमारे समाज की रंगा रंगी की तरफ़ इशारा करती है, लेकिन प्रादेशिक भाषाओं के लाभों के साथ-साथ एक नुक़सान यह भी है कि हमारी राष्ट्रीय भाषा हिन्दी को तमाम राज्यों में वह दर्जा प्राप्त नहीं हो सका है कि उसे राष्ट्रीय स्तर पर सम्पर्क की भाषा माना जा सके। उत्तर प्रदेश, मध्य प्रदेश, बिहार और राजस्थान के रहने वाले लोग कसरत से हिन्दी भाषा को आम बोलचाल में इस्तेमाल करते हैं मगर जब हम दक्षिण की तरफ़ रुख़ करते हैं तो आन्ध्रप्रदेश की क्षेत्रीय भाषा तेलगु है, कर्नाटक की कन्नड़, तमिनाडु की तमिल और केरल में मलियालम। शेष भारत की बात करें तो पंजाब में पंजाबी, गुजरात में गुजराती, महाराष्ट्र में मराठी ज़्यादा लोकप्रिय हैं और इन भाषाओं के बाद अगर कोई सम्पर्क की भाषा है तो वह इंग्लिश है, अर्थात उर्दू और हिन्दी जो दोनों ही आज़ादी के बाद देश की राष्ट्रीय भाषा बनने की दावेदार थीं, लेकिन अब राष्ट्रीय स्तर पर इस हैसियत में नज़र नहीं आतीं। कुछ क्षेत्रों में हिन्दी समझी जाती है और बोल ली जाती है। इसी तरह उर्दू भाषा भी.....&lt;/div&gt;&lt;div&gt;आज़ादी के बाद से लगातार यह साबित करने का प्रयास किया जाता रहा है कि उर्दू भारत की भाषा है, किसी धर्म या समुदाय की नहीं। हमने स्वंय अपने भाषणों और लेखों में कहा और लिखा कि जब प्रोफेसर गोपीचंद नारंग और चन्द्रभान ख़्याल जैसे नामों वाले लोग उर्दू भाषा में बात करते हैं, उर्दू भाषा की सेवा करते नज़र आते हैं तो यह देश के 100 करोड़ लोगों की भाषा नज़र आती है। मगर जब प्रोफ़ेसर मलिकज़ादा मंज़ूर अहमद और ख़लीक अंजुम जैसे उर्दूदां उर्दू में बात करते नज़र आते हैं तो यह केवल 20 प्रतिशत लोगों की भाषा नजर आती है। तमाम प्रयासों और संघर्ष के बावजूद इस वास्तविकता को स्वीकार करना मजबूरी भी है और आवश्यक भी, कि आज़ादी के दौर की या उसके फ़ौरन बाद जवान होने वाली पीढ़ी की बात न करें तो आजकी पीढ़ी में उर्दू भाषा से सम्बंध एक विशेष समुदाय का होकर रह गया है। बहुत हद तक अब यह देश के अल्पसंख्यक अर्थात मुसलमानों की भाषा बन कर रह गई है। बड़ी संख्या में वही उर्दू के ज़्यादा क़रीब नज़र आते हैं, इसलिए अगर इस सच्चाई को आज स्वीकार कर लिया जाए और मजबूरी में नहीं बल्कि ख़ुशी के साथ यह ऐलान कर दिया जाए कि हम तो उर्दू को भारत की भाषा के रूप में ही देखते रहे और हमेशा देखना चाहते थे, हम इसे न तो राज्यों की सीमाओं में सीमित रखना चाहते थे, न किसी विशेष समुदाय या वर्ग की सम्पŸिा लेकिन अगर आपने अब इसे हमारी भाषा क़रार दे ही दिया है तोे हमें ख़ुशी के साथ आपका यह तोहफ़ा क़बूल है।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;उर्दू हमारी भाषा है, हमें यह उपहार ख़ुशदिली से क़ुबूल है। हम उस वक़्त भी बहुत ख़ुश थे, जब उर्दू पूरे भारत की भाषा थी, हम उस वक़्त और भी प्रसन्न होते जब उर्दू पूरे भारत की भाषा होती। हम इस हक़ीक़त को अच्छी तरह समझ सकते हैं कि उर्दू के हमारी भाषा होने के क्या-क्या अर्थ हैं। भाषा का समाज पर बड़ा गहरा प्रभाव होता और भाषा का रिश्ता कई मायनों में धर्म के रिश्ते से भी अधिक मज़बूत साबित होता है। अतिसंभव है कि मेरी यह बात सब लोगों के लिए स्वीकार्य न हो, परंतु मेरे लेख के अगले वाक्य यह स्पष्ट कर देंगे कि मैं ऐसा क्यों लिख रहा हूं। मैंने इतिहास के दामन में झांक कर देखा है, मैंने देश के विभाजन की घटनाओं का अध्ययन किया है, मैंने पश्चिमी तथा पूर्वी पाकिस्तान के भौगोलिक रूप से धार्मिक दृष्टिकोण से और भाषा के आलोक में समझने का प्रयास किया है और मैं इस निष्कर्श पर पहंुचा हूं कि पश्चिमी पाकिस्तान और पूर्वी पाकिस्तान के रहने वालों का धर्म तो एक ही था, भारत के विभाजन के समय भारत से अलग होने का कारण भी एक ही था, अगर यह कारण धर्म था तो फिर पूर्वी और पश्चिमी पाकिस्तान एक साथ क्यों नहीं रह सके। आख़िर किस बात ने दोनों को अलग कर दिया। मैं इस समय राजनीतिक कारणों पर बात नहीं कर रहा हूं। मेरा यह लेख भाषा के महत्व को समझने और समझाने के लिए है इसलिए और जो भी कारण रहे हों भाषा एक बहुत बड़ा कारण था पूर्वी तथा पश्चिमी पाकिस्तान के बीच मतभेद पैदा होने और संबंध समाप्त हो जाने का। इसलिए कि पूर्वी पाकिस्तान की भाषा बंगला थी, वह बंगाल के निकट था, उसकी संस्कृति, उसकी भाषा पश्चिमी पाकिस्तान से अलग थी, इसलिए दोनों क़ौमें एक धर्म होते हुए भी भाषा तथा क्षेत्र के ऐतबार से अलग थीं, इसलिए एक पाकिस्तान रह गया और दूसरे का अस्तित्व बंग्लादेश के रूप में सामने आया।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;आज मैं इस उदाहरण को सामने रखते हुए भाषा के इस संबंध के महत्व पर बात करना चाहता हूं। भारत का विभाजन 65 वर्ष पुरानी कहानी है। पश्चिमी तथा पूर्वी पाकिस्तान की कहानी भी उतनी ही पुरानी है। मैं बंग्लादेश के अस्तित्व में आने की तिथि का हवाला देने की यहां ज़रूरत महसूस नहीं करता। मैं केवल आज से 50 वर्ष बाद की स्थिति को ध्यान में रख कर गुफ़्तगू कर रहा हूं। तमिलनाडु में रहने वालों की भाषा तमिल है, वह हिंदू हों या मुसलमान। केरल में रहने वालों की भाषा मलियालम है चाहे उनका संबंध किसी भी धर्म से हो, हालांकि अरब से आने वाले क़ाफ़ले ने सबसे पहले इसी धरती पर क़दम रखा और आज भी केरल के मुसलमानों के जीवन में अरबी तर्ज़-ए-ज़िन्दगी की झलक मिलती है। बहुत लोग अरबी वस्त्र में आपको उस राज्य में नज़र आएंगे, फिर भी उनकी भाषा मलियालम है। असम और पश्चिम बंगाल की स्थिति भी लगभग यही है, उनकी अपनी क्षेत्रीय भाषाएं हैं। निःसंदेह उर्दू भाषा का पश्चिम बंगाल से गहरा संबंध रहा है। उर्दू का पहला अख़बार ‘जामे जहांनुमा’ उसी धरती से प्रकाशित हुआ। मौलाना अबुलकलाम आज़ाद ने ‘अल-हिलाल’ और ‘अल-बलाग़’ जैसे परचे इसी प्रदेश (कोलकाता) से निकाले। उर्दू आज भी यहां ज़िंदा है। परंतु बंग्ला भाषा बंगाल के हर रहने वाले की भाषा है। हमें इन सभी भाषाओं से प्रेम है उनके अपनाए जाने में कोई ख़राबी नहीं, परंतु उर्दू वह भाषा है जो राष्ट्रीय स्तर पर संपर्क का माध्यम बन सकती है और  वर्तमान प्रादेशिक चुनाव वह अवसर हैं, जब उर्दू को संपर्क की भाषा बनाया जा सकता है। हमारे धार्मिक मदरसे और शेरो-अदब की महफ़िलें अच्छी तरह यह कारनामा अंजाम दे सकती हैं। काम ज़रा कठिन है, परंतु असंभव नहीं। जिन्हें वोट के महत्व को समझना और समझाना है, वह राजनीतिक दृष्टि से इन राज्यों को चुनाव को ख़ुशआमदीद कहें और जिन्हें भाषा के महत्व को समझना और समझाना है वह चुनावों को उर्दू भाषा के लिहाज़ से ख़ुशआमदीद कहें, ज़ाहिर है अगर आपने इस योजना को अमलीजामा पहनाने का संकल्प कर लिया तो इन चार राज्यों के चुनाव केवल संबंधित राज्यों में रहने वालों के लिए ही नहीं होंगे, बल्कि उर्दू भाषा से प्रेम करने वाले हर भारतीय के लिए अत्यंत महत्वपूर्ण होंगे। यही कारण है कि मैंने अपने पिछले लेख में यह निवेदन किया था कि मेरे इस लेख का अनुवाद स्थानीय भाषा में प्रकाशित करके या फिर संपर्क के लिए जो तरीक़ा भी आपको उचित लगे अपनाएं, परंतु इस संदेश को हर घर तक अवश्य पहुंचाएं। आज फिर मैं यही निवेदन कर रहा हूं कि जिस तरह भी संभव हो इस संदेश को उन तक पहुंचाने का यह अवसर हाथ से न जाने दें। शायद भाषा के विकास और सांस्किृतिक समरसता के साथ-साथ अन्य सभी मामलों में भी यह प्रयास लाभप्रद सिद्ध हों।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;...............................&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-7159767459537848597?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/7159767459537848597/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=7159767459537848597' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7159767459537848597'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7159767459537848597'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_06.html' title='चलो मान लिया आज-उर्दू हमारी ज़बान है&lt;br&gt;अज़ीज़ बर्नी'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7744555665568147792</id><published>2011-03-02T22:33:00.001-08:00</published><updated>2011-03-02T22:33:48.209-08:00</updated><title type='text'>آئےی! آج بات کرتے ہیں سیاست کی.....عزیز برنی</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہی، جس کے مطابق مغربی بنگال میں8, 23, 27اپریل011، آسام میں 4اور 11اپریل 2011، تمل ناڈو، کیرالہ اور پانڈیچری میں3اپریل011 میں ووٹ ڈالے جانے ہیں۔اگر پانڈیچری کے الیکشن کو مسلم ووٹ بینک کے لحاظ سے بہت زیادہ توجہ نہ دیں تو بھی باقی چار ریاستوں میں انتخابات کی اہمیت کو سمجھا جاسکتا ہی۔ آسام میں تقریباً 33فیصد مسلمان ہیں، یعنی ہر تین میں سے ایک ووٹر مسلمان ہے جبکہ مغربی بنگال اور کیرالہ میں یہ فیصد تقریباً5%ہی، یعنی ہر چار میں سے ایک ووٹر مسلمان ہی۔ تمل ناڈو میں یہ تناسب ذرا کم ہی، وہاں مسلمانوں کی تعداد.6%ہی، تاہم اس ریاست میں بھی مسلمانوں کے ووٹ کو غیراہم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب اگر ہم ان چاروں ریاستوں کی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی پر نظر ڈالیں تو مغربی بنگال میں95میں صرف4یعنی 14%، آسام میں کل26میں2 یعنی 17%اور کیرالہ کی کل 140 سیٹوں میں6یعنی 11%، اسی طرح تمل ناڈو میں34میں صرف  یعنی%مسلم نمائندے ہیں۔ اسمبلی یا پارلیمانی حلقوں کا جس طرح بٹوارہ ہوتا ہی، اس میں اس بات کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا کہ جس کی جتنی آبادی ہے اس کو اسی تناسب سے پارلیمنٹ یا اسمبلی میں نمائندگی مل جائے گی، لہٰذا اگر مذکورہ بالا ریاستوں میں سے کچھ ایسے انتخابی حلقوں کی نشاندہی کربھی لی جائی، جہاں مسلمان فیصلہ کن تعداد میں موجود ہیں، وہ جیت سکتے ہیں تو بھی اس بات کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا کہ ان ریاستوں میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہی، انہیں اپنی اپنی ریاستوںمیں اسی تناسب سے نمائندگی حاصل ہوجائے گی۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پر نظر ڈالیں تو مغربی بنگال میں مسلمانوں کی حالت کو سب سے کمزور قرار دیا گیا ہی۔ اگر مسلمانوں کے حالات کو بہتر بنانے کی وجوہات پر غور کریں تو عرصۂ دراز سے جن نکات پر توجہ دلائی جاتی رہی ہی، وہ ہیں تعلیمی پسماندگی اور ملازمتوں کاحاصل نہ ہونا اور بھی وجوہات ہیں، مگر جن وجوہات پر سب سے زیادہ گفتگو کی جاتی ہی، وہ یہی ہیں کہ مسلمان تعلیمی اعتبار سے بہت پچھڑے ہیں اور روزگار کے معاملہ میں بھی یہی دلیل دی جاتی ہے کہ اگر معقول تعلیم ہی حاصل نہیں کریں گے تو روزگار کس طرح دستیاب ہوگا۔ یہاں اگر روزگار کا مطلب سرکاری ملازمت تصور کیا جائے تو حالت اور بھی تشویشناک نظر آتی ہی۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی اس قدر کم کیوں ہی، اگر صرف اسی موضوع پر گفتگو کریں گے تو باقی تمام پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالی جاسکتی۔ تاہم اتنا ذکر کردینا غیرمناسب نہیں ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم کا نہ ہونا تو ایک وجہ ہے ہی، مگر دوسری اور اہم وجہ ان کے ساتھ برتا جانے والا تعصب بھی ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;آئیے ذرا باقی دو وجوہات پر غور کریں، یعنی تعلیمی پسماندگی اور روزگار کا حاصل نہ ہونا، اب یہاں روزگار سے مراد تمام طرح کے روزگار کی حصولیابی ہے تو یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی نہیں ہی، دیگر قوموں کے لوگ بھی تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں اور ملازمتوں کا سوال ان کے سامنے بھی ہی، مگر ہم یہاں صرف مذکورہ بالا چار ریاستوں کے انتخابات اور مسلمانوں کے مسائل کو لے کر گفتگو کا ارادہ رکھتے ہیں، باقی موضوعات پر پھر کبھی گفتگو کی جائے گی۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تعلیمی پسماندگی کا مسئلہ ایک روز میں حل نہیں ہوسکتا، لمبا وقت درکار ہی۔ اسی طرح روزگار کا معاملہ ہے قومی اور ریاستی سطح پر روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا تو اس مسئلہ کے حل کی گنجائش سبھی کے لئے نکلی گی، اس میں مسلمانوں کے فیضیاب ہونے کی راہ بھی نکل آئے گی، لیکن ہم اس وقت بات کرنا چاہتے ہیں سیاسی نمائندگی پر اور وہ اس لئے کہ تمام طرح کے مسائل کا حل کسی نہ کسی طرح سیاست سے جڑتا ہی ہی۔ ہندوستانی قوم کے جو طبقے ایسے ہیں، جنہیں سیاسی نمائندگی، سیاسی سرپرستی، سیاسی توجہ حاصل ہی، ان کے سامنے یہ مسائل ہوتے ہوئے بھی اتنے پریشان کن نہیں ہوتی، جتنے کہ مسلمانوں کے لئے ہیں، یعنی تعلیمی پسماندگی کا اگر وہ شکار ہیں تو ان پر توجہ دینے والی سیاسی قیادت کوئی نہ کوئی ایسا راستہ نکال ہی دیتی ہی، جس سے ان کے لئے یہ روزگار کا مسئلہ اتنا پریشان کن ثابت نہیں ہوتا۔ مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی متعدد اسکیمیں ایسی ہوتی ہیں، جس میں سرکاری امداد اور بینکوں سے قرض لے کر اپنا کاروبار شروع کیا جاسکی۔ اس سے فیضیاب وہی ہوتے ہیں، جن کے پاس کوئی سیاسی سہارا ہی۔ سیاسی سرپرستی حاصل ہو تو پرائیویٹ سیکٹر میں بھی اور معمولی تعلیم حاصل کرنے پر بھی کہیں نہ کہیں روزگار کا بندوبست ہوہی جاتا ہی۔ ایسی چھوٹی موٹی نوکریوں کی سرکاری سطح پر بھی کمی نہیں ہی، جو کم پڑھے لکھوں کو حاصل ہوجاتی ہے یا ہوسکتی ہیں۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ مسلمان اس زمرے میں بھی نہ آتے ہوں۔ ان میں اس درجہ تعلیم کی کمی ہو کہ وہ تیسرے اور چوتھے گریڈ کی سرکاری نوکریاں بھی حاصل نہ کرسکیں یا پرائیویٹ سیکٹر میں انہیں اوروں کی طرح مواقع نہ مل سکیں۔ ہم آج یہ گفتگو اسی لئے کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لئے ممکن نہیں ہے کہ مذکورہ بالا ریاستوں میں آپ اپنی آبادی کے تناسب سے امیدواروں کا انتخاب کرانے میں کامیاب ہوجائیں اور ان میں بھی ایسے لوگ منتخب ہوکر پہنچ جائیں جو اس قوم کے مسائل کے حل میں مکمل دلچسپی لے سکیں، پوری ایمانداری سے کام کرسکیں، لیکن ایک کام تو ایسا ہے جو آپ کرسکتے ہیں، لہٰذا  آج کی تحریر میں ہم صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ اپنے ووٹ کے تناسب کو اپنی سیاسی طاقت میں کس طرح تبدیل کیا جائی، آج اس پرغور کرنا ہے آپ کو۔ یہ سیاسی طاقت آپ کو کس طرح حاصل ہوگی، کہاں کس کے ساتھ جانے سے حاصل ہوگی، کن نمائندوں کے ذریعہ حاصل ہوگی، کس پارٹی پر بھروسہ کرکے حاصل ہوگی، اس کا تجزیہ کرنا شروع کردیں۔ حالانکہ یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا، مگر آج سے بھی ہوجائے تو ووٹ ڈالنے کی تاریخ میں ابھی اتنا وقت ہے کہ آپ کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ الگ الگ ریاستوں میں آپ کی پسند الگ الگ ہوسکتی ہی۔ اب یہ دیکھنا آپ کا کام ہے کہ کہاں آپ کی سیاسی طاقت کس کے ساتھ کھڑے ہونے میں آپ کا بھلا ہے اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ آپ کی سیاسی طاقت کا معترف ہوگا یا نہیں۔ جذبات میں آکر کیا گیا کوئی بھی فیصلہ آپ کی سیاسی طاقت کو بے اثر کر سکتا ہی۔ ہمارا ووٹ نہ تو کسی کی دوستی پر نچھاور کردینے کے لئے ہونا چاہئی، نہ کسی سے دشمنی نکالنے کا ہتھیار۔ یہ خیرات میں دئے جانے کے لئے بھی نہیں ہے اور بخشش حاصل کرنے کے لئے بھی نہیں ہی۔ آج ہی آپ کو یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ کن کن مسائل کا سامنا آپ کو کرنا ہوتا ہی، کن کن وجوہات کی بناپر آپ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، آج اگر آپ اپنے ووٹ کا استعمال دوستی یا دشمنی کے لئے کرتے ہیں۔ کسی کو نذرانہ دینے یا بخشش پانے کے لئے کرتے ہیں تو آپ کے ووٹ کا جو بدل آپ نے خود طے کیا ہی، سمجھ لیجئے کہ اسی وقت وہ آپ کو مل گیا۔ &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;یہ تو آپ کو بخوبی اندازہ ہے ہی کہ سیاسی قیادت، سیاسی طاقت، سیاسی حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کن کن مسائل کاسامنا کرناپڑرہا ہی، لہٰذا ہر قدم بہت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہی۔ یہی ایک موقع آپ کے پاس ہوتا ہے جب آپ اپنے مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کرسکتے ہیں۔ ایک ووٹ کا مطلب آپ اپنے مسائل کے حل کی طرف ایک قدم آگے بڑھنے کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور آپ کی راہ میں کانٹے بچھانے کی صورت میں بھی۔ آپ کا یہ ووٹ کس مقصد کی حصولیابی کے لئے ہے یہ سوچنا ہوگا۔ ذرا سی چوک آپ کے ووٹ کا مقصد تبدیل کرسکتی ہے اور اس نازک موڑ پر یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ یہ ریاستی انتخابات صرف اس ریاست کے رہنے والوں کے مقدر کا ہی فیصلہ کریں گی، لہٰذا وہ سوچیں کہ انہیں کیا کرنا ہی۔ نہیں!ایسا نہیں ہی۔ آپ یہ سوچ کر بے تعلق نہ رہیں کہ نہ تو آپ اس ریاست کے ووٹر ہیں اور نہ ان ریاستوں میں رہنے والوں کے مسائل سے آپ کا کوئی تعلق ہی۔ سب کو… سب کو جو جہاں بھی ہی، جس حیثیت میں بھی ہے مل بیٹھ کر سوچنا ہوگا کہ کہیں سے بھی کسی طرح بھی ایک چراغ روشن تو ہو۔مسائل کے حل کی شروعات کہیں سے تو ہو۔ دیکھئے کون آپ کے مسائل کے حل میں آپ کے لئے کتنا کارگر ثابت ہوسکتا ہی۔ مگر ایک بات کا خیال رکھیں، آپ کسی کا اعتماد اسی وقت حاصل کرسکتے ہیں، جب آپ اس پر بھرپور اعتماد کریں۔ کوئی آپ کی ضرورتیں تبھی پوری کرسکتا ہی، جب آپ اس کی ضرورت بن جائیں۔ جب اسے لگے کہ آپ کے بغیر اقتدار میں آنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے اور آپ پر مکمل اعتماد کیا جاسکتا ہی، تب ہی آپ کے اور اس کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم ہوسکتا ہے کہ کل آپ پورے بھروسے کے ساتھ اپنے مسائل کے حل کے لئے اس سے رجوع کرسکتے ہیں۔ قدم قدم پر ہر روز ایک نیا مسئلہ آپ کے سامنے ہوتا ہی۔ دینی مدارس کے خلاف محاذ آرائی کی جارہی ہی، ان کے تقدس کا سوال ہی، آپ کو ضرورت ہے ایسے مخلص اور ہمدردوں کی جو اس معاملہ میں کارگر ثابت ہوسکیں۔ آپ فرقہ وارانہ تعصب کا شکار ہیں۔ ایسے سیکولر چہرے جن کے ساتھ آپ نے اعتماد کا رشتہ قائم کرلیا ہی، آپ ان کے دروازے تک پہنچ سکتے ہیں۔ پورے حق کے ساتھ ان سے بات کرسکتے ہیں کہ یہاں صرف تعصب کی بنا پر آپ کی حق تلفی کی جارہی ہی۔ سماجی انصاف محض ایک لفظ نہیں ہی، بلکہ معاشرے میں تمام طرح کی ناانصافیوں سے نجات پانے کے لئے آپ کو ایسے منصف مزاج قائدین کی ضرورت ہوگی، جو ہر سطح پر آپ کو انصاف دلا سکیں۔ اب یہ انصاف آپ کو ملازمت کے معاملہ میں بھی درکار ہے اور حصول تعلیم کے مرحلہ میں بھی درکار ہی، معاشی بدحالی دور کرنے کے لئے بھی درکار ہے یا پھر وہ جو ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں، انہیں انصاف دلانے کے لئے درکار ہی۔ اس سب کے لئے راستہ تو سیاست کے دروازے سے ہوکر ہی گزرتا ہے اور وہ سیاست جو کل آپ کی قسمت کا فیصلہ کرے گی، آج آپ کی چوکھٹ پر ہی۔ ان کے سامنے اپنے مسائل رکھ دیں، اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ آپ کے مسائل کے حل کے تئیں سنجیدہ ہوسکتے ہیں، آپ کے لئے کارآمد ہوسکتے ہیں تو انہیں صرف ایک ووٹ ہی نہ دیں، بلکہ ان کے ساتھ اعتماد کا رشتہ بھی قائم کریں اور ایک بات کا ضرور خیال رکھیں کہ یہ انتخابات ہر سطح پر فرقہ وارانہ کشیدگی دور کرنے کا ذریعہ بھی بنیں۔ اس لئے کہ ابھی تک کے انتخابات فرقہ وارانہ شکل اختیار کرلیتے ہیں، جہاں ہر طرح سے آپ ہی خسارے میں رہتے ہیں اور پھر پانچ سال تک قدم قدم پر اس کشیدگی کی قیمت چکاتے رہتے ہیں۔ اب انتخابات کم از کم آپ کی طرف سے فرقہ وارانہ کشیدگی کے نہیں، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم نظر آئیں۔ آپ کے ذریعہ دیا جانے والا ووٹ باقی تمام امیدواروں اور پارٹیوں پر یہ واضح کردے کہ آپ نے اس کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ آپ کو اس کی شکل میں اپنے مسائل کا حل نظر آتا ہی۔ نفرت، ناراضگی یا تعصب کی بنا پر آپ اسے ووٹ نہیں دے رہے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا آپ کا ووٹ حاصل کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے اپنے اندر ویسی ہی صفات پیدا کرنی ہوں گی کہ وہ آپ کے انتخاب کے دائرے میں آجائیں۔ ایسی صورت میں وہ بھی آپ کے ووٹ کا حق دار ہوسکتا ہے اور ایک بات کم از کم ایک ریاست میں آپ کی پسند ایک ہی ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہر سیٹ پر آپ کی پسند بدل جائی۔ اس سے آپ کی طاقت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ساتھ ہی پارٹی کا انتخاب کرتے وقت یہ بھی خیال رہے کہ وہ اقتدار میں آسکتی ہے یا اقتدار میں حصہ دار بن سکتی ہے یا نہیں۔&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;3میں جانتا ہوں کہ میری یہ تحریر مغربی بنگال کے علاوہ دیگر ریاستوں میں ہر اس دروازے تک براہ راست نہیں پہنچ سکتی، جن کے لئے لکھی جارہی ہی۔ ہاں، مگر آپ چاہیں تو یہ ممکن ہوسکتا ہی۔ آپ میں سے جو اس تحریر کو ان کی زبان میں ترجمہ کرکے پہنچا سکتے ہیں، وہ ایسا کریں تو یہ مقصد حل ہوسکتا ہی، جو اس تحریر کا مفہوم مساجد، مدارس کے ذریعہ یا پھر فون پر اپنی گفتگو کے دوران پہنچا سکتے ہیں تو یہ کام آسان ہوسکتا ہی۔ ویسے میری ایک کوشش یہ بھی ہے کہ کیوں نہ ہم ایسے مواقع کا استعمال اردو کے فروغ کے لئے کریں۔ سوچیں اگر ایسا ممکن ہوجائے تو کتنا اچھا ہی۔&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/3827675643755901593-7744555665568147792?l=azizburney.blogspot.com' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://azizburney.blogspot.com/feeds/7744555665568147792/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://www.blogger.com/comment.g?blogID=3827675643755901593&amp;postID=7744555665568147792' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7744555665568147792'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/3827675643755901593/posts/default/7744555665568147792'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://azizburney.blogspot.com/2011/03/blog-post_02.html' title='&lt;p align=right&gt;آئےی! آج بات کرتے ہیں سیاست کی.....&lt;/p&gt;&lt;p align=right&gt;عزیز برنی&lt;/p&gt;'/><author><name>Aziz Burney</name><uri>http://www.blogger.com/profile/02500755769280457568</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='31' height='21' src='http://4.bp.blogspot.com/_gm5AFhNUyM4/TTGnsU4PATI/AAAAAAAAAhw/MkZ-VJaolog/S220/-photo%2B2.jpg'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-3827675643755901593.post-7189001364738429483</id><published>2011-03-02T22:25:00.000-08:00</published><updated>2011-03-02T22:32:37.053-08:00</updated><title type='text'>आईये! आज बात करते हैं राजनीति की.....अज़ीज़ बर्नी</title><content type='html'>&lt;div&gt;पांच राज्यों में विधानसभा चुनावों की तिथियों की घोषणा कर दी गई है, जिसके अनुसार पश्चिम बंगाल में 18, 23, 27 अप्रैल 2011 असम में 4 और 11 अप्रैल 2011, तमिलनाडू , केरल में 13 अप्रैल 2011 में वोट डाले जाने हैं। अगर पांडुचेरी के चुनावों पर मुस्लिम वोट बैंक की दृष्टि से बहुत अधिक ध्यान न दें तो भी शेष चार राज्यों में चुनावों के महत्व को समझा जा सकता है। असम में लगभग 33 प्रतिशत मुसलमान हैं, अर्थात प्रत्येक 3 में से एक वोटर मुसलमान हैं। जबकि पश्चिम बंगाल और केरल में यह अनुपात लगभग 25 प्रतिशत है, अर्थात हर चार में से एक वोटर मुसलमान है। तमिलनाडू में यह अनुपात ज़रा कम है वहां मुसलमानों की संख्या 5.6 प्रतिशत है, फिर भी इस राज्य मंे मुसलमानों के वोट को महत्वहीन करार नहीं दिया जा सकता। अब अगर हम इन चारों राज्यों की विधानसभाओं में मुसलमानों के प्रतिनिधित्व पर नज़र डालें तो पश्चिम बंगाल में 295 में केवल 44 अर्थात 14 प्रतिशत, असम में कुल 126 में केवल 22 अर्थात 17 प्रतिशत और केरल की कुल 140 सीटों में 16 अर्थात 11 प्रतिशत इसी तरह तमिलनाडू में 234 में केवल 8 अर्थात 3 प्रतिशत मुस्लिम प्रतिनिधि हैं। विधानसभा अथवा संसदीय क्षेत्रों का जिस तरह परिसीमन होता है उसमें इस बात को सुनिश्चित नहीं किया जा सकता है कि जिसकी जितनी आबादी है उसको उसी अनुपात से संसद या विधानसभा में प्रतिनिधित्व मिल जाएगा, इसलिए अगर उपरोक्त राज्यों में से कुछ ऐसे चुनाव क्षेत्रों को चिन्हित कर लिया जाये जहां मुसलमान निर्णायक संख्या में मौजूद हैं, वे जीत सकते हैं तो भी इस बात को सुनिश्चित नहीं किया जा सकता कि उन राज्यों में मुसलमानों की जितनी आबादी है, उन्हंे अपने अपने राज्यों में उसी अनुपात में प्रतिनिधित्व प्राप्त हो जायेगा।&lt;/div&gt;&lt;div&gt;सच्चर कमेटी की रिपोर्ट पर नज़र डालंें तो पश्चिम बंगाल में मुसलमानों की स्थिति को सबसे कमजोर ठहराया गया है। अगर मुसलमानों के हालात को बेहतर बनाने के कारणों पर विचार करें तो लंबी अवधि से जिन बिन्दुओं पर ध्यान दिलाया जाता रहा है, वह हंै शैक्षिक पिछड़ापन और नौकरियों का प्राप्त न होना। और भी कारण हंै, परन्तु जिन कारणों पर सबसे अधिक गुफ्तगू की जाती है, वह यही है कि मुसलमान शैक्षिक दृष्टि से बहुत पिछड़े हैं और रोजगार के मामले में भी यही तर्क दिया जाता है कि अगर उचित शिक्षा ही प्राप्त नहीं करेंगे तो रोजगार किस तरह उपलब्ध होगा। यहां अगर रोजगार का अर्थ सरकारी नौकरी समझा जाये तो स्थिति और भी चिंताजनक नज़र आती है। सरकारी नौकरियों में मुसलमानों का प्रतिनिधित्व इतना कम क्यों है, अगर केवल इसी विषय पर गुफ्तगू करेंगे तो बाकी सभी पहलूओं पर रोशनी नहीं डाली जा सकेगी। फिर भी इतना उल्लेख कर देना अनुचित नहीं होगा कि उच्च शिक्षा का न होना तो एक कारण है ही, परन्तु दूसरा और प्रमुख कारण उनके साथ किया जाने वाला भेदभाव भी है। आईए ज़रा शेष दो कारणों पर विचार करें अर्थात शैक्षिक पिछड़ेपन और रोजगार का प्राप्त न होना, अब यहां रोजगार का अर्थ सभी प्रकार के रोजगार की प्राप्ति है तो यह मसला केवल मुसलमानों के साथ ही नहीं है, अन्य समुदायों के लोग भी शैक्षिक पिछड़ेपन के शिकार हैं और नौकरियों का प्रश्न उनके सामने भी है, परन्तु हम यहां केवल उपरोक्त चार राज्यों के चुनाव तथा मुसलमानों की समस्याओं को लेकर गुफ्तगू का इरादा रखते हैं, बाकी विषयों पर फिर कभी चर्चा की जायेगी। &lt;/div&gt;&lt;div&gt;शैक्षिक पिछड़ेपन की समस्या एक दिन में हल नहीं हो सकती, लंबा समय दरकार है। इसी तरह रोजगार का मामला है, राष्ट्रीय तथा राज्य स्तर पर रोजगार के अवसरों में वृद्धि होगी तो इस समस्या के हल की गुंजाईश सभी के लिए निकलेगी। इस में मुसलमानों के लाभांवित होने का रास्ता भी निकल आएगा। लेकिन हम इस समय बात करना चाहते हैं राजनीतिक प्रतिनिधित्व पर और वह इसलिए कि सभी प्रकार की समस्याओं का हल किसी न किसी तरह राजनीति से जुड़ता है। भारतीय जनसमुदाय के जो वर्ग ऐसे हैं, जिन्हें राजनीतिक प्रतिनिधित्व, राजनीतिक संरक्षण, राजनीतिक महत्व प्राप्त है, उनके सामने यह समस्याएं होते हुए भी इतनी कठिन नहीं होतीं, जितनी की मुसलमानों के लिए हैं। अर्थात शैक्षिक पिछड़ेपन का अगर वह शिकार हैं तो उन पर ध्यान देने वाला राजनीतिक नेतृत्व कोई न कोई  ऐसा रास्ता निकाल ही देता है जिससे उनके लिए यह रोजगार का मसला  उतना  कष्टदायक सिद्ध नहीं होता। केंद्रीय तथा राज्य सरकारों की अनेकों स्कीमें ऐसी होती हैं, जिनमें सरकारी सहायता तथा बैंकों से कर्ज लेकर अपना कारोबार शुरू किया जा सके। इससे लाभान्वित वही होते हैं जिसके पास कोई राजनीतिक सहारा है। राजनीतिक संरक्षण प्राप्त हो तो प्राईवेट सैक्टर में भी और साधारण शिक्षा प्राप्त करने पर भी कहीं न कहीं रोजगार का बंदोबस्त हो ही जाता है। ऐसी छोटी मोटी नौकरियों की सरकारी स्तर पर भी कमी नहीं है। जो कम पढ़े-लिखे लोगों को प्रा
